شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 18 باب إنزاء الحمير على الخيل ) · حديث 5291
وحدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا أحمد بن عبد الله بن يونس قالا ثنا معروف بن واصل السعدي قال سمعت حفصة في سنة تسعين قال بن أبي داود في حديثه ابنة طلق تقول ثنا رشيد بن مالك وأبو عمير قال كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم فأتي بطبق عليه تمر فقال أصدقة أم هدية فقال بل صدقة قال فوضعه بين يدي القوم والحسن بين يديه فأخذ الصبي تمرة فجعلها في فيه فأدخل رسول الله صلى الله عليه و سلم أصبعه وجعله يترفق به فأخرجها فقذفها ثم قال إنا آل محمد لا نأكل الصدقة
معروف بن واصل سعدی بیان کرتےہیں میں حفصہ سے 90 ھ میں سنا ابن ابی داؤد نے اپنی روایت میں ذکر کیا کہ یہ حفصہ بنت طلق ہے وہ کہتی ہیں کہ ہمیں رشید بن مالک اور ابو عمیر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں موجود تھے آپ کے پاس ایک کجھوروں کا تھال لایا گیا آپ نے دریافت فرمایا یہ صدقہ ہے یا ہدیہ ۔ اس نے جواب دیا یہ صدقہ ہے آپ نے اسے لوگوں کے سامنے رکھ دیا جو آپ کے سامنے بیٹھے تھے ۔ بچے نے ایک کھجور لے کر منہ میں رکھ لی تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلی اس کے منہ میں ڈالی اور اس ے نرمی اختیار کر کے اسے نکال لیا پھر فرمایا ہم آل محمد ﷺ صدقہ نہیں کھاتے ۔
بل صدقة ← أصدقة أم هدية ← كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم فأتى بطبق عليه تمر ← رشيد بن مالك وأبو عمير ← بن أبى داود في حديثه ابنة طلق تقول ← حفصة في سنة تسعين ← مَعْرُوفِ بْنِ وَاصِلٍ السَّعْدِيِّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5291
