Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 8 باب النفل بعد الفراغ من قتال العدو وإحراز الغنيمة ) · حديث 5099

4823 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن سفيان عن يزيد بن جابر عن مكحول عن زياد بن جارية عن حبيب بن مسلمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نفل الثلث بعد الخمس

زیاد بن جاریہ نے حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ خمس کے بعد ثلث لیا ۔

حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ ← زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ ← مَكْحُولٌ ← یَزِیدُ بْنِ جَابِرٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5099

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 8 باب النفل بعد الفراغ من قتال العدو وإحراز الغنيمة ) · حديث 5100

4824 - حدثنا فهد وعلي بن عبد الرحمن قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني معاوية بن صالح عن العلاء بن الحارث عن مكحول عن زياد بن جارية عن حبيب بن مسلمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان ينفل في الغزو الربع بعد الخمس وينفل إذا قفل الثلث بعد الخمس قالوا فدل ما ذكرنا أن ذلك الثلث الذي كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ينفل في الرجعة هو الثلث بعد الخمس قيل لهم قد يحتمل هذا أيضا ما ذكرنا واحتجوا في ذلك أيضا بما

زیاد بن جاریہ نے حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ غزوہ میں خمس کے بعد چوتھائی اور لوٹتے وقت خمس کےبعد ثلث1/3لیتےتھے ۔ان روایات سے یہ بات ثابت ہعئی کہ جناب رسول اللہﷺ نے خمس کے بعد ثلث ربع لیتے تھے ۔ اس روایت میں اس بات کا بھی احتمال ہے جو ہم نے ذکر کی اور دلیل یہ روایت ہے جس کو عبادہ بن صامت نے روایت کیا ہے ۔

حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ ← زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ ← مَكْحُولٌ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد وعلي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5100

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 8 باب النفل بعد الفراغ من قتال العدو وإحراز الغنيمة ) · حديث 5101

4825 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي مريم قال أخبرنا بن أبي الزناد عن عبد الرحمن بن الحارث عن سليمان بن موسى عن مكحول عن أبي سلام عن أبي أمامة الباهلي عن عبادة بن الصامت قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ينفلهم إذا خرجوا باديين الربع وينفلهم إذا قفلوا الثلث قيل لهم وهذا الحديث أيضا قد يحتمل ما أحتمله حديث حبيب بن مسلمة الذي أرسله أكثر الناس عن مكحول أنه كان ينفل في البدأة الربع وفي الرجعة الثلث وقد يجوز أيضا أن يكون عبادة عني بقوله وينفلهم إذا قفلوا الثلث فيكون ذلك على قفول من قتال إلى قتال فإن كان ذلك كذلك وكان الثلث المنفل هو الثلث قبل الخمس فذلك جائز عندنا أيضا لأنه يرجى بذلك صلاح القوم وتحريضهم على قتال عدوهم فأما إذا كان القتال قد ارتفع فلا يجوز النفل لأنه لا منفعة للمسلمين في ذلك واحتج أهل المقالة الأولى لقولهم أيضا بما

ابو سلام نے ابو امامہ باہلی سے انہوں نے عبادہبن صامت رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہﷺ ہمیں چوتھا حصہ عنایت فرماتے جب ابتداء میں نکلتے اور جب ہم واپس لوٹتے تو تیسرا حصہ عنایت فرماتے ۔ اس روایت میںوہی احتمال ہے جو حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں مذکور ہے کہ آپ ابتداء میں چوتھا حصہ لیتے اور واپسی تیسرا حصہ لیتے تھے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ اپنے قول "وینفلھم اذا قفلو االثلث " سے ایک لڑائی سے دوسری لڑائی میں جانا اور کوٹنا مراد لیا ہو ۔ اگر یہ بات اس طرح ہو اور غنیمت کا تیسر احصہ دیا گیا ہو تو اس سے وہ ثلث مراد ہے جو خمس سے پہلے ہو اور ہمارے ہاں بھی یہ بات جائز ہے ۔ کیونکہ اس سے لوگوں کی بہتر کا رکردگی کی امید ہو سکتی ہےاور دشمنوں کے خلاف لڑنے پر آمادہ کرنا مقصود ہوتا ہے ۔ جب لڑائی ختم ہو گئی ہو تو اس وقت مال غنیمت سے حصہ دینا درست نہیں کیونکہ اس میں مسلمانوں کا کوئی فائدہ نہیں ۔ فریق اول کی ایک اور دلیل یہ روایت ہے ۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← أَبِي سَلَّامٍ ← مَكْحُولٌ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، ← بن أبي الزناد ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5101

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 8 باب النفل بعد الفراغ من قتال العدو وإحراز الغنيمة ) · حديث 5102

4826 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا بشر بن عمر وعبيد الله بن عبد المجيد الحنفي قالا ثنا عكرمة بن عمار عن إياس بن سلمة بن الأكوع عن أبيه قال لما قربنا من المشركين أمرنا أبو بكر فشننا الغارة عليهم فنفلني أبو بكر امرأة من فزارة أتيت بها من الغارة فقدمت بها المدينة فاستوهبها مني رسول الله صلى الله عليه و سلم فوهبتها له ففادى بها أناسا من المسلمين فكان من الحجة في ذلك للآخرين عليهم أنه لم يذكر في ذلك الحديث أن أبا بكر كان نفل سلمة قبل انقطاع الحرب أو بعد انقطاعها فلا حجة في ذلك واحتجوا لقولهم أيضا بما

ایاس بن سلمہ بن اکوع نے اپنے والد سے روایت کی ہےکہ جب ہم مشرکین کے قریب ہوئے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم فرمایا ہم نے ان پر اچانک حملہ کر دیا ۔اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بنو فزارہ کی ایک عورت بطور غنیمت عنایت فرمائی جس کو میں لوٹ مار میں سے لایا تھا ۔ جب میں اس کو مدینہ طیبہ لایا تو جب رسول اللہ ﷺ نے اس کو ہبہ کرنے کے لئے فرمایا میں نے وہ آپ کو ہبہ کر دی تو آپؐ اس کو کئی مسلمانوں کے بدلے میں بطور فدیہ (اس کی قوم لو ) دیا ۔ اس روایت میں یہ وضاحت موجود نہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مال غنمیت کا حصہ لڑائی کے انقطاع سے پہلے عنایت فرمایا انقطاع کےبعد دیا پس اس میں فریق اول کی کوئی دلیل نہیں۔ فریق اول کا ایک اور روایت سے استدلال : وہ روایت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ہے

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← بشر بن عمر وعبيد الله بن عبد المجيد الحنفي ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5102

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 8 باب النفل بعد الفراغ من قتال العدو وإحراز الغنيمة ) · حديث 5103

4827 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا بن المبارك عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر عن نافع عن بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث سرية فيها بن عمر فغنموا غنائم كثيرة فكانت غنائمهم لكل إنسان اثني عشر بعيرا ونفل كل إنسان منهم بعيرا بعيرا سوى ذلك قالوا فهذا بن عمر رضي الله عنهما يخبر أنهم قد نفلوا بعد سهامهم بعيرا بعيرا فلم ينكر ذلك النبي صلى الله عليه و سلم قيل لهم ما لكم في هذا الحديث من حجة ولهو إلى الحجة عليكم أقرب منه إلى الحجة لكم لأنه فيه فبلغت سهمانهم اثني عشر بعيرا ونفلوا بعيرا بعيرا ففي ذلك دليل أن ما نفلوا من ذلك كان من غير ما كانت فيه سهمانهم وهو الخمس فلا حجة لكم بهذا الحديث في النفل من غير الخمس فلما لم يكن في شيء مما احتج به أهل المقالة الأولى لقولهم من الآثار ما يجب به ما قالوا أردنا أن ننظر فيما أحتج به أهل المقالة الأخرى لقولهم من الآثار أيضا فنظرنا في ذلك فإذا بن أبي داود قد

عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے ایک چھوٹا لشکر روانہ فرمایا جس میں ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے انہیں بہت سا مال غنیمت ملا چنا نچہ ہر شریک لشکر کو بارہ بارہ اونٹ ملے ۔ اس کے علاوہ ان کو ایک ایک اونٹ ملا ۔ یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے حصہ سے ایک ایک زائد حاصل کیا اور جناب نبی اکرم ﷺ نے اس پر کوئی اعتراض نہیں فرمایا ۔ یہ روایت تو آپ کے حق میں کیا ہوتی آپ کے خلاف ہے کیونکہ اس روایت میں ہے کہ بارہ بارہ اونٹ بطور غنیمت ملے اور پھر ایک ایک اونٹ بطور غنیمت زائد ملا ۔ اس سے تو یہ بات چابت ہو رہی ہے کہ انہوں نے جو کچھ حاصل کیا وہ ان کے حصہ میں خمس کے علاوہ آیا اور اس بات کی تو کوئی دلیل نہیں کہ وہ زائد مال بغیر خمس کے لیا گیا تھا ۔ فریق اول نے اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لئے جو روایات پیش کی تھیں جب ان کے حق میں کوئی دلیل بھی ثابت نہ ہو سکی نہ مؤقف ثابت ہوا ۔ فریق ثانی کے دلائل کا جائزہ لیتے ہیں ۔ فریق ثانی کی دلیل اول روایت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ملاحظہ ہو ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ. ← بن الْمُبَارَكِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5103

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 8 باب النفل بعد الفراغ من قتال العدو وإحراز الغنيمة ) · حديث 5104

4828 - حدثنا قال ثنا بن أبي مريم قال أخبرنا بن أبي الزناد عن عبد الرحمن بن الحارث عن سليمان بن موسى عن مكحول عن أبي سلام عن أبي أمامة الباهلي عن عبادة بن الصامت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أخذ يوم حنين وبرة من جنب بعير ثم قال يا أيها الناس إنه لا يحل لي مما أفاء الله عليكم إلا الخمس والخمس مردود فيكم فأدوا الخيط والمخيط قال وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يكره الأنفال وقال ليرد قوي المؤمنين على ضعيفهم أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا يحل لي مما أفاء الله عليكم إلا الخمس فدل ذلك أن ما سوى الخمس من الغنائم للمقاتلة لا حكم للإمام في ذلك ثم كره رسول الله صلى الله عليه و سلم الأنفال وقال ليرد قوي المسلمين على ضعيفهم أي لا يفضل أحد من أقوياء المؤمنين مما أفاء الله عليهم لقوته على ضعيفهم لضعفه ويستوون في ذلك واستحال أيضا أن يكون رسول الله صلى الله عليه و سلم نفل من الأنفال ما كان يكره فكان النفل الذي ليس بمكروه هو النفل في الخمس فثبت بذلك أن ما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم نفله مما رواه عبادة عنه في هذا الحديث هو من الخمس وقد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا ما يدل على صحة هذا المذهب

حضرت اما مہ بائلی رضی اللہ عنہ نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے حنین کے دن ایک اونٹ کی اوب میں سے ایک بال لے کر فرمایا ۔ اے لوگو ! شان یہ ہے کہ اللہ تعالی نے تمہیں جو مال غنیمت دیا ہے اس میں سے میرے لئے ضمس (پانچواں حصہ ) حلال ہے اس کے علاوہ جوئی چیز حلال نہیں اور خمس بھی تمہیں لوٹا دیا جاتا ہے ۔ پس تم دھاگے اور سوئی تک ادا کر دو ۔ عبادہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جناب رسول اللہﷺ غنیمت کو ( اپنے لئے ) ناپسند کرتے تھے ۔ اس لئے فرمایا کہ طاقت ور مؤمنوں کو ضعیفوں پر لوٹا دینا چاہیے ۔ اس ارشاد میں جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا جو مال غنیمت اللہ تعالی نے تمہیں عنایت فرمایا اس میں سے صرف خمس میرے لئے حلال ہے ۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ غنیمت میں خمس کے علاوہ بقیہ مجاہدین کے لئے ہے ۔ اس میں امام کا حکم جاری نہ ہوگا ۔ نیز اس میں یہ بھی موجود ہے ۔ کہ جناب رسول اللہﷺ نے مال غنیمت ناپسند فرمایا اور یہ ارشاد فرمایا کہ مالدار مسلمان کمزوروں کی طرف لوٹا دیں مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو جو مال غنیمت عنایت کیا گیا ہے ۔ اس میں طاقت والوں کو طاقت کی وجہ سے کمزوروں پر ان کی کمزوری کی وجہ سے کوئی برتری حاصل نہیں بلکہ سب برابر ہیں اور یہ بات کسی طرح بھی قابل تسلیم نہیں کہ جناب رسول اللہﷺ مال غنیمت نا پسند جاننے کے باوجود اس میں لے لیتے ہوں ۔ پس آپ اسی مال سے لیلتے تھے جو آپ کے لئے لینا مکروہ نہ تھا اور وہ مال غنیمت میں سے خمس تھا ۔ اس روایت سے یہ ثابت ہوا کہ اس روایت میں حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے جس زائد مال غنیمت کا ذکر کیا ہے وہ خمس میں سے ہے نہ کہ اس کے علاوہ ۔ فریق ثانی کے قول کی صحت کے لئے یہ روایت ابو عوانہ کافی ثبوت ہے ۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← أَبِي سَلَّامٍ ← مَكْحُولٌ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، ← بن أبي الزناد ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5104

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 8 باب النفل بعد الفراغ من قتال العدو وإحراز الغنيمة ) · حديث 5105

4829 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سهل بن بكار قال ثنا أبو عوانة عن عاصم بن كليب عن أبي الجويرية عن معن بن يزيد السلمي قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لا نفل إلا بعد الخمس ومعنى قوله إلا بعد الخمس عندنا والله أعلم أي حتى يقسم الخمس وإذا قسم الخمس إنفرد حتى المقاتلة وهو أربعة أخماس فكان ذلك النفل الذي ينفله الإمام من بعد أن آثر به أن يفعل ذلك من الخمس لا من الأربعة الأخماس التي هي حق المقاتلة وقد دل على ذلك أيضا ما قد

ابو جویریہ نے معن بن یزید سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے ارشاد فرما یا ۔ زائد مال خمس کے بعد ہی ہوتا ہے ۔ بعدالخمس کا ہمارے نزدیک معنی یہ ہے۔ خمس کو الگ کر لینے کے بعد جب وہ الگ ہو گیا تو بقیہ چار حصے مقاتلین کے رہ گئے وہ زائد اسی خمس میں سے منتخب کر سکتا ہے مقاتلین کے چار حصوں سے نہیں لے سکتا ۔ جو کہ مجاہدین کا حق ہے اور ہماری اس بات پر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت دلالت کر رہی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ السُّلَمِيِّ ← أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5105

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 8 باب النفل بعد الفراغ من قتال العدو وإحراز الغنيمة ) · حديث 5106

4830 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا بن المبارك عن معمر عن أيوب عن بن سيرين أن أنس بن مالك كان مع عبيد الله بن أبي بكرة في غزاة غزاها فأصابوا سبيا فأراد عبيد الله أن يعطى أنسا من السبي قبل أن يقسم فقال أنس لا ولكن اقسم ثم أعطني من الخمس قال فقال عبيد الله لا إلا من جميع الغنائم فأبى أنس أن يقبل منه وأبى عبيد الله أن يعطيه من الخمس شيئا

ابن سیرین روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک لڑائی میں حضرت عبید اللہ بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ کت ساتھ تھے ۔ ان کو کچھ قیدی ملے ۔ حضرت عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ تقسیم سے پہلے ان میں سے کچھ حضرت انس رضی اللہ عنہ کو دیں تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہو سکتا ۔ تم پہلے تقسیم کرو پھر مجھے دو ۔ راوی فرماتے ہیں حضرت عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں میں تو پورے مال غنیمت میں سے دوں گا ۔ لیکن حضرت انس رضی اللہ عنہ نے لینے سے انکار کر دیا اور حضرت عبید اللہ نے خمس میں سے کچھ دینے سے انکار کر دیا ۔

أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← بن الْمُبَارَكِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5106

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 8 باب النفل بعد الفراغ من قتال العدو وإحراز الغنيمة ) · حديث 5107

4831 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن كهمس بن الحسن عن محمد بن سيرين عن أنس نحوه فهذا أنس رضي الله عنه لم يقبل النفل إلا من الخمس وقد روى مثل ذلك أيضا عن جبلة بن عمرو

محمد بن سیرین نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ہیں نے خمس کے علاوہ لینے سے انکار کر دیا اور جبلہ بن عمرورضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت موجود ہے ۔ روایت ملاحظہ ہو ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5107

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 8 باب النفل بعد الفراغ من قتال العدو وإحراز الغنيمة ) · حديث 5108

4832 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا بن المبارك عن بن لهيعة عن بكير بن الأشج عن سليمان بن يسار أنهم كانوا مع معاوية بن خديج في غزوة المغرب فنفل الناس ومعنا أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم يردوا ذلك غير جبلة بن عمرو

بکیر بن اشجع نے سلیمان بن یسار سے روایت نقل کی ہے کہ ہم حضرت معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزہ مغرب میں تھے ۔ انہوں نے لوگوں کو مال غنیمت دیا ہمارے ساتھ کچھ صحابہ کرام بھی موجود تھے تو حضرت جبلہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی نے اس کو واپس نہ کیا ۔

بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← بن لهيعة ← بن الْمُبَارَكِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5108

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 8 باب النفل بعد الفراغ من قتال العدو وإحراز الغنيمة ) · حديث 5109

4833 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف قال ثنا بن المبارك عن بن لهيعة عن خالد بن أبي عمران قال سألت سليمان بن يسار عن النفل في الغزو فقال لم أر أحدا صنعه غير بن خديج نفلنا بأفريقية النصف بعد الخمس ومعنا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم من المهاجرين الأولين أناس كثير فأبى جبلة بن عمرو أن يأخذ منها شيئا فإن قال قائل ففي هذا الحديث أن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم سوى جبلة بن عمرو قد قبلوا قيل له قد صدقت ونحن فلم ننكر أن الناس قد اختلفوا في ذلك فمنهم من أجاز للإمام النفل قبل الخمس ومنهم من لم يجزه وأن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كانوا في ذلك مختلفين وإنما أردنا بما روينا عن أنس وجبلة أنهما يخيران قولنا هذا مع من قد ذكرنا في أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فإن قال قائل فقد روي أيضا عن سعد بن أبي وقاص في هذا فذكر ما

خلد بن ابی عمران سے روایت ہے کہ میں سلیمان بن یسار سے جہاد میہں نفل (زائد مال ) دینے سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا میں حضرت معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا انہوں نے ہمیں افریقہ میں خمس کے بعد آدھا مال دیا اور ہمارے ساتھ جناب رسول اللہ ﷺ کے بہت سے اولین مہاجرین صحابہ کرام تھے ۔ حضرت جبلہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے صرف اس میں سے کچھ بھی لینے سے انکار کر دیا ۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کے علاوہ اس کو بقیہ صحابہ کرام نے کیوں کر قبول کر لیا ۔ ان کو جواب میں کہے کہ تم نے درست کہا ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ اس میں صحابہ کرام کا اختلاف تھا بعض نے خمس سے پہلے کسی کو عطا کرنا امام کے لئے جائز قرار دیا اور بعض کے ہاں یہ درست نہیں ۔ اس سلسلہ میں یقیناً اختلاف رائے صحابہ کرام کے مابین موجود ہو ۔ یہاں تو صرف ہم یہ بتلانا چاہتے ہی کہ جن اصحاب رسول اللہﷺ کا ہم نے تذکرہ کیا ان کے ساتھ ساتھ حضرت انس ، جبلہ بن عمر و رضی اللہ عنہا کی روایت ہمارے اس مؤقف کی حامی ہیں ۔

لم أر أحدا صنعه غير بن خديج نفلنا بأفريقية النصف بعد الخمس ← النفل في الغزو ← سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ← خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، ← بن لهيعة ← بن الْمُبَارَكِ، ← يُوسُفُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5109

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 8 باب النفل بعد الفراغ من قتال العدو وإحراز الغنيمة ) · حديث 5110

4834 - حدثنا يونس قال أخبرنا [ ص 243 ] سفيان عن الأسود بن قيس عن رجل من قومه يقال له بشر بن علقمة قال بارزت رجلا يوم القادسية فقتلته فبلغ سلبه أثني عشر ألفا فنفلنيه سعد بن أبي وقاص قيل له قد يجوز أن يكون سعد نفله ذلك والقتال لم يرتفع فإن كان ذلك كذلك فهذا قولنا أيضا وإن كان إنما نفله بعد ارتفاع القتال فقد يحتمل أن يكون جعل ذلك من الخمس فإن كان جعله من غير الخمس فهذا فيه الذي ذكرنا من الاختلاف فلم يكن في ذلك الحديث لأحد الفريقين حجة إذ كان قد يحتمل ما قد صرفه إليه مخالفه ووجب بعد ذلك أن يكشف وجه هذا الباب لنعلم كيف حكمه من طريق النظر فكان الأصل في ذلك أن الإمام إذا قال في حال القتال من قتل قتيلا فله سلبه أن ذلك جائز ولو قال من قتل قتيلا فله كذا وكذا درهما كان ذلك جائزا أيضا ولو قال من قتل قتيلا فله عشر ما أصبنا لم يجز ذلك لأن هذا لو جاز جاز أن تكون الغنيمة كلها للمقاتلين فيبطل حق الله تعالى فيها من الخمس فكان النفل لا يكون قبل القتال إلا فيما أصابه النفل بسيفه ولا يجوز فيما أصاب غيره إلا أن يكون فيما حكمه حكم الإجارة فيجوز ذلك كما تجوز الإجارة كقوله من قتل قتيلا فله عشرة دراهم فذلك جائز فلما كان ما ذكرنا كذلك ولم يجز النفل إلا فيما أصابه المنفل بسيفه أو فيما جعل له لعمله ولم يجز أن ينفل مما أصابه غيره كان النظر على ذلك أن يكون بعد إحراز الغنيمة أحرى أن لا يجوز أن ينفل مما أصاب غيره ففسد بذلك قول من أجاز النفل بعد إحراز الغنيمة ورجعنا إلى حكم ما أصابه هو فكان ذلك قبل أن ينفله الإمام إياه قد وجب حق الله تعالى في خمسه وحق المقاتلة في أربعة أخماسه فلو أجزنا النفل إذا لكان حقهم قد بطل بعد وجوبه وإنما يجوز النفل فيما يدخل في ملك المنفل من ملك العدو وأما ما قد زال عن ملك العدو قبل ذلك وصار في ملك المسلمين فلا نفل في ذلك لأنه من مال المسلمين فثبت بذلك أن لا ينفل بعد إحراز الغنيمة على ما قد فصلنا في هذا الباب وبينا وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

اسعود بن قیس نے اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کیا جس کو بشر بن علقمہ کہا جاتا ہے ۔ اس نے بتایا کہ میں نے قادسیہ کے دن ایک آدمی سے مقابلہ کر کے اس کو قتل کر دیا تو اس کا سامان بارہ ہزار کی قیمت کو پہنچا ۔ تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ وہ مجھے زائد عنایت فرمایا ۔ یہ عین ممکن ہے کہ حضرت سعدرضی اللہ عنہ نے لڑائی ختم ہونے سے پہلے ان کو دیا ہو ۔ اگر یہ اسی طرح ہو تو امیں اس سے اختلاف نہیں اور اگر لڑائی کے بعد ہے تو پھر احتمال ہے کہ خمس میں سے دیا ہو اور بالفرض اگر انہوں نے خمس کے علاوہ مال سے دیا ہو تو اس میں اختلاف ہے ۔ اسی اختلاف کا ہم پہلے ذکر کر آئے ۔ اس صورت میں یہ روایت کسی فریق کی دلیل نہ ہو گی ۔ اس لئے کہ ہر دو احتمالات کی طرف پھیرا جا سکتا ہے ۔ اب ضروری ہوا کہ نظر و فکر سے غور کر کے مسئلہ کی اختالفی باڑ سے نکلیں ۔ تاکہ نظر سے اس کا حکم معلوم ہو سکے ۔ نظر کی راہ سے اس باب کا حکم معلوم کرنا ضروری ہو گیا ۔اس میں بنیادی بات یہ ہے کہ سپہ سالار اگر اعلان کردے کہ جو شخص کسی (کافر ) کو قتل کر ت تو اسے مقتول کا سامان ملے گا ۔ اس کا یہ اعلان جائز و درست ہے اور اگر کوئی کہے کہ جو شخص کسی کو قتل کرے گا تو اسے اتنے درہم ملیں گے تویہ بھی درست ہے اور اگر وہ یہ اعلان کرے کہ جو شخص کسی کو قتل کرے گا اس کو مال غنیمت میں سے دسواں حصہ ملے گا تو یہ درست نہیں ۔ کیونکہ اگر ایسا درست ہوتا تو پھر تمام مال مجاہدین ہی کے لئے ہوتا اور اللہ تعالی کا حق یعنی خمس باطل ہو جاتا ۔ اسی وجہ سے لڑائی سے پہلے نفل اس مال سے ہو گا جس کو نفل حاصل کرنے والا اپنی تلوار کے ذریعہ حاصل کرے یا اس کی کارکردگی کی وجہ سے اس کے لئے مقرر کیا گیا ہو ۔ جو کچھ دوسروں کو حاصل ہوا وہ اس کے لئے قرار نہ دیا جائے گا البتہ ایک صورت ہے کہ جس کا حکم اجارہ والا ہو وہ جائز ہے ۔ جیسا کہ امام کہے :"من قتیلا فلہ عشرہ دراھم " تو یہ درست ہے ۔ جب یہ بات اسی طرح ہے تو نفل اتنا ہی جائز ہے جتنا حاصل کرنے والا اپنی تلوار سے حاصل کرے یا وہ جو اس کے عمل پر مقرر کیا جائے ۔ اس میں اس کو دینا جائز نہیں جو دوسروں سے پایا ہو ۔ تو نظر کا تقاضا یہی ہے کہ مال غنیمت کے جمع ہونے کے بعد نفل ( زائد مال ) مجاہد کو دینے کے قائل ہیں ۔ پس یہ حکم اس چیز کی طرف لوٹ گیا جو اس نے خود حاصل کی ہے۔ تو امام کے اسے نفل دینے سے پہلے خمس میں امام کا اور چار حصوں میں مجاہدین کا حق لازم تھا ۔ اگر ہم اس کو دینا جائز قرار دیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ حق لازم ہونے کے بعد باطل ہو گیا ۔ بلا شبہ نفل اسی چیز میں ہو گا جو دشمن کی ملکیت سے نکل کر مجاہد کی ملکیت میں آئی ہو ۔ رہی وہ چیز جو دشمن کی ملکیت سے نکل کر عامۃالمسلمین میں داخل ہو چکی اس میں نفل جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ تمام مسلمانوں کا مال ہے ۔ اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ مال غنیمت جمع کرنے کے بعد نفل (زائد مال ) دینا جائز نہیں جیسا کہ ہم تفصیل سے بیان کر آئے ۔ ہمارے ائمہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ،محمد رحمۃاللہ علیہ کا یہی قول ہے ۔ جو امدادی دستے میران جنگ سے نکلنے سے پہلے پہلے آ ملیں گے اس سب کو مال غنیمت سے حصہ دیا جائے گا ۔ اس قول کو امام شعبی ، ثوری ، اوزاعی ائمہ احناف رحمۃاللہ علیہم اجمعین نے اختیار کیا ہے اور اپنے مؤقف کے لئے دلائل پیش کئے ہیں ۔ مال غنیمت میں سے ان لوگوں کو حصہ ملے گا جو واقعہ میں موجود ہوں گے ۔ یہ شعبی ۔ اوزاعی ، ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃاللہ علیہ کا قول ہے ۔ انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے ۔

بارزت رجلا يوم القادسية فقتلته فبلغ سلبه أثني عشر ألفا فنفلنيه سعد بن أبي ← رجل من قومه يقال له بشر بن علقمة ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5110

chevron_left Previous
1…552553554…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter