Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 20 باب ما أصابت البهائم في الليل والنهار ) · حديث 4955

4685 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب عن بن المسيب وعبد الله بن عبد الله عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

عبداللہ بن عبد اللہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن المسيب وعبد الله بن عبد الله ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4955

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 20 باب ما أصابت البهائم في الليل والنهار ) · حديث 4956

4686 - حدثنا أبو بشر الرقي قال ثنا شجاع بن الوليد عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابو سلمہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اس طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4956

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 20 باب ما أصابت البهائم في الليل والنهار ) · حديث 4957

4687 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الوهاب بن عطاء قال أخبرنا محمد بن عمرو فذكر بإسناده مثله

عبدالوہاب بن عطاء نے محمد بن عمرو سے روایت کی ہے ۔ پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

محمد بن عمرو فذكر بإسناده مثله ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4957

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 20 باب ما أصابت البهائم في الليل والنهار ) · حديث 4958

4688 - حدثنا فهد قال ثنا الحجاج بن المنهال قال ثنا حماد عن أيوب عن بن سيرين عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

ابن سیرین نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہوں نے جنسب نبی اکرمﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4958

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 20 باب ما أصابت البهائم في الليل والنهار ) · حديث 4959

4689 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا عبد الله بن عون عن محمد بن سيرين عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

محمد بن سیرین نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4959

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 20 باب ما أصابت البهائم في الليل والنهار ) · حديث 4960

4690 - حدثنا فهد قال ثنا الحجاج قال ثنا حماد عن محمد بن زياد قال سمعت أبا هريرة يقول سمعت أبا القاسم صلى الله عليه و سلم يقول فذكر مثله

محمد زاید نے نقل کیا کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے ابو القاسم ﷺ کو کہتے سنا ہے پھر انہوں نے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

فذكر مثله. ← أبا القاسم صلى الله عليه و سلم ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← حَمَّادٌ، ← الْحَجَّاجِ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4960

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 20 باب ما أصابت البهائم في الليل والنهار ) · حديث 4961

4691 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا الفريابي قال ثنا سفيان عن بن ذكوان عن عبد الرحمن الأعرج عن أبي هريرة يرفعه مثله قال أبو جعفر فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم ما أصابت العجماء جبارا والجبار هو الهدر فنسخ ذلك ما تقدم مما في حديث أبي محيصة وإن كان منقطعا لا يكون بمثله عند المحتج به علينا حجة وإن كان الأوزاعي قد وصله فإن مالكا والأثبات من أصحاب الزهري قد قطعوه ومع ذلك فإن الحكم المذكور فيه مأخوذ من حكم سليمان النبي عليه السلام في الحرث إن نفشت فيه الغنم فحكم النبي صلى الله عليه و سلم بمثل ذلك الحكم حتى أحدث الله له هذه الشريعة فنسخت ما قبلها فمما دل على هذا الذي رويناه عن جابر وأبي هريرة رضي الله عنهما أنه كان بعد ما في حديث حرام بن محيصة من قوله فقضى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن على أهل المواشي حفظ مواشيهم بالليل وعلى أهل الزرع حفظ زرعهم بالنهار فجعل النبي صلى الله عليه و سلم الماشية إذا كان على ربها حفظها مضمونا ما أصابت وإذا لم يكن عليها حفظها غير مضمون ما أصابت في ذلك ضمان فأوجب في ذلك ضمان ما أصاب المنفلتة بالليل إذ كان على صاحبها حفظها ثم قال في حديث العجماء جرحها جبار فكان ما أصابت في إنفلاتها جبارا فصارت لو هدمت حائطا أو قتلت رجلا لم يضمن صاحبها شيئا وإن كان عليه حفظها حتى لا تنفلت إذا كانت مما يخاف عليه مثل هذا فلما لم يراع النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث وجوب حفظها عليه وراعي إنفلاتها فلم يضمنه فيها شيئا مما أصابت رجع الأمر في ذلك إلى إستواء الليل والنهار فثبت بذلك أن ما أصابت ليلا أو نهارا إذا كانت منفلتة فلا ضمان على ربها فيه وإن كان هو سببها فأصابت شيئا في فورها أو في سيبها ضمن ذلك كله وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وهو أولى ما حملت عليه هذه الآثار لما ذكرنا وبينا

عندالرحمن بن اعرج نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے مرفوع روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس چیز کا تاوان معاف کیا ہے جس کو جانور نقصان پہنچائیں جبار باطل اور معاف کرنے کو کہتے ہیں ۔ اس سے ابو محیصہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں مذکور تاوان منسوخ ہو گیا ۔ اگر وہ روایت سند کے لحاظ سے منقطع ہے تو اس قسم کی روایت سے ہمارے خلاف استدلال نہیں کیا جا سکتا۔ اگر چہ اوزاعی نے اس کو اتصال سے بیان کیا ہے مگر اصحاب زہری اور امام مالک اوران کے پختہ شاگردوں نے اس کو انقطاع سے بیان کیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ہے کہ یہ حکم حضرت سیلمان علیہ السلام کی حرث والے فیصلہ سے ماخوذ ہے اور آپﷺ نے اسی سے یہ فیصلہ فرمایا یہاں تک کہ اللہ تعالی شریعت محمدیہ کا یہ نیا حکم اتار کر سابقہ کو منسوخ کر دیا ۔ اس پر دلالت حضرت جابر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کر رہی ہیں اور یہ روایت حرام بن محیصہ کی روایت کے بعد ہیں ابن محیصہ کی روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ اہل مویشی پر رات کو ان کی حفاظت لازم ہے اور کھیتی والوں پر دن کے وقت کھیتی کی حفاظت ضروری ہے ۔تو جناب نبی اکرم ﷺ نے مویشیوں کے نقصان کو مالک کے لئے اس صورت میں قابل تاوان قرار دیا جبکہ ان کے مالکوں پر ان کی حفاظت لازم ہو اور اگر ان پر ان کی حفاظت ضروری نہ ہو تو نقصان قابل تاوان قرار دیا کیونکہ ان کے مالکوں کو ان کی حفاظت لازم قرار دی گئی پھر دوسرے ارشاد میں فرمایا جانوروں کا کیا ہوا نقصان معاف ہے اور اب کے کھلے رہنے کی صورت میں نقصان معاف ہو گا فلہذا اب وہ اگر باغ اجاڑ دیں یا کسی شخص کو ہلاک کر دیں تو ان کا مالک کسی چیز کا ضامن نہ ہوگا ۔ اگرچہ مالک پر ان کی حفاظت ضروری تھی کہ وہ ان کو کھلے نہ چھوڑے جب کہ ان سے اس قسم کا خطرہ ہو ۔ جب جناب نبی اکرم ﷺ نے اس روایت میں ان کی حفاظت ضروری ہونے کی رعایت نہیں فرمائی بلکہ جانوروں کے کھلے رہنے کی رعایت فرمائی کہوہ کسی نقصان کے ضامن نہ ہوں گے تو اس سلسلے میں دن رات کا معاملہ برابر ہوا ۔ پس اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ جانور کھلے ہوں تو رات کو نقصان پہنچائیں یا دن کو ان کے مالکوں پر کوئی تاوان نہ ہوگا اور اگر (جانور بندھے ہوئے تھے اور)مالک نے خود چھوڑا اور وہ اس وقت یا بعد میں کھلے رہنے کی صورت میں کچھ کھا گئے ۔ تو مالک اس تمام نقصان کا تاوان ادا کرے گا ۔ یہی امام ابو حنیفہ ،ابو یوسف ،محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔ان تمام روایات کو اس معنی پر محمول کتنا جو کہ ہم نے بیان کیا ہے زیادہ بہتر ہے ۔

أبي هريرة يرفعه مثله ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← بن ذكوان ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4961

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 21 باب غرة الجنين المحكوم بها فيه لمن هي ) · حديث 4962

4692 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني مالك عن بن شهاب عن أبي سلمة عن أبي هريرة أن امرأتين من هذيل رمت إحداهما الأخرى فطرحت جنينها فقضى رسول الله صلى الله عليه و سلم بغرة عبدة أو وليدة

ابو مسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں ایک نے دوسری کا کو گرایا تو اس کا حمل گر گیا جناب رسول اللہ ﷺ نے اس سلسلے میں ایک غلام یا لونڈی (دینے ) کا فیصلہ فرمایا ۔

اَبِیْ سَلَمَۃَ ← بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4962

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 21 باب غرة الجنين المحكوم بها فيه لمن هي ) · حديث 4963

4693 - حدثنا يونس قال أخبرنا شعيب بن الليث عن أبيه عن بن شهاب عن بن المسيب عن أبي هريرة قال قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم في جنين امرأة من بني لحيان سقط ميتا بغرة عبد أو أمة وأن التي قضى عليها بالغرة توفيت فقضى رسول الله صلى الله عليه و سلم بأن ميراثها لبنيها وزوجها وأن العقل على عصبتها

حضرت سعید بن المسیب نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقلکی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے بنو لحیان کی ایک عورت کے جنین کےبارے میں جو گر گیا ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرمایا اور وہ عورت بھی مر گئی تو آپؐ نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی وراثت اس کے بیٹوں اور خاوند کو ملے گی اور اس کی دیت (قاتلہ کے )رشتہ دار وں کے ذمہ ہو گی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن المسيب ← بن شِهَابٍ ← أَبِيهِ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4963

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 21 باب غرة الجنين المحكوم بها فيه لمن هي ) · حديث 4964

4694 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم في الجنين بغرة عبد أو أمة فقال الذي قضى عليه أنعقل من لا شرب ولا أكل ولا صاح فاستهل فمثل ذلك بطل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن هذا يقول بقول شاعر فيه غرة عبد أو أمة

ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے گرنے والے حمل کے متعلق ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرمایا ہے تو جس کے خلاف فیصلہ ہو اس نے کہا کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ کھایا نہ پیا نہ چیخا نہ چلایا تو ایسا خون معاف ہونا چاہیے تو آپؐ نے فرمایا شاعرانہ بات کر رہا ہے ۔ اس کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4964

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 21 باب غرة الجنين المحكوم بها فيه لمن هي ) · حديث 4965

4695 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن منصور عن إبراهيم عن عبيد بن نضلة عن المغيرة بن شعبة أن رجلا كانت له امرأتان فضربت إحداهما الأخرى بعمود فسطاط أو بحجر فأسقطت فرفع ذلك إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال الذي يخاصم كيف يعقل أو كيف يودى من لا صاح فاستهل ولا شرب ولا أكل فقال النبي صلى الله عليه و سلم أسجع كسجع الأعراب فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم فيه بغرة فجعله على قومها قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الغرة الواجبة في الجنين إنما تجب لأم الجنين لأن الجنين لم يعلم أنه كان حيا في وقت وقوع الضربة بأمه وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل تلك الغرة المحكوم بها للجنين ثم يرثها من كان يرثه لو كان حيا وكان من الحجة لهم في ذلك ما قد ذكرناه في هذه الآثار أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما قضى على المحكوم عليه بالغرة قال كيف يعقل من لا أكل ولا شرب ولا نطق فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم فيه غرة عبد أو أمة ولم يقل للذي سجع ذلك السجع إنما حكمت بهذا للجناية على المرأة لا في الجنين وقد دل على ذلك أيضا ما رويناه فيما تقدم في هذا الكتاب أن المضروبة ماتت بعد ذلك من الضربة فقضى رسول الله صلى الله عليه و سلم فيها بالدية مع قضائه بالغرة فلو كانت الغرة للمرأة المقتولة إذا لما قضى لها بالغرة ولكان حكمها حكم امرأة ضربتها امرأة فماتت من ضربها فعليها ديتها ولا يجب عليها للضربة أرش فلما حكم رسول الله صلى الله عليه و سلم مع دية المرأة بالغرة ثبت بذلك أن الغرة دية للجنين لا لها فهي موروثة عن الجنين كما يورث ماله لو كان حيا فمات اتباعا لما روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

عبید بن نضلہ نے مغیرہ شعبہ رضی اللہ عنہ سے رویات کی ہے کہ ایک آدمی کی دو عورتیں تھی ایک نے دوسری کو خیمے کا کھونٹا دے مارا یا پتھر مارا ۔ جس سے اس نے بچہ گرا دیا تو یہ معاملہ جناب نبی اکرمﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو جھگڑا کرنے والے نے کہا اس کی کس طرح دیت ہو گی یا کس طرح اس کی دیت ادا کی جائےگی جو نہ چیخا ،نہ چلایا اور نہ ہی اس نے کھایا اور نہ پیا ۔ تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تو دیہاتیوں کی طرح تک بندی کرتا ہے ، پس جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرما کر اس مارنے والی عورت کی قوم پر دیت کو ڈالا ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہین کہ علماء کی ایک جماعت کا خیال یہ ہےکہ جنین کی وجہ سے جو غلام لازم ہو گا وہ جنین کی ماں کے لئے ہو گا معلوم نہیں کہ ماں کوق مارتے وقت جنین زندہ تھایا مردہ ۔جس غلام کا فیصلہ ہوا وہ جنین کا ہو گا پھر اس کے ورثاء وہیہوں گے جو بچے کے ورثاء ہیں یعنی زندہ ہونے کی صورت میں وارث بنتے ۔ فریق ثانی کی دلیل ان روایات کے ضمن میں پائی جاتی ہے جناب رسول اللہﷺ نے جب غلام دینے کا فیصلہ فرمایا تو اس نے کہا اس کیدیت کس طرح ہو گی جس نے نہ کھایا نہ پیا اور نہ کلام کیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس میں ایک غلا م یا لونڈی ہے۔ آپؐ نے اس تک بندی والے کہ یہ نہیں فرمایا کہ میں نے یہ حکم اس لئے دیا ہے کہ عورت کو نقصان پہنچایا گیا جنین کی وجہ سے یہ حکم نہیں ہے ۔اس بات پر وہ روایات دلالت کرتی ہیں جو اس کتاب میں پہلے مذکور ہوئیں کہضرب کے بعد مضروبہ عورت مرگئی ۔تو جناب رسول اللہ ﷺ نے غلام کےٖ فیصلہ کے ساتھ ساتھ دیت کا فیصلہ بھی فرمایا۔ اگربالفرض وہ غلام اس مقتولہ عورت کاہوتا تو آپؐ غلام کا فیصلہ نہ فرماتے اور اس کا حال اس عورت جیسا ہوتا جس کو دوسری عورت مارتےاور وہ اس کی ضرب سے مر جائے تو اس (قاتلہ )پر اس کی دیت لازم ہوتی ہے مارنے کی وجہ سے تاوان نہیں ہوا ۔ پس جب جناب رسول اللہ ﷺ نے عورت کی دیت کے باوجود غلام کے ساتھ فیصلہ فرمایا تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ غلام اس جنین کی دیت ہے اس عورت کی نہیں ۔ وہ عورت اس بچے کےمال میں اس طرح وارث ہو گی جس طرح اس کے زندہ رہنے کی صورت میں بھی (مرجانے ) کی صورت میں ۔اس کی وارث ہوتی ہے ۔ اس میں جناب رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے یہی قول امام ابو حنیفہ ، ابویوسف ، محمد رحمۃاللہ علیہ کا قول ہے ۔

عبيد بن نضلة ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4965

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 1 باب الإمام يريد قتال أهل الحرب هل عليه قبل ذلك أن يدعوهم أم لا ) · حديث 4966

4696 - حدثنا أبو بشر عبد الملك بن مروان الرقي قال ثنا محمد بن يوسف الفريابي قال ثنا سفيان بن سعيد الثوري عن علقمة بن مرثد عن بن بريدة عن أبيه قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أمر رجلا على سرية قال له إذا لقيت عدوك من المشركين فأدعهم إلى إحدى ثلاث خصال أو خلال فأيتهن أجابوك إليها فاقبل منهم وكف عنهم أدعهم إلى الإسلام فإن أجابوك فأقبل منهم وكف عنهم ثم أدعهم إلى التحول من دارهم إلى دار المسلمين وأخبرهم أنهم إن فعلوا ذلك أن عليهم ما على المهاجرين ولهم ما لهم فإن هم أبوا فأخبرهم أنهم كأعراب المسلمين يجري عليهم حكم الله الذي يجري على المؤمنين ولا يكون لهم في الفيء والغنيمة شيء إلا أن يجاهدوا مع المسلمين فإن هم أبوا أن يدخلوا في الإسلام فسلهم إعطاء الجزية فإن أجابوا فاقبل منهم وكف عنهم فإن أبوا فاستعن بالله وقاتلهم قال علقمة فحدثت به مقاتل بن حيان فقال حدثني مسلم بن هيصم عن النعمان بن مقرن عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

علقمہ بن مرثد نے ابن بریدہ سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ کسی چھوٹے دستے پر کسی کو امیر مقرر فرماتے جب تم اپنے مشرک دشمنوں کے مقابل ہو جاؤ تو ان کو تین باتوں میں سے ایک کی طرف بلاؤ( آپؐ نے لفظ خلال یا خصال فرمایا دونوں کا ایک ہی معنی ہے ) وہ ان میں سے جس بات کو تسلیم کر لیں تم ان کی طرف سے قبول کر لو اور ہاتھ روک لو ۔ان کو اسلام کی دعوت دو اگر وہ تسلیم کر لیں تو ان سے قبول کر لو اور ہاتھ روک لو ۔ پھر ان کو اپنے علاقہ سے مسلمانوں کے ملک کی طرف ہجرت کی دعوت دو اور ان کو بتلاؤ کہ اگر وہ ایسا کر لیں تو ان پر وہی لازم ہو گا جو مہاجرین پر ہے اور انہیں وہی کچھ (حقوق ) حاصل ہوں گے جو ان کو حاصل ہیں اور اگر وہاں سے ہجرت کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوں گے ۔ ان پر اللہ تعالی کا وہ حکم جاری ہوگا جو عام مؤمنوں پر جاری ہوتا ہے ۔ مگر ان کے لئے غنیمت اور مال فئی میں کوئی حصہ نہ ہوگا البتہ اس صورت میں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شرکت کریں ۔ اگر وہ اسلام لانے سے انکار کریں تو انہیں جزیہ دینے کی دعوت دو اگر وہ اس کو تسلیم کر لیں تو ان کی یہ بات قبول کر لو اور ان سے ہاتھ روک لو ۔ اگر وہ اس سے انکار کر دیں تو اللہ تعالی سے مدد چاہو اور ان سے لڑو ۔ حضرت علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات مقاتل بن حیان سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے مسلم بن ہیصم نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے اس طرح نقل کی ہے ۔

أَبِيهِ ← بن بريدة ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← أَبُو بِشْرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4966

chevron_left Previous
1…540541542…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter