شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 6 باب الرجل يقتل قتيلا في دار الحرب هل يكون له سلبه أم لا ) · حديث 5087
4811 - حدثنا محمد بن عبد الرحمن الهروي قال ثنا دحيم قال ثنا الوليد بن مسلم قال ثنا صفوان عن عبد الرحمن بن جبير عن أبيه عن عوف قال الوليد وحدثني ثور عن خالد بن معدان عن جبير عن عوف وهو بن مالك أن مدديا رافقهم في غزوة مؤتة وأن روميا كان يشد على المسلمين ويقري بهم فتلطف له ذلك المددي فقعد له تحت صخرة فلما مر به عرقب فرسه وخر الرومي لقفاه فعلاه بالسيف فقتله فأقبل بفرسه وسيفه وسرجه ولجامه ومنطقته وسلاحه كل ذلك مذهب بالذهب والجوهر إلى خالد بن الوليد فأخذ منه خالد طائفة ونفله بقيته فقلت يا خالد ما هذا أما تعلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نفل القاتل السلب كله قال بلى ولكني استكثرته فقلت إني والله لأعرفنكما عند رسول الله صلى الله عليه و سلم قال عوف فلما قدمنا على رسول الله صلى الله عليه و سلم أخبرته خبره فدعاه وأمره أن يدفع إلى المددي بقية سلبه فولى خالد ليدفع سلبه فقلت كيف رأيت يا خالد أو لم أف لك بما وعدتك فغضب رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال يا خالد لا تعطه فأقبل علي فقال هل أنتم تاركوا أمرائي لكم صفوة أمرهم وعليهم كدره أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان أمر خالدا بدفع بقية السلب إلى المددي فلما تكلم عوف بما تكلم به أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم خالدا أن لا يدفعه إليه فدل ذلك أن السلب لم يكن واجبا للمددي بقتله الذي كان ذلك السلب عليه لأنه لو كان واجبا له بذلك إذا لما منعه رسول الله صلى الله عليه و سلم بكلام كان من غيره ولكن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر خالدا بدفعه إليه وله دفعه إليه وأمره بعد ذلك بمنعه منه وله منعه منه كقول عمر بن الخطاب رضي الله عنه لأبي طلحة في حديث البراء بن مالك الذي قد ذكرناه فيما تقدم من هذا الباب إنا كنا لا نخمس الأسلاب وإن سلب البراء قد بلغ مالا عظيما ولا أرانا إلا خامسيه قال فخمسه فأخبر عمر أنهم كانوا لا يخمسون الأسلاب ولهم أن يخمسوها وأن تركهم تخميسها إنما كان بتركهم ذلك لا لأن الأسلاب قد وجبت للقاتلين كما تجب لهم سهمانهم من الغنيمة فكذلك ما فعله رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث عوف بن مالك من أمره خالدا بما أمره به ومن نهيه إياه بعد ذلك عما نهاه عنه إنما أمره بما له أن يأمر به ونهاه عما له أن ينهاه عنه وفيما ذكرنا دليل صحيح أن السلب لا يجب للقاتلين من هذه الجهة
عبدالرحمن بن جبیر نے اپنے والد سے انہوں نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ غزہ موتہ کے موقع پر ایک لشکری میرے ساتھ ہو لیا ایک رومی مسلمانوں پر حملہ کرتا تھا اور ان کا پیچھا کرتا تھا اس لشکری نے اس رونی کے ساتھ نرمی کا سلسلہ اختیار کر کے اس کو مہلت سی اور اس کی تاک میں ایک چٹان کے نیچے بیٹھ گیا جب وہ وہاں سے گزرا تو اس نے اس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ ڈالے روامی اپنی گردن کے بل جا گرا لشکری نے اس پر تلوار کے وار کر کے قتل کر دیا پھر وہ اس کا گھوڑا ، تلوار ، زین ، کمر بند ، لگام اور اسلحہ لے کر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا یہ تمام سامان سونے اور جواہرات سے مرصع تھا ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس سے کچھ مال لے لیا اور باقی اس کو دے دیا ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت خالدرضی اللہ عنہ سے کہا یہ کیا ہے ؟ کیا تم جانتے ہو کہ جناب رسول اللہﷺ نےقاتل کو مقتول کا تمام سامان دیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہاں میں جانتا ہوں لیکن میرے خیال میں یہ بہت زیادہ مال ہے ۔ عوف کہنے لگے میں نے کہا یہ بات رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ضرور عرض کروں گا ۔حضرت عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ تو میں نے آپ تک یہ بات پہنچائی ۔ جناب رسول اللہﷺ نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو بلا یا اور فرمای لشکر ی کا باقی مال بھی اسے دے دو ۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ وہ مال واپس دینے کے لئے لوٹے تو میں نے کہا اے خالد رضی اللہ عنہ ! تمہارا کیا خیال ہے ۔ کیا میں نے تم سے کیا وعدہ پورا نہیں کیا ۔ اس پر جناب رسول اللہﷺ ناراض ہو گئے اور فرمایا اے خالد ! اس مت دو ۔ پھر میری طرف توجہ فرما کر فرمایا ۔ کیا تم لوگ میرے مقرر کردہ امراء کو چھوڑ دو گے کہ تمہارے لئے تو عمدہ اشیاء اور ان کے لئے خراب مال ہو ۔ ذرا غور کرو کہ جناب رسول اللہﷺ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ باقی مال بھی مجاہد کو واپس کر دیا جائے ۔ پھر جب حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے ان کے متعلق کچھ طنز والی بات کی تو جناب نبی اکرم ﷺ نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ اس کو مال مت واپس دو ۔ تو یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ سامان قتل کی وجہ سے لشکر ی کو دینا واجب نہیں ہے اگر قتل کی وجہ سے واجب ہوتا تو کسی دوسرے شخص کی گفتگو کے باوجود جناب رسول اللہﷺ اس سامان کو نہ روکتے بلکہ ضرور دیتے ۔ لیکن آپ ﷺ نے خالد بن ولید کو حکم ددیا کہ وہ مال دے دو ۔ اس سے ثابت ہوا کہ آپ کو دینے کا حق تھا اور پھر منع فرما دیا تو اس سے ثابت ہوا روکنے کا بھی حق حاصل تھا ۔ جیسا کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ کی روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور ہم نے اس کو اس باب میں ذکر کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہم پانچواں حصہ نہیں لیتے لیکن حضرت براء کو جو سامان ملا ہے وہ بہت بڑا مال ہے اور ہم اس کا پانچواں حصہ لیں گے ۔ چنانچہ انہوں نے خمس لیا ۔ تو اس سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بتلا دیا کہ وہ مقتول کے مال سے خمس نہیں لیتے لیکن خمس لینے کا اختیار بھی حاصل ہے ۔ ان کا خمس نہ لینا اس اختیار کی وجہ سے ہے ۔ اس وجہ سے ہرگز نہیں کہ وہ قتل کرنے والوں کے لئے لازم ہو گیا جیسا کہ ان کے لئے مال غنیمت سے حصہ لازم ہو جاتا ہے ۔ اس طرح حضرت عوف رضی اللہ عنہ کی روایت میں جناب رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ کیا کہ خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کو حکم فرمای پھر آپؐ نے منع فرما دیا ۔ تو اس کی وجہ یہ تھی کہ آپؐ اس کا حکم دینے اور منع کرنے ہر دو باتوں کا اختیار رکھتے تھے ۔ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے ۔ اب اس میں اس بات کی واضح دلیل مل گئی کہ قاتلین مشرکین کا سامان دینا لازم نہیں ہے۔
جُبَيْرٌ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرٍ ← الْوَلِیْدُ ← عَوْفٌ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ← صَفْوَانُ؛ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← دُحَيْمٌ، ← محمد بن عبد الرحمن الهروي
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5087
