Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 11 باب بيع أرض مكة وإجاراتها ) · حديث 5543

5240 - حدثنا يونس قال ثنا وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب أن عليا بن حسين أخبره أن عمرو بن عثمان أخبره عن أسامة بن زيد أنه قال يا رسول الله أتنزل في دارك بمكة فقال وهل ترك لنا عقيل من رباع أو دور وكان عقيل ورث أبا طالب هو وطالب ولم يرثه جعفر ولا على لأنهما كان مسلمين وكان عقيل وطالب كافرين وكان عمر بن الخطاب من أجل ذلك يقول لا يرث المؤمن الكافر

عمرو بن عثمان نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ آ پ مکہ میں اپنے گھر تشریف لے جائیں گے تو آپ نے فرمایا کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی رہائش اور مکان چھوڑا ہے ۔ عقیل اور طالب ابو طالب کے وارث بنے جبکہ حضرت جعفر اور علی رضی اللہ عنہ وارث نہیں ہوئے کیونکہ یہ دونوں مسلمان تھے اور عقیل و طالب کافر تھے ( بعد میں عقیل اسلام لائے ) اسی لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے مؤمن کافر کا وارث نہیں بن سکتا۔

أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ، ← أَنَّ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ ← بن شهاب أن عليا بن حسين ← يُونُسَ ← وَھْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5543

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 11 باب بيع أرض مكة وإجاراتها ) · حديث 5544

5241 - حدثنا بحر بن نصر قال ثنا بن وهب فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر ففي هذا الحديث ما يدل أن أرض مكة تملك وتورث لأنه قد ذكر فيها ميراث عقيل وطالب لما تركه أبو طالب فيها من رباع ودور فهذا خلاف الحديث الأول ولما اختلفا أحتيج إلى النظر في ذلك لنستخرج من القولين قولا صحيحا ولو صار إلى طريق اختيار الأسانيد وصرف القول إلى ذلك لكان حديث علي بن حسين أصحهما إسنادا ولكنا نحتاج إلى كشف ذلك من طريق النظر فاعتبرنا ذلك فرأينا المسجد الحرام الذي كل الناس فيه سواء لا يجوز لأحد أن يبني فيه بناء ولا يحتجز منه موضعا وكذلك حكم جميع المواضع التي لا يقع لأحد فيها ملك وجميع الناس فيها سواء ألا ترى أن عرفة لو أراد رجل أن يبنى في المكان الذي يقف فيه الناس فيها بناء لم يكن ذلك له وكذلك منى لو أراد أن يبنى فيها دارا كان من ذلك ممنوعا وكذلك جاء الأثر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم

بحر بن نصر نے ابن وہب سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس روایت سے ثابت ہو رہا ہے کہ مکہ کی زمین کا مالک بنا جا سکتا ہے اور وراثت میں مل سکتی ہے کیونکہ اس میں عقیل و طالب کی وراثت کا اس جائداد کے متعلق تذکرہ ہے جو ابو طالب نے مرتے وقت چھوڑ ی اس میں زمین اور مکانات تھے یہ پہلی روایت کے مخالف ہے ۔ جب اختلاف ہوا تو اب اس پر غور کی ضرورت ہے تاکہ صحیح ترین قول سامنے آ جائے ۔ اگر سند کو دیکھا جائے تو علی بن حسین والی روایت سند کے اعتبار سے مضبوط ہے ۔ سوچ بچار سے معلوم ہوا کہ مسجد حرام جس میں تمام لوگ برابر ہیں اس میں تعمیر کی کسی کو اجازت نہیں اور نہ ہی اس کے کسی حصے کو ممنوع قرار دینے کی اجازت ہے یہی حکم ان تمام مقامات کا ہے جن میں کسی کی ملکیت نہیں ہوتی اور ان میں تمام لوگ برابر ہوتے ہیں ۔ ذرا غور کریں کہ میدان عرفات میں تمام لوگ وقوف کرتے ہیں کوئی شخص عمارت بنانا چاہے تو اس کو جائز نہیں اسی طرح اگر کوئی شخص منیٰ میں عمارت بنانا چاہے تو اس کو روکا جائے گا جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایات وار ہیں ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5544

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 11 باب بيع أرض مكة وإجاراتها ) · حديث 5545

5242 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا الحكم بن مروان الضرير الكوفي قال ثنا إسرائيل عن إبراهيم بن المهاجر عن يوسف بن ماهك عن أمه عن عائشة قالت قلت يا رسول الله ألا نتخذ لك ب منى شيئا تستظل به فقال يا عائشة إنها مناخ لمن سبق أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يأذن لهم أن يجعلوا له فيها شيئا يستظل به لأنها مناخ من سبق ولأن الناس كلهم فيها سواء

یوسف بن ماھک نے اپنی والدہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم منیٰ میں آپ کے لئے کوئی چیز نہ بنا دیں جس سے آپ سایہ حاصل کریں آپ نے فرمایا اے عائشہ ! وہ ان لوگوں کے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے جو پہلے پہنچ جائیں ۔ جناب رسول اللہ ﷺ ان کو اجازت مرحمت نہیں فرمائی کہ اس میں خیمہ بھی لگا سکیں کیونکہ وہ پہلے پہنچنے والے کے لئے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے ۔ جہاں وہ بٹھا لے اور تمام لوگوں کا حق اس میں برابر ہے ۔

قُلْتُ ← عَائِشَةَ ← أُمِّهِ2، ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← اِسْرَائِیْلُ ← الحكم بن مروان الضرير الكوفي ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5545

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 11 باب بيع أرض مكة وإجاراتها ) · حديث 5546

5243 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا الفريابي ح

حسین بن صر نے فریابی سے روایت کی ہے ۔

الْفِرْيَابِيُّ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5546

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 11 باب بيع أرض مكة وإجاراتها ) · حديث 5547

وحدثنا عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي قال ثنا أبو نعيم قالا ثنا إسرائيل عن إبراهيم بن المهاجر عن يوسف بن ماهك عن أمه وكانت تخدم عائشة أم المؤمنين فحدثته عن عائشة مثله قال وسألت أمي مكان عائشة رضي الله عنها بعد ما توفي النبي صلى الله عليه و سلم أن تعطيها إياه فقالت لها عائشة لا أحل لك ولا لأحد من أهل بيتي أن يستحل هذا المكان تعني منى قال أبو جعفر فهذا حكم المواضع التي الناس فيها سواء ولا ملك لأحد عليها ورأينا مكة على غير ذلك قد أجيز البناء فيها وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم دخلها من دخل دار أبي سفيان فهو آمن ومن أغلق عليه بابه فهو آمن

یوسف بن ماھک نے اپنی والدہ سے روایت کی ہے کہ جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت کرتی تھیں انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔ یوسف کہتے ہیں کہ میں نے اپنی ماں سے سوال کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا مکان جناب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد وہ مجھے دے دیں تو میری والدہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ جگہ میں نہ تیرے لئے جائز سمجھتی ہوں اور نہ اپنے گھر والوں میں سے کسی کے لئے ( مراد منیٰ میں خیمہ والی جگہ ) امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : یہ حکم ان تمام مقامات کا ہے جو تمام لوگوں کے لئے برابر ہیں کہ ان پر کسی کا ملکیت والا حق نہیں مگر مکہ مکرمہ کا حکم اس کے خلاف ہے اس میں عمارات کی تعمیر درست ہے جناب رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوا اس کو امن ہے اور جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اس کو امن ہے ۔

عَائِشَۃَ مِثْلَہُ ← أمه وكانت تخدم عائشة أم المؤمنين فحدثته ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5547

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 11 باب بيع أرض مكة وإجاراتها ) · حديث 5548

5244 - حدثنا بذلك ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا حماد بن سلمة عن ثابت البناني عن عبد الله بن رباح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم فلما كانت مكة مما تغلق عليه الأبواب ومما تبنى فيها المنازل كانت صفتها صفة المواضع التي تجرى عليها الأملاك ويقع فيها المواريث فإن احتج محتج في ذلك بقول الله عز و جل إن الذين كفروا ويصدون عن سبيل الله والمسجد الحرام الذي جعلناه للناس سواء العاكف فيه والباد قيل له قد روى في تأويل هذا عن المتقدمين ما قد

عبداللہ بن رباح نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے یہ روایت کی ہے ( جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اس کو امن ہے ) جب کہ مکہ مکرمہ کا یہ حال ہے کہ وہاں دروازے بند کئے جاتے ہیں اور یہ ان مقامات سے ہے جہاں عمارات بنائی جاتی ہیں تو اس کا حال ان مقامات کی طرح ہوگا جن پر ملک جاری ہوتی ہے اور وراثت نافذ ہوتی ہے ۔ اگر کوئی دلیل پیش کرے کہ اگر کوئی آیت : العاکف فیہ والباد : الحج 25 کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اس کے معاملے میں برابر ہے تو دعویٰ ملک کیونکر درست ہوا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أسد ← بذلك ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5548

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 11 باب بيع أرض مكة وإجاراتها ) · حديث 5549

5245 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن عبد الله بن مسلم عن سعيد بن جبير عن بن عباس قال سواء العاكف فيه والباد وقال خلق الله فيه سواء

حضرت سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ یہاں کے باشندے اور باہر کے لوگ برابر ہیں سے مراد یہ کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق برابر ہے ۔

سواء العاكف فيه والباد وقال خلق الله فيه سواء ← بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5549

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 11 باب بيع أرض مكة وإجاراتها ) · حديث 5550

5246 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة قال ثنا سفيان عن أبي حصين قال أردت أن أعتكف فسألت سعيد بن جبير وأنا بمكة فقال أنت عاكف ثم قرأ سواء العاكف فيه والباد

سفیان نے ابو حصین سے روایت کی کہ میں نے اعتکاف کا ارادہ کیا تو میں نے سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا اس وقت میں مکہ مکرمہ میں تھا۔ انہوں نے فرمایا تو مکہ کا رہنے والا ہے پھر یہ آیت تلاوت کی " سواء العاکف فیہ والباد " ( الحج 25)

أنت عاكف ثم قرأ سواء العاكف فيه والباد ← بِمَكَّةَ ← أردت أن أعتكف فسألت سعيد بن جبير ← أَبِي حَصِينٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5550

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 11 باب بيع أرض مكة وإجاراتها ) · حديث 5551

5247 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا مسدد قال ثنا يحيى بن سعيد عن عبد الملك عن عطاء قال سواء العاكف فيه والباد قال الناس في البيت سواء ليس أحد أحق به من أحد فثبت بذلك أنه إنما قصد بذلك إلى البيت أو إلى المسجد الحرام لا إلى سائر مكة وهذا قول أبي يوسف رحمة الله عليه

عبدالملک نے عطاء سے روایت کی کہ " سواء العاکف فیہ والباد " کہ لوگ بیت اللہ میں برابر ہیں کوئی ایک دوسرے سے زیادہ حق نہیں رکھتا ۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اس سے مسجد حرام یا بیت اللہ مراد ہے کہ عبادت کے لحاظ سے اس میں سب کا حق برابر ہے تمام مکہ مراد نہیں یہ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے۔

سَوَاءً الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5551

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5552

5248 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن الزهري عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام عن أبي مسعود أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن ثمن الكلب ومهر البغي وحلوان الكاهن

ابو بکر بن عبدالرحمن نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت اور زانیہ کی اجرت اور کاہن کے ہدیہ سے منع فرمایا ۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5552

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5553

5249 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني مالك عن الزهري فذكر بإسناده مثله

مالک نے زہری سے پھر انہوں نے اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

الزُّهْرِيِّ،. فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5553

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 12 باب ثمن الكلب ) · حديث 5554

5250 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب عن أبي بكر عن أبي مسعود أن النبي صلى الله عليه و سلم قال ثلاث هن سحت أي حرام ثم ذكر مثله

ابو بکر نے ابی مسعود سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے فرمایا تین چیزیں حرام ہیں پھر اسی طرح روایت کی ہے ۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبِي بَكْرٍ، ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5554

chevron_left Previous
1…589590591…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter