شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 3 باب الانتباذ في الدباء والحنتم والنقير والمزفت ) · حديث 6411
6070 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد بن سلمة عن حماد بن أبي سليمان قال دخلت على أنس بن مالك بواسط القصب فرأيت نبيذه في جرة خضراء ينبذ له فيها فهذا أنس بن مالك ينبذ في الظروف وهو أحد من روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم النهي عن الانتباذ فيها فدل على ثبوت نسخ ذلك
حماد بن ابی سلیمان کہتے ہیں کہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں واسط قصب ( یہ کوفہ و بصرہ کے درمیان جگہ کا نام ہے ، عینی ) کے مقام پر حاضر ہوا ۔ پس میں نے سبز رنگ کے گھڑے میں ان کا نبیذ دیکھا جو کہ ان کے لئے اسی میں تیار کیا جاتا تھا۔ یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ہیں جو کہ چار برتنوں میں نبیذ بنانے کی ممانعت نقل کرتے ہیں مگر یہاں ان کا عمل اس کے خلاف ظاہر کرتا ہے کہ وہ حکم منسوخ ہو چکا تھا۔
حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6411
