Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5519

5216 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا زكريا بن أبي زائدة عن الشعبي عن جابر بن عبد الله أنه كان يسير مع رسول الله صلى الله عليه و سلم على جمل له فأعياه فأدركه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ما شأنك يا جابر فقال أعي ناضحي يا رسول الله فقال أمعك شيء فأعطاه قضيبا أو عودا فنخسه به أو قال ضربه فسار سيرة لم يكن يسير مثلها فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم بعنيه بأوقية قال قلت يا رسول الله هو ناضحك قال فبعته بأوقية واستثنيت حملانه حتى أقدم على أهلي فلما قدمت أتيته بالبعير فقلت هذا بعيرك يا رسول الله قال لعلك ترى أني إنما حبستك لأذهب ببعيرك يا بلال أعطه من العيبة أوقية وقال انطلق ببعيرك فهما لك قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الرجل إذا باع من رجل دابة بثمن معلوم على أن يركبها البائع إلى موضع معلوم أن البيع جائز والشرط جائز واحتجوا في ذلك بحديث جابر هذا وخالفهم في ذلك آخرون ثم إفترق المخالفون لهم على فرقتين فقالت فرقة البيع جائز والشرط باطل وقالت فرقة البيع فاسد وسنبين ما ذهبت إليه الفرقتان جميعا في هذا الباب إن شاء الله تعالى فكان من الحجة لهاتين الفرقتين جميعا على الفرقة الأولى في حديث جابر الذي ذكرنا أن فيه معنيين يدلان أن لا حجة لهم فيه فأما أحد المعنيين فإن مساومة النبي صلى الله عليه و سلم لجابر رضي الله عنه إنما كانت على البعير ولم يشترط في ذلك لجابر رضي الله عنه ركوبا قال جابر رضي الله عنه فبعته واستثنيت حملانه إلى أهلي فوجه هذا الحديث أن البيع إنما كان علي ما كانت عليه المساومة من النبي صلى الله عليه و سلم ثم كان الاستثناء للركوب من بعد فكان ذلك الاستثناء مفصولا من البيع لأنه إنما كان بعده فليس في ذلك حجة تدلنا كيف حكم البيع لو كان ذلك الاستثناء مشروطا في عقدته هل هو كذلك أم لا وأما الحجة الأخرى فإن جابرا رضي الله عنه قال فلما قدمت المدينة أتيت النبي صلى الله عليه و سلم بالبعير فقلت هذا بعيرك يا رسول الله قال لعلك ترى أنى إنما حبستك لأذهب ببعيرك يا بلال أعطه أوقية وخذ بعيرك فهما لك فدل ذلك أن ذلك القول الأول لم يكن على التبايع فلو ثبت أن الاشتراط للركوب كان في أصله بعد ثبوت هذه العلة لم يكن في هذا الحديث حجة لأن المشترط فيه ذلك الشرط لم يكن بيعا ولأن النبي صلى الله عليه و سلم لم يكن ملك البعير علي جابر فكان اشتراط جابر للركوب اشتراطا فيما هو له مالك فليس في هذا دليل على حكم ذلك الشرط لو وقع في بيع يوجب الملك للمشتري كيف كان حكمه وذهب الذين أبطلوا الشرط في ذلك وجوزوا البيع إلي حديث بريرة

شعبی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں جناب رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ایک اونٹ پر سفر کر رہا تھا سفرنے اونٹ کو تھکا دیا جناب رسول اللہ ﷺ آکرملے اور فرمایا اے جابر! کیا معاملہ ہے؟ میں نے کہا میرا اونٹ چلنے سے رہ گیا آپ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے میں نے آپ کو ایک کھجور کی شاخ تھمائی تو آپ نے اس اونٹ کو کچوکا دیا یا وہ چھری ماری تو وہ اونٹ اس تیزی سے چلنے لگا آج تک بھی ایسا نہ چلا ہو گا فریق اول کے موقف کا جواب: حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی پیش کردہ روایت میں دو ایسی باتیں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس میں فریق اول کی دلیل ندارد ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کا خیال یہ ہے جب کوئی آدی دوسرے کو مقرر ثمن کے بدلے کوئی چیز فروخت کردے اور شرط یہ لگائے کہ وہ فلاں جگہ تک اس پر سواری کرے گا یہ بیع جائز ہے اور شرط بھی درست ہے اس کی دلیل یہ روایت جابر رضی اللہ عنہ ہے۔ دوسروں نے کہا اس کے علماء دو جماعتوں میں بٹ گئے۔ نمبر1 : بیع درست شرط باطل ہو۔ نمبرا2: بیع فاسد ہوگی ان دونوں جماعتوں کے مؤقف کی تقریب وضاحت کریں گے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی پیش کردہ روایت میں دو ایسی باتیں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس میں فریق اول کی دلیل ندارد ہے۔ جناب نبی اکرم ﷺ کا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نرخ مقررفرمانا صرف اونٹ کے لئے تھا اور اس میں سواری کی کوئی شرط نہ تھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کو فروخت کیا اور اپنے گھر آنے تک اس پر سواری کو مستثنیٰ کیا تو روایت کا مطلب یہ ہوا کہ سودا تو صرف اونٹ کا ہوا اسی کا نرخ جناب نبی اکرم ﷺ نے ایک اوقیہ چاندی مقرر فرمائی۔ سواری کاستثناء بعد میں ہوا۔ پس یہ استثناء بیع سے الگ ہے کیونکہ وہ سودے کے بعد ہوا اس روایت میں ان کے وقت استثناء کی شرط اور اس کا کوئی حکم موجودنہیں ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں مدینہ منورہ آیا تو جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اونٹ لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺیہ اپنا اونٹ لے لیں تو آپ نے فرمایا شاید تمہارا خیال ہو کہ میں نے تمہیں اونٹ حاصل کرنے کے لئے روکا۔ اے بلال ایک اوقیہ چاندی دے دو اور اے جابر رضی اللہ عنہ آپ اپنا اونٹ بھی لے جائیں یہ دونوں تمہارے ہیں۔ اس میں اس بات کی ظاہردلالت ہے کہ پہلاقول سودے سے متعلق ہی نہ تھا اگر اس علت کے ثبوت کے بعد سواری کی شرط ثابت بھی ہوجائے کہ وہ اصل میں تھی تو پھر بھی یہ حدیث فریق اول کی دلیل نہیں بن سکتی کیونکہ جس میں یہ شرط ہو وہ سرے سے بیع ہی نہیں ( کہ بیع کا اس پر حکم لگے ) جب جناب رسول اللہ ﷺ جابر رضی اللہ عنہ کی طرف سے اونٹ کے مالک ہی نہیں ہے تو اب جابر رضی اللہ عنہ کاسواری کی شرط لگانا اپنے اپنی سواری سے متعلق تھا۔ بالفرض اگر یہ شرط اس بیع میں واقع ہو جس سے خریدنے والے کے لئے ملک ثابت ہوجاتی ہے تو اس کے حکم پربھی اس روایت میں کوئی دلالت نہیں پائی جاتی۔ جوحضرات بیع کو درست قرار دیتے ہیں مگر شرط کوخلاف عقد ہونے کی وجہ سے باطل کہتے ہیں ان کی دلیل روایت بریرہ رضی اللہ عنہ ہے۔ روایت بر یرہ ملاحظہ ہو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5519

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5520

5217 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني مالك بن أنس عن نافع عن بن عمر أن عائشة أرادت أن تشتري بريرة فتعتقها فقال لها أهلها نبيعكها علي أن ولاءها لنا فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لا يمنعك ذلك فإنما الولاء لمن أعتق

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہ کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان کے گھر والوں نے کہا ہم اس شرط پر اس کو فروخت کرتے ہیں کہ اس کی ولاء ہمارے لئے ہو گی ام المومنین رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے مشورہ لیا تو آپ نے فرمایا تمہارے لئے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں کیونکہ ولاء اس کے لئے ہوتی ہے جو آزاد کرتا ہے ۔

بن عمر أن عائشة أرادت أن تشتري بريرة فتعتقها ← نَافِعٍ ← مالک بن أنس ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5520

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5521

5218 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني مالك عن يحيى بن سعيد عن عمرة بنت عبد الرحمن أن بريرة جاءت تستعين عائشة فقالت لها عائشة إن أحب أهلك أن أصب لهم ثمنك صبة واحدة وأعتقك فعلت فذكرت ذلك بريرة لأهلها فقالوا لا إلا أن يكون ولاؤك لنا قال مالك قال يحيى فزعمت عمرة أن عائشة ذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال اشتريها فأعتقيها فإنما الولاء لمن أعتق

عمرو بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے معاونت لینے آئیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تمہارے مالک پسند کریں تو میں ان کو یکمشت رقم دے دوں اور تمہیں آزاد کر دوں ۔ بریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات اپنے مالکوں کو ذکر کی تو انہوں نے کہا ہم اس شرط پر کرنے کو تیار ہیں کہ تمہاری ولاء ہمیں ملے ۔ مالک کہتے ہیں کہ یحییٰ نے بتلایا کہ عمرہ کا خیال یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ذکر کی تو آپ نے ان کو خرید کر آزاد کرنے کا حکم فرمایا اور فرمایا ولاء تو آزاد کرنے والے کو ملتا ہے ۔

عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5521

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5522

5219 - وحدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر قال ثنا شعبة عن الحكم عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة أنها أرادت أن تشتري بريرة فتعتقها فاشترط مواليها ولاءها فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال اشتريها فأعتقيها فإنما الولاء لمن أعتق

اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ انہوں نے حضرت بریرہ کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے مالکوں نے ولاء کے حصول کی شرط لگائی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا اس کو خرید کر آزاد کر دو ولاء کو آزاد کنندہ کو ملتا ہے ۔

الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5522

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5523

5220 - وحدثنا أبو بشر الرقي قال ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة أن أهل بيت بريرة أرادوا أن يبيعوها ويشترطوا الولاء فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فقال إشتريها فأعتقيها فإنما الولاء لمن أعتق

اسود نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ بریرہ کے گھر والوں نے فروخت کا ارادہ کیا اور ولاء کی شرط لگائی تو انہوں نے یہ بات جناب نبی اکرم ﷺ کو ذکر کی تو آپ نے فرمایا اس کو خرید کر آزاد کر دو۔ ولاء تو آزاد کرنے والے کو ملتا ہے ۔

الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5523

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5524

5221 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا القعنبي قال ثنا سليمان بن بلال عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن عن القاسم بن محمد عن عائشة أن بريرة جاءت تستعينها في كتابتها فقالت عائشة إن شاء أهلك اشتريتك ونقدتهم ثمنك صبة واحدة فذهبت إلى أهلها فقالت لهم ذلك فأبوا إلا أن يكون الولاء لهم فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال اشتريها ولا يضرك ما قالوا فإنما الولاء لمن أعتق قالوا فلما كان أهل بريرة أرادوا بيعها على أن تعتق ويكون ولاؤها لهم فقال النبي صلى الله عليه و سلم لعائشة رضي الله عنها لا يضرك ذلك فإنما الولاء لمن أعتق دل ذلك أن هكذا الشروط كلها التي تشترط في البيوع وأنها تبطل وتثبت البيوع فكان من الحجة عليهم أن هذه الآثار هكذا رويت أنها أرادت أن تشتريها فتعتقها فأبى أهلها إلا أن يكون ولاؤها لهم وقد رواها آخرون على خلاف ذلك

قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ بریرہ رضی اللہ عنہ ان کی خدمت میں بدل کتابت میں معاونت کے لئے آئیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تمہارے مالک چاہیں تو تمہیں نقد رقم یکمشت دے کر خرید لوں وہ اپنے مالکوں کے پاس گئیں اور ان کو یہ بات بتلائی تو انہوں نے ولاء کی شرط سے اس بات کو تسلیم کرنے کی بات رکھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا اسے خرید لو ان کی شرف تمہیں نقصان نہ دے گی اس لئے کہ ولاء تو آزاد کرنے والے کو ملتا ہے ۔ جب حضرت بریرہ رضی اللہ عنہ کے گھر والوں نے انہیں اس شرط پر فروخت کا ارادہ ظاہر کیا کہ ولاء ان کو ملے اور ان کو آزاد کیا جائے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تمہارے لئے یہ بات مضر نہیں ہے ۔ بلا شبہ ولاء تو آزاد کرنے والے کا ہوتا ہے تو یہ اس بات کی دلالت ہے کہ بیع میں اس قسم کی شروط ( جو خلا عقد ہوں ) وہ باطل ہوتی ہیں گویا یہ روایات فریق اول کے خلاف تب دلیل بن سکتی ہے جبکہ یہ آثار اسی طرح مروی ہوں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے خرید کر بریرہ رضی اللہ عنہ کو آزاد کرنا چاہا اس کے مالکوں نے اس شرط پر فروخت کرنے پر رضا مندی ظاہر کی کہ ولاء ان کو ملے ۔ دوسرے فریق کا مؤقف یہ ہے کہ شرط سرے سے باطل ہے انہوں نے اس روایت کو مندرجہ ذیل طریق سے روایت کیا ہے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5524

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5525

5222 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني رجال من أهل العلم منهم يونس بن يزيد والليث عن بن شهاب حدثهم عن عروة بن الزبير عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت جاءت بريرة إلي فقالت يا عائشة إني قد كاتبت أهلي على تسع أواق في كل عام أوقية فأعينيني ولم تكن قضت من كتابتها شيئا فقالت لها عائشة ارجعي إلى أهلك فإن أحبوا أن أعطيهم ذلك جميعا ويكون ولاؤك لي فعلت فذهبت إلى أهلها فعرضت ذلك عليهم فأبوا وقالوا إن شاءت أن تحتسب عليك فلتفعل ويكون ولاؤك لنا فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لا يمنعك ذلك منها إبتاعي وأعتقي فإنما الولاء لمن أعتق [ ص 44 ] وقام رسول الله صلى الله عليه و سلم في الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم قال أما بعد فما بال يشترطون شروطا ليست في كتاب الله عز و جل كل شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وإن كان مائة شرط قضاء الله أحق وشرط الله أوثق فإنما الولاء لمن أعتق قال أبو جعفر ففي هذا الحديث غير ما في الأحاديث الأول وذلك أن في الأحاديث الأول أن أهل بريرة أرادوا أن يبيعوها على أن تعتقها عائشة رضي الله عنها ويكون ولاؤها لهم فقال النبي صلى الله عليه و سلم لا يمنعك ذلك اشتريها فأعتقيها فإنما الولاء لمن أعتق فكان في هذا الحديث إباحة البيع على أن يعتق المشتري وعلى أن يكون ولاء المعتق للبائع فإذا وقع ذلك ثبت البيع وبطل الشرط وكان الولاء للمعتق وفي حديث عروة عن عائشة رضي الله عنها أن عائشة رضي الله عنها قالت لها إن أحب أهلك أن أعطيهم ذلك تريد الكتابة صبة واحدة فعلت ويكون ولاؤك لي فلما عرضت عليهم بريرة ذلك قالوا إن شاءت أن تحتسب عليك فلتفعل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لعائشة رضي الله عنها لا يمنعك ذلك منها اشتريها فأعتقيها فإنما الولاء لمن أعتق فكان الذي في هذا الحديث مما كان من أهل بريرة من اشتراط الولاء ليس في بيع ولكن في أداء عائشة رضي الله عنها إليهم الكتابة عن بريرة وهم تولوا عقد تلك الكتابة ولم يكن تقدم ذلك الأداء من عائشة رضي الله عنها ملك فذكرت ذلك عائشة رضي الله عنها للنبي صلى الله عليه و سلم فقال لا يمنعك ذلك منها أي لا ترجعين لهذا المعنى عما كنت نويت في عتاقها من الثواب اشتريها فأعتقيها فإنما الولاء لمن أعتق فكان ذكر ذلك الشراء ههنا ابتداء من النبي صلى الله عليه و سلم ليس مما كان قبل ذلك بين عائشة رضي الله عنها وبين أهل بريرة في شيء ثم كان قام النبي صلى الله عليه و سلم فخطب فقال ما بال أقوام يشترطون شروطا ليست في كتاب الله عز و جل كل شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وإن كان مائة شرط إنكارا منه على عائشة رضي الله عنها في طلبها ولاء من تولى غيرها كتابتها بحق ملكه عليها ثم نبهها وعلمها بقوله فإنما الولاء لمن أعتق أي إن المكاتب إذا أعتق بأداء الكتابة فمكاتبه هو الذي أعتقه فولاؤه له فهذا حديث فيه ضد ما في غيره من الأحاديث الأول وليس فيه دليل على اشتراط الولاء في البيع كيف حكمه هل يجب به فساد البيع أم لا فإن قال قائل فإن هشام بن عروة قد رواه عن أبيه فزاد فيه شيئا قلنا له صدقت

عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے پاس بریرہ آئیں اور کہنے لگیں۔ اے عائشہ رضی اللہ عنہ ! میں نے 9اوقیہ چاندی پر اپنے مالکوں سے مکاتبت کی ہے اور ہر سال ایک اوقیہ دینے کا وعدہ کیا ہے تم میری بدل کتابت میں معاونت کرو۔ اس وقت تک بدل کتابت میں سے کچھ بھی ادائیگی نہ کی تھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے بریرہ کو کہا اپنے مالکوں کو کہو اگر ان کو پسند ہو تو تمام بدل کتابت دے دوں اور تیری ولاء میرے لئے ہوگی۔ وہ اپنے مالکوں کے پاس گئیں اور یہ بات پیش کی تو انہوں نے کہا اگر وہ چاہتی ہیں کیت پر صدقہ کردیں تو کر ڈالیں مگر تمہاری ولاء تو ہماری ہی ہوگی پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے اسی سلسلہ میں آپ سے مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا یہ چیز تمہارے لئے رکاوٹ نہیں بن سکے گی تو خرید کر آزاد کر دو۔ ولاء و آزاد کرنے والے کا ہوتا ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کا مضمون پلی روایات کے خلاف ہے حضرت بریرہ کے مالکوں نے ان کو اس شرط پر فروخت کرنا چاہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہ اس کو آزاد کرے اور ولا ءبھی ان کو ملے تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا یہ شرط تمہارے لئے رکاوٹ نہ بننی چاہئے تم خرید کر آزاد کر دو۔ ولاء تو آزاد کرنے والے کا ہوتا ہے۔ یہ روایت بیع کی اباحت کو اس شرط کے ساتھ ثابت کر رہی ہے ک مشتری اس کو آزاد کر دے اور معتق کا ولاء بھی بائع کو ملے جب یہ بات اس طرح ہو جائے تو بیع ثابت ہوجائے گی اور شرط باطل ہو جائے گی اور ولا ء معتق کو ملے گا اور روایت عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے بریرہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا اگر تمہارے ما لک پسند کریں تو میں ان کو تمام بدل کتابت ایک مرتبہ دے دوں گی مگر ولا ء میرے لئے ہوگی جب یہ بات بریرہ رضی اللہ عنہ اپنے مالکوں کو پیش کی تو انہوں نے کہا اگر وہ ثواب کمانا چاہتی ہیں تو کر ڈالیں مگر ولاء ہماری ہوگی جناب رسول الللہ ﷺ نے فرمایا۔ اے عائشہ رضی اللہ عنہ یہ شرط تمہیں اس کی خریداری اور آزادی سے مانع نہ ہو جائے ولا ء معتق کا ہوتا ہے۔ پس اس روایت میں یہ ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہ نے مالکوں کی طرف سے ولاء کی شرط بیع میں تو نہیں تھی لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ ان کی طرف سے کتابت کی ادائیگی میں شرط تھی وہ عقد کتابت کے ذمہ دار تھے اور اس اداء سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو ملک حاصل نہ تھی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات جناب نبی اکرم ﷺ کے سامنے ذکر کی تو آپ نے فرمایا ان کی شرط تمہیں اس عمل سے مانع نہ بننی چاہئے تم جو عتاق سے ثواب کی نیت کر چکی ہو اس کو پورا کرو ولاء تو معتق کو ہی ملتا ہے اور یہ شراءکا تذکرہ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے بطور ابتدا فرمایا اس سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ اور بریرہ کے مالکوں میں تو اس کا نشان بھی نہیں ہے۔ پھر آپ ﷺ کا خطبہ دین مذکور ہے کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا جو ایسی شرائط مقرر کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ۔ ہر وہ شرط جو کتاب میں نہیں وہ باطل ہے خواہ ایسی سو شرائد ہوں ۔ اس میں آپ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے طلب ولاء والے مطالبے سے انکار فرمایا جو حق ملک کی وجہ سے مکاتبہ کے مالک تھے پھر ان کو بتلایا کہ ولا ء تو خود معتق ہی کو ملتا ہے یعنی بدل کتابت کی ادائیگی سے جب مکاتب آزاد کرا دیا جائے تو اب اس کا مکاتب و معتق ہے اس لئے ولا ء اس کی طرف جائے گی۔ یہ روایت پہلی روایت کے خلاف ہے اور اس میں بیع کے اندر ولا ء کی شرط لگانے کا بالکل ذکر نہیں کہ اس سے بیع فاسد ہو جائے گی یا نہیں۔ اگر کوئی معترض کہے کہ ہشام بن عروہ نے اس روایت کونقل کیا تو اس میں کچھ اضافہ کر دیا۔ ہم کہیں گے تم نے سچ کہا۔

جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَيَّ، ← عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← بن شِهَابٍ ← رجال من أهل العلم منهم يونس بن يزيد والليث ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5525

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5526

5223 - حدثنا إسماعيل بن يحيى قال ثنا محمد بن إدريس عن مالك بن أنس عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة أنها قالت جاءتني بريرة فقالت إني كاتبت أهلي على تسع أواق في كل عام أوقية فأعينيني فقالت لها عائشة إن أحب أهلك أن أعدها لهم عددتها لهم ويكون ولاؤك لي فعلت فذهبت بريرة إلى أهلها فقالت لهم ذلك فأبوا عليها فجاءت من عند أهلها ورسول الله صلى الله عليه و سلم جالس فقالت إني قد عرضت ذلك عليهم فأبوا إلا أن يكون الولاء لهم فسمع بذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فسألها فأخبرته عائشة فقال خذيها واشترطي فإنما الولاء لمن أعتق ففعلت عائشة ثم قام رسول الله صلى الله عليه و سلم في الناس فذكر مثل ما في حديث الزهري

ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ بریرہ نے میرے ہاں آ کر کہنے لگیں میں نے اپنے مالکوں سے 9 اوقیہ چاندی پر مکاتبت کر لی ہے اور ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے تم میری مدد کرو۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تمہارے مالک پسند کریں کہ میں ان کو گن دوں تو میں گن دوں گی اور ولاء میرے لئے ہو گی بریرہ اپنے مالکوں کے ہاں گئیں اور ان کو یہ بات بتلائی تو انہوں نے انکار کر دیا۔ تو وہ مالکان سے ہو کر آئیں اس وقت جناب رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے وہ کہنے لگیں میں نے ان کو وہ بات پیش کی مگر انہوں نے انکار کر دیا اور ولاء کی شرط لگائی تو اس بات کو جناب رسول اللہ ﷺ نے سنا اور اس سے دریافت کیا تو عائشہ رضی اللہ عنہ نے بات بتلائی تو آپ نے فرمایا تو اس کو خرید لو اور شرط لگا لو ولاء تو معتق کو ملتا ہے ۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کیا پھر رسول اللہ ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا پھر زہری کی طرح روایت نقل کی ہے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مالک بن أنس ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5526

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5527

5224 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني مالك فذكر بإسناده ففي هذا الحديث مثل ما في حديث الزهري أن الذي كان فيه الاشتراط من أهل بريرة أن يكون الولاء لهم وإباء عائشة رضي الله عنها إلا أن يكون الولاء لها هو أداء عائشة رضي الله عنها عن بريرة الكتابة فقد اتفق الزهري وهشام على هذا وخالفا في ذلك أصحاب الأحاديث الأول وزاد هشام على الزهري قول رسول الله صلى الله عليه و سلم خذيها واشترطي فإنما الولاء لمن أعتق هكذا في حديث هشام وموضع هذا الكلام في حديث الزهري إبتاعي وأعتقي فإنما الولاء لمن أعتق ففي هذا اختلف هشام والزهري فإن كان الذي يعتبر في هذا هو الضبط والحفظ فيؤخذ بما روى أهله ويترك ما روى الآخرون فإن ما روى الزهري أولى لأنه أتقن وأضبط وأحفظ من هشام وإن كان الذي يعتبر في ذلك هو التأويل فإن قوله خذيها قد يجوز أن يكون معناه إبتاعها كما يقول الرجل لصاحبه بكم آخذ هذا العبد يريد بذلك بكم أبتاع هذا العبد وكما يقول الرجل للرجل خذ هذا العبد بألف درهم يريد بذلك البيع ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم واشترطي فلم يبين ما تشترط فقد يجوز أن يكون أراد واشترطي ما يشترط في البياعات الصحاح فليس في حديث هشام هذا لما كشف معناه خلاف لشيء مما في حديث الزهري ولا بيان فيهما كيف حكم البيع إذا وقع فيه مثل هذا الشرط هل يكون فاسدا أو هل يكون جائزا وأما ما احتج به الذين أفسدوا البيع بذلك الشرط فما

ابن وہب نے مالک سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ اس روایت میں بھی زہری کی روایت کی طرح ہے کہ بریرہ کے مالکان کی طرف سے ولاء کی شرط تھی اور انکار حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے تھا کہ ولاء میری ہو گی تو میں یعنی عائشہ رضی اللہ عنہ ، بریرہ کی طرف سے بدل کتابت ادا کر دوں گی۔ اب زہری اور ہشام دونوں اس بات پر متفق ہیں اور حدیث اول کے روات اس کے خلاف ہیں البتہ زہری نے ہشام سے چند الفاظ زائد بیان کیے ہیں ۔ کہ " خذیھا واشتر طی فانما الولاء لمن اعتق، کذا فی روایہ ھشام " روایت زہری میں کلام کی جگہ تو یہ الفاظ ہیں " ابتاعی واعتقی ، فانما الولاء لمن اعتق " اس میں ہشام و زہری کا اختلاف ہے ۔ اگر ضبط و اتقان کا لحاظ کیا جائے تو ہشام سے زہری کا مرتبہ بڑھ کر ہے پس اس کی روایت کو لیا جائے اور دوسری روایت چھوڑ دی جائے ۔ اگر تاویل کو دیکھا جائے تو " خذیھا " کا معنی خریدنا ہے جیسا کہ کہتے ہیں " بکم اخذ ھذا العبد ؟ " اس سے مراد خریدنا ہوتا ہے ۔ جیسا کہتے ہیں " خذ ھذا العبد بالف درھم " مراد بیع کرنا ہے ۔ پھر جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " اشترطی" مگر شرط کی وضاحت نہیں ۔ تو ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ جو صحیح بیوع میں شرط لگاتے ہیں وہ لگا لو۔ روایت ہشام میں اس کا معنی ظاہر کرنے والی کوئی بات نہیں اور حدیث زہری کے کوئی بات مخالف بھی نہیں اور ان دونوں روایتوں میں یہ مذکور نہیں کہ جب ایسی شرط لگا دی جائے تو اس کا کیا حکم ہوگا ۔ بیع فاسد ہو گئی یا جائز ہو گی۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5527

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5528

5225 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب بن ناصح قال أخبرنا حماد بن سلمة عن داود بن أبي هند عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن بيع وسلف وعن شرطين في بيعة

عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے قرض اور بیع سے اور بیع میں دو شرطوں سے منع فرمایا ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5528

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5529

5226 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا مسدد قال ثنا حماد عن أيوب عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا يحل سلف وبيع ولا شرطان في بيع

عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرض اور بیع حلال نہیں اور دو شرطیں بیع میں درست نہیں۔

لا يحل سلف وبيع ولا شرطان في بيع ← النبي صلى الله عليه و سلم ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← مُسَدَّدٌ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5529

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 10 باب البيع يشترط فيه شرط ليس منه ) · حديث 5530

5227 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا حماد بن زيد فذكر بإسناده مثله

سلیمان بن حرب نے حماد بن زید سے انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

حماد بن زيد فذكر بإسناده مثله ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5530

chevron_left Previous
1…587588589…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter