شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6195
5861 - حدثنا أحمد بن داود قال أخبرنا إبراهيم بن المنذر الحزامي قال ثنا محمد بن طلحة قال حدثني موسى بن محمد بن إبراهيم بن الحارث بن خالد التيمي ثم ذكر بإسناده مثله ففي هذا الحديث ما يدل على إباحة صيد المدينة ألا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد دل سلمة وهو بها على موضع الصيد وذلك لا يحل بمكة [ ص 196 ] ألا ترى أن رجلا لو دل وهو بمكة رجلا على صيد من صيدها كان آثما فلما كانت المدينة في ذلك ليست كمكة ثبت أن حكم صيدها خلاف حكم صيد مكة وفي هذا الحديث أيضا إباحة صيد العقيق وقد روينا عن سعد في الفصل الأول عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك ما قد روينا ففي هذا ما يخالفه فأما ما في حديث سعد من إباحة سلب الذي يصيد صيد المدينة فإن ذلك عندنا والله أعلم كان في وقت ما كانت العقوبات التي تجب بالمعاصي في الأموال فمن ذلك ما قد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في الزكاة أنه قال من أداها طائعا فله أجرها ومن لا أخذناها منه وشطر ماله وما روى عنه فيمن سرق ثمرا من أكمامه أن عليه غرامة مثليه في نظائر من ذلك كثيرة قد ذكرناها في موضعها من كتابنا هذا ثم نسخ ذلك في وقت نسخ الربا فرد الأشياء المأخوذة إلى أمثالها إن كان لها أمثال وإلى قيمتها إن كان لا مثل لها وجعلت العقوبات في انتهاك الحرم في الأبدان لا في الأموال فهذا وجه ما روي في صيد المدينة وأما حكم ذلك من طريق النظر فإنا رأينا مكة حراما وصيدها وشجرها كذلك هذا ما لا اختلاف بين المسلمين فيه ثم رأينا من أراد دخول مكة لم يكن له أن يدخلها إلا حراما فكان دخول الحرم لا يحل لحلال كانت حرمة صيده وشجره كحرمته في نفسه ثم رأينا المدينة كل قد أجمع أنه لا بأس بدخولها للرجل حلالا فلما لم تكن محرمة في نفسها كان حكم صيدها وشجرها كحكمها في نفسها وكما كان صيد مكة إنما حرم لحرمتها ولم تكن المدينة في نفسها حراما لم يكن صيدها ولا شجرها حراما فثبت بذلك قول من ذهب إلى أن صيد المدينة وشجرها كصيد سائر البلدان وشجرها غير مكة وهذا أيضا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين
محمد بن طلحہ نے موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمی سے روایت کی پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ یہ روایت مدینہ منورہ کے شکار کی اباحت کو ظاہر کرتی ہے ذرا غور فرمائیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے سلمہ رضی اللہ عنہ شکار کی جگہ بتلائی اور وہ مدینہ ہی میں تھی حالانکہ یہ مکہ کے سلسلہ میں حلال نہیں اگر کوئی شخص مکہ میں کسی شکار کے متعلق اشارہ کنایہ سے بھی بتلائے تو وہ گنہگار ہو گا۔ جب شکار کے سلسلہ میں مدینہ منورہ مکہ کی طرح نہیں ۔ مدینہ منورہ میں وادی عقیق کا شکار مباح ہے ۔ باب کے شروع حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی روایات اس کے خلاف ذکر کر چکے ہیں روایت سعد میں شکار کرنے والے کے سامان چھین لینے کو مباح قرار دیا گیا ہے یہ ہمارے نزدیک اس وقت کی بات ہے جب گناہوں پر سزا میں مالی جرمانے درست تھے جیسا کہ یہ روایت بھی اس کا نمونہ ہے کہ زکوٰۃ کے متعلق آپ ﷺ نے فرمایا جس نے خوشی سے اس کو ادا کیا اس کو اجر ملے گا اور جو نہیں ادا کرے گا ہم اس سے زکوٰۃ بھی لیں گے اور اس کے مال کا آدھا حصہ بھی لیں گے اسی طرح یہر وایت کہ جس آدمی نے پھل چھلکے کے اندر چرا لیا ۔ اس پر اس سے دو گنا چٹی لی جائے گی اس کی مثالیں اور بھی بہت ہیں جن کو ہم پیچھے ذکر کر آئے پھر یہ حکم اس وقت منسوخ کیا جبکہ سود منسوخ ہوا اور لی جانے والی اشیاء کو مماثل کی طرف لوٹا گیا گیا جن چیزوں کی مماثل موجود تھیں اور جن کی مثل نہیں تھی ان کی قیمتوں کی طرف لوٹا دیا گیا اور حرمت کی خلاف ورزی کرنے والوں کی سزائیں مالی کے بجائے بدنی مقرر کر دی گئیں مدینہ منورہ کے شکار کے سلسلے میں جس قدر روایات وارد ہوئی ہیں ان کی صورت یہی ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مکہ حرمت والا ہے اور اس کے شکار اور درخت کا بھی یہی حکم ہے اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے پھر ہم نے دیکھا کہ مکہ مکرمہ میں جو آدمی داخل ہونے کا ارادہ کرے وہ احرام کے بغیر داخل نہیں ہو سکتا تو گویا حرم میں احرام کے بغیر داخلہ حلال نہ ہوا تو حرم کے شکار اور درخت کی حرمت بھی مکہ کی ذاتی حرمت کی طرح بن گئی پھر اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ مدینہ منورہ میں داخلے کے لئے احرام کی ضرورت نہیں اور حلال کی حالت میں داخل ہونے میں کوئی گناہ نہیں تو جب اس کی حرمت ذاتی نہ بنی تو اس کے درخت اور شکار کا بھی حرمت میں یہی حکم ہو گا کہ وہ ذاتی اعتبار سے حرام نہ ہوں گے ۔ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ مدینہ منورہ کے شکار اور درختوں کا حکم مکہ مکرمہ کے علاوہ دیگر مقامات کے شکار اور درختوں کی طرح ہوگا یہ بھی امام ابو حنیفہ، ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔
موسى بن محمد بن إبراهيم بن الحارث بن خالد التيمي ثم ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6195
