شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 7 باب أكل لحوم الأضاحي بعد ثلاثة أيام ) · حديث 6147
5816 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عثمان بن عمر قال أخبرنا مالك بن أنس عن عبد الله بن أبي بكر عن عمرة عن عائشة رضي الله عنها قالت دف الناس من أهل البادية فحضرت لأضحي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذخروا الثلث وتصدقوا بما بقي قالت فلما كان بعد ذلك قلت يا رسول الله قد كان الناس ينتفعون بضحاياهم يحملون منها الودك ويتخذون منها الأسقية قال وما ذاك قلت نهيت عن إمساك لحوم الأضاحي بعد ثلاث فقال إنما كنت نهيتكم للدافة التي دفت فكلوا وتصدقوا وتزودوا
عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کچھ جنگلی لوگ آ گئے ادھر عید الاضحیٰ کا موقع تھا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین دن کے لئے گوشت کو جمع کرو اور بقیہ کو صدقہ کرو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں جب اس کے بعد موقع آیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ لوگ اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھاتے اور اس سے چربی نکال لیا کرتے اور مشکیزے بناتے تھے آپ نے فرمایا پھر کیا ہوا تو میں نے کہا آپ ﷺ نے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے منع فرما دیا آ پ نے فرمایا میں نے تم کو منع کیا تھا اس قافلہ کی وجہ سے جو اس وقت پہنچا تھا اب تم کھاؤ صدقہ کرو اور زار دراہ کے طور پر لے جاؤ۔
فلما كان بعد ذلك قلت ← رسول الله صلى الله عليه و سلم إذخروا الثلث وتصدقوا بما بقي ← دف الناس من أهل البادية فحضرت لأضحي ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مالک بن أنس ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6147
