شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 4 باب الرجل يزني بجارية امرأته ) · حديث 4775
4512 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي مريم قال أخبرنا بن أبي الزناد قال حدثني أبي عن محمد بن حمزة عن عمرو الأسلمي عن أبيه أن عمر بعثه مصدقا على سعد بن هذيم فأتى حمزة بمال ليصدقه فإذا رجل يقول لامراته أدي صدقة مال مولاك وإذا المرأة تقول له بل أنت أد صدقة مال ابنك فسأل حمزة عن أمرها وقولهما فأخبر أن ذلك الرجل زوج تلك المرأة وأنه وقع على جارية لها فولدت ولدا فأعتقته امرأته قالوا فهذا المال لابنه من جاريتها فقال حمزة لأرجمنك بأحجارك فقيل له أصلحك الله إن أمره قد رفع إلى عمر بن الخطاب فجلده عمر رضي الله عنه مائة ولم ير عليه الرجم فأخذ حمزة بالرجل كفيلا حتى قدم على عمر رضي الله عنه فسأله عما ذكر من جلد عمر رضي الله عنه إياه ولم ير عليه الرجم فصدقهم عمر رضي الله عنه بذلك من قولهم وقال إنما درأ عنه الرجم أنه عذره بالجاهلية فهذا حمزة بن عمرو صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم قد رأى أن على من زنى بجارية امرأته الرجم ولم ينكر عليه عمر رضي الله عنه ما كان عمر رأى من ذلك حين كفل الرجل حتى يجئ أمر عمر رضي الله عنه في إقامة الحد عليه فقد وافق ذلك أيضا ما روي عن علي رضي الله عنه وما رواه النعمان عن النبي صلى الله عليه و سلم ثم ما في حديث حمزة أيضا من جلد عمر رضي الله عنه ذلك الرجل مائة جلدة تعزير بحضرة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقد دل ذلك على ما روى النعمان عن النبي صلى الله عليه و سلم من جلد الزاني بجارية امرأته مائة أنه أراد بذلك التعزير أيضا فقد وافق كل ما في حديث حمزة هذا ما روى النعمان عن النبي صلى الله عليه و سلم وأما عبد الله بن مسعود رضي الله عنه فكان علم الحكم الأول الذي رواه سلمة بن المحبق رضي الله عنه ولم يعلم ما نسخه مما رواه النعمان وعلم ذلك عمر وعلي وحمزة بن عمرو رضي الله عنهم فقالوا به وقد أنكر على علي عبد الله رضي الله عنه في هذا قضاءه بما قد نسخ
عمر واسلمی نے اپنے والد سے نقل کیا کہ مجھے عمر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ سعد بن ہذیم کے ہاں زکوة کی وصولی کے لئے بھیجا تو حضرت حمزہ بن عمرورضی اللہ عنہ مال لے کر آئے تا کہ اس کی زکوۃ ادا کریں تو انہوں نے دیکھا کہ ایک آدی اپنی بیوی سے کہہ رہا تھا کہ اپنے غلام کے مال کاصدقہ دو اور اس کی بیوی کہہ رہی تھی کہ تم اپنے بیٹے کے مال کا صدقہ دو۔ حضرت حمزہ نے ان دونوں سے ان کی گفتگو اور معاملہ کے متعلق دریافت کیا تو ان کو بتلایا گیا کہ اس شخص نے اس عورت (بیوی) کی لونڈی سے زنا کیا ہے اور اس سے ایک بچہ پیدا ہوا جب کہ اس کی بیوی نے آزاد کر دیا۔ لوگوں نے بتلایا کہ یہ مال اس بچے کا ہے جو لونڈی سے پیدا ہوا ۔ حضرت حمزہ نے فرمایا میں تجھے تیرے ہی پتھروں سے رجم کروں گا۔ لوگوں نے کہا۔ الله تعالی آپ کا بھلا کرے اس کا معاملہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش ہوتو آپ نے اس شخص کو سو کوڑے مارے اور اس کے لئے رجم کی سزا تجویزنہیں فرمائی ۔ حضرت حمزه رضی اللہ عنہ نے اس آدی کا ضامن لیا یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کوڑوں کے متعلق دریافت کیا جنکا تذکرہ ہوا تھا اور رجم کو مناسب خیال نہ کیا گیا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کی تصدیق فرمائی اور فرمایا کہ عذر جاہلیت کی وجہ سے اس سے رجم کو ساقط کیا گیا تو یہ جناب رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت حمزہ بن عمرورضی اللہ عنہ ہیں جن کے خیال میں بیوی کی لونڈی سے زنا کرنے والے شخص کی سزار جم ہی ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ان کی بات کی تغلیط نہیں کی بلکہ قیام حد کے سلسلہ میں حمزہ رضی اللہ عنہ نے اس آدی پر اس وقت تک کے لئے ایک وکیل بنایا یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو حکم آجائے تو یہ بات بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کی روایات کے موافق ہے۔ پھر روایت حمزہ رضی اللہ عنہ میں سو کوڑے مارنے کا تذکرہ موجود ہے تو اصحاب رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں یہ فعل بطور تعزیر ہے جو اس شخص پر قائم کی گئی۔ پس یہ بھی اس روایت نعمان رضی اللہ عنہ کے مضمون پر دلالت ہے روایت نعمان رضی اللہ عنہ میں ہے کہ عورت کی لونڈی سے زنا کرنے پر سو کوڑے مارے گئے ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کامقصودبھی تعزیر ہے اب روایت حمزه رضی اللہ عنہ تمام تر روایت نعمان رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ کے موافق ہوگئی۔ یہ ہے حضرت سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کی روایت میں جس عمل کا تذکرہ ہے اس کو تو انہوں نے جانا مگر وہ عمل جو اس کا ناسخ تھا جس کو روایت نعمان رضی اللہ عنہ میں ذکر کیا گیا اس کا عمل نہ ہوا۔ حضرت عمر ، علی ، حمزہ بن عمر و رضی اللہ عنہم نے اس عمل کو جان لیا اسی لئے انہوں نے اسی کا فتوی دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کے (سلمہ کی روایت کے مطابق) فیصلے کا انکار کیا کہ یہ حکم منسوخ ہو چکا ہے۔
أَبِيهِ ← عمرو الأسلمي ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ، ← أَبِي ← بن أبي الزناد ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4775
