Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5835

5520 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عمر قال أخبرنا أبو عوانة عن منصور قال كان إبراهيم يكره كراء الأرض بالثلث والربع

منصور کہتے ہیں کہ ابراہیم زمین کو تہائی یا چوتھائی کے عوض کرایہ پر دینا ناپسند کرتےتھے۔

كان إبراهيم يكره كراء الأرض بالثلث والربع ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو عُمَرَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5835

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5836

5521 - حدثنا أبو بكرة قال أخبرنا حماد بن سلمة عن قتادة عن الحسن مثله

قتادہ نے حسن بصری سے بھی اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

الْحَسَنِ مِثْلَهُ ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5836

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5837

5522 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عمر قال أخبرنا أبو عوانة عن منصور بن المعتمر عن سعيد بن جبير مثله

منصوربن معمر نے سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مِثْلَهُ. ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو عُمَرَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5837

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5838

5523 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عمر قال أخبرنا جماد عن قيس بن سعد أخبرهم عن عطاء مثله

حماد نے قیس بن سعد نے عطاء رحمۃ اللہ علیہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

عَطَاءٍ مِثْلَهُ ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← جماد ← أَبُو عُمَرَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5838

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5839

5524 - حدثنا ربيع بن سليمان المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا حماد بن سلمة حميد الطويل ويونس بن عبيد عن الحسن أنه كان يكره أن يكرى الرجل الأرض من أخيه بالثلث والربع فأما وجه هذا الباب من طريق النظر فإن ذلك كما قد قاله أهل المقالة الأولى إن ذلك لا يجوز في المزارعة والمعاملة والمساقاة إلا بالدراهم والدنانير والعروض وذلك أن الذين قد أجازوا المساقاة في ذلك زعموا أنهم قد شبهوها بالمضاربة وهي المال يدفعه الرجل إلى الرجل على أن يعمل به على النصف أو الثلث أو الربع فكل قد أجمع على جواز ذلك وقام ذلك مقام الاستيجار بالمال المعلوم قالوا فكذلك المساقاة تقوم النخل المدفوعة مقام رأس المال في المضاربة ويكون الحادث عنها من التمر مثل الحادث عن المال من الربح [ ص 116 ] فكانت حجتنا عليهم في ذلك أن المضاربة إنما يثبت فيها الربح بعد سلامة رأس المال ووصوله إلى يدي رب المال ولم ير المزارعة ولا المساقاة فعل ذلك فيهما ألا ترى أن المساقاة في قول من يجيزها لو أثمرت النخل فجر عنها الثمر ثم احترقت النخل وسلم الثمر كان ذلك الثمر بين رب النخل والمساقي على ما اشترطا فيها ولم يمنع من ذلك عدم النخل المدفوعة كما يمنع عدم رأس المال في المضاربة من الربح وكانت المساقاة والمزارعة إذا عقدتا لا إلى وقت معلوم كانتا فاسدتين ولا تجوزان إلا إلى وقت معلوم وكانت المضاربة تجوز لا إلى وقت معلوم وكان المضارب له أن يمتنع بعد أخذه المال مضاربة من العمل بذلك متى أحب ولا يجير على ذلك وقد كان لرب المال أيضا أن يأخذ المال من يده متى أحب شاء ذلك المضارب أو أبى وليست المساقاة ولا المزارعة كذلك لأنا رأينا المساقي إذا أبي العمل بعد وقوع عقد المساقاة أجبر على ذلك وإن أراد رب النخل أخذها منه ونقض المساقاة لم يكن ذلك له حتى تنقضي المدة التي قد تعاقد عليها فكان عقد المضاربة عقدا لا يوجب إلزام واحد من رب المال ولا من المضارب وإنما يعمل المضارب بذلك المال ما كان هو ورب المال متفقين على ذلك وكانت المساقاة يجبر على الوفاء بما يوجبه عقدها كل واحد من رب النخل ومن المساقي وأشبهت المضاربة الشركة فيما ذكرنا وأشبهت المساقاة الإجارة فيما قد وصفنا ثم إنا قد رجعنا إلى حكم الإجارة كيف لنعلم بذلك كيف حكم المساقاة التي قد أشبهتها من حيث ما وصفنا فرأينا الإجارات تقع على وجوه مختلفة فمنها إجارات على بلوغ مساقاة معلومة بأجر معلوم فهي جائزة وهذا وجه من الإجارات ومنها ما يقع على عمل معلوم مثل خياطة هذا القميص وما أشبه ذلك بأجر معلوم فيكون ذلك أيضا جائزا ومنها ما يقع على مدة معلومة كالرجل يستأجر الرجل على أن يخدمه شهرا بأجر معلوم فذلك جائز أيضا فاحتيج في الإجارت كلها إلى الوقوف على ما قد وقع عليها منها العقد فلم يجز في جميع ذلك إلا على شيء معلوم إما مساقاة معلومة وإما عمل معلوم وإما أيام معلومة وقد كانت هذه الأشياء المعلومة في نفسها لا يجوز أن يكون أبدالها مجهولة بل قد جعل حكم أبدالها كحكمها فأحتيج أن تكون معلومة كما أن الذي هو بدل من ذلك يحتاج أن يكون معلوما وقد كانت المضاربة تقع على عمل بالمال غير معلوم ولا إلى وقت معلوم فكان العمل فيها مجهولا والبدل من ذلك مجهول فقد ثبت في هذه الأشياء التي وصفنا من الإجارات والمضاربات أن حكم كل واحد منها حكم بدله فما كان بدله معلوما فلا يجوز أن يكون في نفسه إلا معلوما وما كان في نفسه غير معلوم فجائز أن يكون بدله غير معلوم ثم رأينا المساقاة والمزارعة والمعاملة لا يجوز واحدة منها إلا إلى وقت معلوم في شيء معلوم فالنظر على ذلك أن لا يجوز البدل منها إلا معلوما وأن يكون حكمها كحكم البدل منها كما كان حكم الأشياء التي ذكرنا من الإجارات والمضاربات حكم أبدالها فقد ثبت بالنظر الصحيح أن لا تجوز المساقاة ولا المزارعة إلا بالدراهم والدنانير وما أشبههما من العروض وهذا كله قول أبي حنيفة رضي الله عنه في هذا الباب وأما أبو يوسف ومحمد بن الحسن رحمهما الله فإنهما قد ذهبا إلى جوازهما جميعا وتركا النظر في ذلك واتبعا ما قد روينا في هذا الباب من الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وعن أصحابه بعده وقلداها في ذلك

حمید اطویل اور یونس بن عبید دونوں نے حسن رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا کہ وہ زمین کی آمدنی میں سے ثلث یا ربع پر زمین کو کرایہ پر دینا ناپسند کرتے تھے قیاس کے طریقہ سے اس باب کا حکم فریق اول کے مطابق بنتا ہے کہ مزارعت معاملہ مساقات صرف سونا چاندی اور سامان کے بدلے درست ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنہوں نے اس صورت میں مساقات کی اجازت دی ہے ۔ تو ان کے خیال میں یہ مضاربت کے مشابہہ ہے اور وہ مال ہے جس کو ایک شخص دوسرے آدمی کو دے کر وہ نصف یا تہائی یا چوتھائی پر کام کرے اور اس کے جواز پر سب کا اتفاق ہے اور یہ بات بھی ہے کہ معلوم مال کے بدلے اجارہ کے قائم مقام ہوجائے گا اور مساقات میں بھی یہی ہے خود درخت دیے گئے وہ مال مضاربت کی طرح ہو جائیں گے اور ان پر لگنے والی کھجور یں مال سے حاصل ہونے والے نفع کی طرح ہوں گی ۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ مضاربت میں نفع اس وقت ثابت ہوتا ہے جب کہ اصلمال صحیح سالم مالک کو ملے اور مزارعت و مساقات میں ایسا نہیں کیا جاتا ۔ ذرا غور فرمائیں کہ مساقات کو جو لوگ جائز کہتے ہیں ان کے ہاں درخت اگر پھل لائے پھر اسے اس سے الگ کر لیا جائے پھر درخت جل جائے او پھل بچ جائے تو پھل درخت کے مالک اور مساقات کرنے والے کے درمیان اس انداز سے تقسیم ہو گا جو ان کے مابین سے ہے درختون کا معدوم ہو جانا اس سلسلہ میں رکاوٹ نہ بنے گا جیسا کہ اصل مال کا معدوم ہونا نفع کے لیے مانع بن جاتا ہے اور مساقات و مزارعت غیر معلوم وقت تک ہوں تو ان کا مقابلہ فاسد ہے جب تک مدت معلوم نہ ہو یہ جائز نہیں جبکہ مضاربت غیر معینہ مدت کے لیے جائز ہوتی ہے اور مضارب کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ مضاربت کے طور پر مال لینے کے بعد کام کرنے سے انکار کر دے اور جب چاہے انکار کر دے اس پر زبردستی نہیں کی جا سکتی ۔ اسی طرح رب المال کو بھی حق حاصل ہے کہ جب چاہے اس سے مال واپس لے خواہ مضارب اس بات کو اہے یا انکار کرے ۔ جبکہ مزارعت اور مساقات کا یہ حکم نہیں ہے ۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر وہ شخص جس کے ساتھ مضاربت کا معاہدہ ہوا ہے معاہدہ مساقات کے بعد کام کرنے سے انکار کر دے تو اس کو اس بات پر مجبور کیا جائے گا اور اگر درختوں کا مالک اس سے واپس لینے اور مساقات کو توڑنے کا ارادہ کرے تو اسے اس کا حق نہیں ہے جب تک کہ مدت مقررہ نہ گزر جائے جس پر ان کے درمیان معاہدہ ہوا ہے تو عقد مضاربت وہ عقد ہے جو رب المال اور مضارب میں سے کسی ایک پر اسے لازم نہیں کرتا مضارب اس مال کے ساتھ اس وقت تک عمل کرتا ہے جب تک کہ وہ اور رب المال اس پر متفق ہوں جب تک مساقات میں عقد کے مطابق عمل کرنے کے لیے درختوں کے مالک اور جس کے ساتھ معاہدہ مساقات ہو ا دووں کو مجبور کیا جاتا ہے پس ہماری بحث کے مطابق مضاربت تو شراکت کے مشابہہ ہے اور مساقات اجارہ کے مشابہہ ہے جیسا کہ ہم بیان کر چکے ۔ اب ہم اجارہ کے حکم کی طرف لوٹتے ہیں کہ وہ کس طرح ہے تاکہ ہم اس سے مساقات کے حکم کی وہ کیفیت معلوم کر سکیں جس میں وہ اس کے مشابہہ ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے ہم نے غور کیا کہ اجارہ کی چند صورتیں ہیں کہ درختوں کی مقررہ مقدار کو مقررہ اجرت پر پانی دیتا ہے یہ جائز ہے یہ بھی اجارہ کی ایک صورت ہے کہ ان میں سے ایک معلوم کام پر اجرت ہے مثلا اس قمیص سلائی کا کام مقررہ اجرت پر ہو یہ جائز ہے ۔ مقررہ مدت پر اجارہ ہو جس طرح کوئی آدمی دوسرے کو ایک ماہ مقررہ خدمت کے لیے مقررہ اجرت پر حاصل کرتا ہے تویہ بھی جائز ہے تو اجاروں کے سلسلہ میں یہ بات معلوم کرنے کی ضرورت ہوئی کہ ان میں سے کس اجارے پر عقد واقع ہوا تو ان تمام صورتوں میں صرف وہ اجارہ جائز ہو گا جو معلوم چیز پر ہو یا تو مساقات معلوم ہو یا عمل معلوم ہو یا دن معلوم ہوں اور یہ تمام باتیں فی ذاتہ معلوم ہیں تو ان کے بدل کا مجہول ہونا جائز نہیں بلکہ ان کے بدل کا حکم ان کے حکم کے طرح ہو گا پس ضروری ہے کہ بدل بھی معلوم ہو جیسا کہ وہ چیز معین اور معلوم ہیں جن کا یہ بدل بن رہی ہیں اور مضاربت غیر معلوم مال کے ساتھ غیر معین وقت تک کام کرنےپر منعقد ہو جاتی ہے پس اس میں کام اور بدل دونوں مجہول ہیں تو جوامور مثلا اجارات اور مضاربت وغیرہ ہم نے ذکر کیے ہیں ان میں سے ہر ایک کا حکم وہی ہے جو اس کے بدل کا ہے تو جس کا بدل معلوم ہو تو وہ بھی ذاتی طور پر معلوم ہی ہونا چاہیے اوروہ جو بذاتہ معلوم نہ ہو بلکہ مجہول ہو تو اس کا بدل بھی غیر معلوم ہو سکتا ہے پھر ہم نے مساقات ، مزارعت اور معاملہ پر غور کیا کہ کوئی بھی ان میں سے جائز نہیں ہو تا جب تک کہ وقت معلوم نہ ہو اور اس کا بدل بھی معلوم نہ ہو ۔ قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا بدل بھی معلوم ہوا ور اس کا حکم وہی ہو جو اس کے مبدل منہ کا ہے جیسا کہ ان مذکورہ امور یعنی اجارات اور مضاربتوں کا حکم ان کے بدل کے مطابق ہے تو صحیح قیاس سے ثابت ہوا کہ مضاربت اور مساقات دراہم اور دینار یا اس کے مشابہہ سامان کے ساتھ درست ہے اس بات میں امام ابو یوسف ، اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہم ان دونوں کے جواز کی طرف گئے ہیں انہوں نے اس سلسلے میں قیاس کو ترک کیا اور اس سلسلے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام سے مروی روایات کی پیروی کی ہے ار ان کو اپنایا ہے ۔ اس باب میں امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے مزارعت و مساقات کی حرمت کے قول کو رد کیا اور اس کا جواز اور شروط کو ثابت کیا ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے عمل سے اس کا جواب اسی طرح ظاہر ہو رہا ہے جیسا کہ روایات سے اور اس خصوصی صورت کی وضاحت کر دی جو جاہلیت میں مروج تھی تابعین کا اختلاف کراہت و عدم کراہت میں نقل کیا اس سے یہ میلان معلوم ہوتا ہے کہ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کا رجحان امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول کی طرف ہے روایاتی دلائل کے لحاظ سے صاحبین رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک راجح ہے ۔ واللہ اعلم ۔

الْحَسَنِ، ← حماد بن سلمة حميد الطويل ويونس بن عبيد ← أسد ← ربيع بن سليمان المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5839

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 1 باب من زرع في أرض قوم بغير إذنهم كيف حكمهم في ذلك وما يروى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك ) · حديث 5840

5525 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا يحيى بن عبد الحميد الحماني قال ثنا شريك عن أبي إسحاق عن عطاء عن رافع بن خديج أنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من زرع زرعا في أرض قوم بغير إذنهم فليس له من الزرع شيء ويرد عليه نفقته في ذلك قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن من زرع في أرض قوم زرعا بغير أمرهم كان ذلك الزرع لأرباب الأرض وغرموا للزارع ما أنفق فيه واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا أصحاب الأرض بالخيار إن شاؤوا خلوا بين الزارع وبين أخذ زرعه ذلك وضمنوه بنقصان أرضهم إن كان زرعه ذلك قد نقص الأرض شيئا وإن شاؤوا منعوا الزارع من ذلك وغرموا له قيمة زرعه ذلك مقلوعا وقد كان لهم من الحجة في ذلك أن هذا الحديث قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم على غير ما ذكروه في ذلك وهو كما قد

عطاء نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی قوم کی اجازت کے بغیر ان کی زمین میں کاشت کی اس کے لیے اس کھیتی میں سے کچھ بھی نہ ہو گا البتہ جو کچھ اس نےخرچ کیا وہ اس کی طرف لوٹا دیا جائے گا ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جس آدمی نے کسی کی زمین کو اس کی اجازت کے بغیر کاشت کر لیا تو وہ کھیتی زمین کے مالک کی ہو گی اور کاشت کار نے جو خرچ کیا مالک اس کا ضامن ہو گا انہوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے ۔ دوسرا فریق کہتا ہے کہ زمین والوں کو اختیار ہے کہ کاشت کا ر کو وہ کھیتی چھوڑ دیں اور زمین کا نقصان اس سے بھریں اگر اس کی کھیتی سے زمین کو نقصان پہنچا ہو اور اگر وہ پسند کریں تو کاشت کار کو اس کھیتی سے روک دیں اور کاٹی ہوئی فصل کے مطابق تاوان بھر دیں انہوں نے بھی اس حدیث کو دوسری اساند سے نقل کر کے دلیل میں پیش کیا ہے ۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّهُ ← عَطَاءٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← يحيى بن عبد الحميد الحماني ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5840

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 1 باب من زرع في أرض قوم بغير إذنهم كيف حكمهم في ذلك وما يروى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك ) · حديث 5841

5526 - حدثنا أحمد بن أبي عمران قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا شريك عن أبي إسحاق عن عطاء عن رافع بن خديج قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من زرع في أرض قوم بغير إذنهم فله نفقته وليس له من الزرع شيء وقد روى هذا الحديث أيضا يحيى بن آدم عن شريك وقيس جميعا عن أبي إسحاق وذكره عنهما في كتاب الخراج كما قد حدثنا بن أبي عمران أيضا لا كما قد حدثنا فهد بن سليمان فمعنى هذا الحديث عندنا غير معنى ما روى الحماني لأن ما قد روى الحماني هو قوله فليس له من الزرع شيء ويرد عليه نفقته في ذلك فوجه ذلك أن غيره يعطيه النفقة التي قد أنفقها في ذلك فيكون له الزرع لا بما يعطى من ذلك وهذا محال عندنا لأن النفقة التي قد أخرجت في ذلك الزرع ليست بقائمة ولا لها بدل قائم وذلك أنها إنما دفعت في أجر عمال وغير ذلك مما قد فعله المزارع له لنفسه فاستحال أن يجب له ذلك على رب الأرض إلا بعوض يتعوضه منه رب الأرض في ذلك ولكن أصل الحديث عندنا والله أعلم إنما هو على ما قد رواه أبو بكر بن أبي شيبة لا على ما قد رواه الحماني في ذلك ووجه ذلك عندنا على أن الزارع لا شيء له في الزرع يأخذه لنفسه فيملكه كما يملك الزرع الذي يزرعه في أرض نفسه أو في أرض غيره ممن قد أباح له الزرع فيها ولكنه يأخذ نفقته وبذره ويتصدق بما بقى هكذا وجه هذا الحديث عندنا في ذلك والله أعلم وقد ذكر ذلك يحيى بن آدم عن حفص بن غياث أيضا ومن الدليل على صحة ذلك أيضا ما قد

احمد بن ابی عمران نےاپنی اسناد سے عطاء سے انہوں نےر افع رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی کی زمین میں بلا اجازت کھیتی کی تو اس کو اس کا خرچہ واپس ملے گا کھیتی میں اس کا کچھ بھی حق نہیں اسی روایت کو یحیٰ بن آدم نے شریک و قیس سے اور دونوں نے ابو اسحاق سے نقل کیا اور یحیٰ نے کتاب الخراج میں اس کو اسی طرح نقل کیا جس طرح ابن ابی عمران رحمۃ اللہ علیہ نے نہ کہ فہد بن سلیمان نے ہمارے ہاں اس کا وہ مفہوم نہیں ہے جو کہ رحمانی نے روایت نمبر8540میں ذکر کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کھیتی میں سے اس کو کچھ نہ ملے گا اور اس کا خرچہ اسے واپس کر دیا جائے گااس کی وجہ یہ ہے کہ مالک اس کو اس کا خرچہ واپس کر گا جو اس نے خرچ کیا اور کھیتی کا وہ مالک بن جائے گا اس کے بدلے نہیں جو اس نے (غاصب ) کو واپس کیا ہے مگر یہ مفہوم ہمارے ہاں محال ہے کیونکہ نمبر 1 وہ خرچہ جو اس کھیتی پر کیا گیا وہ تو موجود نہیں اور نہ اس کا کوئی بدل موجود ہے اور یہ اس لیے کہ خرچہ تو کام کرنے والوں اور اس کے لیے دے دیا گیا جو کاشتکار نے اس پر خرچ کیا پس یہ ناممکن ہے کہ اس کے لیے مالک زمین پر کچھ لازم ہو ۔ مگر اس چیز کے بدلے جو مالک زمین نے اس کے بدلے میں لی ہے ہمارے ہاں اصل حدیث وہ ہے جو ابو بکر بن ابی شیبہ نے روایت کی ہے وہ نہیں جو حمانی نے روایت کی ہے روایت کا اصل مفہوم یہ ہے کہ کاشتکار کو کھیتی میں سے کچھ نہ ملے گا جس کو وہ اپنی ذات کے لیے لے سکے اور اس کا اسی طرح مالک ہو جس طرح اپنی زمین میں کاشت کی ہوئی کھیتی کا بنتا ہے یا دوسرے کی اس زمین میں کاشت کی ہوئی کھیتی کا مالک بنتا ہے جس نے اس کے لیے کاشت کا مباح کیا ہو ۔ لیکن یہاں صرف وہ اپنا بیچ اور خرچہ وصول کرے گا اور بقیہ کو صدقہ کر دے گا ہمارے نزدیک اس کا یہی مفہوم ہے واللہ اعلم ۔ اور اس بات کو یحیٰ بن آدم نے حفص بن غیاث سے بھی نقل کیا ہے اور اس کی درستی پر یہ روایت بھی دلیل ہے ۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← عَطَاءٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أحمد بن أبي عمران

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5841

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 1 باب من زرع في أرض قوم بغير إذنهم كيف حكمهم في ذلك وما يروى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك ) · حديث 5842

5527 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا أبي عن أبي يوسف عن محمد بن إسحاق عن يحيى بن عروة بن الزبير عن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد قال إن من أحيى أرضا ميتة فهي له وليس لعرق ظالم حق قال عروة فلقد حدثني هذا الرجل الذي قد حدثني بهذا الحديث أنه رأى نخلا يقطع أصولها بالفوس وقد

یحییٰ بن عروہ بن زبیر نے ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی بنجرزمین کو آباد کیا وہ اسی کی ہے اور ظالم سردار کا اس میں کوئی حق نہیں ۔ عروہ کہتے ہیں کہ مجھے اس آدمی نے یہ روایت بیان کی جس نے روایت بیان کی کہ اس نے ایسی کھجور کو دیکھا جس کی جڑوں کو کلہاڑوں سے کاٹا جا رہا تھا ( یعنی غیر کی زمین کا شت کر دینے کی وجہ سے )

رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ← يَحْيَی بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي يُوسُفَ ← أَبِي ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5842

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 1 باب من زرع في أرض قوم بغير إذنهم كيف حكمهم في ذلك وما يروى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك ) · حديث 5843

5528 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عمر الضرير قال ثنا حماد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن يحيى بن عروة عن أبيه عن رجل من بني بياضة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بنحو ذلك أيضا أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أمر بقطع النخل المغروس في غير حق بعد ما قد نبت في الأرض ولم يجعله لأرباب الأرض فيوجب عليهم غرم ما أنفق فيه ذلك على أن الزرع المزروع في الأرض أحرى أن يكون كذلك وأن يقلع ذلك فيدفع إلى صاحب الزرع كالنخل التي قد ذكرناها إلا أن يشاء صاحب الأرض أن يمنع من ذلك ويغرم قيمة الزرع والنخل منزوعين مقلوعين فيكون ذلك له وقد دل على ما ذكرناه من ذلك أيضا ما قد

یحییٰ بن عروہ نے اپنے والد سے انہوں نے بنو بیاضہ کے ایک آدمی سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ناحق لگے ہوئے درخت کو اکھاڑنے کا حکم فرمایا جبکہ وہ زمین میں اگ چکا تھا اور اس درخت کو مالک زمین کا قرار نہیں دیا کہ ان پر خرچہ کی چٹی ڈال دی جاتی پس اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ بوئی ہوئی کھیتی اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ اس کو کاٹ ڈالا جائے اور کھیتی لگانے والے کے حوالے کر دی جائے جیسا کہ وہ کھجور جس کا ہم نے تذکرہ کیا البتہ اگر زمین والا اس سے روکے اور کھیتی اور کھجور کی چٹی ادا کرے جو ان کو کاٹے اور اکھاڑے جانے کی حالت میں ہوتی ہے تو یہ چیزیں مالک زمین کی ہو جائیں گی ۔ یہ روایات بھی اس پر دلالت کرتی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم بنحو ذلك أيضا أفلا ترى ← رجل من بنى بياضة. ← أَبِيهِ ← يَحْيَی بْنِ عُرْوَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← اَبُوْ عُمَرَ الضَّرِیْرُ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5843

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 1 باب من زرع في أرض قوم بغير إذنهم كيف حكمهم في ذلك وما يروى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك ) · حديث 5844

5529 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن الأوزاعي عن واصل بن أبي جميل عن مجاهد قال اشترك أربعة نفر على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أحدهم علي البذر وقال الآخر علي العمل وقال الآخر علي الأرض وقال الآخر علي الفدان فزرعوا ثم حصدوا ثم أتوا النبي صلى الله عليه و سلم فجعل الزرع لصاحب البذر وجعل لصاحب العمل أجرا وجعل لصاحب الفدان درهما في كل يوم وألغى الأرض في ذلك أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما أفسد هذه المزارعة لم يجعل الزرع لصاحب الأرض بل قد جعله لصاحب البذر وقد دل على ذلك أيضا ما قد حكم به أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وتابعوهم من بعدهم فيمن بنى في أرض قوم بغير أمرهم بناء

مجاہد رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں چار آدمیوں نے شراکت کی ان میں سے ایک نے بیچ کی بات کی جبکہ دوسرے نے کام کی تیسر ے نے زمین اور چوتھے نے بیلوں کی جوڑی مہیا کرنے کی انہوں نے کاشتکار کی پھر فصل کاٹی پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے کھیتی بیچ والے کو دے دی اور مشقت کرنے والے کو معلوم اجرت دے دی اور بیلوں کی جوڑی والے کر ہر وز کے بدلے ایک درہم دیا اور زمین والے کو لغو قرار دیا ۔ یعنی کچھ نہ دیا کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت کو فاسد قرار دیا اور زمین والے کو کھیتی میں سے کچھ نہیں دیا بلکہ اسے بھیجنے والے کے لیے قرار دیا ۔ اس کے متعلق صحابہ کرام اور تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فیصلے بھی دلالت کرتے ہیں جو انہوں نے ان لوگوں کے متعلق فرمائے جنہوں نے دوسروں کی اجازت کے بغیرناکی زمین پر تعمیرات کی تھیں ۔

الآخر علي الأرض ← الآخر علي العمل ← أحدهم علي البذر ← اشترك أربعة نفر على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ← مُجَاهِدٍ ← وَاصل بن أبي جميل، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5844

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 1 باب من زرع في أرض قوم بغير إذنهم كيف حكمهم في ذلك وما يروى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك ) · حديث 5845

5530 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عمر الضرير قال أخبرنا حماد بن سلمة أن عامر الأحول أخبرهم عن عمرو بن شعيب أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال في رجل بنى في دار بناء ثم جاء أهلها فاستحقوها قال إن كان بنى بأمرهم فله نفقته وإن كان بنى بغير إذنهم فله نقضه وقد

عمروبن شعیب نے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے متعلق فیصلہ فرمایا جس نے دوسروں کی زمین میں مکان تعمیر کر لیا تھا زمین کے مالکوں نے حق طلب کیا تو آپ نے فرمایا اگر اس نے ان کی اجازت سے تعمیر کی ہےتو اس کے لیے خرچہ ہو گا اور اگر ان کی اجازت کے بغیر تعمیر کی ہے تو اس مکان کو توڑنا ہو گا۔

في رجل بنى في دار بناء ثم جاء أهلها فاستحقوها ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← حماد بن سلمة أن عامر الأحول ← اَبُوْ عُمَرَ الضَّرِیْرُ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5845

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 1 باب من زرع في أرض قوم بغير إذنهم كيف حكمهم في ذلك وما يروى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك ) · حديث 5846

5531 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عوانة عن جابر الجعفي عن القاسم بن عبد الرحمن عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه مثله

قاسم بن عبدالرحمن نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت کی ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ مِثْلَہُ۔ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5846

chevron_left Previous
12345…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter