Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( باب الإعتراف بالزنا الذي يجب به الحد ما هو ) · حديث 4763

4500 - أن ربيعا المؤذن حدثنا قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا إسرائيل عن سماك بن حرب عن سعيد بن جبير عن بن عباس قال أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم ماعز بن مالك فأعترف مرتين فقال إذهبوا به ثم ردوه فاعترف مرتين حتى اعترف أربعا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم اذهبوا به فارجموه ففي هذا الحديث أنه أقر مرتين ثم ذهبوا به ثم ردوه فأقر مرتين فيجوز أن يكون جابر بن سمرة رضي الله عنه حضر المرتين الآخرتين ولم يحضر ما كان منه قبل ذلك وحضر بن عباس رضي الله عنهما الإقرار كله وكذلك من وافقه على أنه كان أربعا

سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ماعز بن مالک کو لیا گیا۔ تو انہوں نے دو مرتبہ اعتراف زنا کیا ۔ آپ نے فرمایا اس کو لے جاؤ پھر اس کو لوٹاؤ ۔ پس اس نے دو مرتبہ اعتراف کیا یہاں تک کہ اعتراف چار مرتبہ ہو چکا۔ اس روایت میں یہ اعتراف موجود ہے کہ دو مرتبہ اقرار کیا پھر ان کو واپس لے گئے پھر ان کو لوٹایا تو اس نے دو مرتبہ اعتراف کیا پس یہ عین ممکن ہے کہ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ پچھلی دو مرتبہ کے وقت موجود تھے اور اسسے پہلے دو مرتبہ میں موجود نہ تھے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ ہر دو قرار میں موجود تھے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ تمام اقراروں کے وقت موجود تھے ۔ اسی طرح وہ حضرات جنہوں نے ان کی موافقت کرتے ہوئے چار اقرار بتلائے ( وہ تمام اقراروں میں موجود تھے ) ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4763

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( باب الإعتراف بالزنا الذي يجب به الحد ما هو ) · حديث 4764

4501 - حدثنا حسين بن نصر قال سمعت يزيد بن هارون قال أخبرنا حماد بن سلمة عن أبي الزبير عن عبد الرحمن بن هضاض عن أبي هريرة أن ماعز بن مالك زنى فأتى هزالا فأقر له أنه زنى فقال له هزال إيت نبي الله صلى الله عليه و سلم فأخبره قبل أن ينزل فيك قرآن فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إني زنيت فأعرض عنه حتى قال ذلك أربعا فأمر به فرجم

عبدالرحمن بن ہضاض نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ماعز بن مالک نے زنا کیا پھر وہ ہزال کے پاک آئے اور کہنے لگے کہ میں نے زنا کیا ہے حضرت ہزال رضی اللہ عنہ نے کہا تو جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اطلاع دو اس سے پہلے کہ تمہارے متعلق قرآن مجید کی کوئی آیت اترے۔ پس ماعز رضی اللہ عنہ جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا میں نے زنا کیا ۔ آپ ﷺ نے اس سے اعراض کیا۔ یہاں تک کہ اس نے چار مرتبہ اقرار کیا ۔ پھر اپ نے اس کو رجم کا حکم دیا پس ان کو رجم کر دیا گیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عبد الرحمن بن هضاض ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4764

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( باب الإعتراف بالزنا الذي يجب به الحد ما هو ) · حديث 4765

4502 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو اليمان قال أخبرنا شعيب بن أبي حمزة عن الزهري قال أخبرني أبو سلمة وسعيد بن المسيب أن أبا هريرة قال أتى رجل من أسلم رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو في المسجد فناداه فحدثه أنه زنى فأعرض عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم فتنحى لشقه الذي أعرض قبله فأخبره بأنه زنى وشهد على نفسه أربع مرات فدعاه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال هل بك جنون قال لا قال فهل أحصنت قال نعم فأمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يرجم بالمصلى

ابو سلمہ اور وید بن مسیب دونوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک اسلمی آدمی جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس حال میں آیا کہ اپ مسجد میں تشریف فرما تھے اور اس نے بیان کیا کہ اس نے زنا کیا ہے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس سے اعراض کیا وہ اسی جانب گیا جس طرف اپ نے منہ پھیرا تھا۔ اس نے پھر بتلایا کہ اس نے زنا کیا ہے اور اس نے اپنے متعلق چار مرتبہ گواہی دی ۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو بلا کر فرمایا کیا تو مجنون ہے ؟ اس نے جواب دیا نہیں ۔ آپ نے فرمایا کیا تو شادی شدہ ہے ؟ ان نے کہا جی ہاں ۔ پس آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کو عید گاہ میں سنگسار کیا جائے ۔

أَبُو سَلَمَةَ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4765

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( باب الإعتراف بالزنا الذي يجب به الحد ما هو ) · حديث 4766

4503 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا أبو نعيم قال ثنا بشير بن المهاجر الغنوي قال حدثني عبد الله بن بريرة عن أبيه قال كنت جالسا عند النبي صلى الله عليه و سلم فأتاه رجل يقال له ماعز بن مالك فقال يا نبي الله إني قد زنيت وإني أريد أن تطهرني فقال له ارجع فلما كان من الغد أتاه أيضا فاعترف عنده بالزنا فقال له النبي صلى الله عليه و سلم ارجع ثم أرسل النبي صلى الله عليه و سلم إلى قومه فسألهم عنه فقال ما تقولون في ماعز بن مالك هل ترون به بأسا أو تنكرون من عقله شيئا فقالوا يا رسول الله ما نرى به بأسا وما ننكر من عقله شيئا ثم عاد إلى النبي صلى الله عليه و سلم الثالثة فاعترف أيضا عنده بالزنا فقال يا رسول الله طهرني فأرسل النبي صلى الله عليه و سلم إلى قومه فسألهم عنه فقالوا له كما قالوا في المرة الأولى ما نرى به بأسا وما ننكر من عقله شيئا ثم رجع إلى النبي صلى الله عليه و سلم الرابعة فاعترف عنده بالزنا فأمر به النبي صلى الله عليه و سلم فحفرت له حفرة فجعل فيها إلى صدره ثم أمر الناس أن يرجموه قال بريدة كنا نتحدث بيننا أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أن ماعز بن مالك لو جلس في رحله بعد إعترافه ثلاث مرات لم يطلبه وإنما رجمه عند الرابعة فلما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يرجمه بإقراره مرة ولا مرتين ولا ثلاثا دل ذلك أن الحد لم يكن وجب عليه بذلك الإقرار ثم رجمه رسول الله صلى الله عليه و سلم بإقراره في المرة الرابعة فثبت بذلك أن الإقرار بالزنا الذي يوجب الحد على المقر هو إقراره به أربع مرات فمن أقر كذلك حد ومن أقر أقل من ذلك لم يحد وقد ذكر هذا المعنى ما رويناه عن بريدة مما كان يقوله هو وأصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم سواه في ذلك مما قد ذكرنا في حديث فهد عن أبي نعيم عن بشر بن المهاجر وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد عمل بذلك علي رضي الله عنه في شراحة فردها أربع مرات

عبداللہ بن بریدہ نے نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں جناب نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں بیٹا تھا تو ان کے پاس ایک آدی آیا جس کو ماعز بن مالک کہا جاتا تھا۔ اس نے کہا اے اللہ کے نبی ! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کریں آپ نے فرمایا لوٹ جاؤ۔ جب اگلا دن ہوا تو وہ پھر آیا اور آپ کے پاس زناکا اعتراف کیا۔ اس پر نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا تم لوٹ جا۔ پھر جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کی قوم کے پاس پیغام بھیج کر اس کے متعلق احوال دریافت فرمائے ۔ تمہارا معز بن مالک کے متعلق کیا خیال ہے؟ کیا تم اس میں کوئی تکلیف پاتے ہو یا اس کی عقل میں خرابی محسوس کرتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا یارسول اللہ ﷺ ہم اس سے کسی تکلیف میں نہیں دیکھتے اور نہ اس کی عقل میں خرابی پاتے ہیں۔ جب جناب نبی اکرم ﷺ نے اس کے ایک مربتہ اقرار سے اس کو سنگسارنہیں کیا اور نہ ہی دو اور تین مرتبہ اقرار سے سنگسار کیا تو اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ تین مرتبہ اقرار سے اس پر حد واجب نہ ہوتی تھی۔ پھر اس کے چوتھی مرتبہ اقرار پر اس کو سنگسار کر دیا۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی۔ کہ ایسا اقرار بالزنا جو حد کو واجب کرتا ہے وہ چار مرتبہ کا اقرار ہے۔ پس جو اسی طرح اقرار کرے گا ۔ اس کو حد لگائی جائے گی اور جو اس سے کم مرتبہ اقرار کرے گا اس پر نہ لگے گی اور یہ بات حضرت بریدہ اور اصحاب رسول اللہ ﷺ کی زبان سے ہم روایت 4766 فہد عن ابی نعیم عن بشر بن مہا جر میں ذکر کر آئے ہیں۔ یہی قول امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی شراحہ نامی عورت کے سلسلہ میں اس پرعمل کیا جیسا کہ ہم نقل کرائے کہ آپ نے اس کو چار مرتبہ لوٹا دیا۔

أَبِيهِ ← عبد الله بن بريرة ← بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الْغَنَوِيُّ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4766

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 4 باب الرجل يزني بجارية امرأته ) · حديث 4767

4504 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا بكر بن بكار قال ثنا شعبة عن قتادة عن الحسن عن جون بن قتادة عن سلمة بن المحبق كالمحدث صحابي أن رجلا زنا بجارية امرأته فقال النبي صلى الله عليه و سلم إن كان استكرهها فهي حرة وعليها مثلها وإن كانت طاوعته فعليه مثلها

قتادہ نے سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ۔ کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس شخص نے اس کو مجبور کیا تھا تو وہ آزاد ہے اور بیوی اس کی مثل لونڈی دینی پڑے گی اور اگر اس کی رضا مندی شامل تھی تو اس مرد پر اس کی مثل لونڈی بیوی کو دینا پڑے گی ( اور لونڈی خاوند کی ہو جائے گی۔ )

سلمة بن المحبق كالمحدث صحابي أن رجلا زنا بجارية امرأته ← جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ، ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← بكر بن بكار ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4767

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 4 باب الرجل يزني بجارية امرأته ) · حديث 4768

4505 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا القاسم بن سلام بن مسكين قال حدثني أبي قال سألت الحسن عن الرجل يقع بجارية امرأته فقال حدثني قبيصة بن حريث الأنصاري عن سلمة بن المحبق عن النبي صلى الله عليه و سلم فذكر مثله وزاد ولم يقم عليه حدا قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا وقالوا هذا الحكم فيمن زنا بجارية امرأته على ما في حديث سلمة هذا وقالوا قد عمل بذلك عبد الله بن مسعود رضي الله عنه بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم وذكروا في ذلك ما

قاسم بن سلام کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے بیان کیا کہ میں نے حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا جو شخص اپنی بیوی کو لونڈی سے زنا کرے اس کا کیا حکم ہے ۔ انہوں نے کہا مجھے قبیصہ بن حریث انصاری نے سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے اور اس میں ولم یقم علیہ حدا کہ اس پر اپ نے حد نہیں لگائی کے الفاظ زائد ہیں ۔ طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کا قول کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں کہ جو شخص اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کرے اس کا حکم یہی ہے جو روایت سلمہ میں موجود ہے اور اس حکم پر جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے عمل کیا۔

هذا الحكم فيمن زنا بجارية امرأته على ما في حديث سلمة هذا ← أبو جعفر فذهب قوم الى هذا ← مثله وزاد ولم يقم عليه حدا ← النبي صلى الله عليه و سلم ← سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ، ← قبيصة بن حريث الأنصاري ← الرجل يقع بجارية امرأته ← سَأَلْتُ الْحَسَنَ ← أَبِي ← القاسم بن سلام بن مسكين ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4768

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 4 باب الرجل يزني بجارية امرأته ) · حديث 4769

4506 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال أخبرنا وهب عن شعبة عن منصور عن عمه بن حيان أن رجلا أتى عبد الله بن مسعود فقال إني زنيت فقال كيف صنعت قال وقعت على جارية امرأتي فقال عبد الله بن مسعود الله أكبر إن كنت استكرهتها فأعتقها وإن كانت طاوعتك فأعتق وعليك مثلها وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل نرى عليه الرجم إن كان محصنا والجلد إن كان غير محصن وكان ما ذهبوا إليه في ذلك من الآثار المروية عن النبي صلى الله عليه و سلم ما

منصور نے اپنے چچا ابن حیان سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا میں نے زنا کیا ہے تو انہوں نے پوچھا تو نے کیسے کیا ہے ؟ اس نے کہا میں نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر بلند آواز سے کہا اور فرمایا اگر تو نے اس کو مجبور کیا تو اس کو آزاد کر دو اور اگر اس نے اپنی مرضی سے کروایا ہے تو اس کو آزاد کر دو تم پر اس کی مثل ہے یعنی لونڈی اپنی بیوی کو دینی پڑے گی ۔ دوسروں نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا اگر وہ شادی شدہ ہے تو اس پر رجم آئے گا اور اگر غیر شادی شدہ ہو تو کوڑے لگیں گے اور انہوں نے مندرجہ ذیل آثار سے استدلال کیا ہے ۔

وقعت على جارية امرأتي ← كَيْفَ صَنَعْتَ؟ ← إِنِّي زَنَيْتُ. ← عمه بن حيان أن رجلا أتى عبد الله بن مسعود ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4769

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 4 باب الرجل يزني بجارية امرأته ) · حديث 4770

4507 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا هشيم بن بشير عن أبي بشر عن حبيب بن سالم أن رجلا وقع بجارية امرأته فأتت امرأته النعمان بن بشير فأخبرته فقال أما إن عندي في ذلك خبرا ثابتا أخذته عن رسول الله صلى الله عليه و سلم إن كنت أذنت له جلدته مائة وإن كنت لم تأذني له رجمته

ابو بشیر نے حبیب بن سالم سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے انا کیا تو اس کی بیوی حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئی اور ان کو اطلاع دی تو انہوں نے فرمایا ۔ سنو! میرے پاس اس کے متعلق روایت موجود ہے جو میں نے خود جناب رسول اللہ ﷺ سے حاصل کی ہے ۔ اگر تم نے اس کو اجازت دی تھی تو میں اس کو سو کوڑے ماروں گا اور اگر تم نے اسے اجازت نہیں دی تھی تو میں اس کو سنگسار کروں گا۔

أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4770

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 4 باب الرجل يزني بجارية امرأته ) · حديث 4771

4508 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا أبو عمر الحوضي قال ثنا همام قال سئل قتادة عن رجل وطئ جارية امرأته فحدثنا عن حبيب بن يساف عن حبيب بن سالم أنها رفعت إلى النعمان بن بشير فقال لأقضين فيها بقضاء رسول الله صلى الله عليه و سلم إن كانت أحلتها له جلدته مائة وإن لم تكن أحلتها له رجمته ففي هذا الحديث خلاف ما في الحديث الأول لأن فيه أنها إن لم تكن أذنت له رجم وأما قوله وإن كنت أذنت له جلدناه مائة فتلك المائة عندنا تعزير كأنه درء عنه الحد بوطئه بالشبهة وعزره بركوبه ما لا يحل له فإن قال قائل أفيجوز التعزير بمائة قيل له نعم قد عزر رسول الله صلى الله عليه و سلم بمائة في حديث قد ذكرناه عنه في رجل قتل عبده متعمدا في باب حد البكر في هذا الكتاب فهذا الذي ذكر النعمان عندنا ناسخ لما رواه سلمة بن المحبق وذلك أن الحكم كان في أول الإسلام يوجب عقوبات بأفعال في أموال ويوجب عقوبات في أبدان باستهلاك أموال من ذلك ما قد ذكرناه في باب تحريم الصدقة على بني هاشم من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم في مانع الزكاة إنا آخذوها منه وشطر ماله عقوبة له لما قد صنع ومن ذلك ما

قتادہ سے دریافت کیا گیا کہ جو شخص اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کرے اس کا کیا حکم ہے تو انہوں نے یہ روایت بیان کی کہ ہمیں حبیب بن یساف نے حبیب بن سالم سے روایت کی ہے کہ وہ عورت اپنا مقدم نعمان بن بشیر کی خدمت میں لے گئی تو انہوں نے فرمایا۔ میں اس کے متعلق وہی فیصلہ کروں گا جو جناب رسول اللہ ﷺ نے کیا۔ اگر اس عورت نے اس کو خاوند کے لئے حلال کر دیا تھاتو میں اس کو سو کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اس کے لئے حلال نہیں کیا تو میں اس کو سنگسار کروں گا۔ اس روایت میں پہلی روایت کے خلاف ہے کیونکہ اس میں مذکور ہے اگر اس نے اس کو اجازت نہیں دی تو رجم کیا جائے گا۔ اس روایت میں پہلی روایت کے خلاف ہے کیونکہ اس میں مذکور ہے اگر اس نے اس کو اجازت نہیں دی تو رجم کیا جائے گا اور وہاں یہ قول (وان كنت اذنت لہ جلد ناه مائة) یہ سو کوڑے ہمارے ہاں تعزیر ہے۔ گویا انہوں نے اس سے وطی بالشبہ کے سبب حد سے اس کو بچانے کی کوشش کی کہ شبہہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے اور حرام جگہ سواری کی وجہ سے اس کو سزا دی۔ اگر کوئی اعتراض کرے کہ کیا سو کوڑے بطور تعزیر لگائے جاسکتے ہیں (جبکہ تعزیر حد سے کم ہوتی ہے ) تو اس کو کہا جائے گا جی ہاں! سوکوڑے بطور تعزیر درست ہیں اس لئے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے سو کوڑے بطورتعزیر لگوائے جیسا کہ اس روایت میں موجود ہے کہ جس نے اپنے غلام کو جان بوجھ کر قتل کر دیا تھا ( باب حد البكر. طحاوی) یہ روایت جس کو نعمان رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا ہے وہ سلمہ بنت محبق رضی اللہ عنہ کی روایت کی ناسخ ہے (عندنا) اس کی وجہ یہ ہے کہ ابتداء اسلام میں بعض گناہوں کی مالی سزاواجب ہوتی تھی اور مال کو تباہ کرنے کی صورت میں جسمانی سزا لازم ہوتی تھی۔ باب تحریم الصدقۃ علی بن باشم میں زکوٰۃ نہ دینے والے کے متعلق جناب رسول اللہ ﷺ کا قول میں اس سے زکوٰۃ لوں گا اور اس کے مال کا ایک حصہ بطورسز اس سے لیا جائے گا۔

حبيب بن سالم أنها رفعت إلى النعمان بن بشير ← حَبيب بن يساف ← رجل وطئ جارية امرأته ← سُئِلَ قَتَادَةُ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4771

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 4 باب الرجل يزني بجارية امرأته ) · حديث 4772

4509 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا نعيم عن بن ثور عن معمر عن عمرو بن مسلم عن عكرمة أحسبه عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال في ضالة الإبل المكتومة غرامتها ومثلها معها

معمر نے عمرو بن مسلم سے انہوں نے عکرمہ سے میرا خیال ہے کہ انہوں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے ۔ گم شدہ اونٹ جس کو چھپا لیا جائے تو اس کا تاوان بھی ادا کرنا پڑے گا اور اس کے ساتھ مزید اس کی مثل بھی دینا پڑے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عِکْرِمَةَ أَحْسَبُهُ ← عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ← مَعْمَرٌ، ← بن ثور ← نُعَيْمٌ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4772

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 4 باب الرجل يزني بجارية امرأته ) · حديث 4773

4510 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث وهشام عن سعيد عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عبد الله بن عمرو بن العاص أن رجلا من مزينة أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله كيف ترى في حريسة الجبل فقال ليس في شيء من الماشية قطع إلا ما أواه المراح فبلغ ثمنه ثمن المجن ففيه قطع اليد وما لم يبلغ ثمن المجن ففيه غرامة مثليه وجلدات نكال قال يا رسول الله كيف ترى في الثمر المعلق قال هو ومثله معه والنكال وليس في شيء من الثمر المعلق قطع إلا ما أواه الجرين فما أخذ من الجرين فبلغ ثمنه ثمن المجن ففيه القطع وما لم يبلغ ثمن المجن ففيه غرامة مثليه وجلدات نكال فكانت العقوبات جارية فيما ذكر في هذه الآثار على ما ذكر فيها حتى نسخ ذلك بتحريم الربا فعاد الأمر إلى أن لا يؤخذ ممن أخذ شيئا إلا مثل ما أخذ وإن العقوبات لا تجب في الأموال بانتهاك الحرمات التي هي غير أموال فحديث سلمة عندنا كان في الوقت الأول فكان الحكم على من زنا بجارية امرأته مستكرها لها عليه أن تعتق عقوبة له في فعله ويغرم مثلها لامراته وإن كانت طاوعته ألزمها جارية زانية وألزمه مكانها جارية طاهرة ولم تعتق هي بطواعيتها إياه وفرق في ذلك بينما إذا كانت مطاوعة له وبينما إذا كانت مستكرهة ثم نسخ ذلك فردت الأمور إلى أن لا يعاقب أحد بانتهاك حرمة لم يأخذ فيها مالا بأن يغرم مالا ووجبت عليه العقوبة التي أوجب الله على سائر الزناة فثبت بما ذكرنا ما روى النعمان ونسخ ما روى سلمة بن المحبق وأما ما ذكروا من فعل عبد الله بن مسعود رضي الله عنه ومذهبه في ذلك إلى مثل ما روى سلمة فقد خالفه فيه غيره من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم

عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جده عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ قبیلہ مزینہ کا ایک آدمی جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگایا رسول اللہ ﷺ پہاڑ میں محفوظ جانور چرانے کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا باڑے میں محفوظ جانور چرانے کے علاوہ اور کسی جانور کی وجہ سے ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے اور اس کے لئے بھی شرط یہ ہے کہ اس کی قیمت ڈھال کے برابر ہو توہاتھ کاٹے جائیں گے اور اگر ڈھال کے برابر نہ ہو تو اس میں دو مثل چٹی اور عبرت کے لئے کوڑے۔ اس نے سوال کیایارسول اللہ ﷺ لٹکے ہوئے پھل کا کیا حکم ہے آپ نے فرمایاده اور اس کے ساتھ اس کی مثل بھی (دینی پڑے گی ) اور سزا بھی ہوگی۔ البتہ لٹکے ہوئے پھلوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ مگر وہ پھل جس کو سٹور میں رکھا جائے۔ پس جو پھل اس محفوظ مقام سے لیا جائے اگر اس کی قیمت ڈھال کو پہنچ جائے تو اس میں ہاتھ کاٹنا ہے اور اگر ڈھال کی قیمت کو نہ پہنچے تو اس میں دو گنا تاوان اور بطور سزا کوڑے مارنا ہے۔ ان روایات کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سزائیں جاری رہیں۔ جب اللہ تعالی کی طرف سے سودکی حرمت کا علم ہواتو (جرمانے دوگنا) والی سزائیں منسوخ ہو گئیں اور حکم اس بات کی طرف لوٹ گیا کہ جس نے کوئی چوری کی ہے اس سے جس قدرلی ہے اس کی مثل واپس کرے اور غیر مالی خرمات کو توڑنے میں مالی تاوان نہ ہو گا۔ پس ہمارے نزدیک حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت ابتدائی زمانہ سے تعلق ہے۔ کہ اس زمانے میں جوشخص اپنی بیوی کی لونڈی کو مجبور کر کے اس سے زنا کرتا تو اس پر بطور سزا لازم تھا کہ وہ اس لونڈی کو آزاد کرے اور اپنی بیوی کو اسی جیسی لونڈی بطور تاوان دے اور اگر اس عورت کی مرضی ہوتی تو پھر (قاضی ) زانیہ لونڈی اس کی مالکہ کے حوالے کر دیتا اور اس کی جگہ خاوند پر ایک پاکیزه لونڈی لازم کر دیتا اور وہ لونڈی اس مرد کی بات ماننے کی وجہ آزادنہ ہوتی اور اس سلسلے میں ان دونوں کے حکم میں فرق ہوتا۔ اگر اس لونڈی کی مرضی شامل ہوتی (تو آزاد نہ ہوتی ) اور اگر وہ ناپسند کرتی تو (آزاد ہو جاتی) پھر حکم منسوخ ہو گیا اور بات اس طرف لوٹ گئی کہ ایسی حرمت کوتوڑنے پر جس میں اس نے مالی نقصان نہیں کیا مالی تاوان کے ساتھ سزا نہ دی جائے اور اس پر صرف وہی سزا لازم و جو الله تعالی نے تمام زنا کاروں پر واجب کی ہے تو جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے اس سے حضرت نعمان رضی اللہ عنہ والی روایت ثابت ہوگئی اور حضرت سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ والی روایت کی تنسیخ ثابت ہوئی اور رہی وہ روایت جس میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے فعل کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرح ہے اس سلسلے میں دیگر صحابہ کرام نے ان کی مخالفت کی ہے۔

أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← سَعِيدٌ، ← عمرو بن الحارث وهشام ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4773

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 4 باب الرجل يزني بجارية امرأته ) · حديث 4774

4511 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن السلمي قال كان علي بن أبي طالب يقول لا أوتى برجل وقع على جارية امرأته إلا رجمته

ابو عبدالرحمن سلمی کہتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے جو شخص میرے پاس اس حالت میں لایا گیا کہ اس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا ہو گا تو میں اس کو رجم کروں گا۔

لا أوتى برجل وقع على جارية امرأته إلا رجمته ← كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4774

chevron_left Previous
1…524525526…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter