شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 10 باب أكل الضباب ) · حديث 6219
5884 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا بن لهيعة عن أبي الزبير قال سألت جابرا رضي الله عنه عن الضب فقال أتى به رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لا أطعمه وقال عمر رضي الله عنه إن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يحرمه وإن الله لينفع به غير واحد وطعام عامة الرعا ولو كان عندي لأكلته وقد كره قوم أكل الضب منهم أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين واحتج لهم محمد بن الحسن في ذلك بما
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے گوہ کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گوہ پیش کی گئی تو آپ نے فرمایا میں اسے کھاؤں گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو حرام قرار نہیں دیا اور اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو اس سے فائدہ دیتا ہے یہ عام چرواہوں کا کھانا ہے اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں کھا لیتا ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : علماء کی ایک جماعت نے گوہ کھانے کو مکروہ قرار دیا ہے ان میں امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمہم اللہ بھی ہیں ۔ ان کی دلیل : امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے اس طرح پیش کی ہے ۔
عُمَرَ، ← لا أطعمه ← أتى به رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الضَّبِّ ← سَأَلْتُ جَابِرًا ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن لهيعة ← أسد ← ربيع المؤذن
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6219
