شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5303
5017 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا حماد بن زيد عن أبي حمزة عن بن عباس رضي الله عنهما قال قدم وفد عبد القيس على رسول الله صلى الله عليه و سلم فعلم أنه قد أضاف الخمس من الغنيمة إلى الله عز و جل ولم يضف إليه أربعة أخماسها وأن ما سواه منها لقوم بغير أعيانهم يضعه رسول الله صلى الله عليه و سلم فيهم على ما يرى ولو كان لذي القربى المعلوم عددهم لم يكن كذلك أفلا يرى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يأخذ الخمس ليضعه فيما يرى وضعه ويقسم ما بقي بعده على السهمان فدل أن ما كان يقسمه على السهمان أنه لقوم بأعيانهم لا يجوز لأحد منعهم منه وأن الذي يأخذه لا يقسمه حتى يدخل فيه رأيه هو الذي ليس لقوم بأعيانهم وأنه مردود إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى يضعه فيما يرى ثم تكلم الناس في حكم ما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يضعه في ذوي قرباه في حياته كيف حكمه بعد وفاته صلى الله عليه و سلم فقال قائلون هو راجع من قرابته إلى قرابة الخليفة من بعده وقال آخرون هو لبني هاشم ولبني المطلب خاصة وقال آخرون وهم الذين ذهبوا إلى أن ما كان في حياة النبي صلى الله عليه و سلم لما رأى النبي صلى الله عليه و سلم وضعه فيه من قرابته هو منقطع عنهم بوفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فنظرنا في هذه الأقوال لنستخرج منها قولا صحيحا فرأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم كان في حياته في المغنم سهم الصفي لا اختلاف بين أهل العلم في ذلك وقد روي عنه فيه ما
عبد القیس ، ابو حمزہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وفد عبدالقیس جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اس سے ان کو معلوم ہوا کہ خمس غنیمت کی اضافت اللہ تعالی نے اپنی طرف کی ہے اور چار حصے آپ کی طرف منسوب نہیں کئے اور ان کے علاوہ مال لوگوں کے لئے بلا تعین ہے اس کو جناب رسول اللہ ﷺ اپنی رائے کے مطابق استعمال فرمائیں گے ۔ اگر یہ ذی القربی مقرر ہوتے اور انہی کو دیا جاسکتا تو اس طرح نہ ہوتا ۔ طحاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: کیا یہ جانی پہچانی باے نہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ خمس لیتے تا کہ اس کی اپنی مرضی کے مطابق صرف کریں اور باقی کو دوحصوں میں بانٹ دیں اس سے یہ خود ثابت ہو گیا کہ جس کے دو حصے کئے جاتے وہ معین لوگوں کے لئے تھا کہ کسی کو یہ جائز نہ تھا کہ اس حصہ سے ان کو محروم کرے اور جس کو اپنی رائے کے مطابق صرف کرنے کے لئے رکھتے وہ متعین لوگوں کے لئے نہ تھا وہ جناب رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹایا جانے والا تھا تاکہ جہاں چاہیں صرف فرمائیں ۔ اس میں تین قول ہین ایک حصہ آپ کے قرابت والوں سے ہٹ کر خلفاء کے قرابت والوں کو ملےگا ۔ ہ حصہ بنی ہاشم و بنو مطلب کو بعد میں بھی ملتا رہے گا ۔ ان کا قول یہ ہے کہ جوحصہ جناب نبی اکرم ﷺ کی زندگی میں اس طرح تھا کہ جس کو قرابت والوں میں پسند فرماتے عنایت فرماتے وہ حصہ عفات رسول ﷺ سے منقطع ہوجائے گا ۔ اب ان تمام اقوال پر غور کرتےہیں تاکہ صیح قول کو دوسرے اقوال سے الگ کیا جائے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مال غنیمت میں سے ایک وہ منتخب حصہ ہے جس کو آپ ﷺ اپنی زندگی میں لیتے تھے اور اہل علم کے مابین اس میں کوئی اختلاف نہیں جیسا کہ مندرجہ ذیل روایات میں وارد ہے ۔
بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِي حَمْزَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أسد ← ربيع المؤذن
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5303
