شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( باب الإعتراف بالزنا الذي يجب به الحد ما هو ) · حديث 4763
4500 - أن ربيعا المؤذن حدثنا قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا إسرائيل عن سماك بن حرب عن سعيد بن جبير عن بن عباس قال أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم ماعز بن مالك فأعترف مرتين فقال إذهبوا به ثم ردوه فاعترف مرتين حتى اعترف أربعا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم اذهبوا به فارجموه ففي هذا الحديث أنه أقر مرتين ثم ذهبوا به ثم ردوه فأقر مرتين فيجوز أن يكون جابر بن سمرة رضي الله عنه حضر المرتين الآخرتين ولم يحضر ما كان منه قبل ذلك وحضر بن عباس رضي الله عنهما الإقرار كله وكذلك من وافقه على أنه كان أربعا
سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ماعز بن مالک کو لیا گیا۔ تو انہوں نے دو مرتبہ اعتراف زنا کیا ۔ آپ نے فرمایا اس کو لے جاؤ پھر اس کو لوٹاؤ ۔ پس اس نے دو مرتبہ اعتراف کیا یہاں تک کہ اعتراف چار مرتبہ ہو چکا۔ اس روایت میں یہ اعتراف موجود ہے کہ دو مرتبہ اقرار کیا پھر ان کو واپس لے گئے پھر ان کو لوٹایا تو اس نے دو مرتبہ اعتراف کیا پس یہ عین ممکن ہے کہ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ پچھلی دو مرتبہ کے وقت موجود تھے اور اسسے پہلے دو مرتبہ میں موجود نہ تھے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ ہر دو قرار میں موجود تھے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ تمام اقراروں کے وقت موجود تھے ۔ اسی طرح وہ حضرات جنہوں نے ان کی موافقت کرتے ہوئے چار اقرار بتلائے ( وہ تمام اقراروں میں موجود تھے ) ۔
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4763
