Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 4 باب الرجل يزني بجارية امرأته ) · حديث 4775

4512 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي مريم قال أخبرنا بن أبي الزناد قال حدثني أبي عن محمد بن حمزة عن عمرو الأسلمي عن أبيه أن عمر بعثه مصدقا على سعد بن هذيم فأتى حمزة بمال ليصدقه فإذا رجل يقول لامراته أدي صدقة مال مولاك وإذا المرأة تقول له بل أنت أد صدقة مال ابنك فسأل حمزة عن أمرها وقولهما فأخبر أن ذلك الرجل زوج تلك المرأة وأنه وقع على جارية لها فولدت ولدا فأعتقته امرأته قالوا فهذا المال لابنه من جاريتها فقال حمزة لأرجمنك بأحجارك فقيل له أصلحك الله إن أمره قد رفع إلى عمر بن الخطاب فجلده عمر رضي الله عنه مائة ولم ير عليه الرجم فأخذ حمزة بالرجل كفيلا حتى قدم على عمر رضي الله عنه فسأله عما ذكر من جلد عمر رضي الله عنه إياه ولم ير عليه الرجم فصدقهم عمر رضي الله عنه بذلك من قولهم وقال إنما درأ عنه الرجم أنه عذره بالجاهلية فهذا حمزة بن عمرو صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم قد رأى أن على من زنى بجارية امرأته الرجم ولم ينكر عليه عمر رضي الله عنه ما كان عمر رأى من ذلك حين كفل الرجل حتى يجئ أمر عمر رضي الله عنه في إقامة الحد عليه فقد وافق ذلك أيضا ما روي عن علي رضي الله عنه وما رواه النعمان عن النبي صلى الله عليه و سلم ثم ما في حديث حمزة أيضا من جلد عمر رضي الله عنه ذلك الرجل مائة جلدة تعزير بحضرة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقد دل ذلك على ما روى النعمان عن النبي صلى الله عليه و سلم من جلد الزاني بجارية امرأته مائة أنه أراد بذلك التعزير أيضا فقد وافق كل ما في حديث حمزة هذا ما روى النعمان عن النبي صلى الله عليه و سلم وأما عبد الله بن مسعود رضي الله عنه فكان علم الحكم الأول الذي رواه سلمة بن المحبق رضي الله عنه ولم يعلم ما نسخه مما رواه النعمان وعلم ذلك عمر وعلي وحمزة بن عمرو رضي الله عنهم فقالوا به وقد أنكر على علي عبد الله رضي الله عنه في هذا قضاءه بما قد نسخ

عمر واسلمی نے اپنے والد سے نقل کیا کہ مجھے عمر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ سعد بن ہذیم کے ہاں زکوة کی وصولی کے  لئے بھیجا تو حضرت حمزہ بن عمرورضی اللہ عنہ مال لے کر آئے تا کہ اس کی زکوۃ ادا کریں تو انہوں نے دیکھا کہ ایک آدی اپنی بیوی سے کہہ رہا تھا کہ اپنے غلام کے مال کاصدقہ دو اور اس کی بیوی کہہ رہی تھی کہ تم اپنے بیٹے کے مال کا صدقہ دو۔ حضرت حمزہ نے ان دونوں سے ان کی گفتگو اور معاملہ کے متعلق دریافت کیا تو ان کو بتلایا گیا کہ اس شخص نے اس عورت (بیوی) کی لونڈی سے زنا کیا ہے اور اس سے ایک بچہ پیدا ہوا جب کہ اس کی بیوی نے آزاد کر دیا۔ لوگوں نے بتلایا کہ یہ مال اس بچے کا ہے جو لونڈی سے پیدا ہوا ۔ حضرت حمزہ نے فرمایا میں تجھے تیرے ہی پتھروں سے رجم کروں گا۔ لوگوں نے کہا۔ الله تعالی آپ کا بھلا کرے اس کا معاملہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش ہوتو آپ نے اس شخص کو سو کوڑے مارے اور اس کے لئے رجم کی سزا تجویزنہیں فرمائی ۔ حضرت حمزه رضی اللہ عنہ نے اس آدی کا ضامن لیا یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کوڑوں کے متعلق دریافت کیا جنکا تذکرہ ہوا تھا اور رجم کو مناسب خیال نہ کیا گیا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کی تصدیق فرمائی اور فرمایا کہ عذر جاہلیت کی وجہ سے اس سے رجم کو ساقط کیا گیا تو یہ جناب رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت حمزہ بن عمرورضی اللہ عنہ ہیں جن کے خیال میں بیوی کی لونڈی سے زنا کرنے والے شخص کی سزار جم ہی ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ان کی بات کی تغلیط نہیں کی بلکہ قیام حد کے سلسلہ میں حمزہ رضی اللہ عنہ نے اس آدی پر اس وقت تک کے لئے ایک وکیل بنایا یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو حکم آجائے تو یہ بات بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کی روایات کے موافق ہے۔ پھر روایت حمزہ رضی اللہ عنہ میں سو کوڑے مارنے کا تذکرہ موجود ہے تو اصحاب رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں یہ فعل بطور تعزیر ہے جو اس شخص پر قائم کی گئی۔ پس یہ بھی اس روایت نعمان رضی اللہ عنہ کے مضمون پر دلالت ہے روایت نعمان رضی اللہ عنہ میں ہے کہ عورت کی لونڈی سے زنا کرنے پر سو کوڑے مارے گئے ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کامقصودبھی تعزیر ہے اب روایت حمزه رضی اللہ عنہ تمام تر روایت نعمان رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ کے موافق ہوگئی۔ یہ ہے حضرت سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کی روایت میں جس عمل کا تذکرہ ہے اس کو تو انہوں نے جانا مگر وہ عمل جو اس کا ناسخ تھا جس کو روایت نعمان رضی اللہ عنہ میں ذکر کیا گیا اس کا عمل نہ ہوا۔ حضرت عمر ، علی ، حمزہ بن عمر و رضی اللہ عنہم نے اس عمل کو جان لیا اسی لئے انہوں نے اسی کا فتوی دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کے (سلمہ کی روایت کے مطابق) فیصلے کا انکار کیا کہ یہ حکم منسوخ ہو چکا ہے۔

أَبِيهِ ← عمرو الأسلمي ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ، ← أَبِي ← بن أبي الزناد ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4775

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 4 باب الرجل يزني بجارية امرأته ) · حديث 4776

4513 - حدثنا أحمد بن الحسن قال ثنا علي بن عاصم عن خالد الحذاء عن محمد بن سيرين قال ذكر لعلي شأن الرجل الذي أتى بن مسعود وإمرأته قد وقع على جارية امرأته فلم ير عليه حدا فقال علي لو أتاني صاحب بن أم عبد لرضخت رأسه بالحجارة فلم يدر بن أم عبد ما حدت بعده فلم يعلم بن مسعود بذلك فأخبر علي رضي الله عنه أن بن مسعود رضي الله عنه تعلق في ذلك بأمر قد كان ثم نسخ بعده فلم يعلم بن مسعود رضي الله عنه بذلك وقد خالف علقمة في ذلك عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أيضا ومال إلى قول من خالفه على أنه أعلم أصحابه رضي الله عنه

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے اس آدمی کی حالت بیان کی گئی جو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیوی سمیت ایا کہ اس نے بیوی کی لونڈی سے زنا کیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ اس پر حد نہیں ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سن کر فرمانے لگے اگر ابن ام عبد والا آدمی میرے پاس آتا تو میں پتھر سے اس کا سر پھوڑ دیتا۔ ابن ام عبد رضی اللہ عنہ کو معلوم نہیں ہو اکہ اس کے بعد کیا پیش آیا ؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس کا علم نہیں ہوا تو علی رضی اللہ عنہ کو بتلایا گیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں ایسے معاملے سے اس بات کو جوڑا ہے جو پہلے تھی ، پھر منسوخ ہو گئی مگر ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس نسخ کا علم نہ ہوا اور اس کی دلیل یہ ہے کہ علقمہ رضی اللہ عنہ جو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے جلیل القدر شاگردوں سے ہیں ۔ انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کی مخالفت کی اور ان کے مخالف کا قول کا ذکر کیا گیا۔

مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الحَسَنِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4776

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 4 باب الرجل يزني بجارية امرأته ) · حديث 4777

4514 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب عن شعبة عن منصور عن إبراهيم عن علقمة أنه سئل عن رجل أتى جارية امرأته فقال ما أبالي إياها أتيت أو جارية امرأة عوسجة فهذا علقمة رحمه الله وهو أجل أصحاب عبد الله رضي الله عنه وأعلمهم قد ترك قول عبد الله في ذلك مع جلالة عبد الله رضي الله عنه عنده وصار إلى غيره وذلك عندنا لثبوت نسخ ما كان ذهب إليه عبد الله في ذلك عنده فكذلك نقول من زنى بجارية امرأته حد إلا أن يدعى شبهة مثل أن يقول ظننت أنها تحل لي أو تكون المرأة أحلتها له فيدرأ عنه الحد ويعزر ويجب عليه العقر وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

علقمہ رضی اللہ عنہ کی روایت کہ ان سے بیوی کی لونڈی سے زنا کرنے والے کا حکم پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ بیوی کی لونڈی سے تم نے زنا کیا یا عوسجہ کی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا برابر ہیں۔ یہ علقمہ رحمتہ اللہ علیہ ہیں یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے افاضل شاگردوں سے ہیں انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول چھوڑ دیا حالانکہ عظمت میں وہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بلند مانتے ہیں ۔ انہوں نے دوسروں کا قول اختیار کر لیا۔ ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جو بات اختیار کی تھی علقمہ رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں اس کا نسخ ثابت تھا۔ پس ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ جو شخص اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرے اس کو حد لگائی جائے گی البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ اگر وہ شبہ کا دعویٰ کرے مثلاً کہے کہ طننت اھا تحل لی وہ میرے گمان میں میرے لئے حلال تھی یا کہے کہ بیوی نے اسے میرے لئے حلال کر دیا تو اس سے حد ساقط ہو جائے گی اور اس کو صرف تعزیر کی جائے گی ۔ نیز مہر لازم ہو گا۔ یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4777

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4778

4515 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا الحسن بن صالح عن السدي عن عدي بن ثابت عن البراء قال لقيت خالي ومعه الراية فقلت أين تذهب فقال ارسلني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى رجل تزوج امرأة أبيه من بعده أن أضرب عنقه أو أقتله

عدی بن ثابت نے براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں اپنے ماموں سے ملا اس حال میں کہ اس کے ہاتھ میں جھنڈا تھا تو میں نے اسے کہا تم کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے آدمی کی طرف بھیجا ہے کہ جس نے اپنے والد کے بعد اپنے والد کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اس کی گردن اتار دوں یا سے قتل کر دو۔

لَقِيتُ خَالِي وَمَعَهُ الرَّايَةُ فَقُلْتُ أَيْنَ تَذْهَبُ ← الْبَرَاءِ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← السُّدِّيِّ ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4778

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4779

4516 - حدثنا فهد قال ثنا يوسف هو بن منازل وأبو سعيد الأشج قالا ثنا حفص بن غياث عن أشعث عن عدي بن ثابت عن البراء قال مر بي خالي أبو بردة بن نيار الأسلمي معه اللواء فذكر مثله إلا أنه قال آتيه برأسه

عدی بن ثابت نے براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میرے پاس سے میرے ماموں ابو بردہ بن نیار اسلمی گزرے ۔ پھر انہوں نے اسی طرح روایت نقل کی البتہ ان الفاظ کا فرق ہے اس میں " آتیہ براسہ " ہے کہ میں اس کا سر لاؤں۔

آتيه برأسه ← مثله إلا أنه ← مر بي خالي أبو بردة بن نيار الأسلمي معه اللواء ← الْبَرَاءِ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← أَشْعَثَ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← يوسف هو بن منازل وأبو سعيد الأشج ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4779

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4780

4517 - حدثنا محمد بن علي بن داود قال ثنا سعيد بن يعقوب الطالقاني قال هشيم حدثناه قال أخبرنا الأشعث عن عدي بن ثابت عن البراء بن عازب قال مر بي الحارث بن عمرو ومعه لواء قد عقده له رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت إلى أي شيء بعثك قال إلى رجل تزوج امرأة أبيه أن أضرب عنقه

عدی بن ثابت نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میرے پاس سے حارث بن عمرو گزرے ان کے ہاتھ میں ایک جھنڈا تھا جس کو جناب رسول اللہ ﷺ نے باندھا تھا ۔ میں نے پوچھا تمہیں آپ ﷺ نے کدھر بھیجا ہے ؟ کہنے لگے ایک آدمی کی طرف جس نے اپنے باپ کی منکوحہ سے شادی کر لی ہے ۔ مجھے بھیجا تاکہ اس کی گردن اڑا دوں ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← الْأَشْعَثِ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ ← محمد بن علي بن داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4780

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4781

4518 - حدثنا فهد قال ثنا يوسف هو بن منازل قال ثنا حفص بن غياث عن أشعث فذكر بإسناده مثله

حفص بن غیاث نے اشعت سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت بیان کی ہے ۔

أشعث فذكر بإسناده مثله ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← يوسف هو بن منازل ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4781

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4782

4519 - حدثنا فهد قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا أبو بكر بن عياش عن مطرف عن أبي الجهم عن البراء بن عازب قال ضلت إبل لي فخرجت في طلبها فإذا الخيل قد أقبلت فلما رأى أهل الماء الخيل انضموا إلي وجاءوا إلى خباء من تلك الأخبية فاستخرجوا منها رجلا فضربوا عنقه قالوا هذا رجل أعرس بامرأة أبيه فبعث إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقتله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى من تزوج ذات محرم منه وهو عالم بحرمتها عليه فدخل بها أن حكمه حكم الزاني وأنه يقام عليه حد الزنا الرجم أو الجلد واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وممن قال بهذا القول أبو يوسف ومحمد رحمهما الله وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يجب في هذا حد الزنا ولكن يجب فيه التعزير والعقوبة البليغة وممن قال بذلك أبو حنيفة وسفيان الثوري رحمهما الله

ابو جہم نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا وہ کہتے ہیں کہ میرے اونٹ گم ہو گئے تو میں ان کی تلاش میں نکلا ۔ اچانک میں نے گھوڑے آتے ہوئے دیکھے ۔ جب پانی والوں نے گھوڑوں کو دیکھا تو وہ میری سمت آئے اور ان خیموں میں اک کے پاس آئے اور ان میں سے ایک ادمی کو نکالا اور اس کی گردن اڑا دی اور کہنے لگے یہ وہ شخص ہے جس نے اپنے باپ کی منکوحہ سے شادی کر لی تھی تو جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف یہ دستہ بھیج کر اس کو قتل کر ا دیا ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ جو شخص اپنے باپ کی منکوحہ سے شادی کر لے اور اس کو اس کی حمرت کا علم بھی ہو۔ پھر اس سے جماع کیا۔ اس کا حکم زانی جیسا ہے زانی کی حد اس پر قائم کی جائے گی یعنی سنگسار یا کوڑے لگانا۔ انہوں نے مندرجہ بالا آثار کو دلیل بنایا یہ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ اور محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے اور ان سے اختلاف کرتے ہوئے دوسروں نے کہا ہے کہ یہ نکاح کرنے والے پر زانی کی حد نہ لگے گی۔ مگر تعزیر لازم ہے اور زبردست سزا دی جائے گی۔ ( جو حد سے کم ہو ) یہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِي الْجَهْمِ ← مُطَرِّفٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4782

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4783

4520 - حدثنا سليمان بن شعيب عن أبيه عن محمد عن أبي يوسف عن أبي حنيفة بذلك

ابو یوسف نے امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے یہ روایت نقل کی ہے ۔

أبي حنيفة بذلك ← أَبِي يُوسُفَ ← مُحَمَّدٍ ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4783

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4784

4521 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال سمعت سفيان يقول في رجل تزوج محرم منه فدخل بها قال لا حد عليه وكان من الحجة على الذين إحتجوا عليهما بما ذكرنا أن في تلك الآثار أمر النبي صلى الله عليه و سلم بالقتل وليس فيها ذكر الرجم ولا ذكر إقامة الحد وقد أجمعوا جميعا أن فاعل ذلك لا يجب عليه قتل إنما يجب عليه في قول من يوجب عليه الحد عليه الرجم إن كان محصنا فلما لم يأمر النبي صلى الله عليه و سلم الرسول بالرجم وإنما أمره بالقتل ثبت بذلك أن ذلك القتل ليس بحد للزنا ولكنه لمعنى خلاف ذلك وهو أن ذلك المتزوج فعل ما فعل من ذلك على الاستحلال كما كانوا يفعلون في الجاهلية فصار بذلك مرتدا فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يفعل به ما يفعل بالمرتد وهكذا كان أبو حنيفة وسفيان رحمهما الله يقولان في هذا المتزوج إذا كان أتى في ذلك على الاستحلال أنه يقتل فإذا كان ليس في هذا الحديث ما ينفي ما يقول أبو حنيفة وسفيان لم يكن فيه حجة عليهما لأن مخالفهما ليس بالتأويل أولى منهما وفي ذلك الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم عقد لأبي بردة الراية ولم تكن الرايات تعقد إلا لمن أمر بالمحاربة والمبعوث على إقامة حد الزنا غير مأمور بالمحاربة وفي الحديث أيضا أنه بعثه إلى رجل تزوج امرأة أبيه وليس فيه أنه دخل بها فإذا كانت هذه العقوبة وهي القتل مقصودا بها إلى المتزوج لتزوجه دل ذلك أنها عقوبة وجبت بنفس العقد لا بالدخول ولا يكون ذلك إلا والعاقد مستحل لذلك فإن قال قائل فهو عندنا على أنه تزوج ودخل بها قيل له وهو عند مخالفك على أنه تزوج واستحل فإن قال ليس للاستحلال ذكر في الحديث قيل له ولا للدخول ذكر في الحديث فان جاز ان تحمل معنى الحديث على دخول مذكور في الحديث جاز لخصمك أن يحمله على استحلال غير مذكور في الحديث وقد روي في ذلك حرف زائد على ما في الآثار الأول

ابونعیم نے سفیان سے روایت کی ہے کہ اس آدی کے متعلق جس نے ذی رحم محرم سے شادی کر کے اس سے جماع کیا ہوا تو اس پر حد نہیں لگے گی اور ان دلائل سے جو انہوں نے دونوں کے خلاف قائم کئے ہیں ان میں یہ آثار ہیں۔ ان آثار مذکورہ میں جناب رسول اللہ ﷺ نے قتل کا حکم فرمایا ہے اس میں نہ رجم کا تذکرہ ہے اور حد کے قائم کرنے کا تذکرہ ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ محرم سے نکاح کے مرتکب پر قتل لازم ہیں جو لوگ حد کو لازم کرتے ہیں ان کے ہاں تو رجم چاہیے جبکہ وہ شادی شدہ ہو تو جناب نبی اکرم ﷺ نے رجم کا حکم نہیں فرمایا بلکہ قتل کا حکم دیا تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ قتل حد زنا کی وجہ سے نہ تھا۔ بلکہ اس کی کوئی اور وجہ تھی اور وہ وجہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی یہ ہے کہ شادی کرنے والے نے اس فعل کو حلال سمجھ کر کیا جیسا کہ جاہلیت میں وہ لوگ کرتے تھے حلال سمجھنے سے مرتد ہوگیا۔ پس جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کے ساتھ مرتد والا معاملہ فرمایا اور روایت میں تو ایک بات بھی ایسی نہیں ہے جو امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی تاویل کے خلاف ہو اور ان کے خلاف حجت بن سکے اور رہی فریق اول کی تاویل تو وہ اس تاویل سے اولی نہیں۔ اس روایت میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ ”عقد لابی بردة الرایۃ" حالانکہ جھنڈے تو کفار سے محاربہ کے لئے باندھے جاتے تھے اور زانی کو حدلگانے کے لئے جو شخص جائے وہ محاربہ کے لئے تو نہیں جاتا۔ اس روایت میں یہ ہے کہ اس نے والد کی بیوی سے شادی کی ہے اس میں جماع کا تذکرہ نہیں۔ جب یہ سزائے قتل محرم سے فقط شادی کرنے والے کے لئے ہے تو یہ اس بات کی واضح دلالت ہے کہ یہ بطور عقوبت ہے جو نفس عقد سے لازم ہو جاتی ہے دخول سے متعلق نہیں اور یہ اتنی بڑی سزا تبھی ہوسکتی ہے جبکہ عقد کرنے والا اس کو حلال سمجھ کر کرے اگر کوئی معترض کہے کہ فریق ثانی کے ہاں یہ شادی کرنے اور اس سے جماع کرنے پر موقوف ہے۔ تو ان کو جواب میں کہا جائے گا یہ بات بلاشبہ ہمارے ہاں ہے مگر اس صورت میں جبکہ وہ اس کو حلال سمجھ کر کرنے والا ہو۔ اگر کوئی معترض کہے کہ جناب حدیث میں تو حلال قرار دینے کا تذکرہ نہیں ملتا۔ تو اس کو کہا جائے گا کہ حدیث میں جس طرح دخول کا تذکرہ نہیں اسی طرح حلال قراردینے کا بھی تذکرہ نہیں۔ پس اگر حدیث کے معنی میں دخول غیر ذکور ہونے کے باوجود مراد لینا درست ہے۔ تو فریق ثانی کو حلال قرار دینے کامعنی غیر مذکور ہونے کی وجہ سے مراد لینا کیونکر درست نہیں۔ اس روایت میں دیگر روات سے مزید الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں۔

سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4784

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4785

4522 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الله بن عمرو عن زيد بن أبي أنيسة عن جابر الجعفي عن يزيد بن البراء عن أبيه قال لقي خاله ومعه راية فقلت له إلى أين تذهب فقال بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى رجل نكح امرأة أبيه أن أقتله وآخذ ماله وقد روي نحو ذلك أيضا عن غير البراء ما

جابر جعفی نے یزید بن براء سے انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میرے والد اپنے ماموں سے اس حالت مٰن ملے کہ ان کے ہاتھ میں جھنڈا تھا انہوں نے پوچھا آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ تو انہوں نے بتلایا کہ مجھے جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے مجھے اس کے قتل کا حکم فرمایا اور اس کے مال لینے کا حکم دیا ہے ۔

أَبِيهِ ← يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4785

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4786

4523 - حدثنا محمد بن علي بن داود وفهد ومحمد بن الورد قالوا حدثنا يوسف بن منازل الكوفي قال ثنا عبد الله بن إدريس عن خالد بن أبي كريمة عن معاوية بن قرة عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم بعث جده معاوية إلى رجل عرس بامرأة أبيه أن يضرب عنقه ويخمس ماله فلما أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذين الحديثين بأخذ مال المتزوج وتخميسه دل ذلك أن المتزوج كان بتزوجه مرتدا محاربا فوجب أن يقتل لردته وكان ماله كمال الحربيين لأن المرتد الذي لم يحارب كل قد أجمع في أخذ ماله على خلاف التخميس فقال قوم وهم أبو حنيفة وأصحابه رحمهم الله ومن قال بقولهم ماله لورثته من المسلمين وقال مخالفوهم ماله كل فئ ولا تخميس فيه لأنه لم يوجف عليه بخيل ولا ركاب ففي تخميس النبي صلى الله عليه و سلم مال المتزوج الذي ذكرنا دليل على أنه قد كانت منه الردة والمحاربة جميعا فانتفى بما ذكرنا أن يكون على أبي حنيفة وسفيان رحمهما الله في ذلك الحديث حجة فإن قال قائل فقد رأينا ذلك النكاح نكاحا لا يثبت فكان ينبغي إذا لم يثبت أن يكون في حكم ما لم ينعقد فيكون الواطىء عليه كالواطىء لا على نكاح فيحد قيل له إن كان ذلك كذلك فلم كان سؤالك إيانا ما ذكرت ذكر التزويج كان ينبغي أن تقول رجل زنى بذات محرم منه فإن قلت ذلك كان جوابنا لك ان نقول عليه الحد وإن أطلقت أسم التزوج وسميت ذلك النكاح نكاحا وإن لم يكن ثابتا فلا حد على واطىء على نكاح جائز ولا فاسد وقد رأينا عمر بن الخطاب رضي الله عنه قضى في المتزوج في العدة التي لا يثبت فيها نكاح الواطئ على ذلك ما يدل على خلاف مذهبك وذلك أن إبراهيم بن مرزوق

معاویہ بن قرہ نے اپنے والد سے نقل کیا انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺسے نقل کیا ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے میرے دادا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک ایسے آدمی کی طرف بھیجا جس نے اپنے والد کی بیوی سے نکاح کرلیا تھا کہ اس کی گردن اڑادیں اور اس کے مال کا پانچواں حصہ لے لیں۔ جب ان دونوں روایات میں جناب رسول اللہ ﷺ نے شادی کرنے کا ، مال لینے اور اس کا پانچواں حصہ نکالنے کا حکم فرمایا تو اس سے پردلالت مل گئی کہ جب ان دونوں روایات سے معلوم ہورہا ہے کہ شادی کرنے والے نے یہ حلال قرار دے کر کیا جس سے وہ مرتد و محارب بن گیا تو اس کا قتل ارتدادکی وجہ سے لازم آیا اور اس کا مال حربی کے مال کی شکل ہوگیا کیونکہ وہ مرتد جومحارب نہ ہو۔ تمام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس کا مال لیا جائے گا پانچویں حصے میں اختلاف ہے۔ چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے اصحاب نے کہا کہ اس کا مال اس کے مسلمان ورثاء کو ملے گا۔ فریق اول کا قول یہ ہے اس کا مال فئی کے حکم میں ہے اور اس میں سے خمس نہ لیا جائے گا کیونکہ اس پرگھوڑے اور اونٹوں سے چڑھائی کی ضرورت نہیں پڑی۔ پس نکاح کرنے والے کے مال سے جناب رسول اللہ ﷺ کا خمس وصول کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ مرتد ومحارب تھا گزشتہ سطور میں ہم نے جو ذکر کیا اس سے اس بات کی نفی ہوئی کہ یہ روایت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ کے خلاف حجت ہے۔ جب یہ نکاح ثابت نہیں ہوتا تو مناسب یہ ہے کہ ثابت نہ ہونے کی وجہ سے اس نکاح کے حکم میں ہو جو سرے سے منعقد نہیں ہوتا۔ پس اس صورت میں وطی کرنے والا ایسا ہوگا جیسا اس نے نکاح کے بغیر وطی کی ہے اور (بلانکاح وطی زنا ہے ) اس کی سزاتو حد ہے۔ اگر بات اسی طرح ہے جیسا آپ فرماتے ہیں تو آپ کے سوال میں تزویج کالفظ کیوں لایا گیا۔ پھر تو آپ کو کہنا چاہئے تھا کہ جو محرم رشتہ دارسے زنا کرے اگرتم یہ سوال کرتے تو جواب حد ہی ہوتا اور جب تم نے اس پر نکاح کالفظ بولا ہے اور اس کو نکاح قرار دیتے ہوتو خواه وہ ثابت نہ ہو مگر نکاح کرنے والے پرحد نہیں ہونی چاہئے خواہ نکاح نافذ ہو یا فاسد۔ جناب عمر رضی اللہ عنہ نے عدت میں نکاح کرنے والے کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا جو آئندہ سطور میں مذکور ہے۔ عدت میں نکاح ثابت نہیں ہوتا۔ وہ فیصل فریق اول کے مذہب کے خلاف ہے۔ ملاحظہ ہو۔

أَبِيهِ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← خَالِدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يوسف بن منازل الكوفي ← محمد بن علي بن داود وفهد ومحمد بن الورد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4786

chevron_left Previous
1…525526527…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter