شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 18 باب القسامة هل تكون على ساكني الدار الموجود فيها القتيل أو على مالكها ) · حديث 4943
4673 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي قال ثنا سليمان بن بلال عن يحيى بن سعيد أن عبد الله بن سهل بن زيد ومحيصة بن مسعود بن زيد الأنصاري من بني حارثة خرجا إلى خيبر في زمن رسول الله صلى الله عليه و سلم وهي يومئذ صلح وأهلها يهود فتفرقا لحاجتهما فقتل عبد الله بن سهل فوجد في شربه مقتولا فدفنه صاحبه ثم أقبل إلى المدينة فمشى أخو المقتول عبد الرحمن بن سهل ومحيصة وحويصة فذكروا لرسول الله صلى الله عليه و سلم شأن عبد الله بن سهيل وكيف قتل [ ص 200 ] فزعم بشير بن يسار وهو يحدث عمن أدرك من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال لهم تحلفون خمسين يمينا وتستحقون دم قتيلكم أو صاحبكم فقالوا يا رسول الله ما شهدنا ولا حضرنا قال أفتبرئكم يهود بخمسين يمينا فقالوا يا رسول الله كيف نقبل أيمان قوم كفار فزعم بشير أن رسول الله صلى الله عليه و سلم عقله فبين لنا هذا الحديث أنها كانت في وقت وجود عبد الله بن سهل فيها قتيلا دار صلح ومهادنة فانتفى بذلك أن يلزم أبا حنيفة ومحمدا شيء مما أحتج به عليهما أبو يوسف رحمة الله عليه من هذا الحديث لأن فتح خيبر إنما كان بعد ذلك قال أبو يوسف رحمة الله عليه والنظر يدل على ما قلنا أيضا وذلك أنا رأينا الدار المستأجرة والمستعارة في يد مستأجرها ومستعيرها لا في يد ربها ألا ترى أنهما وربها لو أختلفا في ثوب وجد فيها أن القول فيه قولهما لا قول رب الدار فكذلك ما وجد فيها من القتلى فهم موجودون فيها وهي في يد مستأجرها ويد مستعيرها لا في يد ربها فما وجب بذلك من قسامة ودية فهي على من هي في يده لا على من ليست في يده وإن كان ملكها له فكان من حجة محمد بن الحسن رحمه الله في ذلك أن قال رأيت إجماعهم قد دل على أن القسامة تجب على المالك لا على الساكن وذلك أن رجلا وإمرأته لو كانت في أيديهما دار يسكنانها وهي للزوج فوجد فيها قتيل كانت القسامة والدية على عاقلة الزوج خاصة دون عاقلة المرأة وقد علمنا أن أيديهما عليهما وأن ما وجد فيها من ثياب فليس أحدهما أولى به من الآخر إلا لمعنى ليس من قبل الملك واليد في شيء فلو كانت القسامة يحكم بها على من الدار في يده لحكم بها على المرأة والرجل جميعا لأن الدار في أيديهما ولأنهما سكناها فلما كان ما يجب في ذلك على الزوج خاصة دون المرأة إذ هو المالك لها كانت القسامة والدية في كل المواضع الموجود فيها القتلى على مالكها لا على ساكنها
سلیمان بن بلال نے یحیی بن سیع سے نقل کیا کہ عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید انصاری یہ قبیلہ بنی حارثہ سے تھےیہ جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں خیبر کی طرف گئے اور یہ صلح کا زمانہ تھا ۔ وہان یہود ی رہتے تھے ۔ یہ دونوں اپنی ضروریات کی و جہ سے الگ الگ ہو گئے پھر عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا اور وہ اپنے گھاٹ پر مقتول پائے گئے ان کے ساتھی نے ان کو دفن کر دیا اور پھر وہ مدینہ طیبہ آئے ان مقتول کے بھائی عبدالرحمن بن سہل اور حضرت محیصہ اور حویصہ رضی اللہ عنہم تینوں جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کیا اور بتایا کہ وہ کیسے قتل ہوئے بشیر بن یسار جو ان صحابہ کرام سے نقل کرتے ہیں جن سے ان کی ملزاقات ہوئی وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کو فرمایا کہ تم پچاس قسمیں اٹھاتے ہو اور اپنے مقتول کے خون کے حقدار ٹھہرتے ہو آپ نے قتیلکم فرمایاصاحبکم فرمایا ۔ انہون نے جواب دیا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے نہ دیکھا اور نہ موجود تھے آپ نے فرمایا کیا تم سےپچاس قسمیں اٹھا کر یہودی بری الذمہ ہو سکتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا یا رسول اللہﷺ ہم کافروں کی قسموں کا کیسے اعتبار کر سکتے ہیں ؟ بشیر بن یسار راوی کا خیال یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کی دیت دی ۔ اس روایت نے ہمارے لئے وضاحت کر دی کہ جب عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے قتل کا واقعہ پیش آیا اس وقت خیبر فتح ہو چکا تھا اور یہ زمانہ صلح تھا اس سے فریق اول کی طرف سے امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کے خلاف پیش آنے والا اعتراض رفع ہو گیا اور امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قیاس کی تائید بھی ہمارے ساتھ ہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ جو گھر اجرت یا بطورادھار لیا گیا ہو وہ کرائی دار یا ادھار لینے والے کے پاس ہوتا ہے مالک کے پاس نہیں ہوتا ۔ کیا تم غور نہیں کرتے کہ اگر وہ دونوں اور مالک مکان کسی کپڑے میں جھگڑا کریں جو وہاں ملا ۔ تو ان دونوں کا قول معتبر ہو گا مالک مکان کی بات نہ مانی جائے گی اسی طرح جو مقتول وہاں پائے جائیں گے اور وہ گھر کرایہ دار یا ادھار والے کے قبضہ میں ہو مالک کے قبضہ میں نہ ہو تو اب جو قسم یا دیت لازم ہو گی وہ ان پر ہو گی جن کے قبضہ میں مکان ہے اس پر نہیں کہ جس کا قبضہ نہیں اگرچہ وہ اس کے ملک میں ہے ۔ امام محمدرحمتہ اللہ علیہ نے اس سلسلہ میں دلیل دیتے ہوئے فرمایا کہ اس کے متعلق علماء کا اجماع ہے کہ قسم مالک پر واجب ہوتی ہے رہائش پذیر نہیں وہ اس طرح کہ اگر ایک مکان خاوند اور اس کی بیوی کے پاس ہو اور وہ مکان خاوند کا ہو پھر وہاں کوئی پقتول پایا جا ئے تو قسم اور دیت صرف خاوند کے رشتہ داروں پر ہو گی عورت کے رشتہ داروں پر نہیں ہو گی ۔حالانکہ کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ مکان دونوں کے قبضہ میں ہے اور اگر وہاں کپڑا پایا جائے تو ا ن میں سے ایک دوسرے کی نسبت زیادا حقدار نہ مانا جائے گا ۔ البتہ یہ اپنے مقام پر ہے کہ جو چیزیں اس کے ملک اورقبضے میں ہو گی تو اس کا حقدار ہو گا ۔پس اگر قسم اس شخص پر ڈالی جاتی ہے جس کے قبضہ میں مکان ہے تو عورت اور مرد دونوں پر آتی کیونکہ مکان تو دونوں کے قبضہ میں ہے اور اس کے ساتھ دونوں وہاں رہائش پذیر ہیں تو جب اس صورت میں جو کچھ بھی لازم ہوتا ہے وہ صرف خاوند ہر لازم ہوتا ہے عورت پر نہیں کیونکہ وہی مالک ہے ۔ تو جہاں بھی مقتول پایا جائے قسم اور دیت مالک پر ہو گی وہاں کے رہائش پذیر لوگوں پر نہیں ۔
يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4943
