شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 2 باب حد الزاني المحصن ما هو ) · حديث 4751
4488 - حدثنا محمد بن حميد قال ثنا علي بن معبد قال ثنا موسى بن أعين عن مسلم الأعور عن حبة العوفي عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال أتته شراحة فأقرت عنده أنها زنت فقال لها علي فلعلك غضبت نفسك قالت أتيت طائعة غير مكرهة قال فأخرها حتى ولدت وفطمت ولدها ثم جلدها الحد بإقرارها ثم دفنها في الرحبة أي الفضاء الواسع إلى منكبها ثم رماها هو أول الناس ثم قال إرموا ثم قال جلدتها بكتاب الله تعالى ورجمتها بسنة محمد صلى الله عليه و سلم
حبہ عوفی نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ شراحہ نامی عورت آ پ کی خدمت میں آئی اور اس نے آپ کے سامنے اقرار کیا کہ اس نے زنا کیا ہے ۔ تو اس کو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ شاید تو غصہ سے آئی ہو۔ وہ کہنے لگی میں خود اپنی مرضی سے آئی ہوں ۔ مجھے کسی نے مجبور نہیں کیا ۔ پس آ پنے اس کی سزا کو موخر فرمایا یہاں تک کہ اس نے بچہ جنا اور اس کا دودھ چھڑیا پھر اس کے اقرار پر اس کو کوڑے لگائے پھر وسیع جگہ میں کندھوں تک گڑھا کھود کر دبا دیا پھر لوگوں میں سب سے پہلے آپ نے اس کو پتھر مارا پھر فرمایا اس کو سنگسار کرو۔ پھر فرمایا میں نے اس کو کتاب اللہ کے حکم سے کوڑے لگائے اور جناب رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے رجم کیا ہے ۔
أتته شراحة فأقرت عنده ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← حبة العوفي ← مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4751
