شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 2 باب من نحر يوم النحر قبل أن ينحر الإمام ) · حديث 6063
5739 - حدثنا محمد بن عبد الله الأصبهاني قال ثنا إسحاق بن أبي إسرائيل قال أخبرنا هشام بن يوسف عن بن جريج أن بن أبي مليكة أخبره أن عبد الله بن الزبير أخبره أن ركبا من بني تميم قدموا على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أبو بكر رضي الله عنه يا رسول الله أمر القعقاع بن معبد بن زرارة وقال عمر رضي الله عنه أمر الأقرع بن حابس فقال أبو بكر رضي الله عنه ما أردت بذلك إلا خلافي فقال عمر رضي الله عنه ما أردت خلافك فتماريا حتى ارتفعت أصواتهما فأنزل الله عز و جل يا أيها الذين آمنوا لا تقدموا بين يدي الله ورسوله وكان من الحجة لهم في قولهم أن حديث جابر رضي الله عنه قد روي على غير هذا اللفظ
ابن ابی ملکیہ نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ بنو تمیم قبیلہ کے کچھ سوار جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا امیر قعقاع بن معبد بن زرارہ کو بنائیں جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اقراع بن جابس کو ان پر امیر مقرر فرمائیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے آ پ نے اس بات سے میری مخالفت کا ارادہ کیا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کی مخالفت کرنا نہیں چاہتا دونوں کے مابین نزاع ہوا یہاں تک کہ دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں تو اللہ نے یہ آیت کریمہ اتاری ۔۔( (الحجرات 1) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیش دستی مت کرو ۔
بن جُرَيْجٍ ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ، ← محمد بن عبد الله الأصبهاني
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6063
