شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( باب الرجل يقول عند موته إن مت ففلان قتلني ) · حديث 4931
4661 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني بن جريج عن بن أبي مليكة عن بن عباس قال قال له رسول الله صلى الله عليه و سلم لو يعطى الناس بدعواهم لادعى ناس دماء رجال وأموالهم ولكن اليمين على المدعى عليه فمنع رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يعطى أحد بدعواه دما أو مالا ولم يوجب للمدعي فيه بدعواه إلا باليمين فهذا حكم هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وأما وجه ذلك من طريق النظر فإنهم قد أجمعوا أن رجلا لو أدعى في حال موته أن له على رجل دراهم ثم مات أن ذلك غير مقبول منه وأنه في ذلك كهو في دعواه في حال الصحة فالنظر على ذلك أن يكون كذلك هو في دعواه الدم في تلك الحال كهو في دعواه ذلك في حال الصحة وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد
ابن ابی ملیکہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺنے فرمایا اگر لوگوں کو فقط دعوی سے دے دیا جائے (طلب ثبوت نہ ہو )تو ضرور بضرور کچھ آدمی،آدمیوں کے خون اور اموال کے دعوی دار بن جائیں گے لیکن قسم مدعی علیہ پر ہے ۔جناب رسول اللہﷺ نے اس ارشاد میں اس بات سے منع کر دیا کہ کسی کو اس فقط دعوی خون یا مال کے ساتھ اس کو قبول سے منع فرمایا اور مدعی کے لئے اس کے دعوی کی وجہ سے مدعی علیہ پر فقط قسم لزام کی گئی ہے ۔آثار کے معنی کی تصیح کے اعتبار سے اس کا حکم یہی ہے ۔طریق نظر سے جائزہ لیں وہ اس طرح ہےکہ اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی شخص مرتے وقت دعوی کرے کہ فلاں شخص کے ذمہ اس کے کچھ درہم، ہیں پھر وہ مر جائے تو اس کی یہ بات قبول نہ کی جائے گی اس کا دعوی حالت صحت کے دعوی کی طرح ہو گا ۔(قبول نہ جائے گا )(دلیل پردار و مدار ہو گا )پس تقاضا قیاس یہ ہے کہ اس حالت میں دعوی خون کا بھی ہی حال ہو اور وہی حکم ہو جو حالت صحت میں اس قسم کے دعوی کا ہوتا ہے ۔امام ابو حنیفہ ،ابو یوسف و محمد رحمت اللہ علیہ کا یہی قول ہے ۔
بْنِ عَبَّاسٍ ← بن أبي مليكة ← بن جُرَيْجٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4931
