شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5315
5029 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا بن هلال قال ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن عكرمة بن خالد عن مالك بن أوس قال كنت جالسا إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فجاءه علي والعباس رضي الله عنهما يختصمان قال العباس يا أمير المؤمنين أقض بيني وبين هذا الكذا الكذا قال حماد أنا أكني عن الكلام فقال والله لأقضين بينكما إن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما توفي وولي أبو بكر صدقته فقوي عليها وأدى فيها الأمانة فزعم هذا أنه خان وفجر وكلمة قالها أيوب قال والله يعلم أنه ما خان ولا فجر ولا كذا [ ص 307 ] قال حماد وحدثنا عمرو بن دينار عن مالك وغير واحد عن الزهري أنه قال لقد كان فيها راشدا تابعا للحق ثم رجع إلى حديث أيوب فلما توفي أبو بكر رضي الله عنه وليتها بعده فقويت عليها فأديت فيها الأمانة وزعم هذا أتى خنت ولا فجرت ولا تيك الكلمة وفي حديث عمرو عن الزهري ولقد كنت فيها راشدا تابعا للحق ثم رجع إلى حديث عكرمة ثم أتياني فقالا أدفع إلينا صدقة رسول الله صلى الله عليه و سلم فدفعتها إليهما فقال هذا لهذا أعطني نصيبي من بن أخي وقال هذا لهذا أعطني نصيبي من أمرأتي من أبيها وقد علم أن نبي الله صلى الله عليه و سلم لا يورث ما ترك صدقة وفي حديث عمرو عن الزهري إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول إنا لا نورث ما تركنا صدقة ثم رجع إلى حديث عكرمة ثم تلا عمر رضي الله عنه إنما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها الآية فهذه لهؤلاء ثم تلا وأعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى آلى آخر الآية ثم قال وهذه لهؤلاء وفي حديث عمرو عن الزهري قال ما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب إلى آخر الآية فكانت هذه خاصة لرسول الله صلى الله عليه و سلم ما لم يوجف المسلمون فيه خيلا ولا ركابا فكان يأخذ من ذلك قوته وقوت أهل ويجعل بقية المال لأهله ثم رجع إلى حديث أيوب ثم تلا ما أفاء الله على رسوله من أهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى إلى آخر الآية ثم للفقراء المهاجرين الذين أخرجوا من ديارهم وأموالهم حتى بلغ أولئك هم الصادقون فهؤلاء المهاجرون ثم قرأ والذين تبوؤا الدار والإيمان من قبلهم حتى بلغ حماء فأولئك هم المفلحون قال فهؤلاء الأنصار قال ثم قرأ والذين جاؤوا من بعدهم حتى بلغ رؤوف رحيم فهذه الآية استوعبت المسلمين الإله حق إلا ما يملكون من رقيقكم فإن أعش إن شاء الله لم يبق أحد من المسلمين إلا سآتيه حقه حتى راعى الثلة يأتيه حظه أو قال حقه قال فهذا عمر رضي الله عنه قد تلا في هذا الحديث وأعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى إلى آخر الآية ثم قال وهذه لهؤلاء فدل ذلك أن سهم ذوي القربى قد كان ثابتا عنده لهم بعد وفاة النبي صلى الله عليه و سلم كما كان لهم في حياته قيل له ليس فيما ذكرت على ما ذهبت إليه وكيف يكون لك فيه دلالة على ما ذهبت إليه وقد كتب عبد الله بن عباس رضي الله عنهما إلى نجدة حين كتب يسأله عن سهم ذوي القربى قد كان عمر بن الخطاب دعانا إلى أن ينكح منه أيمنا ويكسو منه عارينا فأبينا عليه إلا أن يسلمه لنا كله فأبى ذلك علينا فهذا عبد الله بن عباس رضي الله عنهما يخبر أن عمر أبى عليهم دفع السهم إليهم لأنهم لم يكن عنده لهم فكيف يتوهم عليه فيما روي عنه مالك بن أوس غير ذلك ولكن معنى ما روى عنه مالك بن أوس في هذا الحديث من قوله فهذه لهؤلاء أي فهي لهم على معنى ما جعلها الله لهم في وقت إنزاله الآية على رسول الله صلى الله عليه و سلم فيهم وعلى مثل ما عني به عز و جل ما جعل لرسول الله صلى الله عليه و سلم فيها من السهم الذي أضافه إليه فلم يكن ذلك السهم جاريا له صلى الله عليه و سلم في حياته وبعد وفاته غير منقطع إلى يوم القيامة بل كان جاريا له في حياته منقطعا عنه بموته وكذلك ما أضافه فيها إلى ذوي قرباه كذلك أيضا واجبا لهم في حياته يضعه عليه السلام فيمن شاء منهم مرتفعا بوفاته كما لم يكن قول عمر فهذه لهؤلاء لا يجب به بقاء سهم رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الوقت الذي قال فيه ما قال كان ذلك قوله فهي لهؤلاء لا يجب به بقاء سهم ذوي القربى إلى الوقت الذي قال فيه ما قال معارضة صحيحة باقية أن يكون حديث مالك بن أوس هذا عن عمر مخالفا لحديث عبد الله بن عباس رضي الله عنهما عن عمر رضي الله عنه في سهم ذوي القربى ولقد
مالک بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا اچانک حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ جھگڑتے ہوئے آ ئے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا اے امیر المؤمنین میرے اور اس کے مابین جو ایسا ۔ ایسا ہے ضرور فیصلہ فرمائیں ۔ حماد رواوی کہتے ہیں کہ میں کلام سے کنایہ کرتا ہوں ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں اللہ کی قسم تمہارے مابین ضرور فیصلہ کروں گا ۔ جب جناب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے صدقہ کے ذمہ دار بنے تو وہ اس پر مضبوط رہے اور انہوں نے اس میں امانت کو ادا کیا اس شخص کو خایل ہوا کہ انہوں نے خیانت کی او رگناہ کیا ۔ ایوب راوی نے یہ بات نقل کی ہے اور اللہ تعالی جانتے ہیں کہ انہوں نے نہ خیانت کیاور نہ بکواس کی اور اس طرح کیا ۔ حماد کہتے ہیں کہ ہمیں عمرو بن سینار نے مالک سے اور بہت سی روایات نے زہری سے رایت کی ہے کہ انہوں نے کہا ابو بکر اس بات میں ہدایت پر تھے اور حق کی اتباع کرنے والے تھے ۔ پھر ایوب والی روایت کے الفاظ کی طرف رجوع کیا جب حضرت باو بکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور میں اس صدقے کا ان کے بعد ذمہ دار بنا ۔ تو میں اس پر مضبوط رہا اورمیں امانت ادا کرتا رہا اور ان کو خیال ہوا کہ میں نے خیانت کی اور گناہ کیا حالانکہ اللہ تعالی جانتا ہے کہ میں نے نہ خیانت کی ہے اور نہ گناہ میں مبتلا ہوا اور نہ وہ کمہ کہا ۔ روایت عمرو عن الزہری میں ہے ، میں اس میں سیدھی راہ چلنے والا تھا پھر عکرمہ کی روایت کی طرف بات لوٹ آتی ہے کہ یہ دونوں حضرات آئے اور مجھے کہنے لگے تم جناب رسول اللہ ﷺ کے صدقہ کو ہمارے حوالہ کرو میں وہ ان کے حوالے کر دیا پھر اس نے اس کو کہا میرے بھتیجے کی طرف سے میرا حصہ دے دو اور اس نے اس کو کہا میری بیوی کا حصہ جو ان کے والد کی طرف سے بنتا ہے وہ دے دو حالنکہ اس کو معلوم ہے کہ اللہ تعالی کے پیغمبر کی رواثت نہین ہوتی جو چھوڑ جائیں صدقہ ہوتا ہے ۔ روایت عمرو بن عن الزہری میں ہے بے شک میں جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہماری وراثت نہیں ہوتی جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ۔ پھر رویت عکرمہ کی طرف بات لوٹی ۔ کہ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی "انما الصدقات للفقراء والمساکین والعاملین علیھا " (التوبہ 42) بے شک صدقات فقراء مساکین اور عمال کا حق ہے ۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ صدقات ان کا حق ہے ( جن کا آیت میں ذکر ہے ) کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی " ما افا ء اللہ علی رسولہ منھم فما اوجفتم علیہ من خیل لا رکاب الی آخر الایۃ " کہ جو اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو بطور فئی عنایت فرمایا پس تم اس پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے ۔ پس آپ اس سے اپنی اور اہل ع عیال کا خرچہ لیتے اور بقیہ مال اپنے گھر والون کے لئے رکھ لیتے ۔ پھر روایت حدیث ایوب کی طرف لوٹی ۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی " ما افاء اللہ الی اولیک ھم الصادقون " ( الحشر 5) آیت کے آخر تک ۔ ( کہ وہی لوگ سچے ہیں ) پھر یہ آیت تلاوت کی للفقراء المھاجرین الذین اخرجوا من دیارھم و اموالھم ( الحشر 8)) اولئک ھم الصادقون ( الحشر 8) پس یہ مہاجرین ہیں پھر آیت " والذین تبو االدار " پڑھی یہاں تک کہ حماد " فاولئک ھم المفلحون ( الحشر 9) تک پہنچے پس یہ انصار ہیں روای کہتے ہیں پھر پڑھا والذین جا ء وا من بعدھم ( الحشر 10) یہاں تک کہ " رؤف رحیم " ( الحشر 10 ) تک پہنچے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس آیت نے تمام مسلمانوں کے لئے حق کو ثابت کر دیا سوائے ان غلاموں کے جن کے مالک وہ ہون ۔ اگر میں زندہ رہا تو ( انشاءاللہ ) تو کوئی مسلمان ایسا باقی نہ رہے گا جس کو میں حصۃ نہ دوں یہاں تک بھیڑوں کا ریوڑ چرانے والے کو بھی اس کا حق دوں گا ۔ آپ نے حظ یا حق کا لفظ استعمال فرمایا دونوں کا معنی ایک ہے ۔ اس روایت میں حجرت عمر رضی اللہ عنہ نے آیت واعلمو انما غنمتم ۔۔۔۔ تلاوت فرمائی پھر فرمایا یہ غنیمت ان لوگوں کے لئے ہے ۔ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ذوی القربی کا حصہ ان کے ہاں جناب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بھی ثابت تھا ۔ جیسا کہ آپ کی حیات مبارکہ میں ثابت تھا ۔ اس روایت میں جو تم نے پیش کی تمہارے مستدل کی کوئی گنجائش نہیں اور دلیل کیسے بنتی جبکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا وہ خط موجود ہے جو انہوں نے جدہ حاکم یمامہ کے استفسار کے جواب میں لکھا ۔ اس میں صآف موجود ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں بلایا تاکہ وہ اس مال میں سے ہمارے رنڈوں کا نکاح کر یں اور ہمارے بلا پوشاک لوگوں کو لباس پہنائیں تو ہم نے وہ لینے سے انکار کر دیا ۔ تو یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بتلا رہے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ذوی القربی کا حصہ ان کو دینے سے انکار فرمایا کیونکہ ان کے نزدیک یہ ان حضرات کا حق نہ بنتا تھا تو اس بات کے ہوتے ہوئے پھر یہ دعوی مالک بن اوس رضی اللہ عنہ کی روایت سے کس طرح کیا جاسکتا ہے کہ وہ وفات رسول اللہﷺ کے بعد اس حصے کے قائل تھے ۔ بلکہ اس روایت سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ حصہ ان لوگوں کے لئے ہے یعنی جب اللہ تعالی نے یہ آیت جناب رسول اللہ ﷺ پر نازل فرمائی تو اس وقت یہ ان کا حصہ تھا جیسا کہ اللہ تعالی نے ان کے لئے مقرر فرمایا ۔ جس طرح کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے حصہ کی ا ضافت آپ کی طرف فرمانے کا معنی بھی یہی ہے کہ وپ آپ کی حیات مبارکہ میں تھا اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے لئے نہ تھا بلکہ آپ کی زندگی میں تو جاری ھت امگر وفات شریفہ سے منقطع ہو گیا بالکل اس طرح جو کچھ آپ کے قرابت داروں کی طرف منسوب ہوا وہ بھی آپ کی حیات طیبہ تھا ، میں آپ کی وفات طیبہ سے یہ حصہ مرتفع ( ختم ) ہو گیا ۔ تو جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کہ یہ ان لوگوں کے لئے ہے ، اس سے جناب رسول اللہ ﷺ کے حصہ کا اس وقت تک کے لئے باقی رہنا لازم نہیں آتا جس وقت اس حصہ کے متعلق کہا گیا تو اسی طرح عمر رضی اللہ عنہ کے قول فھی لھولاء ۔ سے ذوی القربی کے حصہ کا اس وقت تک کے لئے باقی رہنا لازم نہیں آتا جس میں اس کے متعلق وہ کہا گیا جو کہا گیا ۔ حضرت مالک بن اوس کی یہ روایت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کے جو ذوی القربی کے حسہ سے متعلق ہے یہ روایت مخالف اور معارض ہے اور سیح معارض ہے ۔ ( پس اس پر اعتراض باطل ہوا )
الكلام فقال والله لأقضين بينكما ← أكني ← حَمَّادٌ، ← العباس يا أمير المؤمنين أقض بيني وبين هذا الكذا الكذا ← كنت جالسا إلى عمر بن الخطاب فجاءه علي والعباس يختصمان ← مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← بن هلال ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5315
