Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 1 باب بيع الشعير بالحنطة متفاضلا ) · حديث 5363

5074 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب قال ثنا همام عن قتادة عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن عبادة بن الصامت عن النبي صلى الله عليه و سلم بمثله

ابوالاشعث نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺنے اس طرح کی روایت کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم بمثله ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← الخصيب ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5363

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 1 باب بيع الشعير بالحنطة متفاضلا ) · حديث 5364

5075 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا محمد بن المنهال قال ثنا يزيد بن زريع قال ثنا سلمة بن علقمة عن محمد بن سيرين عن مسلم بن يسار وذكر آخر حدثاه أو حدثنا قال جمع المنزل بين عبادة بن الصامت ومعاوية في كنيسة أو بيعة فحدث عبادة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا تبيعوا الذهب بالذهب ولا الورق بالورق ولا البر بالبر ولا الشعير بالشعير ولا التمر بالتمر ولا الملح بالملح إلا سواء بسواء عينا بعين قال أحدهما ولم يقل الآخر قال عبادة أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نبيع الذهب بالفضة والبر بالشعير والشعير بالبر يدا بيد كيف شئنا قال أبو جعفر ففي هذه الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم إباحة بيع الشعير بالحنطة مثلين بمثل فقد ثبت القول بذلك من طريق الآثار ثم التمسنا حكم ذلك من الحنطة كم هي فقال بعضهم هي نصف صاع لكل مسكين وقال بعضهم هي مد لكل مسكين فكان الذين جعلوها من الحنطة نصف صاع يجعلونها من الشعير صاعا وكان الذي جعلوها من الحنطة مدا يجعلونها من الشعير مدين وقد ذكرنا ذلك بأسانيده عنهم في غير هذا الموضع فثبت بذلك أنهما نوعان مختلفان لأنهما لو كانا من نوع واحد إذا لأجزى من أحدهما ما يجزى من الآخر فإن قال قائل إنه إنما زيد في الشعير على ما جعل في ذلك من الحنطة لغلو الحنطة واتساع الشعير فالجواب له في ذلك إنا رأينا ما يعطى من جيد الحنطة ومن رديئها في كفارة الأيمان سواء وكذلك الشعير ألا ترى أن من وجبت عليه كفارة يمين فأعطى كل مسكين نصف مد يساوي نصف صاع أن ذلك لا يجزئه من نصف صاع ولا من مد فلما كان ما ذكرنا كذلك وكان الشعير يؤدى منه كفارات الأيمان مثلي ما يؤدى من الحنطة فثبت بذلك أنه نوع خلاف الحنطة فثبت بذلك أن لا بأس ببيعه بالحنطة مثلين بمثل وأكثر من ذلك وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

محمد بن سیرین نے مسلم بن یسار اور دوسرے کا بھی ذکر کیا دونوں نے اس کو بیان یا ہم نے بیان کیا کہ عباده بن صامت رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جو ایک جگہ جمع ہوئے جو عیسائیوں یا یہودیوں کا گرجا تھا۔ تو عباد ہ نے بیان کیا کہ جناب رسول ﷺنے فرمایا سونا بدلے سونے کے اور چاندی کے بدلے چاندی اور جو کے بدلے جو مت فروخت کرو اور کھجور کے بدلے کھجور اور نمک کے بدلے نمک مگر برابر برابر اور عین کے بدلے عین پر ایک راوی نے آخری الفاظ کہے دوسرے نے نہیں کہے۔ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول ﷺ جوکی بیع گندم کے بدلے دومثل ایک مثل کے بدلے جائز قرار دی ہے جب روایت سے یہ بات ثابت ہوگئی اب گندم کی مقدار کا حکم تلاش کیا۔ کہ گندم و جو میں نسبت کیا ہوگی ۔ بعض صحابہ کرام کا قول: نمبرا ہر مسکین کو گندم کا نصف صاع۔ نمبر2 ہر مسکین کو ایک مددیاجائے گا۔ جن حضرات نے گندم کے نصف صاع اور جو کا صاع برابر قرار دیا دوسروں سے گندم کا ایک مد اور جو دومد۔یہ صدقہ الفطر میں تفصیل سے ذکر کر دیا گیا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ گندم اور جو ایک دوسرے سے الگ انواع ہیں کیونکہ اگر ان کی نوع ایک ہوتی تو پھر ایک میں جو چیز جائز ہے دوسری میں بھی مقدار اتنی ہی رہتی۔ جو میں اضافے کی وجہ انواع کامختلف ہونا نہیں بلکہ گندم کی گرانی اور جو کے سستا ہونے کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔ ذرا توجہ تو فرمائیں گندم میں عمدہ ہو یا ردی کی مقدار یکساں رہے گی اور جو کا بھی یہی حال ہے مثلا کسی پرقسم کا کفارہ لازم ہوا اس نے ہر مسکین کونصف مد گندم دی جو قیمت میں نصف صاع متوسط گندم کے برابر ہے تو یہ کفارہ ادا نہ ہوگا ۔ نہ نصف صاع متوسط گندم کے برابر ہے تو یہ کفارہ ادا نہ ہوگا نہ نصف صاع کے اعتبار سے نہ مد کے لحاظ سے۔ جب یہ بات ثابت شدہ ہے تو کفارات کی ادائیگی آج تک تو گندم سے دونے جو سے ادا کی جاتی رہی اس سے ثابت ہوگیا کہ یا الگ نوع ہے اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ گندم کو ایک مثل یا دو مثل سے فروخت کرنے میں کوئی قباحت نہیں ۔ یہی امام ابوحنیفہ ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے۔ عبادہ رضی اللہ عنہ اور کہنے لگے جناب رسول ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم سونے کو چاندی اور گندم کو جو اور جو کو گندم کے بدلے فروخت کریں جیسے چاہیں بدست بدست فروخت کریں۔

آخر حدثاه أو ← مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5364

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 2 باب بيع الرطب بالتمر ) · حديث 5365

5076 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال ثنا بن وهب أن مالكا وأسامة بن زيد حدثاه عن عبد الله بن يزيد مولى الأسود بن سفيان أن زيدا أبا عياش أخبره أنه سأل سعدا عن السلت بالبيضاء فقال سعد شهدت رسول الله صلى الله عليه و سلم يسأل عن الرطب بالتمر فقال أينقص الرطب إذا جف فقالوا نعم قال فلا إذا وكرهه

زید ابوعياش نے بتلایا کہ انہوں نے سعد سے پوچھا کہ چھلکے والے جو اور گندم کے متعلق دریافت کیا تو حضرت سعد کہنے لگے میں نے جناب رسولﷺ سے تر کھجور اور خشک کھجور کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کیاتر کھجور خشک ہونے سے کم ہو جاتی ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! آپ نے فرمایا پھر جائز نہیں اور اس کو آپ نے ناپسند فرمایا۔

فلا إذا وكرهه ← نَعَمْ ← أينقص الرطب إذا جف ← الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ ← سعد شهدت رسول الله صلى الله عليه و سلم يسأل ← السلت بالبيضاء ← أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدًا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ ← بن وهب أن مالكا وأسامة بن زيد حدثاه ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5365

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 2 باب بيع الرطب بالتمر ) · حديث 5366

5077 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا القعنبي قال ثنا مالك عن عبد الله بن يزيد عن زيد أبي عياش عن سعد بن أبي وقاص قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول فذكر مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا الحديث فقلدوه وجعلوه أصلا ومنعوا به بيع الرطب بالتمر وممن ذهب إلى ذلك أبو يوسف ومحمد بن الحسن رحمة الله عليهما وخالفهم في ذلك آخرون فجعلوا الرطب والتمر نوعا واحدا وأجازوا بيع كل واحد منهما بصاحبه مثلا بمثل وكرهوه نسيئة فاعتبرنا هذا الحديث الذي احتج به عليهم مخالفهم هل دخله شيء

زید ابوعیاش نے سعد رضی اللہ عنہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب رسول ﷺکو اس طرح فرماتے سنا پھراسی طرح روایت ذکر کی ۔ امام طحاویؒ فرماتے ہیں اس روایت کے پیش نظر بعض علماء نے تر کھجور کی خریدوفروخت خشک کھجور کے عوض ممنوع قرار دی ہے اور یہ امام ابو یوسف ؒاور محمد ؒ نے اختیار کیا ہے۔ دوسروں نے کہاتر کهجور یا خشک دونوں ایک قسم ہیں ان کی بیع نقد برابر برابر ایک دوسرے کے ساتھ درست ہے اور ادھار جائز نہیں۔ مؤقف اول کا جواب یہ ہے کہ جس حدیث سے استدلال کیا گیا دیگر آثار کو دیکھنے سے معلوم ہوا کہ جس چیز کی ممانعت کی گئی وہ ان کی ادھار بیع ہے پس فریق اول کی مستدل نہ رہی۔ روایت ملاحظہ .فرمائیں۔

مِثْلَہُ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← زَيْدِ أَبِي عَيَّاشٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5366

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 2 باب بيع الرطب بالتمر ) · حديث 5367

5078 - فإذا بابن أبي داود قد حدثنا قال ثنا يحيى بن صالح الوحاظي قال ثنا معاوية بن سلام عن يحيى بن أبي كثير عن عبد الله بن يزيد أن زيدا أبا عياش أخبره عن سعد بن أبي وقاص أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن بيع الرطب بالتمر نسيئة فكان هذا أصل الحديث فيه ذكر النسيئة زاده يحيى بن أبي كثير على مالك بن أنس فهو أولى وقد روى هذا الحديث أيضا غير عبد الله بن يزيد على مثل ما رواه يحيى بن أبي كثير أيضا

ابوعياش زید نے سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول ﷺ تر کھجور کی خشک کھجور کے بدلے خرید ادھار کی صورت میں منع کیا ہے۔ پس اصل روایت میں نسیہ (ادھار) کا لفظ موجود ہے اور یحییٰ بن ابی کثیر کی روایت مالک بن انس کی روایت سے جو اضافہ پایا جاتا ہے یہی اولئ ہے۔ اس روایت کو یحییٰ کے علاوہ عبداللہ بن یزید نے بھی اسی طرح روایت کیا جیسا کہ یحییٰ نے کی ہے۔ روایت عبد الله بن یزید ملاحظہ ہو۔

سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ← فإذا بابن أبي داود قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5367

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 2 باب بيع الرطب بالتمر ) · حديث 5368

5079 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرنا عمرو بن الحارث عن بكير بن عبد الله حدثه عن عمران بن أبي أنس أن مولى لبني مخزوم حدثه أنه سئل سعد بن أبي وقاص عن الرجل يسلف الرجل الرطب بالتمر إلى أجل فقال سعد نهانا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن هذا فهذا عمران بن أبي أنس وهو رجل متقدم معروف قد روى هذا الحديث كما رواه يحيى فكان ينبغي في تصحيح معاني الآثار أن يكون حديث عبد الله بن يزيد لما اختلف عنه فيه أن يرتفع ويثبت حديث عمران هذا فيكون هذا النهي الذي جاء في حديث سعد هذا إنما هو لعلة النسيئة لا لغير ذلك فهذا سبيل هذا الباب من طريق تصحيح الآثار وأما وجهه من طريق النظر فإنا قد رأيناهم لا يختلفون في بيع الرطب بالرطب مثلا بمثل أنه جائز وكذلك التمر بالتمر مثلا بمثل وإن كانت في أحدهما رطوبة ليست في الآخر وكل ذلك ينقص إذا بقي نقصانا مختلفا ويجف فلم ينظروا إلى ذلك في حال الجفوف فيبطلوا البيع به بل نظروا إلى حاله في وقت وقوع البيع فعملوا على ذلك ولم يراعوا ما يئول إليه بعد ذلك من جفوف ونقصان فالنظر على ذلك أن يكون كذلك الرطب بالتمر ينظر إلى ذلك في وقت وقوع البيع ولا ينظر إلى ما يئول إليه من تغيير وجفوف وهذا قول أبي حنيفة رحمة الله تعالى عليه وهو النظر عندنا

عبداللہ نے عمران بن ابی انس سے روایت کی کہ بنی مخزوم کے ایک مولیٰ نے مجھے بیان کیا کہ میں نے سعد رضی اللہ عنہ د سے دریافت کیا گیا کہ جو آدمی خشک کھجور کے بدلے تر کھجور کی بیع سلم کرتا ہے تو سعد فرمانے لگے جناب رسولﷺنے ہمیں اس سے منع فرمایا۔ عمران بن ابوانس معروف مشہور آدمی ہیں ۔ انہوں نے بھی روایت کو یحییٰ بن ابی کثیر کی طرح روایت کی ہے۔ معانی کو درست اور ان کے مابین تطبیق کا تقاضا یہ ہے کہ عبداللہ بن یزید کی روایت ان سے مختلف ہے تو وہ مرتفع ہوگئی اور عمران والی روایت جس کا مضمون سب روایات میں ہے وہ باقی رہی پس حضرت سعد رضی اللہ عنہ ہونے والی روایت میں جس نہی کا تذکرہ ہے اس کاتعلق بس ادھار سے ہے۔ روایات کے لحاظ سے مطابقت ثابت کر دی گئی تو اب نظری دلیل بھی پیش کی جارہی ہے کھجور کوتر کھجور کے عوض برابر فروخت کرنے میں کی کوکلام نہیں۔ اسی طرح خشک کھجور کو خشک کھجور کے عوض برابر فروخت کرنے میں سب جواز کے قائل ہیں۔ اگر ان میں سے کسی میں کم زیادہ رطوبت باقی ہو تو اس کی طرف تو نہیں کی گئی کہ جس سے خشکی کی حالت کا اعتبار کر کے بیع کو باطل قرار دیں بلکہ خرید وفروخت کے وقت اس کی حالت کا لحاظ رکھا گیا اس کے آئندہ نفع ونقصان یاوزن میں کمی کا لحاظ نہیں کیا گیا۔ پس نظر کا تقاضا یہ ہے کہ کھجور کے سلسلہ میں خرید وفروخت کے وقت اس کی حالت کا لحاظ کیا جائے گا آئندہ اس کے خشک ہو کر بدلنے کا لحاظ نہ ہو گا یہ امام ابوحنیفہ ؒ کا قول ہے اور ہمارے ہاں تقاضا نظر بھی یہی ہے۔

أنه سئل سعد بن أبي وقاص ← عمران بن أبي أنس أن مولى لبني مخزوم ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5368

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5369

5080 - حدثنا الربيع بن سليمان المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا أبو الأحوص قال أنا سماك عن عكرمة عن بن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تستقبلوا السوق ولا يتلق بعضكم لبعض

عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جناب رسول ﷺنے فرمایا بازار سے آگے مت بڑھو اور نہ ہی تم میں سے ایک دوسرے (چیز کے بازار میں آنے سے پہلے )ملاقات کرے۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← أسد ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5369

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5370

5081 - وحدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص قال ثنا سماك عن عكرمة عن بن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تستقبلوا السوق

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ جناب رسول ﷺنے فرمایاتم بازار سے آگے مت پڑھو۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← وحدثنا روح بن الفرج

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5370

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5371

5082 - حدثنا محمد بن عمرو بن يونس قال أخبرنا عبد الله بن نمير عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن بن عمر قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يتلقى السلع حتى تدخل الأسواق

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول ﷺ نے سامان کے بازار میں داخل ہونے سے پہلے ا چکنے سے منع فرمایا۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← محمد بن عمرو بن يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5371

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5372

5083 - حدثنا فهد قال أخبرنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا بن نمير فذكر بإسناده مثله

ابوبکر بن ابی شیبہ نے ابن نمیر سے روایت کی ہے پھر اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

بن نمير فذكر بإسناده مثله ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5372

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5373

5084 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال أخبرنا علي بن الجعد قال أخبرنا صخر بن جويرية عن نافع عن بن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تتلقوا البيوع

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول ﷺ نے فرمایا اشیاء کو آگے جا کر (سستے داموں) مت اچکو۔ (اس سے لوگوں کونقصان ودھوکا پہنچتا ہے) .

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5373

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5374

وحدثنا محمد بن عزيز الأيلي قال أخبرنا سلامة بن روح عن عقيل عن نافع عن بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى أن يتلقى السلع حتى يهبط أي ينزل بها الأسواق

نا فع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسولﷺ نے سامان آگے جا کر سودا کر لینے سے منع فرمایا جب تک کہ وہ بازار میں نہ پہنچ جائے۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَقِیلٍ ← سلامة بن روح ← وحدثنا محمد بن عزيز الأيلي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5374

chevron_left Previous
1…574575576…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter