شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5519
5216 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا زكريا بن أبي زائدة عن الشعبي عن جابر بن عبد الله أنه كان يسير مع رسول الله صلى الله عليه و سلم على جمل له فأعياه فأدركه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ما شأنك يا جابر فقال أعي ناضحي يا رسول الله فقال أمعك شيء فأعطاه قضيبا أو عودا فنخسه به أو قال ضربه فسار سيرة لم يكن يسير مثلها فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم بعنيه بأوقية قال قلت يا رسول الله هو ناضحك قال فبعته بأوقية واستثنيت حملانه حتى أقدم على أهلي فلما قدمت أتيته بالبعير فقلت هذا بعيرك يا رسول الله قال لعلك ترى أني إنما حبستك لأذهب ببعيرك يا بلال أعطه من العيبة أوقية وقال انطلق ببعيرك فهما لك قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الرجل إذا باع من رجل دابة بثمن معلوم على أن يركبها البائع إلى موضع معلوم أن البيع جائز والشرط جائز واحتجوا في ذلك بحديث جابر هذا وخالفهم في ذلك آخرون ثم إفترق المخالفون لهم على فرقتين فقالت فرقة البيع جائز والشرط باطل وقالت فرقة البيع فاسد وسنبين ما ذهبت إليه الفرقتان جميعا في هذا الباب إن شاء الله تعالى فكان من الحجة لهاتين الفرقتين جميعا على الفرقة الأولى في حديث جابر الذي ذكرنا أن فيه معنيين يدلان أن لا حجة لهم فيه فأما أحد المعنيين فإن مساومة النبي صلى الله عليه و سلم لجابر رضي الله عنه إنما كانت على البعير ولم يشترط في ذلك لجابر رضي الله عنه ركوبا قال جابر رضي الله عنه فبعته واستثنيت حملانه إلى أهلي فوجه هذا الحديث أن البيع إنما كان علي ما كانت عليه المساومة من النبي صلى الله عليه و سلم ثم كان الاستثناء للركوب من بعد فكان ذلك الاستثناء مفصولا من البيع لأنه إنما كان بعده فليس في ذلك حجة تدلنا كيف حكم البيع لو كان ذلك الاستثناء مشروطا في عقدته هل هو كذلك أم لا وأما الحجة الأخرى فإن جابرا رضي الله عنه قال فلما قدمت المدينة أتيت النبي صلى الله عليه و سلم بالبعير فقلت هذا بعيرك يا رسول الله قال لعلك ترى أنى إنما حبستك لأذهب ببعيرك يا بلال أعطه أوقية وخذ بعيرك فهما لك فدل ذلك أن ذلك القول الأول لم يكن على التبايع فلو ثبت أن الاشتراط للركوب كان في أصله بعد ثبوت هذه العلة لم يكن في هذا الحديث حجة لأن المشترط فيه ذلك الشرط لم يكن بيعا ولأن النبي صلى الله عليه و سلم لم يكن ملك البعير علي جابر فكان اشتراط جابر للركوب اشتراطا فيما هو له مالك فليس في هذا دليل على حكم ذلك الشرط لو وقع في بيع يوجب الملك للمشتري كيف كان حكمه وذهب الذين أبطلوا الشرط في ذلك وجوزوا البيع إلي حديث بريرة
شعبی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں جناب رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ایک اونٹ پر سفر کر رہا تھا سفرنے اونٹ کو تھکا دیا جناب رسول اللہ ﷺ آکرملے اور فرمایا اے جابر! کیا معاملہ ہے؟ میں نے کہا میرا اونٹ چلنے سے رہ گیا آپ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے میں نے آپ کو ایک کھجور کی شاخ تھمائی تو آپ نے اس اونٹ کو کچوکا دیا یا وہ چھری ماری تو وہ اونٹ اس تیزی سے چلنے لگا آج تک بھی ایسا نہ چلا ہو گا فریق اول کے موقف کا جواب: حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی پیش کردہ روایت میں دو ایسی باتیں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس میں فریق اول کی دلیل ندارد ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کا خیال یہ ہے جب کوئی آدی دوسرے کو مقرر ثمن کے بدلے کوئی چیز فروخت کردے اور شرط یہ لگائے کہ وہ فلاں جگہ تک اس پر سواری کرے گا یہ بیع جائز ہے اور شرط بھی درست ہے اس کی دلیل یہ روایت جابر رضی اللہ عنہ ہے۔ دوسروں نے کہا اس کے علماء دو جماعتوں میں بٹ گئے۔ نمبر1 : بیع درست شرط باطل ہو۔ نمبرا2: بیع فاسد ہوگی ان دونوں جماعتوں کے مؤقف کی تقریب وضاحت کریں گے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی پیش کردہ روایت میں دو ایسی باتیں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس میں فریق اول کی دلیل ندارد ہے۔ جناب نبی اکرم ﷺ کا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نرخ مقررفرمانا صرف اونٹ کے لئے تھا اور اس میں سواری کی کوئی شرط نہ تھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کو فروخت کیا اور اپنے گھر آنے تک اس پر سواری کو مستثنیٰ کیا تو روایت کا مطلب یہ ہوا کہ سودا تو صرف اونٹ کا ہوا اسی کا نرخ جناب نبی اکرم ﷺ نے ایک اوقیہ چاندی مقرر فرمائی۔ سواری کاستثناء بعد میں ہوا۔ پس یہ استثناء بیع سے الگ ہے کیونکہ وہ سودے کے بعد ہوا اس روایت میں ان کے وقت استثناء کی شرط اور اس کا کوئی حکم موجودنہیں ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں مدینہ منورہ آیا تو جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اونٹ لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺیہ اپنا اونٹ لے لیں تو آپ نے فرمایا شاید تمہارا خیال ہو کہ میں نے تمہیں اونٹ حاصل کرنے کے لئے روکا۔ اے بلال ایک اوقیہ چاندی دے دو اور اے جابر رضی اللہ عنہ آپ اپنا اونٹ بھی لے جائیں یہ دونوں تمہارے ہیں۔ اس میں اس بات کی ظاہردلالت ہے کہ پہلاقول سودے سے متعلق ہی نہ تھا اگر اس علت کے ثبوت کے بعد سواری کی شرط ثابت بھی ہوجائے کہ وہ اصل میں تھی تو پھر بھی یہ حدیث فریق اول کی دلیل نہیں بن سکتی کیونکہ جس میں یہ شرط ہو وہ سرے سے بیع ہی نہیں ( کہ بیع کا اس پر حکم لگے ) جب جناب رسول اللہ ﷺ جابر رضی اللہ عنہ کی طرف سے اونٹ کے مالک ہی نہیں ہے تو اب جابر رضی اللہ عنہ کاسواری کی شرط لگانا اپنے اپنی سواری سے متعلق تھا۔ بالفرض اگر یہ شرط اس بیع میں واقع ہو جس سے خریدنے والے کے لئے ملک ثابت ہوجاتی ہے تو اس کے حکم پربھی اس روایت میں کوئی دلالت نہیں پائی جاتی۔ جوحضرات بیع کو درست قرار دیتے ہیں مگر شرط کوخلاف عقد ہونے کی وجہ سے باطل کہتے ہیں ان کی دلیل روایت بریرہ رضی اللہ عنہ ہے۔ روایت بر یرہ ملاحظہ ہو۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5519
