Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4919

4649 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا مهدي بن جعفر قال ثنا عبد الله بن المبارك عن عنبسة بن سعيد عن الشعبي عن جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا يستقاد من الجرح حتى يبرأ فلو كان يفعل بالجاني كما فعل كما قال أهل المقالة الأولى لم يكن للإستيناء معنى لأنه يجب على القاطع قطع يده إن كانت جنايته قطعا برأ من ذلك المجني عليه أو مات فلما ثبت الإستيناء لينظر ما يئول إليه الجناية ثبت بذلك أن ما يجب فيه القصاص هو ما يئول إليه الجناية لا غير ذلك فإن طعن طاعن في يحيى بن أبي أنيسة وأنكر علينا الاحتجاج بحديثه فإن علي بن المديني قد ذكر عن يحيى بن سعيد أنه أحب إليه في حديث الزهري من محمد بن إسحاق وقد

شعبی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے نقل کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا زخم کا قصاص زخموں کے درست ہونے تک نہ لیا جائے ۔ اسی طرح قاتل کے ساتھ کرنا ضروری تھا جیسا اس نے مقتول کے ساتھ کیا تو پھر زخمیوں کو مہلت دینے کا کوئی معنی نہیں۔ کیونکہ ہاتھ کاٹنے والے پر اس کے ہاتھ کا کاٹنا ضروری ہے۔ اگر اس کا جرم ہاتھ کاٹنا ہے تو زخمی اس سے بری ہو یا مر جائے اس کا تو کچھ تعلق نہیں ۔ پس جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس کو مہلت دی جائے تاکہ جنایت کا انجام معلوم ہو تو اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ قصاص اسی میں ہے جس پر جنایت انجام پذیر ہو گی ۔ کسی اور صورت میں نہ ہو گی ۔ آ پنے 4918 روایت پیش کی ہے ۔ اسی کا راوی یحییٰ بن ابی انیسہ مطعون ہے اس کی روایت سے استدلال درست نہیں۔

جَابِرٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4919

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 13 باب الرجل يقتل رجلا كيف يقتل ) · حديث 4920

4650 - حدثنا إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا محمد بن إدريس الشافعي قال أخبرنا عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن شداد بن أوس قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الله كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته فأمر النبي صلى الله عليه و سلم الناس بأن يحسنوا القتلة وأن يريحوا ما أحل الله لهم ذبحه من الأنعام فما أحل لهم قتله من بني آدم فهو أحرى أن يفعل به ذلك فإن قال قائل لا يستأنى برء الجراح وخالف ما ذكرنا في ذلك من الآثار فكفى به جهلا في خلافه كل من تقدمه من العلماء وعلى ذلك فإنا نفسد قوله من طريق النظر وذلك أنا رأينا رجلا لو قطع يد رجل خطأ فبرأ منها وجبت عليه دية اليد ولو مات منها وجبت عليه دية النفس ولم يجب عليه في اليد شيء ودخل ما كان يجب في اليد فيما وجب في النفس فصار الجاني كمن قتل وليس كمن قطع وصارت اليد لا يجب لها حكم إلا والنفس قائمة ولا يجب لها حكم إذا كانت النفس تالفة فصار النظر على ذلك أن يكون كذلك إذا قطع يده عمدا فإن برأ فالحكم لليد وفيها القود وإن مات منها فالحكم للنفس وفيها القصاص لا في اليد قياسا ونظرا على ما ذكرنا من حكم الخطأ ويدخل أيضا على من يقول إن الجاني يقتل كما قتل أن يقول إذا رماه بسهم فقتله أن ينصب الرامي فيرميه حتى يقتله وقد نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن صبر ذي الروح فلا ينبغي أن يصبر أحد لنهي النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك ولكن يقتل قتلا لا يكون معه شيء من النهي ألا ترى أن رجلا لو نكح رجلا فقتله بذلك أنه لا يجب للولي أن يفعل بالقاتل كما فعل ولكن يجب له أن يقتله لأن نكاحه إياه حرام عليه فكذلك صبره إياه فيما وصفنا حرام عليه ولكن له قتله كما يقتل من حل دمه بردة أو بغيرها هذا هو النظر وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين غير أن أبا حنيفة رضي الله عنه كان لا يوجب القود على من قتل بحجر وسنبين قوله هذا والحجة له في باب شبه العمد إن شاء الله تعالى

ابوالاشعث نے حضرت شداد بن او س رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ بلاشبہ اللہ تعالی نے احسان کو ہر چیز میں لازم قرار دیا۔ پس جب تم قتل کرو تو اچھے انداز سے قتل کرواور جب کسی (جانور) کو ذبح کروتو اچھی طرح ذبح کرواور مناسب ہے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کوآرام پہنچائے۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو حکم فرمایا کہ اچھے طریقے سے قتل کریں اور جن جانوروں کا ذبح کرنا اللہ تعالی نے ان کے لئے جائز رکھا ہے ان سے یہ سلوک کرنا نہایت مناسب ہے۔ اگر کوئی معترض کہے کہ زخم کے درست ہونے کا انتظار کرنے کی کیا حاجت ہے۔ گزشت صفحات میں ہم صحیح روایات ذکر کر آئے اس سے ان کی مخالفت لازم آئے گی اور اس کی جہالت کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ وہ علماء متقدمین کا مخالف ہے بلکہ قیاس کے اعتبار سے بھی اس کی بات غلط ہے۔ ملاحظہ کریں ۔ ہم نے غور کر کے دیکھا کہ اگر کوئی شخص غلطی سے کسی دوسرے آدمی کا ہاتھ کاٹ دے اور وہ درست ہو جائے تو اس پر ہاتھ کی دیت لازم ہوتی ہے اور اگر وہ اس کی وجہ سے مر جائے تو اس پر ایک جان کی دیت لازم ہوتی ہے اور ہاتھ کے سلسلہ میں بھی لازم نہیں آتا۔ ہاتھ کے سلسلہ میں لازم ہونے والی سزا نفس وجان کی چٹی میں لازم ہونے والی سزامیں داخل ہوجاتی ہے اور جرم کرنے والا قاتل کی طرح ہوتا ہے۔ وہ ہاتھ کاٹنے والے کی طرح نہیں رہتا۔ ہاتھ کا حکم صرف اس صورت میں لازم ہوتا ہے جبکہ انسانی جان باقی ہو اور اگر اس کی جان ضائع ہو جائے تو ہاتھ کاٹنے کا حکم واجب نہیں ہوتا تو اس پر قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ جب وہ جان بوجھ کر ہاتھ کاٹے تو حکم اسی طرح ہو اگر وہ درست ہو جائے تو ہاتھ کاٹنے کا حکم لگے گا اور اس میں دیت ہے اور اگر اس سے مر جائے نفس کا حکم ہوگا اور اس میں قصاص لازم ہوگا ہاتھ کا بدلہ نہ ہوگا۔ خطاء کے سلسلہ میں ہم نے جو کچھ ذکر کیا ہے۔ اس پر قیاس کا تقاضا یہی ہے۔ جناب اگر آپ کہتے ہیں کی طرح قتل کرنالازم ہے تو آپ اس آدمی کے متعلق کیافرمائیں گے جس نے کسی کو تیر مار کر ہلاک کر دیا تو کیا آپ تیر مارنے والے کو کھڑا کر کے تیر مارنے کا حکم دیں گے حالانکہ جناب نبی اکرم ﷺ نے کھڑا کر کے کسی بھی جاندار کوتیر مارنے کی صاف ممانعت فرمائی ہے۔ اس موقعہ پرتو آپ یہی فرمائیں گے کہ جس طریقے پر اس کو قتل کی ممانعت نہ کی گئی ہو اس طریقے قتل کیا جائے۔ ذرا غور کرو کہ اگر کوئی مرد کسی مرد سے بدفعلی کرے اور اس کی وجہ سے اس کو ہلاک کر دے تو مقتول کے ولی کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ وہ قاتل کے ساتھ وہی فعل کرے جو اس نے کیا بلکہ قاتل پر لازم ہے کہ وہ اس کو صرف قتل کرے ۔ کیونکہ قاتل کے ساتھ بھی بد فعلی کرنا بھی حرام ہے اور اسے باندھ کر اس کو ہلاک کرنا بھی حرام ہے جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا صرف اس کو قتل کرنے کی حق حاصل ہے۔ جس طرح اس شخص کوقتل کیا جاتا ہے جس کا خون مرتد ہونے یاکسی اور وجہ سے مباح ہو چکا ہو۔ قیاس کا یہی تقاضا ہے اور امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا یہی قول ہے۔ البتہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں پتھر سے ہلاک کرنے والے پر بدلہ واجب نہیں۔ ہم آپ کے اس قول اور دلیل کو باب شبہ میں ان شاء اللہ بیان کریں گے۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى الْمُزَنِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4920

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 14 باب شبه العمد الذي لا قود فيه ما هو ) · حديث 4921

4651 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يحيى بن يحيى قال ثنا هشيم عن خالد الحذاء عن قاسم بن ربيعة بن جوشن عن عقبة بن أوس المسدوسي عن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خطب يوم فتح [ ص 186 ] مكة فقال في خطبته ألا إن قتيل خطأ العمد بالسوط والعصا والحجر فيه دية مغلظة مائة من الإبل منها أربعون خلفة في بطونها أولادها قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا الحديث فقالوا لا قود على من قتل رجلا بعصا أو حجر وممن قال بذلك أبو حنيفة رضي الله عنه وخالفهم في ذلك آخرون منهم أبو يوسف ومحمد رحمة الله عليهما فقالوا إذا كانت الخشبة مثلها يقتل فعلى القاتل بها القصاص وذلك عمد وان كان مثلها لا يقتل ففي ذلك الدية وذلك شبه العمد وقالوا ليس فيما احتج به علينا أهل المقالة الأولى من قول النبي صلى الله عليه و سلم ألا إن قتيل خطأ العمد بالسوط والعصا والحجر فيه مائة من الإبل دليل على ما قالوا لأنه قد يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم أراد بذلك العصا التي لا تقتل مثلها التي هي كالسوط الذي لا يقتل مثله فإن كان أراد ذلك فهو الذي قلنا وإن لم يكن أراد ذلك وأراد ما قلتم أنتم فقد تركنا الحديث وخالفناه فنحن بعد لم نثبت خلافنا لهذا الحديث إذ كنا نقول إن من العصا ما إذا قتل به لم يجب به على القاتل قود وهذا المعنى الذي حملنا عليه معنى هذا الحديث أولى مما حمله عليه أهل المقالة الأولى لأن ما حملناه عليه لا يضاد حديث أنس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم في إيجابه القود على اليهودي الذي رضخ رأس الجارية بحجر وما حمله عليه أهل المقالة الأولى يضاد ذلك وينفيه ولأن يحمل الحديث على ما يوافق بعضه بعضا أولى على ما يضاد بعضه بعضا فإن قال قائل فأنت قد قلت إن حديث أنس رضي الله عنه منسوخ في الباب الأول فكيف أثبت العمل به ههنا قيل له لم نقل إن حديث أنس رضي الله عنه هذا منسوخ من جهة ما ذكرت وقد ثبت وجوب القود والقتل بالحجر في حديث أنس وإنما قلت إن القصاص بالحجر قد يجوز أن يكون منسوخا لما قد ذكرت من الحجة في ذلك فحديث أنس رضي الله عنه في إيجاب القود عندنا غير منسوخ وفي كيفية القود الواجب قد يحتمل أن يكون منسوخا على ما فسرنا وبينا في الباب الذي قبل هذا الباب فكان من الحجة للذين قالوا إن القتل بالحجر لا يوجب القود في دفع حديث أنس رضي الله عنه أنه قد يحتمل أن يكون ما أوجب النبي صلى الله عليه و سلم من القتل في ذلك حقا لله عز و جل وجعل اليهودي كقاطع الطريق الذي يكون ما وجب عليه حدا من حدود الله عز و جل فإن كان ذلك كذلك فإن قاطع الطريق إذا قتل بحجر أو بعصا وجب عليه القتل في قول الذي يزعم أنه لا قود على من قتل بعصا وقد قال بهذا القول جماعة من أهل النظر وقد قال أبو حنيفة رضي الله عنه في الخناق إن عليه الدية وأنه لا يقتل إلا أن يفعل ذلك غير مرة فيقتل ويكون ذلك حدا من حدود الله عز و جل فقد يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم قتل اليهودي على ما في حديث أنس رضي الله عنه لأنه وجب عليه القتل لله عز و جل كما يجب على قاطع الطريق فإن كان ذلك كذلك فإن أبا حنيفة رضي الله عنه يقول كل من قطع الطريق فقتل بعصا أو حجر أو فعل ذلك في المصر يكون حكمه فيما فعل حكم قاطع الطريق وكذلك الخناق الذي قد فعل ذلك غير مرة أنه يقتل وقد كان ينبغي في القياس على قوله أن يكون يجب على من فعل ذلك مرة واحدة القتل ويكون ذلك حدا من حدود الله عز و جل كما يجب إذا فعله مرارا لأنا رأينا الحدود يوجبها انتهاك الحرمة مرة واحدة ثم لا يجب على من إنتهك تلك الحرمة ثانية إلا ما وجب عليه في إنتهاكها في البدء فكان النظر فيما وصفنا أن يكون الجاني الخناق كذلك أيضا وأن يكون حكمه في أول مرة هو حكمه في آخر مرة هذا هو النظر في هذا الباب وفي ثبوت ما ذكرنا ما يرفع أن يكون في حديث أنس رضي الله عنه حجة على من يقول من قتل رجلا بحجر فلا قود عليه وكان من حجة أبي حنيفة رضي الله عنه أيضا في قوله هذا ما

عقبہ بن اوس سدوسی ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن خطبہ ارشادفرمایا تو آپ نے اپنے خطبہ میں فرمایا سنو! شبہ عمد کا مقتول وہ ہے جو کوڑے لاٹھی اور پتھر سے قتل ہو جائے اس میں دیت مغلظہ یعنی سو اونٹ ہیں جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہیں۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جس شخص نے کی کو لاٹھی یا پتھر سے ہلاک کیا اس پرقصاص نہیں ہے یہ بات کہنے والوں میں امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ بھی ہیں۔ فریق ثانی میں امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ ، محمد رحمتہ اللہ علیہ بھی شامل ہیں چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ اگر ایسی لکڑی ہو جو ہلاک کر دیتی ہو تو اس میں قاتل پر قصاص ہے اور یہ قتل عمد میں شامل ہے اور اگر لکڑی ایسی نہ ہو جس سے دعموما ً ہلاکت ہوتی ہے تو اس میں دیت ہے اور شبہ عمد ہے ۔ آپ ﷺ ہے ارشاد گرامی لوگو! سنو شبہ عمد کوڑے ، عضا اور پتھر سے قتل کرنا ہے اور اس میں سواونٹ دیت ہے۔ اس میں آپ کے موقف کی کوئی دلیل نہیں ۔ کیونکہ اس میں یہ احتمال ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے اس سے وہ لاٹھی مراد لی ہو جو ہلاک نہیں کرتی اور وہ اس کوڑے کی طرح ہے جس سے ہلاکت واقع نہیں ہوتی اور اگر یہی بات ہو تو پھر ہماری بات ثابت ہوگئی اور اگر آپ کی مراد یہ نہ ہو بلکہ وہ بات ہو جو تم کہہ رہے ہوتو گویا پھر ہم نے روایت کو ترک کر دیا اور اس کے خلاف کیا حالانکہ ہم نے حدیث کی مخالفت نہیں کی اس لئے کہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ بعض لاٹھیاں ایسی ہیں کہ ان سے ہلاکت کے سبب قاتل پر قصاص لازم نہیں ہوتا۔ ہمارا یہ معنی فریق اول کے معنی سے بہتر ہے کیونکہ اس طرح وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ والی روایت جس میں یہودی پر قصاص لازم قرار دیا گیا جس نے بچی کا سر پتھر سے کچل دیا تھا اور فریق اول کا معنی روایت انس رضی اللہ عنہ کے خلاف ہے اور اس کی نفی کرتا ہے۔ حدیث کا ایسامفہوم لینا جس سے روایات ایک دوسرے کے موافق ہوں اس معنی لینے سے بہتر ہے جس سے روایات میں تضاد ہو۔ اگر کوئی یہ کہے کہ آپ نے گزشتہ باب میں کہا تھا کہ روایت انس رضی اللہ عنہ منسوخ ہے اور یہاں اس سے اس عمل کو ثابت کر رہے ہیں۔ تو اس کے جواب میں کے ہم عرض کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت اس جہت سے منسوخ ہے جس سے آپ کہتے ہیں اور جس کا ذکر آپ نے کیا۔ جبکہ اس روایت سے قصاص اور پتھر سے ہلاک کرنے کا وجوب ثابت ہورہا ہے میں نے تو . وہاں یہ کہا تھا کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ پتھر کے ساتھ قصاص لینا منسوخ ہو چکا ہو۔ جیسا کہ اس سلسلہ میں میں نے دلیل بھی ذکر کی ہے تو ہمارے نزدیک حضرت انس رضی اللہ عنہ والی روایت قصاص کے وجوب کے سلسلہ میں منسوخ نہیں ہے۔ البت واجب قصاص کس طریقہ سے لیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں منسوخ ہونے کا احتمال ہے جیسا کہ گزشتہ باب میں ہم نے وضاحت کی ہے۔ حدیث انس رضی اللہ عنہ میں یہ بھی احتمال ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے اس قتل میں حق خداوندی کے طور پر قصاص کو لازم کیا ہو اور یہودی کو بمنزلہ ڈاکو کے قرار دیا جس پر اللہ تعالی کی حدود میں سے ایک حدلا گو ہوتی ہے۔ ان کو جواب میں کہیں گے کہ اگر آپ کی بات کو اسی طرح تسلیم کرلیا جائے تو وہ ڈاکوجس نے پتھر یا لاٹھی سے کسی کو ہلاک کیا تو آپ بھی اس کے متعلق مانتے ہیں ( حالانکہ لاٹھی کے ساتھ قتل کی صورت میں قصاص آپ کے ہاں واجب نہیں ہے) مجتہدین کی ایک جماعت کا یہی قول ہے۔ ادھر امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ گلا گھونٹ کر مارنے والے پر دیت کو لازم کرتے ہیں اور یہ فرماتے ہیں کہ جب تک وہ اس فعل کا ارتکاب متعدد بار نہ کرے اس کو قتل نہیں کیا جاسکتا اور کئی بار کرنے سے اس کو بطور قتل کیا جائے گا۔ اب ہم (فریق ثانی) بھی یہی کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے یہودی کاقتل اس لئے کیا ہو کہ اس قتل الله تعالی کے لئے واجب ہوگیا تھا جیسا کہ ڈاکو کا قتل واجب ہوتا ہے۔ اگر یہ بات اسی طرح ہے تو پھر امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول یہ ہے کہ جو آدی ڈاکہ زنی کرے اور لاٹھی یا پتھر سے لوگوں کو ہلاک کرے یا شہر کے اندر یہ (ڈاکہ زنی وغیرہ) کرے تو اس کا حکم ڈاکوجیسا ہوگا اور اسی طرح اس گلا دبا کر ہلاک کرنے والے کا حکم ہے جس نے متعدد بار یہ حرکت کی ہو کہ اس کو قتل کیا جائے گا۔ اب امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے قول پر قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ اس طرح کرے اس کا قتل بھی واجب و لازم ہو اور یہ قتل الله تعالی کی حدود میں سے ایک حد کے طور پر اس پر لاگو ہوگا جیسا کہ متعدد بارکرنے سے اس پر لازم ہوتا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ حدود کو لازم کرنے والی چیز ایک مرتبہ قابل احترام چیز کی حرمت کا گرا دینا ہے تو اس حرمت کے پہلی مرتبہ گرانے سے جو حد لازم ہوتی ہے وہی کئی مرتبہ گرانے سے لازم ہوتی ہے۔ اب ہم نے جو کچھ بیان کیا اس پر قیاس کا تقاضا یہ کہ گلا گھونٹ کر ہلاک کرنے والے کا حکم بھی یہی ہو اور جو حکم پہلی بار سے لازم ہومتعدد بارکرنے سے وہی حکم ہواس باب میں قیاس کاہی تقاضا ہے۔ اب ہماری بات کے ثابت ہونے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کا اس شخص کے خلاف حجت ہونا ختم ہو جاتا ہے جس کا قول یہ ہے کہ جس شخص نے پتھر سے کسی کو ہلاک کیا اس پر قصاص نہیں ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی ایک اور دلیل یہ روایت ہے۔

رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ← عقبة بن أوس المسدوسي ← قاسم بن ربيعة بن جوشن ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← هُشَيْمٌ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4921

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 14 باب شبه العمد الذي لا قود فيه ما هو ) · حديث 4922

4652 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب عن بن المسيب عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال اقتتلت امرأتان من هذيل فضربت إحداهما الأخرى بحجر فقتلتها وما في بطنها فاختصموا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقضى أن دية جنينها عبدا وليدة وقضى بدية المرأة على عاقلتها وورثها ولدها ومن معهم فقال حمل بن مالك بن النابغة الهذلي يا رسول الله كيف أغرم من لا شرب ولا أكل ولا نطق ولا أستهل فمثل ذلك بطل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما هذا من إخوان الكهان من أجل سجعه الذي سجعه

ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہذیل قبیلہ کی دو عورتیں ایک دوسرے سے لڑ پڑیں۔ ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مار کر اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو ہلاک کر دیا ۔ قبیلہ ہذیل کے لوگ یہ جھگڑا جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے تو آپ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ اس حمل کے بچے کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے اور عورت کی دیت اس عورت قاتلہ کے خاندان پر ڈال دی اور اس ( مقتولہ ) عورت کے بچے اور دیگر رشتہ داروں کو اس کا وارث قرار دیا ۔ اس پر حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں اس کی دیت کیسے دوں جس بچے نے نہ پیا نہ کھایا نہ بات کی اور نہ ہی کوئی چیخ ماری ۔ اس قسم کا خون تو باطل ہوتا ہے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے ابن مالک کے مسجع کلام کی وجہ سے فرمایا تو کاہنوں کے بھائیوں میں سے ہے ۔ ( کیونکہ اس کا یہ کلام شرع کے خلاف تھا )

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← بن المسيب ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4922

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 14 باب شبه العمد الذي لا قود فيه ما هو ) · حديث 4923

4653 - حدثنا الحسين بن نصر قال ثنا الفريابي قال ثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن عبيد بن نضلة الخزاعي عن المغيرة بن شعبة أن امرأتين ضربت إحداهما الأخرى بعمود الفسطاط فقتلتها فقضى رسول الله صلى الله عليه و سلم بالدية على عصبة القاتلة وقضى ما في بطنها بغرة والغرة عبد أو أمة فقال الأعرابي أغرم من لا طعم ولا شرب ولا صاح ولا أستهل ومثل ذلك بطل فقال سجع كسجع الأعراب

عبید بن نضلہ خزاعی نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی چوب سے مار کر ہلاک کر دیا ۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے قاتلہ کے خاندان پر دیت لازم فرمائی اور جو کچھ اس کے پیٹ میں تھا اس کے لئے ایک غرہ کا فیصلہ فرمایا اور غرہ لونڈی یا غلام کو کہتے ہیں ۔ اس پر ایک دیہاتی کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اس کی دیت دوں جس نے نہ کھایا نہ پیا نہ چیخ ماری ( جو زندگی کی علامت ہے ) اور نہ آواز نکالی اس طرح کا خون تا باطل ہوتا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس نے دیہاتوں کی طرح تک بندی کی ہے ۔ ( یعنی یہ تک بندی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلہ میں نہیں چلتی )

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ الْخُزَاعِيِّ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ نَصْرٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4923

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 14 باب شبه العمد الذي لا قود فيه ما هو ) · حديث 4924

4654 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن رجاء قال أخبرنا زائدة عن منصور عن إبراهيم عن عبيد بن نضلة عن المغيرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قالوا فهذه الآثار تخبر أن النبي صلى الله عليه و سلم لم يقتل المرأة القاتلة بالحجر ولا بعمود الفسطاط وعمود الفسطاط يقتل مثله فدل ذلك على أنه لا قود على من قتل بخشبة وإن كان مثلها يقتل فكان من حجة من خالفهم في ذلك أن قال فقد روي حمل عن النبي صلى الله عليه و سلم خلاف هذا فذكر ما

عبید بن نضلہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ فریق اول والے کہتے ہیں کہ ان روایات سے ثابت ہوا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے قاتلہ عورت کو پتھر یا خیمے کی چوب سے قتل نہیں کیا حالانکہ خیمے کی چوب ان چیزوں سے ہے جن سے قتل کیا جا سکتا ہے تو یہ اس بات کاکھلا ثبوت ہے کہ جو آدمی لکڑی سے قتل کیا جائے اس کا قصاص نہیں اگرچہ اس جیسی لکڑی سے قتل کیا جاسکتا ہو۔ پتھر یا لاٹھی وغیرہ سے ہلاکت کی صورت میں قصاص ہو گا یہ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔ دلائل مندرجہ ذیل ہیں ۔ حمل بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایات اس کے خلاف موجود ہیں ملاحظہ ہوں۔

فهذه الآثار تخبر ← النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← الْمُغِيرَةِ، ← عبيد بن نضلة ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4924

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 14 باب شبه العمد الذي لا قود فيه ما هو ) · حديث 4925

4655 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن جريج قال أخبرني عمرو بن دينار عن طاوس عن بن عباس أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه نشد الناس أي سألهم وأقسم عليهم قضاء رسول الله صلى الله عليه و سلم في الجنين فقام حمل بن مالك بن النابغة فقال إني كنت بين أمرأتين وإن إحداهما ضربت الأخرى بمسطح فقتلتها وجنينها فقضى رسول الله صلى الله عليه و سلم في الجنين بغرة وأن تقتل مكانها

طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو قسم دے کر پوچھا ۔ کہ ماں کے پیٹ کے بچے کے متعلق جناب رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ کیا تھا تو حمل بن مالک رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا میں دو عورتوں کے درمیان کھڑا تھا ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمہ کی کیل والی لاٹھی ماری اور اس کو اور اس کے پیٹ کے بچے کو ہلاک کر دیا جناب رسول اللہ ﷺ نے جنین کے بدلے غلام یا لونڈی دینے کا حکم فرمایا اور اس کے قتل کے بدلے قتل کا حکم فرمایا۔

بن عباس أن عمر بن الخطاب نشد الناس أي سألهم ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4925

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 14 باب شبه العمد الذي لا قود فيه ما هو ) · حديث 4926

4656 - حدثنا محمد بن النعمان قال ثنا الحميدي قال ثنا هشام بن سليمان المخزومي عن بن جريج عن عمرو بن دينار عن طاوس عن بن عباس مثله غير أنه لم يذكر قوله وأن تقتل مكانها فهذا حمل بن مالك رضي الله عنه يروي عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قتل المرأة بالتي قتلتها بالمسطح فقد خالف أبا هريرة والمغيرة رضي الله عنهما فيما رويا عن النبي صلى الله عليه و سلم من قضائه بالدية في ذلك فقد تكافأت الأخبار في ذلك فلما تكافأت واختلفت وجب النظر في ذلك لنستخرج من القولين قولا صحيحا فاعتبرنا ذلك فوجدنا الأصل المجمع عليه أن من قتل رجلا بحديدة عمدا فعليه القود وهو آثم في ذلك ولا كفارة عليه في قول أكثر العلماء وإذا قتله خطأ فالدية على عاقلته والكفارة عليه ولا إثم عليه فكانت الكفارة تجب حيث يرتفع الإثم وترتفع الكفارة حيث يجب الإثم ورأينا شبه العمد قد أجمعوا أن الدية فيه وأن الكفارة فيه واجبة واختلفوا في كيفيتها ما هي فقال قائلون هو الرجل يقتل رجلا متعمدا بغير سلاح وقال آخرون هو الرجل يقتل الرجل بالشيء الذي لا يرى أنه يقتله كأنه يتعمد ضرب رجل بسوط أو بشيء لا يقتل مثله فيموت من ذلك فهذا شبه العمد عندهم فإن كرر عليه الضرب بالسوط مرارا حتى كان ذلك مما قد يقتل مثله كان ذلك عمدا ووجب عليه فيه القود وكل من جعل منهم شبه العمد على جنس من هذين الجنسين أوجب فيه الكفارة وقد رأينا الكفارة فيما قد أجمع عليه الفريقان تجب حيث لا يجب الإثم وتنتفي حيث يكون الإثم وكان القاتل بحجر أو بعصا أو مثل ذلك يقتل عليه إثم النفس وهو فيما بينه وبين ربه كمن قتل رجلا بحديدة وكان من قتل رجلا بسوط ليس مثله يقتل غير آثم إثم القتل ولكنه آثم إثم الضرب فكان إثم القتل في هذا عنه مرفوعا لأنه لم يرده وإثم الضرب عليه مكتوب لأنه قصده وأراده فكان النظر أن يكون شبه العمد الذي قد أجمع أن فيه كفارة في النفس هو ما لا إثم فيه وهو القتل بما ليس مثله يقتل الذي يتعمد به الضرب ولا يراد به تلف النفس فيأتي ذلك على تلف النفس فقد ثبت بذلك قول أهل هذه المقالة وهو قول أبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهما وقد روي ذلك أيضا عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه

طاوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے مگر انہوں نے ان تقتل مكانها، کے الفاظ ذکر نہیں کئے۔ یہ حضرت حمل بن مالک رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم ﷺ سے چوب خیمہ قتل کرنے والی عورت کا قصاص میں مقتول ہونا بیان فرمارہے ہیں یہ روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور مغیرہ رضی اللہ عنہ کی روایات کے خلاف ہے جس میں انہوں نے دیت کا فیصلہ نقل کیا ہے۔ اب جب کہ روایات آپس میں مقابل آ گئیں ت قول صحیح کو نکالنے کے لئے غور و فکر ضروری ہوا ۔ ہم نے جب غور کیا تو ایک اتفاقی قاعدہ ہاتھ آیادہ یہ ہے کہ جو آدی کسی کو جان بوجھ کر کسی لوہے کی چیز سے قتل کر دے تو اس پر قصاص ہے اور وہ گنہگار بھی ہوگا لیکن اکثر علماء کے نزدیک اس پر کفارہ لازم نہیں اور اگر وہ غلطی سے قتل کر دے تو اس کے خاندان پردیت لازم ہوگی اور اس پر کفارہ لازم ہوگا گنا ہ نہیں ہوگا اور جہاں گناہ لازم ہوگا وہاں کفارہ نہ ہوگا۔ اب دوسری طرف شبہ عمد کو دیکھیں کہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اس میں دیت لازم ہوگی اور اس میں کفارہ لازم ہے البتہ شبہ عمد کی تعریف میں اختلاف ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے۔ ایک تعریف یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کو جان بوجھ کر کسی ہتھیار کے بغیر قتل کردے۔ کسی آدمی کا کسی دوسرے شخص کو کسی ایسی چیز سے ہلاک کرنا کہ اس کے خیال میں وہ اس سے ہلاک نہیں ہوگا گویا وہ کسی آدی کو قصدا ً کوڑا یا کوئی دوسری ایسی چیز مارتا ہے کہ اس جیسی چیز سے ہلاکت عموم واقع نہیں ہوئی پھر وہ آدی اس سے مرجاتا ہے تویہ شبہ عمد کہلاتا ہے اور اگر اس نے کوڑے سے بار بار ضرب لگائی یہاں تک کہ وہ اس چیز کی طرح ہو گیا جس کوقتل کیا جاتا ہے تو یہ عمد بنے گا اور اس پر قضا لازم ہوگا۔ حاصل یہ ہوا کہ جس نے ان دونوں اقوال میں سے کسی ایک کے مطابق قرار دیا انہوں نے کفارے کو لازم قرار دیا۔ غور سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دونوں گروہوں کے ہاں کفارہ اس جگہ لا زم ہوتا ہے جہاں گنا نہیں ہوتا اور جہاں گناہ ہوتا ہے وہاں کفارے کی نفی ہو جاتی ہے اور جو شخص پتھر یا لاٹھی یا اس کی مثل کسی چیز سے قتل کرے اس پر گناہ ہوگا اور وہ گناہ اس کے اور اس کے رب کے مابین ہے۔ جیسے کوئی شخص کسی کولوہے کی چیز سے قتل کر دے اور وہ شخص جس نے کسی آدمی کو کوڑے سے قتل کیا کہ اس جیسے کوڑے سے قتل نہیں کیا جاتا تو اس کو قتل کا سا گناہ تو نہ ملے گا مگرضرب کے گناہ جیسا گناہ ہوگا تو گویا قتل کا گناہ اس سے اس سلسلہ میں اٹھایا گیا کیونکہ اس کا ارادہ قتل کا نہ تھا اور ضرب کا گناہ اس پر لکھا جائے گا کیونکہ اس نے اس کا قصد و ارادہ کیا ہے۔ تو قیاس یہی ہوا کہ شعبہ عمد جس پر سب کا اتفاق ہے کہ اس میں کفار نفس ہے وہ یہ ہے جس میں گنا نہیں اور وہ ایسی چیز سے قتل کرنا ہے جس سے عام طور پر قتل واقع نہیں ہوتا خواہ جان بوجھ کر مارا جائے اور اس نے ہلاکت نفس بھی مقصود نہیں ہوتی۔ مگر پھر اس چیز سے ہلاکت واقع ہو جاتی ہے۔ اس قیاس سے فریق ثانی یعنی امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ اور محمدرحمتہ اللہ علیہ کا قول ثابت ہو گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول اس کی حمایت میں منقول ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔

بن عباس مثله غير ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← بن جُرَيْجٍ ← هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ ← الْحُمَيْدِيُّ، ← محمد بن النعمان

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4926

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 14 باب شبه العمد الذي لا قود فيه ما هو ) · حديث 4927

4657 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عيسى بن إبراهيم البركي قال ثنا عبد الواحد قال ثنا الحجاج قال حدثني زيد بن جبير الجشمي عن حروة بن حميد عن أبيه قال قال عمر بن الخطاب يعمد أحدكم فيضرب أخاه مثل آكلة اللحم قال الحجاج يعني العصا ثم يقول لا قود علي لا أوتى بأحد فعل ذلك إلا أقدته وقد روي عن علي رضي الله عنه خلاف ذلك

حروہ بن حمید نے اپنے والد سے نقل کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کو مارنے کا ارادہ کرا ہے ۔ پس اسے گوشت کھانے والی چیز سے مارتا ہے ۔ حجاج نے کہا گوشت کھانے والی سے مراد لاٹھی ہے پھر وہ کہتا ہے مجھ پر قصاص نہیں ۔ جو شخص ایسے فعل کا ارتکاب کرے گا اور وہ میرے پاس لایا جائے گا تو میں اس سے قصاص لوں گا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف قول منقول ہے ۔ ( جروہ بن حمیل یا حروہ بن حمید )

علي خلاف ذلك ← لا قود علي لا أوتى بأحد فعل ذلك إلا أقدته وقد روي ← الحجاج يعني العصا ثم ← عمر بن الخطاب يعمد أحدكم فيضرب أخاه مثل آكلة اللحم ← أَبِيهِ ← حروة بن حميد ← زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ الْجُشَمِيِّ، ← الْحَجَّاجِ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4927

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 14 باب شبه العمد الذي لا قود فيه ما هو ) · حديث 4928

4658 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا شريك عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي قال شبه العمد بالعصا والحجر الثقيل وليس فيهما قود والله أعلم بالصواب

عاصم بن ضمرہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ شبہ عمد لاٹھی، بھاری پتھر سے ہو ان میں قصاص نہیں ہے ( واللہ اعلم بالصواب )

شبه العمد بالعصا والحجر الثقيل وليس فيهما قود والله أعلم بالصواب ← عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4928

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( باب الرجل يقول عند موته إن مت ففلان قتلني ) · حديث 4929

4659 - بن أبي داود قد حدثنا قال ثنا أبو عمر الحوضي قال ثنا همام عن قتادة عن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه وزاد قال فسأله فأقر بما أدعت فرضخ رأسه بين حجرين

قتادہ نے حضرت ان رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔ بلکہ اس میں یہ الفاظ زائد بھی ہیں ۔ " فسالہ فاقر بما اوعت قرضخ راسہ بین حجرین "

فسأله فأقر بما أدعت فرضخ رأسه بين حجرين ← النبي صلى الله عليه و سلم نحوه وزاد ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← بن أبي داود قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4929

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( باب الرجل يقول عند موته إن مت ففلان قتلني ) · حديث 4930

4660 - حدثنا فهد قال ثنا أبو الوليد الطيالسي قال ثنا همام عن قتادة عن أنس أن يهوديا رضخ رأس جارية بين حجرين فقيل لها من فعل بك هذا أفلان أفلان حتى ذكروا اليهودي فأتي به فأعترف فأمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم فرضخ رأسه بين حجرين ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما قتله بإقراره بما أدعى عليه لا بدعوى الجارية وقد بين ذلك أيضا ما قد أجمعوا عليه ألا ترى أن رجلا لو أدعى على رجل دعوى قتلا أو غيره فسأل المدعى عليه عن ذلك فأومى برأسه أي نعم أنه لا يكون بذلك مقرا فإذا كان إيماء المدعى عليه برأسه لا يكون منه إقرارا يجب به عليه حق كان إيماء المدعي برأسه أحرى أن لا يوجب له حقا وقد

قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا اس سے پوچھا گیا تمہارے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا ؟ کیا فلاں نے کیا فلاں نے ؟ یہاں تک کہ انہوں نے یہودی کا تذکرہ کیا پس اس کو ( پکڑ کر ) لایا گیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا پس اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا ۔ اس حدیث میں یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کے اقرار پر اسے قتل کیا فقط لڑکی کے دعویٰ پر قتل نہیں فرمایا اور جس بات پر اجماع ہے اس میں بھی یہ بات واضح کی گئی ہے ۔ ذرا غور کرو : اگر کوئی شخص کسی کے متعلق قتل کا دعویٰ کرے یا کوئی اور پھر مدعی علیہ سے پوچھا جائے اور وہ سر سے اشارہ کر دے کہ جی ہاں! تو اس سے وہ اقرار کرنے والا شمار نہ ہوگا ۔ تو جب مدعی علیہ کا اپنے سر کا اشارہ اقرار معتبر نہیں بنتا کہ اس سے اس پر کوئی چیز لازم ہو۔ تو فقط مدعی کے اشارے سے حق کا لازم نہ ہونا زیادہ مناسب ہے ۔

قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4930

chevron_left Previous
1…537538539…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter