Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6183

5850 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا إبراهيم بن حمزة الزبيري قال ثنا عبد العزيز أبي حازم عن كثير بن زيد عن الوليد بن رباح عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إن إبراهيم حرم مكة وإني أحرم المدينة بمثل ما حرم قال ونهى النبي صلى الله عليه و سلم أن يعضد شجرها أو يخبط أو يؤخذ طيرها قال أبو جعفر فذهب قوم إلى تحريم صيد المدينة وتحريم شجرها وجعلوها في ذلك كمكة في حرمة صيدها وشجرها وقالوا من فعل من ذلك شيئا في حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم حل سلبه لمن وجده يفعل ذلك واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا أما ما ذكرتموه من تحريم النبي صلى الله عليه و سلم صيد المدينة وشجرها فقد كان فعل ذلك ليس أنه جعله كحرمة صيد مكة ولا كحرمة شجرها ولكنه أراد بذلك بقاء زينة المدينة ليستطيبوها ويألفوها وقد رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم منع من هدم آطام المدينة وقال إنها زينة المدينة

ولید بن رباح نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کو اسی طرح حرم قرار دیتا جس طرح انہوں نے مکہ کو حرم قراردیا اور کہنے لگے جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کے درخت کو کاٹنے اور درختوں کے پتے جھاڑنے یا اس کے پرندوں کو پکڑنے سے منع فرمایا۔ ولید بن رباح نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کو اسی طرح حرم قرار دیتا جس طرح انہوں نے مکہ کوحرم قرار دیا اور کہنے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کے درخت کو کاٹنے اور درختوں کے پتے جھاڑنے یا اس کے پرندوں کو پکڑنے سے منع فرمایا۔ امام طحادی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں بعض لوگوں کا خیال ہے مدینہ میں بھی شکار حرام ہے اور اس کے درخت کا کاٹنا حرام ہے۔ انہوں نے مدینہ منورہ کو بھی شکار اور درخت کے کاٹنے میں مکہ مکرمہ کی طرح قرار دیا اور انہوں نے کہا جو آدمی حرم رسول اللہ ﷺ میں ان میں سے کوئی کام کرے گا تو جو آدمی اس کو پائے اس پر اس سے چھینا ہوا سامان حلال ہے اور انہوں نے ان آثار کو دلیل بنایا ہے۔ فریق ثانی کا کہنا ہے کہ ان روایات میں جس تحریم اشجارو شکارکا ذکر ہے وہ آپ نے فرمایا۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی حرمت مکہ کے شکار اور درختوں کی طرح نہ ہوگی۔ بلکہ اس کا مقصد مد ینہ کی زینت کا بقاء ہے کہ اس سے الفت و محبت کریں ہم نے دیکھا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے ٹیلوں کو گرانے سے روکا اور فرمایایہ مد ینہ کی زینت ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← عَبْدُ الْعِزیْزِ أَبِيْ حاَزِمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6183

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6184

5851 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا يحيى بن معين قال ثنا وهب بن جرير عن العمري عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن آطام المدينة أن تهدم

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کی گڑھیوں کو گرانے سے روکا۔

آطام المدينة أن تهدم ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← الْعُمَرِيُّ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6184

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6185

5852 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا إسحاق بن محمد الفروي قال ثنا العمري فذكر بإسناده مثله

اسحٰق بن محمد فروی نے عمری سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔

العمري فذكر بإسناده مثله ← إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6185

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6186

5853 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا بن أبي مريم قال أخبرنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي قال حدثني عبد الله بن نافع عن أبيه عن بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا تهدموا الآطام فإنها زينة المدينة

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدینہ کے قلعوں کو گرانے سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا یہ مدینہ کی زینت ہیں۔

بن عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6186

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6187

5854 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا أبو مصعب قال ثنا الدراوردي فذكر بإسناده مثله أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهاهم عن هدم آطام المدينة لأنها زينة لها قالوا فكذلك ما نهاهم عنه من قطع شجرها وقتل صيدها إنما هو لأن ذلك زينة للمدينة فأراد أن يترك لهم فيها زينتها ليألفوها ويطيب لهم بذلك سكناها لا لأنها تكون في ذلك ك مكة في حرمة صيدها ونباتها ووجوب الجزاء على من إنتهك حرمة شيء من ذلك ثم نظرتنا هل نجد عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك دليلا آخر يدلنا على ما ذكرنا

ابو مصعب نے درا وردی سے پھر اس سے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت بیان کی ہے ۔ ذرا غور فرمائیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے قلعوں کو گرانے سے اس لئے روک دیا کہ وہ مدینہ کی زینت ہیں بالکل اسی طرح درخت کاٹنے اور شکار مارنے سے بھی ممانعت کی وجہ اس کا باعث زینت ہونا ہے جب درخت وغیرہ زینت کی چیزیں رہیں گے تو وہاں کے لوگ انس و الفت سے رہیں گے ۔ اس بناء پر نہیں کہ حرمت میں مکہ کی طرح ان کی نبات و شکار کا حکم ہے اور حرمت کی خلاف ورزی کرنے والے کی اسی طرح سزا ہے ۔ ذرا غور فرمائیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے قلعوں کو گرانے سے اس لئے روک دیا کہ وہ مدینہ منورہ کی زینت ہیں بالکل اسی طرح درخت کاٹنے اور شکار مارنے سے بھی ممانعت کی وجہ اس کا باعث زینت ہونا ہے جب درخت وغیرہ زینت کی چیزیں رہیں گے تو وہاں کے لوگ انس و الفت سے رہیں گے ۔ اس بناء پر نہیں کہ حرمت میں مکہ کی طرح ان کی نبات و شکار کا حکم ہے اور حرمت کی خلاف ورزی کرنے والے کی اسی طرح سزا ہے ۔

الدراوردي فذكر بإسناده مثله أفلا ترى ← أَبُو مُصْعَبٍ ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6187

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6188

5855 - فإذا إسماعيل بن يحيى المزني قد حدثنا قال قرأنا على محمد بن إدريس الشافعي عن الثقفي عن حميد الطويل عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال كان لأبي طلحة بن من أم سليم يقال له أبو عمير وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يضاحكه إذا دخل وكان له نغير فدخل رسول الله صلى الله عليه و سلم فرأى أبا عمير حزينا فقال ما شأن أبي عمير فقيل يا رسول الله مات نغيره فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أبا عمير ما فعل النغير

انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا ام سلیم رضی اللہ عنہ سے ایک بیٹا تھا جس کو ابو عمیر کہتے تھے جناب رسول اللہ ﷺ اس کے آنے پر اس سے ہنسی کی باتیں فرماتے اس کا ایک بلبل تھا۔ پس جب وہ داخل ہوا تو آپ نے فرمایا اے ابو عمیر تمہارے بلبل کا کیا ہوا ؟ ( وہ بلبل مر گیا تھا )

فإذا إسماعيل بن يحيى المزني قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6188

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6189

5856 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يحيى بن أيوب عن حميد عن أنس رضي الله عنه قال كان لأبي طلحة بن يدعى أبا عمير فكان له نغير فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا دخل قال يا أبا عمير ما فعل النغير

حمید بن انس کہتے ہیں کہ ابو طلحہ کے ایک بیٹے کو ابو عمیر کہا جاتا تھا اس کا بلبل تھا جب وہ داخل ہوتا تو جناب رسول اللہ ﷺ دریافت فرماتے ۔ اے ابو عمیر نغبیر کا کیا ہوا ؟

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6189

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6190

5857 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن أبي التياح قال قال سمعت أنس بن مالك رضي الله عنه يقول كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يخالطنا حتى يقول لأخ لي صغير يا أبا عمير ما فعل النغير

ابو النتیاح نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ بہت گھل مل کر رہتے یہاں تک کہ میرا ایک چھوٹا بھائی تھا ج کو ابو عمیر کہتے تھے آپ اس کو فرماتے اے ابو عمیر تمہارے بلبل کا کیا حال ہے ؟

لأَخٍ لِي صَغِيرٍ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ← كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يخالطنا حتى ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6190

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6191

5858 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا عمارة بن زاذان عن ثابت عن أنس رضي الله عنه قال كان لي أخ فكان النبي صلى الله عليه و سلم يستقبله ويقول يا أبا عمير ما فعل النغير قال أبو جعفر فهذا قد كان بالمدينة ولو كان حكم صيدها كحكم صيد مكة إذا لما أطلق له رسول الله صلى الله عليه و سلم حبس النغير ولا اللعب به كما لا يطلق ذلك بمكة فقال قائل فقد يجوز أن يكون هذا كان بقباء وذلك الموضع غير الموضع المحرم فلا حجة لكم في هذا الحديث فنظرنا هل نجد فيما سوى هذا الحديث ما يدل على شيء من حكم صيد المدينة

ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جناب رسول اللہ ﷺ اس کو سامنے بلاتے اور فرماتے اے ابو عمیر تمہارے بلبل کا کیا حال ہے ۔ یہ واقعہ مدینہ منورہ کا ہے اگر مدینہ منورہ کے شکار کا مکہ کے شکار جیسا ہوتا تو جناب رسول اللہ ﷺ بلبل کو ضرور آزاد کرواتے ۔ اس کو قید کرنے اور اس سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیتے جیسا کہ مکہ میں ہوتا ہے ۔ اگر کوئی معترض کہے کہ ممکن ہے کہ یہ واقعہ قباء کا ہے اور وہ حرم میں داخل نہیں پس یہ روایت دلیل نہ بنی۔ ان کو جواب میں کہے کہ حضرت ابو طلحہ انصاری کا مکان حرم میں نہیں بلکہ مدینہ منورہ کے اندر تھا پس اعتراض بے جا اور دلیل ثابت ہے ۔ ہم غور کرتے ہیں کیا ایسی روایات ملتی ہیں جو مدینہ کے شکار پر دلالت کرتی ہوں ملاحظہ ہو۔

«يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ» ← كان لي أخ فكان النبي صلى الله عليه و سلم يستقبله ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُمَارَةِ بْنِ زَاذَانَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6191

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6192

فإذا عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي وفهد بن سليمان قد حدثانا قالا ثنا أبو نعيم قال ثنا يونس بن أبي إسحاق عن مجاهد قال قالت عائشة رضي الله عنها كان لآل رسول الله صلى الله عليه و سلم وحش فإذا خرج لعب واشتد وأقبل وأدبر فإذا أحس برسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قد دخل ربض فلم يترمرم كراهية أن يؤذيه فهذا بالمدينة في موضع قد دخل فيما حرم منها وقد كانوا يأوون فيه الوحش ويتخذونها ويغلقون دونها الأبواب فقد دل هذا أيضا على أن حكم المدينة في ذلك خلاف حكم مكة وقد

مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ آل رسول ﷺ کا ایک جنگلی جانور تھا جب آپ باہر تشریف جاتے تو وہ کھیلتا اور دوڑتا تھا آگے کی طرف تو دوڑتا پیچھے لوٹتا جب وہ آپ کی آمد محسوس کرتا تو گھٹنوں کے بل بیٹھتا اور بالکل خاموش اختیار کرتا تاکہ کہیں آپ ﷺ کو تکلیف نہ ہو۔ یہ حرم میں کے اندر داخل حصہ ہے اور اس میں وحشی جانور کو اپنے ہاں رکھتے اور دروازوں کے اندر اس کو بند کرتے ہیں اس سے یہ بات ثابت ہوئی حرم مدینہ کا حکم حرم مکہ سے مختلف ہے ۔ حاصل: یہ حرم کے اندر داخل حصہ ہے اور اس میں وحشی جانور کو اپنے ہاں رکھتے اور دروازوں کے اندر اس کو بند کرتے ہیں اس سے یہ بات ثابت ہوئی حرم مدینہ کا حکم حرم مکہ سے مختلف ہے ۔ حاصل : یہ حرم میں کے اندر داخل حصہ ہے اور اس میں وحشی جانور کو اپنے ہاں رکھتے اور دروازوں کے اندر اس کو بند کرتے ہیں اس سے یہ بات ثابت ہوئی حرم مدینہ کا حکم حرم مکہ سے مختلف ہے ۔

مُجَاهِدٍ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فإذا عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي وفهد بن سليمان قد حدثانا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6192

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6193

5859 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي قتيلة المدني قال ثنا محمد بن طلحة التيمي عن موسى بن محمد بن إبراهيم عن أبيه عن سلمة بن الأكوع أنه كان يصيد ويأتي النبي صلى الله عليه و سلم من صيده فأبطأ عليه ثم جاءه فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم ما الذي حبسك فقال يا رسول الله أنتفى عنا الصيد فصرنا نصيد ما بين نبت إلى قناة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أما إنك لو كنت تصيد بالعقيق لشيعتك إذا ذهبت وتلقيتك إذا جئت فإني أحب العقيق

محمد بن ابراہیم نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے وہ شکار کر کے آپ ﷺ کی خدمت میں لاتے ایک مرتبہ انہوں نے دیر کر دی پھر وہ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہیں کیا رکاوٹ بنی ؟ یا رسول اللہ ﷺ شکار ہم سے دور چکا گیا ہم شکار کے لئے مقام نبت اور مقام قناۃ کے درمیان گئے جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تو مقام عقیق میں شکار کرتا تو میں بھی تمہارے ساتھ تمہیں رخصت کرنے جاتا اور جب تم آتے تو ہمارا استقبال کرتا مجھے وادی عقیق پسند ہے ۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، ← بن أبي قتيلة المدني ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6193

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6194

5860 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا نعيم بن حماد قال ثنا محمد بن طلحة التيمي عن موسى بن إبراهيم التيمي عن أبيه عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن سلمة بن الأكوع رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِيهِ ← موسى بن إبراهيم التيمي ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6194

chevron_left Previous
1…323334…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter