شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 10 باب الأرض تفتتح كيف ينبغي للإمام أن يفعل فيها ) · حديث 5123
4847 - حدثنا فهد قال ثنا بن الأصبهاني قال أخبرنا أبو أسامة قال ثنا إسماعيل عن قيس عن جرير قال كان عمر قد أعطى بجيلة ربع السواد فأخذناه ثلاث سنين فوفد بعد ذلك جرير إلى عمر ومعه عمار بن ياسر فقال عمر رضي الله عنه والله لولا أني قاسم مسئول لتركتكم على ما كنت أعطيتكم فأرى أن نرده على المسلمين ففعل قال فأجازني عمر بثمانين دينارا قالوا فهذا يدل على أن عمر قد كان قسم السواد بين الناس ثم أرضاهم بعد ذلك بما أعطاهم على أن يعود للمسلمين قيل له ما يدل هذا الحديث ظاهره على ما ذكرتم ولكن يجوز أن يكون عمر رضي الله عنه فعل من ذلك ما فعل في طائفة من السواد فجعلها لبجيلة ثم أخذ ذلك منهم للمسلمين وعوضهم منهم عوضا من مال المسلمين فكانت تلك الطائفة التي جرى فيها هذا الفعل للمسلمين بما عوض عمر أهلها ما عوضهم منها من ذلك وما بقي بعد ذلك من السواد فعلى الحكم الذي قد بينا فيما تقدم من هذا الباب ولولا ذلك لكانت أرض السواد أرض عشر ولم يكن أرض خراج فإن احتجوا في ذلك بما
قیس نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بجیلہ کو سواد کا چوتھائی حصہ دیا پھر ہم نے ان سے تین سال تک لیا ۔ پھر اس کے بعد حضرت جریر ، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کے پاس آئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم ! اگر میں ایسا تقسیم کرنے والا نہ ہوتا جس سے سوال ہوگا تو میں تمہیں اس چیز پر چھوڑ دیتا جو تمہیں دی ہے ۔ لیکن میرا خیال ہے اسے مسلمانوں کی طرف لوٹا دینا چاہئے چنانچہ انہوں نے اس طرح کیا حضرت جریر کہتے ہیں کہ مجھے آپ نے اسی دینار کی اجازت دی ۔ وہ حضرات یہ کہتے ہیں کہ اس روایت سے یہ معلوم ہو گیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سوادد کی زمین لوگوں پر تقسیم فرمایا پھر ان حضرات کو عطیہ دے کر اسے مسلمانوں کی طرف لوٹا نے پر راضی کیا ۔ اس حدیث کے ظاہر میں تو اس بات کی دلالت موجود نہیں جو تمہارے استدلال کی تائید کرے اگر بالفرض ہو تو ممکن ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ عمل سواد کے کسی ایک گروہ کے لئے کیا ہو پس اس کو بجیلہ قبیلہ کے لئے مقرر کر دیا ۔ پھر اس قبیلہ سے لے کر مسلمانوں کے مال سے معاوضہ دے کر مسلمانوں کو دے دی ۔پس یہی وہ گروہ تھا جس میں مسلمانوں کی خاطر یہ معاوضہ والا فعل جاری ہوا ۔ کہ قبیلہ بجیلہ والوں کو عوضا نہ دیا گیا اور بقیہ سواد میں عہی حکم جاری رہا جو ہم اس میں ذکر کر آئے ۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو سواد کی زمین عشری ہوتی خراجی نہ ہوتی ۔ اگر وہ اس روایت سے استدلال کریں جس کو قیسبن ابو حازم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ۔روایت یہ ہے ۔
جَرِيرٌ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو أُسَامَةَ ← بن الأصبهاني ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5123
