Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 9 باب الرجل يبتاع سلعة في قبضها ثم يموت وثمنها عليه دين ) · حديث 6039

5717 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب وبشر بن عمر ح

ابراہیم بن مرزوق نے وہب و بشر بن عمر سے روایت کی ہے ۔

وهب وبشر بن عمر ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6039

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 9 باب الرجل يبتاع سلعة في قبضها ثم يموت وثمنها عليه دين ) · حديث 6040

وحدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قالوا ثنا شعبة عن قتادة عن النضر بن أنس عن بشير بن نهيك عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الرجل إذا اشترى عبدا بثمن وقبض العبد ولم يدفع ثمنه فأفلس المشتري وعليه دين والعبد قائم في يده بعينه أن بائعه أحق به من غيره من غرما المشتري واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل بائع العبد وسائر الغرماء فيه سواء لأن مالكه قد زال عن العبد وخرج من ضمانه فإنما هو في مطالبة غريم من غرماء المطلوب يطالبه بدين في ذمته لا وثيقة في يديه فهو وهم في جميع ما لهم سواء وكان من حجتهم على أهل المقالة الأولى في فساد ما ذهبوا إليه واحتجوا لقولهم من حديث أبي هريرة الذي ذكرنا أن الذي في ذلك الحديث فأصاب رجل ماله بعينه وإنما ماله بعينه يقع على المغصوب والعوارى والودائع وما أشبه ذلك فذلك ماله بعينه فهو أحق به من سائر الغرماء وفي ذلك جاء هذا الحديث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وإنما يكون هذا الحديث حجة لأهل المقالة الأولى لو كان فأصاب رجل غير ماله قد كان له فباعه من الذي وجده في يده ولم يقبض منه ثمنه فهو أحق به من سائر الغرماء وهذا الذي يكون حجة لهم لو كان لفظ الحديث كذلك فأما إذا كان على ما روينا في الحديث فلا حجة لهم في ذلك وهو على الودائع والغصوب والعوارى والرهون أموال الطالبين في وقت المطالبة بها وذلك كما جاء عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث سمرة فإنه

بشیر بن ٹھیک نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ امام طحاوی رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں ایک فریق علماء کا خیال یہ ہے کہ جب کوئی غلام خریدنے اور اس پر قبضہ کر لے لیکن ابھی تک قیمت ادا نہ کرنے پایا تھا کہ مشتری مفلس ہو گیا اور اس پر قرض ہو گیا جبکہ غلام اسی طرح کے قبضہ میں موجود تھا تو فروخت کرنے والا دوسرے قرض خواہوں سے اس غلام کا زیادہ حقدار ہے ۔ ان حضرات کا استدلال مندرجہ روایات سے ہے ۔ دوسروں نے کہا دوسرا فریق کہتا ہے کہ فروخت کرنے والا اور دوسرے قرض خواہ اس غلام کے سلسلے میں برابر حق رکھتے ہیں کیونکہ غلام سے اس کی ملک زائل ہو چکی اور وہ اس کی ضمان سے نکل چکا فلہذا فروخت کرنے والا مطالبہ کے وقت مطلوبہ کے قرض خواہوں میں سے ایک ہے وہ اپنے قرض کا مطالبہ کر رہا ہے جو اس شخص کے ذمہ ہے اور اس نے اس کے پاس کوئی چیز بطور رہن بھی نہیں رکھی پس وہ اور باقی قرض خواہ اس کے تمام مال میں برابر کا حقدار ہیں ۔ فریق اول کے قول کے فاسد ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس روایت کے الفاظ کہ آدمی نے اپنے مال کو بعینہ اس کا مال ہے اور وہ دوسرے قرض خواہوں کی بنسبت اس کا زیادہ حقدار ہے اور یہ روایت اسی سلسلہ میں وارد ہوئی ہے فریق اول کے لیے دلیل اس وقت بنتی جب یہ الفاظ ہوتے کہ اس شخص نے اپنے مال کو اس طرح پایا جو اس کا تھا پھر اس نے اسے اس شخص پر فروخت کیا جس کے پاس اسے پایا اور اس نے ابھی تک اس کی قیمت پر قبضہ نہیں کیا تو وہ باقی قرض خؤاہوں کی بنسبت اس کا زیادہ حقدار ہے ۔، تو اگر روایت اس طرح ہوتی تو ان کے لیے دلیل بن جاتی ۔ مگر جس طرح ہم نے روایت کی ہے تو وہ ان کی دلیل نہیں بنتی کیونکہ رایت کا تعلق مغصوبات ،ادھار پر حاصل کردہ اشیاء اور مرہونہ اشیاء سے متعلق ہے اس لیے کہ وہ مطالبہ کرنے والے کا اپنا مال ہے اور یہ اس طرح ہے جیسا کہ روایت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ میں وارد ہے ۔

أبو جعفر فذهب قوم إلى ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6040

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 9 باب الرجل يبتاع سلعة في قبضها ثم يموت وثمنها عليه دين ) · حديث 6041

5718 - حدثنا محمد بن عمرو قال ثنا أبو معاوية عن حجاج عن سعيد بن عبيد عن زيد بن عقيل عن أبيه عن سمرة بن جندب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من سرق له متاع أو ضاع له متاع ووجده في يدي رجل بعينه فهو أحق به ويرجع المشتري على البائع بالثمن قال أبو جعفر فقال أهل المقالة الأولى لو كان الحديث على ما ذكرتم من التأويل الذي وصفتم إذا لما كان بنا إلى ذكر النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك حاجة لأن هذا يعلمه العامة فضلا عن الخاصة فالكلام بذلك فضل وليس من صفته صلى الله عليه و سلم الكلام بالفضل ولا الكلام بما لا فائدة منه فكان من الحجة للآخرين عليهم في ذلك أن ذلك ليس بفضل بل هو كلام صحيح وفيه فائدة وذلك أنه أعلمهم أن الرجل إذا أفلس وجب أن يقسم جميع ما في يده بين غرمائه فثبت ملك رجل لبعض ما في يده أنه أولى بذلك وأن الذي كان في يده قد ملكه وغر فيه فلا يجب له فيه حكم إذ كان مغرورا فعلمهم بهذا الحديث علمهم بحديث سمرة ونفى أن يكون المغرور الذي يشكل حكمه عند العامة يستحق بذلك الغرور شيئا فهذا وجه لهذا الحديث صحيح وقال أهل المقالة الأولى ويروى هذا الحديث من غير هذا الوجه بألفاظ غير ألفاظ الحديث الأول فذكروا ما

زید بن عقیل نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا سامان چوری ہو جائے یا اس کا سامان ضائع ہو جائے اور بعینہ وہ سامان کسی آدمی کے پاس پالے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے اور خریدار اپنے ثمن کے لیے بائع کی طرف رجوع کر ے گا ۔ امام طحاوی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر روایت اسی طرح ہےجیسا کہ تم نے بیان کیا یعنی تم نے جو تاویل کی ہے تو پھر جناب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا اس بات کو ذکر کرنے کا کیا مقصد ہوگااس بات کو عام لوگ بھی جانتے ہیں پھر خاص لوگوں کی کلام تو زائد ٹھہرے گی اور خصوصا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے فائدہ اور فضول کلام کرنے والے نہ تھے ۔ یہ کب کہا گیا کہ فضول کلام ہے ( نعوذ باللہ منہ) بلکہ یہ عظیم فائدہ مند کلام ہے وہ اسی طرح کہ آپ نے یہ خبر دار فرمایا کہ جب کوئی آدمی مفلس ہو ہو جائے تو ضروری ہے کہ جو کچھ اس کے پاس موجود ہو وہ اس کے قرض خواہوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے سو آدمی کی ملک اس بعض مال میں جو اس کے ہاتھ میں ہے قائم ہو جائے گی اور وہ اس کا دوسروں سے زیادہ حقدار ہو گا اور اگر وہ شخص اس میں دھوکا سے مالک ہواتو پھر اس میں اس کی ملک ثابت نہ ہو گی کیونکہ اس میں دھوکا پایا گیا پس اس ارشاد سے بھی وہی بات بتلانا مقصود ہے جو حدیث سمرہ میں کہی گئی ہے اور اس بات کی نفی کر دی کہ دھوکہ باز جس نے مال دھوکے سے حاصل کیا ہے عام لوگوں کے ہاں اس کا معاملہ اشکال والا ہے آپ نےواضح کر دیا کہ وہ مال کا حقدار نہیں ہو گا پس اس صحیح حدیث کا یہ مفہوم ہے کہتے ہیں کہ یہ روایت اس کے علاوہ دیگر الفاظ سے بھی مروی ہے ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبِيهِ ← زيد بن عقيل ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← حجاج، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6041

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 9 باب الرجل يبتاع سلعة في قبضها ثم يموت وثمنها عليه دين ) · حديث 6042

5719 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني يونس بن يزيد عن بن شهاب قال أخبرني أبو بكر بن عبد الرحمن أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قضى بالسلعة يبتاعها الرجل فيفلس وهي عنده بعينها لم يقض صاحبها من ثمنها شيئا فهو أسوة الغرماء قال أبو بكر فقضى رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه من توفى وعنده سلعة رجل بعينها ولم يقبض من ثمنها شيئا فصاحب السلعة أسوة الغرماء

زہری نے روایت کیا کہ مجھے حضرت ابو بکر بن عبدالرحمن نے بتلایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سامان کا فیصلہ فرمایا جس کو ایک آدمی نے خریدا پھر وہ خود مفلس ہوگیا اور وہ سامان بعینہ اس کے پاس موجود تھا اور اس نے اپنے فروخت کرنے والے کو قیمت کا کوئی حصہ نہ دیا تھا تو آپ نے فیصلہ فرمایا وہ آدمی قرض خواہوں کے ساتھ برابر کا حقدار ہے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ جو آدمی اس حالت میں مر جائے کہ اس کے پاس بائع کا سامان بعینہ موجود تھا اور بائع نے اس سے اپنی قیمت کا ایک ذرہ بھی وصول نہیں کیا تھا تو یہ سامان والا دوسرے قرض خواہوں کے ساتھ برابر کا حقدار ہے ۔

أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6042

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 9 باب الرجل يبتاع سلعة في قبضها ثم يموت وثمنها عليه دين ) · حديث 6043

5720 - حدثنا يونس قال ثنا وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن أبي بكر بن عبد الرحمن أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أيما رجل إبتاع متاعا فأفلس الذي إبتاعه ولم يقبض الذي باعه من ثمنه شيئا فوجده بعينه فهو أحق به فإن مات المشتري فصاحب المتاع أسوة الغرماء قالوا فقد بان بهذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما أراد في هذا الحديث الأول الباعة لا غيرهم فكان من الحجة للآخرين عليهم أن هذا الحديث منقطع لا يقوم بمثله حجة فإن قالوا إنما قبلناه وإن كان منقطعا لأنه بين ما أشكل في الحديث المتصل قيل لهم قد كان ينبغي لكم لما أضطرب حديث أبي بكرة بن عبد الرحمن هذا فرواه عنه الزهري كما ذكرنا آخرا ورواه عنه عمر بن عبد العزيز على ما وصفنا أولا إن رجعوا إلى حديث غيره وهو بشير بن نهيك فيجعلونه هو أصل حديث أبي هريرة ويسقطون ما خالفه وإذا فعلتم ذلك عادت الحجة الأولى عليكم وإن لم تفعلوا ذلك كان لخصمكم أيضا أن يقول هذا الحديث الدي رواه الزهري عن أبي بكر ففرق فيه بين حكم التفليس والموت هو غير الحديث الأول فيكون الحديث الأول عنده مستعملا من حيث تأوله ويكون هذا الحديث الثاني حديثا منقطعا شاذا لا يقوم بمثله حجة فيجب ترك إستعماله فهذا الذي ذكرنا هو وجه الكلام في الآثار المروية في هذا الباب وأما وجه ذلك من طريق النظر فإنا رأينا الرجل إذا باع من رجل شيئا كان له أن يحبسه حتى ينقده الثمن وإن مات المشتري وعليه دين فالبائع أسوة الغرماء فكان البائع متى كان محبسا لما باع حتى مات المشتري كان أولى به من سائر غرماء المشتري ومتى دفعه إلى المشتري وقبضه منه ثم مات فهو وسائر الغرماء فيه سواء فكان الذي يوجب له الانفراد بثمنه دون الغرماء هو بقاؤه في يده فلما كان ما وصفنا كذلك كان كذلك إفلاس المشتري إذا كان العبد في يد البائع فهو أولى به من سائر غرماء المشتري وإن كان قد أخرجه من يده إلى يد المشتري فهو وسائر الغرماء فيه سواء فهذه حجة صحيحة وحجة أخرى أنا رأينا إذا لم يقبضه المشتري وقد بقى للبائع كل الثمن أو نقده بعض الثمن وبقيت له عليه طائفة منه أنه أولى بالعبد حتى يستوفى ما بقى له من الثمن فكان ببقائه في يده أولى به إذا كان له كل الثمن أو بعض الثمن ولم يفرق بين شيء من ذلك فجعل حكمه حكما واحدا فلما كان ذلك كذلك وأجمعوا أن المشتري إذا قبض العبد ونقد البائع من ثمنه طائفة ثم أفلس المشتري أن البائع لا يكون بتلك الطائفة الباقية له أحق بالعبد من سائر الغرماء بل هو وهم فيه سواء وكذلك إذا بقي له ثمنه كله حتى أفلس فلا يكون بذلك أحق بالعبد من سائر الغرماء ويكون هو وهم فيه سواء فيستوي حكمه إذا بقى له كل الثمن على المشتري أو بعض الثمن حتى أفلس المشتري كما استوى بقاؤهما جميعا له عليه حتى كان الموت الذي أجمعوا فيه على ما ذكرنا فثبت بالنظر ما ذكرنا من ذلك وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله وقد

ابن شہاب نے ابو بکر بن عبدالرحمن سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی نے کوئی سامان خریدا پھر خریدار مفلس ہو گیا اور فروخت کرنے والے نے اس سامان کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہ کیا تھا فروخت کرنے والے نے اپنا سامان بعینہ اس کے پاس پایا تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے اگر خریدار مر گیا تو پھر سامان والا آدمی بقیہ قرض خواہوں کے ساتھ برابر کا ھصے دار ہوگا اس حدیث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ پہلی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد فروخت کرنے والے لوگ ہیں دوسرے لوگ مراد نہیں ۔ یہ روایت منقطع ہے جو دلیل بننے کے قابل نہیں فریق اول والے کہتے ہیں کہ اگر چہ یہ منقطع ہے مگر حدیث متصل کا بیان بن جانے کی وجہ سے اس کو قبول کیا گیا ہے ۔ تو ان کے جواب میں کہا جائے گا تمہیں مناسب یہ تھا کہ جب یہ روایت ابی بکر بن عبدالرحمن مفطرب ہے جیسا کہ اس کو زہری نے اسی طرح روایت کیا جیسے تم نے ذکر کیا اور ان سے عمر بن عبدالعزیز نے اس طرح روایت کی جیسے ہم نے پہلے بیان کی ہے تو تم کسی اور روایت کی طرف رجوع کرتے اور وہ ھضرت بشیر بن نہیک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے اور اس کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کا اصل قرار دے کر اس کے مخالف روایت کو ساقط قرار دیتے ہیں اور اگر تم ایسا کرتے تو پھر دلیل تمہارے خلاف بن جاتی اور اگر تم نے ایسا نہیں کیا گیا تو تمہارے مخالف کو یہ کہنے کا حق حاصل ہے کہ اس حدیث زہری میں مفلس ہو جانے اور موت کے درمیان فرق کیا گیا ہے وہ پہلی روایت کے خلاف ہے پس تمہارے مخالف کے ہاں پہلی روایت کی تاویل کرتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے گا اور یہ دوسری روایت منقطع اور شاذ ٹھیرے گی جس سے کوئی دلیل بھی قائم نہ ہو سکے گی پس اس کے استعمال کو ترک کر دینا اور چھوڑ دینا ضروری ہو گا۔ اب تک جو کچھ ہم نے ذکر کیا یہ آثار مرویہ کو سامنے رکھ کر اس باب کا حکم ہے ۔ بطریق نظر جب ہم غور کرتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ جب کوئی آدمی کسی دوسرے کو کوئی چیز فروخت کر دے تو اس کا حق پہنچتا ہے کہ قیمت وصول کرنے تک اس چیز کو اپنے پاس روک لے اور اگر خریدار مر جائے اور اس پر قرضہ ہو تو فروخت کرنے والا دوسرے قرض خواہوں کے ساتھ برابر کا شریک ہے جب فروخت کرنیوالے کو فروخت شدہ چیز روکنے کا حق ہے اور اس نے وہ چیز روک لی یہاں تک کہ خریدار مر گیا تو وہ اس چیز کا دوسرے قرض خواہوں سے زیادہ حقدار ہے اور اس نے وہ چیز مشتری کے حوالے کر دی اور اس نے وہ قبضے میں کر لی پھر مشتری مر کیا تو اس صورت میں تمام قرض خواہ برابر کے شریک ہوں گے جو چیز اس کو ان سے الگ کرتی ہے وہ اس کا ثمن ہے اور یہ چیز باقی قرض خواہوں کے لیے نہیں اور وہ اس چیز کا اس کے ہاتھ میں اسی طرح باقی رہنا ہے پس جو کچھ ہم نے بیان کیا جب اس کی صورت اسی طرح ہے تو مشتری کے مفلس ہو جانے میں بھی حکم یہی ہونا چاہیے جب کہ بعینہ وہ غلام بائع کے ہاتھ میں موجود ہو تو وہ اس کا تمام قرض خواہوں میں زیادہ حق دار ہے اور اگر وہ غلام اس کے ہاتھ سے نکل کر مشتری کے ہاتھ میں چلا گیا تو وہ اور دیگر قرض خواہ برابر کے حقدار ہیں یہ درست دلیل ہے دوسری دلیل یہ ہے کہ ہم نے غور کیا کہ جب خریدار نے اس کو اپنے قبضے میں نہ لیا اور فروخت کرنے والے کی ۔کل قیمت ابھی مشتری کے ذمے باقی ہے یا اس نے کچھ قیمت نقدادا کر دی اور باقی رقم اس کے ذمے ہے تو پھر بھی بیچنے والا قیمت کی کامل وصولی تک اس کا زیادہ حقدار ہے پس وہ اس چیز کے قبضہ میں ہونے کی وجہ سے زیادہ حق دار ہے جب کہ تمام قیمت یا قیمت کا کچھ حصہ مشتری کے ذمہ باقی ہو ان دونوں صورتوں میں کوئی تفریق نہ کی جائے گی اور ان کا حکم ایک ہی قرار دیا جائے گا پس جب یہ بات اسی طرح ہے اور اس پر بھی اسکا اتفاق ہے کہ مشتری جب غلام پر قبضہ کر لے اور خریدار اس کی قیمت کا کچھ حصہ نقد وصول کر لے پھر خریدار مفلس ہو جائے تو اس صورت میں فروخت کرنے والا بقیہ رقم میں دیگر قرض خواہوں کے مقابلہ میں اس غلام کا زیادہ حقدار نہ ہو گا بلکہ سب قرض خواہ برابر ہوں گے پس حکم ایسا جیسا ہو گا جبکہ تمام قیمت مشتری کے ذمہ باقی ہو یا بعض قیمت کے ذمہ ہوتے ہوئے مشتری مفلس ہو جائے جس طرح کہ اسکی موت کی صورت میں کل قیمت یا بعض قیمت کا باقی رہنا برابر ہے اور جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اس پر سب کا اتفاق ہے اور جو کچھ ہم نے ذکر کیا وہ قیاس سے بھی ثابت ہو گیا اور یہی ہمارے امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔

أَبِی بکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن شِهَابٍ ← وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6043

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 9 باب الرجل يبتاع سلعة في قبضها ثم يموت وثمنها عليه دين ) · حديث 6044

5721 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن المغيرة عن إبراهيم وحدثنا سليمان قال ثنا عبد الرحمن قال ثنا شعبة عن أشعث مولى آل حمران عن الحسن قال قال هو أسوة الغرماء والله أعلم

شعبہ نے مغیرہ سے اور انہوں نے ابراہیم سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

هو أسوة الغرماء والله أعلم ← الْحَسَنِ، ← أشعث مولى آل حمران ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← إبراهيم وحدثنا سليمان ← الْمُغِيرَةِ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6044

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 10 باب شهادة البدوي هل تقبل على القروي ) · حديث 6045

5722 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني نافع ويريد ويحيى بن أيوب عن بن الهاد عن محمد بن عمر بن عطاء عن عطاء بن يسار عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا تقبل شهادة البدوي على القروي فذهب قوم إلى أن شهادة أهل البادية غير مقبولة على أهل الحضر واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا أما من كان من أهل البادية ممن يجيب إذا دعى وفيه أسباب العدالة ما في أهل العدالة من أهل الحضر فشهادته مقبولة وهو كأهل الحضر وممن كان منهم لا يجيب إذا دعي فلا تقبل شهادته وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في سائر ذلك ما

اشعث مولیٰ آل حمران نے حسن سے روایت کی ہے کہ وہ فروخت کرنے والا دیگر قرض خواہوں کے ساتھ برابر کا شریک ہو گا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← محمد بن عمر بن عطاء ← بْنِ الْهَادِ ← نافع ويريد ويحيى بن أيوب ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6045

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 10 باب شهادة البدوي هل تقبل على القروي ) · حديث 6046

5723 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا إسحاق عن صالح بن كيسان عن عروة بن الزبير عن عائشة رضي الله عنها قالت قدمت أم سنبلة الأسلمية ومعها وطب من لبن تهديه لرسول الله صلى الله عليه و سلم فوضعته عندي ومعها قدح لها فدخل النبي صلى الله عليه و سلم فقال مرحبا وسهلا بأم سنبلة قالت بأبي وأمي أهديت لك وطبا من لبن قال بارك الله عليك صبي لي في هذا القدح فصبت له في القدح فلما أخذه قلت قد قلت لا أقبل هدية من أعرابي قال أعراب أسلم يا عائشة إنهم ليسوا بأعراب ولكنهم أهل باديتنا ونحن أهل حاضرتهم إذا دعوناهم أجابوا وإذا دعونا أجبناهم ثم شرب

عطاء بن یسار نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ شہری کے خلاف دیہاتی کی گواہی قبول نہ کی جائے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دیہایتوں کی گواہی شہریوں کے خلاف ناقابل قبول ہے انہوں نے ا س روایت کو بطور دلیل پیش کیا ہے جو دیہاتی ان لوگوں سے ہو جو بلانے پر حاضر ہو جاتے ہیں تو ان میں وہ اسباب عدالت پائے جاتے ہیں جو شہریوں کے اہل عدالت میں پائے جاتے ہیں تو اس کی گواہی مقبول ہے اور وہ شہریوں کی طرح ہے اور دیہاتی بلانے پر حاضر نہیں ہوتے ان کی گواہی قابل قبول نہیں ۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں یہ روایت وارد ہیں ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← إِسْحَاقُ ← الوهبي ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6046

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 10 باب شهادة البدوي هل تقبل على القروي ) · حديث 6047

5724 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا محمد بن عبد الله بن نمير قال ثنا يونس بن بكير قال ثنا بن إسحاق فذكر بإسناده مثله

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے ام سنبلہ اسلمیہ رضی اللہ عنہ آئی اس کے ساتھ دودھ کی ایک مشک تھی وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کر رہی تھی اس نے وہ دودھ میرے پاس رکھ دیا اس کے پاس ایک پیالہ بھی تھا ۔ اسی وقت حضور علیہ اسلام تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا ام سنبلہ کو ! مرحبا اور اھلا وسھلا ً اس نے عرض کی میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں آپ کے لیے دودھ کی ایک مشک ہدیہ کے طور پر لائی ہوں آپ نے فرمایا بارک اللہ علیک۔ اللہ تمہیں برکت دے ۔ اس پیالے میں میرے لیے دودھ ڈالوں جب اس نے پیالے میں ڈال دیا اور آپ نے دست اقد س میں پکڑ لیا تو میں نے کہا آپ نے تو فرمایا تھا میں کی اعرابی کا ہدیہ قبول نہ کروں گا ۔ آپ نے فرمایا اسلم کے اعراب وہ عام اعراب نہیں وہ تو ہمارے جنگل کے لوگ ہیں اور ہم ان کے شہری ہیں جب ہم ان کو بلاتے ہیں تو وہ فوراً آ جاتے ہیں اور جب وہ ہمیں بلاتے ہیں تو ہم ان کی معاونت کرتے ہیں پھر آپ نے وہ دودھ نوش فرمایا ۔

بن إسحاق فذكر بإسناده مثله ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6047

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 10 باب شهادة البدوي هل تقبل على القروي ) · حديث 6048

5725 - حدثنا الربيع بن سليمان الجيزي قال ثنا سعيد بن كثير بن عفير قال ثنا سليمان بن بلال عن عبد الرحمن بن حرملة عن عبد الله بن نيار عن عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم بنحوه وزاد في آخر فليسوا بأعراب فأخبرني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن من كان من أهل البادية يجيب إذا دعى فهو كأهل الحضر وأن الأعراب المتقومين الذين لا تقبل هداياهم بخلاف هؤلاء وهم الذين لا يجيبون إذا دعوا فمن كان كذلك لم تقبل شهادتهم وهم الذين عناهم رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث أبي هريرة الذي ذكرنا فيما نرى والله أعلم

یونس بن بکیر نے ابن اسحاق سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم بنحوه وزاد في آخر فليسوا بأعراب ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، ← الربيع بن سليمان الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6048

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 1 باب العيوب التي لا يجوز الهدايا والضحايا إذا كانت بها ) · حديث 6049

5726 - حدثنا أبو موسى يونس بن عبد الأعلى قال ثنا عبد الله بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث وابن لهيعة والليث بن سعد أن سليمان بن عبد الرحمن حدثهم عن عبيد بن فيروز مولى بني شيبان عن البراء بن عازب رضي الله عنه أنه سأله عما كرهه رسول الله صلى الله عليه و سلم من الأضاحي أو ما نهى عنه فقال قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم ويدي أقصر من يده فقال أربع لا يجزى في الضحايا العوراء البين عورها والعرجاء البين عرجها والمريضة البين مرضها والعجفاء التي لا تنقى قال البراء رضي الله عنه فلقد رأيتني وإني لأرى الشاة وقد تركت فأسير إليها فإذا طرفت أخذتها فضحيت بها فقلت له فإني أكره أن يكون في السن نقص أو في الأذن نقص أو في القرن نقص فقال ما كرهت فدعه ولا تحرمه على أحد

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی ہے اور اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے ۔ ( فلیسوا باعراب ) کہ وہ دوسرے دیہاتیوں کی طرح نہیں ہیں ۔ پس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتلایا جو دیہاتی بلاوے کے وقت آجاتے ہیں وہ شہریوں کے حکم میں ہیں اور وہ دیہاتی جن کے تحائف قبول نہ کیے جائیں وہ ان کے خلاف ہیں جو کہ بلاوے کے وقت نہیں آتے ( بلکہ سرکشی کرتے ہیں ) پس جو دیہاتی اس طرح کا ہو اس کی گواہی قابل قبول نہ ہو گی اور حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میں یہی لوگ مراد ہیں جیسا کہ ہماری رائے ہے ۔ واللہ اعلم۔

عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ، مَوْلَى بَنِي شَيْبَانَ ← الليث بن سعد أن سليمان بن عبد الرحمن ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَبُو مُوسَى يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6049

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 1 باب العيوب التي لا يجوز الهدايا والضحايا إذا كانت بها ) · حديث 6050

5727 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن عمرو بن الحارث عن عبيد بن فيروز عن البراء بن عازب رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم سئل ماذا يتقي من الضحايا فأشار بيده وقال أربعا وكان البراء رضي الله عنه يشير بيده ويقول يدي أقصر من يد رسول الله صلى الله عليه و سلم العرجاء البين ضلعها والعوراء البين عورها والمريضة البين مرضها والعجفاء التي لا تنقى

عبیدبن فیروز مولیٰ بنی شیبان نے حضرت براء بن عاذب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ کون سی ربانی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند تھیں یا کن جانوروں کی قربانیوں سے آپ نے منع فرمایا تو وہ کہنے لگے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے میرے ہاتھ آپ کے ہاتھوں سے بہت چھوٹے ہیں آپ نے فرمایا قربانی میں چار قسم کے جانور جائز نہیں ۔1 ۔ کانا جس کا کانا پن ظاہر ۔ 2۔ لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو ۔ 3۔ ایسا بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو ۔ 4۔ ایسا دبلا جس کی ہڈیوں میں مغز نہ رہا ہو ۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم نے مجھے دیکھا کہ میں ایک بکری کو دیکھتا ہوں حالانکہ میں اسے چھوڑ چکا ہوں پھر میں اسکی طرف جاتا ہوں جب میں اسے اچھی طرح دیکھتا ہوں تو اس کی قربانی کرتا ہوں میں نے ان سے کہا میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ دانت میں نقصان ہوا یا کان میں کوئی عیب ہو یا سینگ میں نقص ہو تو انہوں نے فرمایا جسے تم نا پسند کرتے ہو اسے چھوڑ دو ۔ لیکن اسے کسی دوسرے پر حرام نہ کرو۔

أَرْبَعًا، وَكَانَ الْبَرَاءُ يُشِيرُ بِيَدِهِ، ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6050

chevron_left Previous
1…202122…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter