شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4919
4649 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا مهدي بن جعفر قال ثنا عبد الله بن المبارك عن عنبسة بن سعيد عن الشعبي عن جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا يستقاد من الجرح حتى يبرأ فلو كان يفعل بالجاني كما فعل كما قال أهل المقالة الأولى لم يكن للإستيناء معنى لأنه يجب على القاطع قطع يده إن كانت جنايته قطعا برأ من ذلك المجني عليه أو مات فلما ثبت الإستيناء لينظر ما يئول إليه الجناية ثبت بذلك أن ما يجب فيه القصاص هو ما يئول إليه الجناية لا غير ذلك فإن طعن طاعن في يحيى بن أبي أنيسة وأنكر علينا الاحتجاج بحديثه فإن علي بن المديني قد ذكر عن يحيى بن سعيد أنه أحب إليه في حديث الزهري من محمد بن إسحاق وقد
شعبی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے نقل کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا زخم کا قصاص زخموں کے درست ہونے تک نہ لیا جائے ۔ اسی طرح قاتل کے ساتھ کرنا ضروری تھا جیسا اس نے مقتول کے ساتھ کیا تو پھر زخمیوں کو مہلت دینے کا کوئی معنی نہیں۔ کیونکہ ہاتھ کاٹنے والے پر اس کے ہاتھ کا کاٹنا ضروری ہے۔ اگر اس کا جرم ہاتھ کاٹنا ہے تو زخمی اس سے بری ہو یا مر جائے اس کا تو کچھ تعلق نہیں ۔ پس جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس کو مہلت دی جائے تاکہ جنایت کا انجام معلوم ہو تو اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ قصاص اسی میں ہے جس پر جنایت انجام پذیر ہو گی ۔ کسی اور صورت میں نہ ہو گی ۔ آ پنے 4918 روایت پیش کی ہے ۔ اسی کا راوی یحییٰ بن ابی انیسہ مطعون ہے اس کی روایت سے استدلال درست نہیں۔
جَابِرٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4919
