Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 كتاب الحجة في فتح رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة عنوة قال أبو جعفر اجتمعت الأمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صالح أهل ) · حديث 5351

5063 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن الأنصاري قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أخبرنا عبد الملك عن عطاء بن أبي رباح عن بن عباس رضي الله عنهما أنه كان يقول لا يدخل مكة تاجر ولا طالب حاجة إلا وهو محرم فدل ما ذكرنا أن إحلال الله إياها لرسول الله صلى الله عليه و سلم إنما كان لحاجته إلى القتال منها لا لغير ذلك فإن قال قائل فقد كان رسول الله صلى الله عليه و سلم آمن الناس جميعا إلا ستة نفر وذكر في ذلك ما

عطاء بن ابی رباح نے حضرت ابن عبا س رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے کوئی تاجر اور طالب حاجت بھی مکہ میں بلا احرام داخل نہیں ہوسکتا۔ ان روایات سے یہ دلالت مل گئی کہ دخول مکہ کے لئے احرام ضروری ہے آپ کا بلا احرام داخل اس بات کو ظاہر کرتا ہے اللہ تعالی نے مکہ کو جناب رسول ﷺکے لئے حاجت قتال کی وجہ سے حلال کیا اور قتال کے لئے بلا حرام ہونا لازم ہے۔ فلا جدال) اگر کوئی معترض کہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے تمام کو امن دیا مگر چھ آدمی مستثنیٰ تھے اور یہ روایت اس کی دلیل ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن الأنصاري

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5351

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 كتاب الحجة في فتح رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة عنوة قال أبو جعفر اجتمعت الأمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صالح أهل ) · حديث 5352

5064 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا أحمد بن الفضل قال ثنا أسباط بن نصر قال زعم السدي عن مصعب بن سعد عن أبيه قال لما كان يوم فتح مكة آمن رسول الله صلى الله عليه و سلم الناس إلا أربعة نفر وأمرأتين وقال اقتلوهم وإن وجدتموهم متعلقين بأستار الكعبة عكرمة بن أبي جهل وعبد الله بن خطل ومقيس بن ضبابة وعبد الله بن سعد بن أبي سرح فأما عبد الله بن خطل فأتى وهو متعلق بأستار الكعبة فاستبق إليه سعيد بن حريث وعمار بن ياسر فسبق سعيد عمارا وكان أشد الرجلين فقتله وأما مقيس بن ضبابة فأدركه الناس في السوق فقتلوه وأما عكرمة بن أبي جهل فركب البحر فأصابتهم ريح عاصف فقال أصحاب السفينة لأهل السفينة أخلصوا فإن آلهتكم لا تغني عنكم شيئا ههنا فقال عكرمة والله لئن لم ينجني في البحر إلا الإخلاص لم ينجني في البر غيره اللهم إنا لك علي عهدا إن أنت أنجيتني مما أنا فيه أني آتي محمدا ثم أضع يدي في يده فلأجدنه عفوا كريما فأسلم قال وأما عبد الله بن أبي سرح اختبى عند عثمان بن عفان رضي الله عنه فلما دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله بايع عبد الله قال فرفع رأسه فنظر إليه ثلاثا كل ذلك نائيا فبايعه بعد ثلاث ثم أقبل على أصحابه فقال أما كان فيكم رجل يقوم إلى هذا حين رآني كففت يدي عن بيعته فيقتله قالوا ما درينا يا رسول الله ما في نفسك فهلا أومأت إلينا بعينك فقال إنه لا ينبغي لنبي أن تكون له خائنة عين

اسباط بن نصر کہتے ہیں کہ سدی کازعم یہ ہے کہ مصعب بن سعد نے اپنے والد سے یہ بات نقل کی ہے کہ جب مکہ کا دن آیا تو جناب رسول ﷺ نے تمام لوگوں کو امن د یا سوائے چار مردوں اور دو عورتوں کے ۔ ان کے متعلق فرمایا ان کوقتل کر ڈالو خواہ یہ کعبہ کے پردوں سے لٹکنے والے ہوں: نمبر 1مکرمہ بن ابی جہل۔ نمبر2 و عبدالله بن خطل۔ نمبر3 مقیس بن ضباب ۔نمبر 4 عبدالله بن سعد بن ابی سرح۔تشریح : عبداللہ بن خطل کو کعبہ کے پردوں سے لپٹا پایا گیا سعید بن حریث اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دونوں کی طرف دوڑے سعد اگے نکل گئے وہ زور میں زیادہ تھے اور اس کو قتل کر دیا اور مقیس بن ضبابہ کو لوگوں نے بازار میں پا کر قتل کر دیا باقی عکرمہ ( یمن کی طرف ) کشتی میں سوار ہو کر چل دئیے طوفان آ گیا کشتی والے ایک دوسرے کو کہنے لگے خالض کر کے اللہ کو پکار و تمہارے معبود یہاں کام نہیں دیتے ۔ عکرمہ کہنے لگے اگر یہ سمندر ہمیں بچا نہیں سکتے تو خشکی میں بھی بچا نہیں سکتے ۔ خشکی میں بھی وہی بچا سکتا ہے ۔ اے اللہ میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں اگر تو مجھے اس طوفان سے بچا لے گا تو میں محمد ﷺ کی خدمت میں پہنچ کر اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں رکھ دوں گا میں امید کرتا ہوں کہ وہ مجھے مہربانی سے معاف فرما دیں گے ۔ پس وہ اسلام لے آئے ۔ باقی عبداللہ بن ابی سرح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ہاں چھپ گیا جب جناب نبی اکرم ﷺ نے عثمان رضی اللہ عنہ کو بلایا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ عبداللہ کو بیعت کر لیجیے ۔ راوی کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھا کر تین مرتبہ اس کی طرف دیکھا ۔ ہر مرتبہ آپ نگاہ کو دور کر لیتے پھر تین مرتبہ کے بعد اس کو بیعت کر لیا۔ پھر صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا گیا تم میں کوئی ایسا آدمی نہ تھا کہ اس کی طرف اٹھ کر اس وقت اس کو قتل کر ڈالتا جبکہ میں نے اس کی بیعت سے ہاتھ روک لیا تھا انہوں نے کہا یا رسو ل اللہ ﷺ آپ کی بات ہم بوجھ نہیں سکے ۔ آ پ نے ہماری طرف آنکھ سے کیوں اشارہ نہ کر دیا آپ نے فرمایا ۔ کسی نبی کی آنکھ بھی خیانت کرنے والی نہیں ہوتی ۔ ( یعنی وہ کسی چیز کو نظر چرا کر نہیں دیکھتے )

أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5352

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 كتاب الحجة في فتح رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة عنوة قال أبو جعفر اجتمعت الأمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صالح أهل ) · حديث 5353

5065 - حدثنا أبو أمية قال ثنا أحمد بن الفضل فذكر بإسناده مثله قيل له هذا ما كان من رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد أن أظفره الله عليهم ألا يرى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما كان صالح أولا قد كان دخل في صلحه ذلك هؤلاء الستة النفر وان دماءهم قد حلت بعد ذلك بأسباب حدثت منهم بعد الصلح وكذلك أبو سفيان أيضا كان في الصلح ثم قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه لرسول الله صلى الله عليه و سلم حين أتاه به العباس رضي الله عنه يا رسول الله هذا أبو سفيان قد أمكن الله منه بغير عقد ولا عهد فلم ينكر ذلك عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى أجاره العباس بعد ذلك بحقن دمه لجواره وكذلك هبيرة بن أبي وهب المخزومي وابن عمه اللذان كانا لحقا بعد دخول رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة إلى أم هانئ بنت أبي طالب رضي الله عنها فأراد على بن أبي طالب رضي الله عنه أن يقتلهما وقد كانا دخلا في الصلح الأول ثم قد حلت دماؤهما بعد ذلك بالأسباب التي كانت منهما حتى أجارتهما أم هانئ رضي الله عنها فحرمت بذلك دماؤهما وكذلك من لم يدخل دار أبي سفيان يوم فتح مكة ولا من يغلق عليه بابه قد كان دخل في الصلح الأول على غير إشراط عليه فيه دخول دار أبي سفيان ولا يغلق باب نفسه عليه ثم حل دمه بعد الصلح الأول بالأسباب التي كانت منه بعد ذلك فدل بما

ابوامیہ نے احمد بن فضل سے روایت کی اور پھر اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ معاملات تو اس وقت سے متعلق ہیں جب الله تعالی نے آپ کو ان پر فتح و کامیابی عنایت فرمادی۔ ذراغورتو کرو۔ جب جناب رسول ﷺ نے ابتداء میں صلح کی یہ چھ لوگ بھی صلح میں داخل تھے ان کےخون ان اسباب کی وجہ سے حلال ہوئے ہیں جن کا ارتکاب انہوں نے صلح کے بعد کیا ہے اسی طرح ابوسفیان بھی صلح میں داخل تھا(جب صلح توڑ دی) تو عمر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول ﷺکی خدمت میں اس وقت کہا جب ابو سفیان کو عباس رضی اللہ عنہ لے کر خدمت نبویﷺ میں حاضر ہوئے کہ یا رسول ﷺیہ ابوسفیان دشمن خدا پراللہ تعالی بلا عہد ومعاہدہ قابو عنایت فرمایا ہے مجھے اس کے قتل کی اجازت دیں۔ جناب رسول ﷺنے ان کی بات کا انکار نہیں کیا۔ یہاں تک کہ ان کے خون کی حفاظت کے لئے عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو پناہ دی اپنے قرب کی وجہ سے۔ اسی طرح ہیرہ بن ابی وہب مخزومی اور اس کا ابن عم جنہوں نے ام ہانی رضی اللہ عنہ کے ہاں پناہ لی یہ داخلہ مکہ کے بعد کی بات ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ یہ دونوں بھی پہلی صلح میں تو محفوظ دم تھے پھر ان کے خون بعد میں ان کی حرکات کی وجہ سے مباح ہوئے یہاں تک کہ ام ہانی رضی اللہ عنہ نے پناہ دی تو تب وہ محفوظ الدم بنے۔اسی طرح وہ لوگ جو ابوسفیان کے گھر میں فتح مکہ کے دن داخل نہ ہوئے اور نہ انہوں نے اپنے دروازے بند کئے وہ پہلی صلح میں تو بلا شرط داخل تھے کہ ابوسفیان کے گھر میں داخلہ کا دروازہ بند کرنا پھر صلح کے بعد انہوں نے ایسے اسباب پیدا کئے جو ان کے خون کو مباح کرنے والے تھے۔

أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ، ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5353

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 كتاب الحجة في فتح رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة عنوة قال أبو جعفر اجتمعت الأمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صالح أهل ) · حديث 5354

5066 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن يونس البغدادي قال ثنا محمد بن منصور الطوسي قال ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد قال ثنا أبي عن أبي إسحاق قال حدثني سعيد عن عبد الله بن أبي السفر عن الشعبي عن عبد الله بن مطيع بن الأسود عن أبيه وكان أسمه العاص فسماه رسول الله صلى الله عليه و سلم مطيعا قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم حين أمر بقتل هؤلاء الرهط بمكة يقول لا تغزى مكة بعد اليوم أبدا ولا يقتل رجل من قريش صبرا بعد العام فهذا يدل على أنه كان غزوها في ذلك العام بخلافه فيما بعده من الأعوام وفي ذلك ما قد دل على أنه كان لا أمان لأهلها في ذلك العام لأنه لا يغزى من هو في أمان وقوله لا يقتل رجل من قريش صبرا بعد ذلك العام لذلك وفيما روينا وذكرنا من الآثار وكشفنا من الدلائل ما تقوم الحجة به في كشف ما اختلفا فيه وإيضاح فتح مكة أنه عنوة وبالله التوفيق ولقد روي في أمر مكة ما يمنع أن يكون صلحا ما

شعی نے عبدالله بن مطیع بن اسود سے انہوں نے اپنے والدحضرت مطیع سے روایت کی ہے ان کا نام پہلے عا ص تھا (جس کا معنی نافرمان ہے) آپ نے اس کا نام مطیع رکھا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جناب رسول ﷺ سے سنا جب کہ آپ نے مکہ میں اس گروہ کےقتل کا حکم فرمایا تو ارشادفرمایا آج کے بعد مکہ پر(کفر کی وجہ سے) جہاد نہ کیا جائے گا اور نہ کوئی قریشی قید و بند میں اس سال کے بعد مقتول ہوگا۔ اس روایت سے یہ دلالت ملتی ہے کہ آپ کا یہ غزوہ دوسرے سالوں کے غزوات سے الگ نوعیت کا تھا۔ اس غزوہ میں اہل مکہ کو امان حاصل نہ تھی کیونکہ جو امان میں ہو اس سے لڑائی درست نہیں اور لايقتل رجل من قریش والا ارشاد بھی اسی خاطر تھا ، ہم نے آثار و دلائل پیش کر کے یہ ثابت کر دیا کہ فتح مکہ زور سے ہوئی تھی فریق ثانی نے جس طرح کہا اس طرح نہیں۔ وبالله التوفیق۔

عَبْدُ اللهِ بْنُ مُطِيعِ بْنِ الأَسْوَدِ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ← سَعِيدٌ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُونُسَ الْبَغْدَادِيُّ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5354

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 كتاب الحجة في فتح رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة عنوة قال أبو جعفر اجتمعت الأمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صالح أهل ) · حديث 5355

5067 - حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح قال ثنا عبد الله بن صالح ح

یحییٰ بن عثما ن بن صلح نے عبد الله بن صلح سے روایت کی۔

عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5355

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 كتاب الحجة في فتح رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة عنوة قال أبو جعفر اجتمعت الأمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صالح أهل ) · حديث 5356

وحدثنا روح بن الفرج قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قالا ثنا عبد الله بن لهيعة قال حدثني محمد بن عبد الرحمن عن عروة عن المسور بن مخرمة عن أبيه قال لقد أظهر نبي الله صلى الله عليه و سلم فأسلم [ ص 332 ] أهل مكة وذلك قبل أن تفرض الصلاة حتى إن كان ليقرأ بالسجدة ويسجد فيسجدون فما يستطيع بعضهم أن يسجد من الزحام وضيق المكان لكثرة الناس حتى قدم رءوس قريش الوليد بن المغيرة وأبو جهل وغيره فكانوا بالطائف في أرضيهم فقال أتدعون دين أبي بكر فكفروا قال أبو جعفر رحمه الله ففي هذا الحديث أن إسلام أهل مكة قد كان تقدم وأنهم كفروا بعد ذلك فكيف يجوز أن يؤمن رسول الله صلى الله عليه و سلم قوما مرتدين بعد قدرته عليهم هذا لا يجوز عليه صلى الله عليه و سلم ولقد أجمع المسلمون جميعا أن المرتد يحال بينه وبين الطعام إلا ما يقوم بنفسه وأنه يحال بينه وبين سعة العيش والتصرف في أرض الله حتى يراجع دين الله تعالى أو يأبى ذلك فيمضي عليه حكم الله تعالى وأنه لو سأل الإمام أن يؤمنه على أن يقيم مرتدا آمنا في دار الإسلام أن الإمام لا يجيبه إلى ذلك ولا يعطيه ما سأل ففي ثبوت ما ذكرنا من إجماع المسلمين على ما وصفنا دليل صحيح وحجة قاطعة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يؤمن أهل مكة بعد قدرته عليهم وظفره بهم والله أعلم بالصواب

عر وہ نے مسور بن مخرمہ سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ جناب رسول ﷺنے اسلام کو غالب و ظاہر فرمایا تو اہل مکہ اسلام لے آئے اور ہر نماز کی فرضیت سے پہلے کی بات ہے یہاں تک کہ جب آپ آیت سجدہ پڑھتے اور آپ سجدہ کرتے تو وہ بھی سجدہ کرتے بعض جگہ کی تنگی اور بھیڑ کی وجہ سے سجدہ نہ کر پاتے کیونکہ لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی قریش کا سربراہ ولید بن مغیرہ ابو جہل و غیره وه طائف میں اپنے علاقے میں تھے وہ کہنے لگے کیا تم اپنے آباء کا دین چھوڑ رہے ہو چنانچہ انہوں نے انکار کر دیا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت ثابت کرتی ہے کہ اہل مکہ کا اسلام پہلے تھا اور انہوں نے پھر انکار کیا۔ پھر یہ کیسے درست ہے کہ قدرت کے بعد اس قوم کو امان دی جائے جو مرتد ہوئے تھے؟ یہ آپ ﷺکے تعلق سوچنا بھی غلط ہے ۔ مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ مر تد کے کھانے میں رکاوٹ ڈالی جائے گی سوائے اس مقدار کے جس سے اس کی جان بچ جائے اسکے اور خوشحالی اور زمین میں تصرف و کاروبار میں رکاوٹ ڈالی جائے گی تا کہ وہ دین کی طرف لوٹ آئے یا انکار کر دے پھر اس پر اللہ تعالی کاحکم (قتل) نافذ کر دیا جائے اگر وہ یہ مطالبہ کرے کہ حاکم اس کو امن دے تا کہ وہ ارتدادکی حالت میں دارالاسلام میں مقیم رہے تو اس کی یہ درخواست قبول نہ کی جائے گی۔ اس دلیل سے یہ ثابت ہوا کہ جناب رسول الله ﷺنے اہل مکہ کو قدرت و کامیابی کے امان نہیں دی۔ والله اعلم بالصواب واليه المرجع

أَبِيهِ ← الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عبد الله بن لهيعة ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5356

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 1 باب بيع الشعير بالحنطة متفاضلا ) · حديث 5357

5068 - حدثني يونس بن عبد الأعلى الصدفي قال ثنا عبد الله بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث أن أبا الزبير حدثه أن بسر بن سعيد حدثه عن معمر بن عبد الله أنه أرسل غلاما له بصاع من قمح هو الحنطة فقال له بعه ثم اشتر به شعيرا فذهب الغلام فأخذ صاعا وزيادة بعض صاع فلما جاء معمر أخبره فقال له معمر لم فعلت انطلق فرده ولا تأخذ إلا مثلا بمثل فإني كنت أسمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول الطعام بالطعام مثلا بمثل وكان طعامنا يومئذ الشعير قيل له فإنه ليس مثله قال إني أخاف أن يضارعه أن يشبهه قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا الحديث فقلدوه وقالوا لا يجوز بيع الحنطة بالشعير إلا مثلا بمثل وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا بأس ببيع الحنطة بالشعير متفاضلا مثلين بمثل أو أكثر من ذلك وكان من الحجة لهم على أهل المقالة الأولى في الحديث الذي احتجوا به عليهم أن معمرا أخبر عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان يسمعه يقول الطعام بالطعام مثلا بمثل ثم قال معمر وكان طعامنا يومئذ الشعير فيجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم أراد بقوله الذي حكاه عنه معمر الطعام الذي كان طعامهم يومئذ فيكون ذلك على الشعير بالشعير فلا يكون في هذا الحديث شيء من ذكر بيع الحنطة بالشعير مما ذكر فيه عن النبي صلى الله عليه و سلم وإنما هو مذكور عن معمر من رأيه ومن تأويله ما كان سمع من النبي صلى الله عليه و سلم ألا ترى أنه قيل له فإنه ليس مثله أي ليس من نوعه فلم ينكر ذلك على من قاله وكان جوابه له إني أخشى أن يضارعه كأنه خاف أن يكون قول النبي صلى الله عليه و سلم الذي سمعه يقوله وهو ما ذكرنا في حديثه على الأطعمة كلها فتوقى ذلك وتنزه عنه للريب الذي وقع في قلبه منه فلما انتفى أن يكون في هذا الحديث حجة لأحد الفريقين على صاحبه نظرنا هل في غيره ما يدلنا على حكم ذلك كيف هو فاعتبرنا ذلك

بسر بن سعید نے معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اپنے ایک غلام کو گندم کا صاع دے کر بھیجا فرمایا کہ اس کے بدلے جو خر یدلاؤ غلام گیا اور ایک صاع سے زائد جولایا جب حضرت معمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا تو آپ نے فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا ۔ اسے واپس کرواور برابر برابر بدلو۔ میں نے جناب رسول ﷺکو فرماتے سناہے کہ آپ نے فرمایا غلہ غلہ کے بدلے برابر ہونا چاہئے۔ راوی کہتے ہیں کہ ان دنوں ہمارا غلہ جو تھا۔ ان سے کہا گیا کہ جو اس کی مثل نہیں تو فرمانے لگے مجھے اس بات کا خطرہ ہے کہ یہ اس کے کہیں مشابہ نہ ہو۔ امام طحاویؒ فرماتے ہیں بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ جیسا یہ روایت ثابت کرتی ہے کہ گندم اور جو کی خرید وفروخت باہمی برابر برابر کے علاوہ درست نہیں۔ دوسروں نے کہا جو اور گندم کی بیع کم زیادہ مقدار کے ساتھ جائز ہے خواہ گندم ایک مثل ہو اور جو اس سے دو گنا ہوں۔ فریق اول کا جواب : اس روایت میں حضرت معمر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول ﷺ سے جو بات سنی ہے وہ اس قدر ہے الطعام بالطعام مثلا بمثل معمر کہتے ہیں کہ ہم ان دنوں بطور طعام جو استعمال کرتے تھے پس یہ جائز ہے کہ جناب رسول ﷺکی جو کے مقابلے میں جو کی بیع ہو پس اس روایت میں گندم کے بدلے جو کی بیع کا سرے سے تذکرہ ہی نہیں بقیہ اگے حضرت معمر رضی اللہ عنہ نے جو آپﷺ سےسنا اس کی تعبیر میں انہوں نے گندم و جو کے الگ نوع ہونے سے انکارنہیں فرمایا۔ بلکہ اپنے ہاں کمال احتیاط برتتے ہوئے محض اپنے شک کی بناء پر اس کو مثلا بمثل میں داخل ماتا۔ اب جب بی احتمال پیدا ہوا تو یہ روایت فریق اول کی دلیل نہ رہی کسی فیصلہ پہنچنے کے لئے دیگر روایات کو ملاحظہ کرتے ہیں ۔ جس معنی کی تائید مل جائے گی اسے تسلیم کر لیا جائے گا۔ روایت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ملاحظہ ہو۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5357

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 1 باب بيع الشعير بالحنطة متفاضلا ) · حديث 5358

5069 - فإذا علي بن شيبة قد حدثنا قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن مسلم بن يسار عن أبي الأشعث عن عبادة بن الصامت أنه قام فقال يا أيها الناس إنكم قد أحدثتم بيوعا لا أدري ما هي وإن الذهب بالذهب وزنا بوزن تبره وعينه والفضة بالفضة وزنا بوزن تبرها وعينها ولا بأس ببيع الذهب بالفضة والفضة أكثرهما يدا بيد ولا يصلح نسيئا والبر بالبر مدا بمد يدا بيد والشعير بالشعير مدا بمد يدا بيد ولا بأس ببيع الشعير بالبر والشعير أكثرهما يدا بيد ولا يصح نسيئة والتمر بالتمر حتى عد الملح مثلا بمثل من زاد أو استزاد فقد أربى قال أبو جعفر فهذا عبادة بن الصامت رضوان الله عليه قد خالف معمر بن عبد الله فيما ذهب إليه على ما ذكرنا عنه في الحديث الأول وقد روى عن عبادة بن الصامت رضي الله عنه هذا الكلام عن النبي صلى الله عليه و سلم

ابوالاشعث نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ وہ کھڑے ہونے اور لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے لوگو! تم نے بیع کی کئی اقسام گھڑ لی ہیں میں نہیں جانتا کہ ان کی حقیقت کیا ہے۔ سنو! سونے کی ڈلی سونے کی ڈلی کے بدلے اور اس کا سکہ سکے کے بدلے برابر وزن میں اسی طرح چاندی کی ڈلی اور سکہ چاندی کے بدلے جب وزن میں برابر ہوں (تو فروخت کرو) اور اس میں حرج نہیں کہ سونے کو چاندی کے بدلے زیادہ نقدی میں لیا دیا جائے ۔ یہ ادھار درست نہیں اور کھجور کے بدلے کھجور برابر دیا جائے اور نمک کونمک کے بدلے برابر دیا جائے جس نے ان میں (جب جنس ایک ہو) کمی اضافہ کیا اس نے سود لیا۔ امام طحاویؒ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں حضرت عبادہ نے معمر رضی اللہ عنہ کے موقف کے خلاف بات کہی یہ بات صرف عبادہ رضی اللہ عنہ کی اپنی رائے نہیں بلکہ انہوں نے جناب نبی اکرمﷺ نقل کی ہے۔ روایت عبادہ رضی اللہ عنہ ملاحظہ ہو۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الأَشْعَثِ ← مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← فإذا علي بن شيبة قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5358

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 1 باب بيع الشعير بالحنطة متفاضلا ) · حديث 5359

5070 - حدثنا إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا محمد بن إدريس قال ثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب السختياني عن محمد بن سيرين عن مسلم بن يسار ورجل آخر عن عبادة بن الصامت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا تبيعوا الذهب بالذهب ولا الورق بالورق ولا البر بالبر ولا الشعير بالشعير ولا التمر بالتمر ولا الملح بالملح إلا سواء بسواء عينا بعين ولكن بيعوا الذهب بالورق والورق بالذهب والبر بالشعير والشعير بالبر والتمر بالملح والملح بالتمر يدا بيد كيف شئتم قال ونقص أحدهما التمر بالملح وزاد الآخر من زاد أو إزداد فقد أربى

مسلم بن یسار اور ایک دوسرے شخص نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسولﷺ نے فرمایا۔ سونا سونے کے بدلے ؛اور چاندی چاندی کے بدلے گندم گندم کے بدلے۔ جو جو کے بدلے کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر فروخت کرو مگر سونے کو چاندی اور چاندی کو سونے کے بدلے اسی طرح گندم کو جو کے بدلے اور جو کو گندم کے بدلے اور کھجور کو نمک کے بدلے اور نمک کو کھجور کے بدلے نقد أجس طرح چاہو فروخت کرو۔ کھجور ونمک میں سے ایک چیز کم ہو اور دوسری زیادہ ہو تو یہ اضافہ درست ہے اور جب جنس ایک ہو) تو جس نے زیادہ لیا اس نے سود کا کام کیا۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، وَرَجُلٍ آخَرَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى الْمُزَنِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5359

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 1 باب بيع الشعير بالحنطة متفاضلا ) · حديث 5360

5071 - حدثنا محمد بن خزيمة قال أخبرنا المعلى بن أسد قال ثنا وهيب عن أيوب فذكر بإسناده مثله

وہیب نے ایوب سے پھرانہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔

أيوب فذكر بإسناده مثله ← وُهَيْبٌ، ← الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5360

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 1 باب بيع الشعير بالحنطة متفاضلا ) · حديث 5361

5072 - حدثنا سليمان بن شعيب الكيساني عن أبيه عن محمد بن الحسن عن أبي يوسف عن إبراهيم بن طهمان عن أيوب بن أبي تميمة عن محمد بن سيرين عن بن يسار عن أبي الأشعث قال سمعت عبادة بن الصامت يقول نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أو قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تبايعوا الذهب بالذهب ولا الورق بالورق إلا وزنا بوزن ولا التمر بالتمر ولا الحنطة بالحنطة ولا الشعير بالشعير ولا الملح بالملح إلا سواء بسواء عينا بعين فمن زاد أو إزداد فقد أربى ولكن بيعوا الذهب بالورق والحنطة بالشعير والتمر بالملح يدا بيد كيف شئتم

ابوالاشعث نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول ﷺ نے اس سے منع فرمایا اس طرح فرمایا تم سونے کو سونے کے بدلے اور نہ چاندی کو چاندی کے بدلے فروخت کر ومگر اس صورت میں جبکہ ان کا وزن برابر ہو۔ اسی طرح کھجور کو کھجور کے بدلے اور نہ گندم کو گندم کے عوض اور نہ جوکو جو کے عوض اور نمک کو نمک کے عوض فروخت کرو مگر اس صورت میں جبکہ یہ برابر ہوں اور ایک ہی جنس ہوں پس جس نے بڑھایا اس نے سودی کاروبار کیا لیکن سونا چاندی کے بدلے اور گندم جو کے بدلے اور کھجور کے بدلے دست بدست جس طرح چاہو کم زیادہ دے سکتے ہو۔

نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أو ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الأَشْعَثِ ← بن يسار ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي يُوسُفَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ الْكَيْسَانِيُّ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5361

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 1 باب بيع الشعير بالحنطة متفاضلا ) · حديث 5362

5073 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب قال ثنا همام عن قتادة عن أبي الخليل عن مسلم المكي عن أبي الأشعث الصنعاني عن عبادة بن الصامت أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن أن يباع الذهب بالذهب تبره وعينه إلا وزنا بوزن والفضة بالفضة تبرها وعينها إلا مثلا بمثل وذكر الشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح كيلا بكيل فمن زاد أو إزداد فقد أربى ولا بأس ببيع الشعير بالبر يدا بيد والشعير أكثرهما

اشعث صنعانی نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرمﷺ نے سونے کا ٹکڑا اور سکہ سونے کے بدلے فروخت کرنے سے روکا مگر اس صورت میں جبکہ دونوں کا وزن برابر ہو۔ چاندی کا ٹکڑا اور اس کا سکہ بھی چاندی کے ٹکڑے کے بدلے برابر برابر وزن میں ہونا چاہئے۔ آپ نے جو کے بدلے جو اور کھجور کے بدلے کھجور، نمک کے بدلے نمک کا ذکر فرمایا کہ دونوں کا پیمانہ برابر ہو۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ کیا فرمایا اس نے سودکمایا۔ البتہ گندم و جو کے بدلے دست بدست فروخت کرنا کمی و اضافہ کے ساتھ دینے میں حرج نہیں۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← مُسْلِمٍ الْمَکِّيِّ ← أَبِي الْخَلِيلِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← الخصيب ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5362

chevron_left Previous
1…573574575…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter