شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 12 باب الرجل يسلم في دار الحرب وعنده أكثر من أربع نسوة ) · حديث 5135
4858 - حدثنا نصر بن مرزوق وابن أبي داود قالا ثنا أبو صالح عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن بن شهاب قال بلغني عن عثمان بن محمد بن أبي سويد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لغيلان بن سلمة الثقفي حين أسلم وتحته عشر نسوة خذ منهن أربعا وفارق سائرهن فبين عقيل في هذا عن الزهري مخرج هذا الحديث وأنه إنما أخذه عما بلغه عن عثمان بن محمد عن النبي صلى الله عليه و سلم فاستحال أن يكون الزهري عنده في هذا شيء عن سالم عن أبيه فيدع الحجة به ويحتج بما بلغه عن عثمان بن محمد بن أبي سويد عن النبي صلى الله عليه و سلم ولكن إنما أتى معمر في هذا الحديث لأنه كان عنده عن الزهري في قصة غيلان حديثان هذا أحدهما والآخر عن سالم عن أبيه أن غيلان بن سلمة طلق نساءه وقسم ماله فبلغ ذلك عمر فأمره أن يرتجع نساءه وماله وقال لو مت على ذلك لرجمت قبرك كما رجم قبر أبي رغال في الجاهلية فأخطأ معمر فجعل إسناد هذا الحديث الذي فيه كلام عمر للحديث الذي فيه كلام رسول الله صلى الله عليه و سلم ففسد هذا الحديث من جهة الإسناد ثم لو ثبت على ما رواه عبد الأعلى عن معمر عن الزهري لما كانت أيضا فيه حجة عندنا على من ذهب إلى ما ذهب إليه أبو حنيفة وأبو يوسف رحمة الله عليهما في ذلك لأن تزويج غيلان ذلك إنما كان في الجاهلية قد بين ذلك سعيد بن أبي عروبة عن معمر في هذا الحديث
عقیل ابن شہاب سے روایت کی ہے کہ مجھے عثمان بن محمد بن ابی سوید رضی اللہ عنہ سے بات پہنچی ہے انہوں نے جناب wرسول اللہ ﷺ سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ کو مسلمان ہوتے وقت فرمایا ان میں سے چار رکھ لو اور بقیہ سے جدائی اختیار کر لو اس لئے کہ ان کی دس بیویاں تھیں ۔ اس روایت میں عقیل نے زہری سے اس روایت کا مخرج بتلایا کہ اس سے عثمان بن محمد بن ابی سوید عن النبی ﷺ نے یہ روایت اخذ کی ہے ۔ پس یہ بات نہ ممکن ہے کہ زہری کے پاس اس سلسلے میں سالم عن ابیہ سے کوئی چیز موجود ہو اور وہ اس کو چھوڑ کر عثمان بن محمد بن ابی سوید عن النبی ﷺ سے پہنچی ہوئی روایت بیان کریں ۔ لیکن اس روایت میں معمر آئے ہیں کیونکہ ان کے پاس حضرت غیلان رضی اللہ عنہ کے واقعہ کے سلسلے میں دو روایات تھیں ۔ ان میں سے ایک روایت بالا اور دوسری جو حضرت سالم عن ابیہ سے مروی ہے کہ حضرت غیلان رضی اللہ عنہ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی اور اپنا مال تقسیم کر دیا ۔ یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے حکم دیا کہ بیویوں سے رجوع کرو اور مال کو واپس لو اگر تم اس حالت میں مر گئے تو میں تمہاری قبر کو اس طرح سنگسار کروں گا جس طرح زمانہ جاہلیت میں لوگ ابو رغال کی قبر کو سنگسار کرتے تھے ۔ اس روایت میں معمر رحمۃاللہ علیہ سے خطا ء ہوئی اور انہوں نے اس روایت کی سند کو جس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا کلام تھا اس روایت کی سند کے ساتھ ملا دیا جس میں جناب رسول اللہ ﷺ کا کلام تھا تو سند کے لحاظ سے یہ روایت فاسد ہو گئی ۔( پس استدلال درست نہ رہا ) اگر بالفرض یہ روایت پایہ ثبوت کو پہنچ جائے جس طرح کہ عبدالا علی نے بواسطہ معمر زہری سے روایت کی ہے پھر بھی اس میں ہمارے ہاں امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ اور ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ کے مؤقف کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ حضرت غیلان رضی اللہ عنہ کا نکاح دور جاہلیت میں ہوا تھا جیسا کہ اس روایت میں حضرت سعید بن ابی عروبہ نے معمر سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے ۔ روایت یہ ہے ۔
عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُوَيْدٍ، ← بلغني ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ← نصر بن مرزوق وابن أبي داود
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5135
