شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 9 باب صيد المدينة ) · حديث 6159
5828 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا عمر بن حفص بن غياث قال ثنا أبي قال ثنا الأعمش قال حدثني إبراهيم التيمي قال حدثني أبي قال خطبنا علي رضي الله عنه على منبر من آجر وعليه سيف فيه صحيفة معلقة به فقال والله ما عندنا من كتاب نقرأه إلا كتاب الله وما في هذه الصحيفة ثم نشرها فإذا فيها المدينة حرام من غير إلى ثور
ابراہیم تیمی کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ ہمیں علی رضی اللہ عنہ نے عیدوں کے ممبر پر خطبہ دیا اس وقت انہوں نے تلوار پہن رکھی تھی اور اس میں ایک خط لٹک رلا تھا آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ہمارے پاس پڑھنے کے لئے کتاب اللہ کے سوا اور کوئی کتاب نہیں اور جو کچھ اس خط میں ہے پھر آپ نے اس کو پھیلا دیا تو اس میں یہ لکھا تھا کہ مدینہ منورہ عیر پہاڑ سے ثور تک حرمت والا ہے ۔
خطبنا علي على منبر من آجر وعليه سيف فيه صحيفة معلقة به ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6159
