شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6183
5850 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا إبراهيم بن حمزة الزبيري قال ثنا عبد العزيز أبي حازم عن كثير بن زيد عن الوليد بن رباح عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إن إبراهيم حرم مكة وإني أحرم المدينة بمثل ما حرم قال ونهى النبي صلى الله عليه و سلم أن يعضد شجرها أو يخبط أو يؤخذ طيرها قال أبو جعفر فذهب قوم إلى تحريم صيد المدينة وتحريم شجرها وجعلوها في ذلك كمكة في حرمة صيدها وشجرها وقالوا من فعل من ذلك شيئا في حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم حل سلبه لمن وجده يفعل ذلك واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا أما ما ذكرتموه من تحريم النبي صلى الله عليه و سلم صيد المدينة وشجرها فقد كان فعل ذلك ليس أنه جعله كحرمة صيد مكة ولا كحرمة شجرها ولكنه أراد بذلك بقاء زينة المدينة ليستطيبوها ويألفوها وقد رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم منع من هدم آطام المدينة وقال إنها زينة المدينة
ولید بن رباح نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کو اسی طرح حرم قرار دیتا جس طرح انہوں نے مکہ کو حرم قراردیا اور کہنے لگے جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کے درخت کو کاٹنے اور درختوں کے پتے جھاڑنے یا اس کے پرندوں کو پکڑنے سے منع فرمایا۔ ولید بن رباح نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کو اسی طرح حرم قرار دیتا جس طرح انہوں نے مکہ کوحرم قرار دیا اور کہنے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کے درخت کو کاٹنے اور درختوں کے پتے جھاڑنے یا اس کے پرندوں کو پکڑنے سے منع فرمایا۔ امام طحادی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں بعض لوگوں کا خیال ہے مدینہ میں بھی شکار حرام ہے اور اس کے درخت کا کاٹنا حرام ہے۔ انہوں نے مدینہ منورہ کو بھی شکار اور درخت کے کاٹنے میں مکہ مکرمہ کی طرح قرار دیا اور انہوں نے کہا جو آدمی حرم رسول اللہ ﷺ میں ان میں سے کوئی کام کرے گا تو جو آدمی اس کو پائے اس پر اس سے چھینا ہوا سامان حلال ہے اور انہوں نے ان آثار کو دلیل بنایا ہے۔ فریق ثانی کا کہنا ہے کہ ان روایات میں جس تحریم اشجارو شکارکا ذکر ہے وہ آپ نے فرمایا۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی حرمت مکہ کے شکار اور درختوں کی طرح نہ ہوگی۔ بلکہ اس کا مقصد مد ینہ کی زینت کا بقاء ہے کہ اس سے الفت و محبت کریں ہم نے دیکھا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے ٹیلوں کو گرانے سے روکا اور فرمایایہ مد ینہ کی زینت ہیں۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← عَبْدُ الْعِزیْزِ أَبِيْ حاَزِمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← بن أبي داود
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6183
