شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 9 باب المدد يقدمون بعد الفراغ من القتال في دار الحرب بعد ما ارتفع القتال قبل قفول العسكر هل يسهم لهم ) أم لا · حديث 5111
4835 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرنا إسماعيل بن عياش عن محمد بن الوليد الزبيدي عن بن شهاب الزهري ان عنبسة بن سعيد أخبره أنه سمع أبا هريرة يحدث سعيد بن العاص قال أبو هريرة بعث النبي صلى الله عليه و سلم أبان بن سعيد على سرية من المدينة قبل نجد فقدم أبان أصحابه على النبي صلى الله عليه و سلم بخيبر بعد ما فتحنا وأن حزم خيلهم لليف فقال أبان اقسم لنا يا رسول الله فقال أبو هريرة فقلت لا تقسم لهم شيئا يا نبي الله قال أبان أتيت بهدايا وفد نجد فقال النبي صلى الله عليه و سلم اجلس يا أبان فلم يقسم لهم شيئا قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أنه لا يسهم من الغنيمة إلا لمن حضر الوقعة وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا يقسم لكل من شهد الوقعة ولمن كان غائبا عنها في شيء من أسبابها فمن ذلك من خرج يريدها فلم يلحق بالإمام حتى ذهب القتال غير أنه لحق به في دار الحرب قبل خروجه منها قسم له واحتجوا في ذلك بما
ابن شہاب نے عنبسہ بن سعید ستے نقل کیا کہ انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا کہ وہ سعید بن عاص سے یہ بات بیان کر رہے تھے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ابان بن سعید رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ سے ایک سریہ پر نگران بنا کر نجد کی طرف بھیجا ۔ حضرت ابان اور ان کے ساتھی خیبر میں جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ حاضری فتح خیبر کے بعد تھی ۔ ان کے گھوڑوں کی لگامیں کھجور کی چھال سے بنی ہوئی تھیں ۔ ابان رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ہمیں بھی مال غنیمت سے حصہ دو ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ ان کو بالکل مال غنیمت سے حصہ نہ دیں ۔ ابان کہنے لگے میں وفد نجد کے ہدایا لایا ہوں ۔ تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اے ابان بیٹھ جاؤ ۔ آپ نے ان کو مال غنیمت میں سے کوئی چیز نہ دی ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ کا ارشاد : ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ مال غنیمت میں سے صرف ان کو حصہ ملے گا جو واقعہ میں موجود ہوں ۔ مال غنیمت ہر اس آدمی پر تقسیم ہو گا جو واقعہ میں موجود ہو اور اس واقعہ کے اسباب میں سے کسی بھی کام کی وجہ سے غائب ہو ۔ جیسے وہ آدمی جو غزہ کا ارادہ کر کے نکلا مگر امام کے پاس تب پہنچا جب لڑائی ختم ہو چکی تھی ۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ وہ دارالحرب میں پہنچ جائے جبکہ امام ابھی وہاں سے نہ نکلا ہو ۔ تو مال غنیمت میں سے اس کو حصہ دیا جائے گا ۔ انہوں نے ان روایات سے استدلال کیا ہے ۔
بن شهاب الزهري ← مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5111
