Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6027

5706 - حدثنا بن داود قال أخبرني عروة بن الزبير أن عائشة رضي الله عنها أخبرته أن النكاح كان في الجاهلية على أربعة أنحاء فمنه أن يجتمع الرجال العدد على المرأة لا تمتنع ممن جاءها وهن البغايا وكن ينصبن على أبوابهن رايات فيطؤها كل من دخل عليها فإذا حملت ووضعت حملها جمع لهم القافة فأيهم ألحقوه به كان أباه ودعي ابنه لا يمتنع من ذلك فلما بعث الله عز و جل محمدا صلى الله عليه و سلم بالحق هدم ذلك النكاح الذي كان يكون فيه ذلك الحكم وأقر الناس على النكاح الذي لا يحتاج فيه إلى قول القافة وجعل الولد لأبيه الذي يدعيه فيثبت نسبه بذلك ونسخ الحكم المتقدم الذي كان يحكم فيه بقول القافة وقد كان أولاد البغايا الذين ولدوا في الجاهلية من أدعى أحدا منهم في الإسلام لحق به

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ زمانہ جاہلیت میں نکاح چار قسم کا ہوتا تھا ۔ 1۔ کئی آدمی ایک عورت کے پاس جاتے وہ کسی کو بھی اپنے سے منع نہ کرتی یہ زانیہ عورتوں کا طریق کا ر تھا ۔ وہ اپنے دروازوں پر بطور نشان جھنڈے لگاتی تھیں ہر جانے والا ان سے وطی کرتا جب کسی سے حمل ٹھہر جاتا پھر وہ بچہ جنتی تو قیافہ شناس جمع ہو کر اس بچے کو کسی کے ساتھ ملا دیتے وہی اس کا باپ شمار ہوتا تھا اور وہ اس کا بچہ کہلا تا اس سے نسبت سے منع نہ کیا جاتا تھا جب جب اللہ تعالیٰ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا تو آپ نے اس قسم نکاح کو ختم کر دیا آپ نے اس نکاح کو برقرار رکھا جس میں کسی قیافہ شناس کی کوئی حاجت نہ تھی ۔ بچہ اس کے والد کے لیے قرار دیا جاتا جو اس کا مدعی ہوتا تھا اور اسی سے اس کا نسب ثابت ہوتا اور وہ پہلا حکم جس میں قیافہ شناس کے دل سے فیصلہ ہوتا آپ نے اس کو منسوخ کر دیا اور ان زانیہ عورتوں کی جو اولاد دور جاہلیت میں پیدا ہوئی اسلام میں جس نے اس کا دعویٰ کیا اس کے سات اس کو ملا دیا گیا ۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← بن داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6027

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6028

5707 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد

مالک نے یحیٰ بن سعید سے نقل کیا ہے ۔

يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6028

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6029

وحدثنا يونس قال أنا أنس عن يحيى بن سعيد قال مالك في حديثه عن سليمان بن يسار وقال أنس أخبرني سليمان بن يسار أن عمر كان ينيط أهل الجاهلية بهن من أدعى بهم في الإسلام فدل ذلك أنهم لم يكونوا يلحقون بهم بقول القافة فيكون قولهم كالبينة التي تشهد على ذلك فلو كان قولهم مستعملا في الإسلام كما كان مستعملا في الجاهلية إذا لما قالت عائشة إن ذلك مما هدم إذا كان قد يجب به علم أن الصبي ممن وطئ أمة من الرجال ففي نسخ ذلك دليل أن قولهم لم يجب به حكم بثبوت النسب واحتج أهل المقالة الأولى بقولهم أيضا بما

سلیمان بن یسار نے بتلایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اہل جاہلیت کو ان لوگوں کے ساتھ ملا دیتے تھے جو اسلام کے زمانہ میں ان کو دعویدار بنتا ۔ تو اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ و ہ قیافہ شناس لوگوں کے قول سے ( ان دعویٰ کرنے والوں ) کے ساتھ نہیں ملاتے تھے کہ ان کے قول کو گواہی کہیں جس سے وہ گواہی دیتے اگر زمانہ جاہلیت کی طرح اسلام میں بھی یہ طریق مستعمل ہوتا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ نہ فرماتیں کہ یہ طریقہ اسلام میں ختم ہو گیا بلکہ اس سے یہ بات معلوم کرنا ضروری تھا کہ یہ بچہ وطی کرنے والے مردوں میں سے کس کا ہے۔ تو اس کے منسوخ ہونے سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ان قیافہ شناسوں کے قول سے ثبوت نسب کا فیصلہ واجب نہیں ۔

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← أَنَسٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← مَالِكٌ فِي حَدِيثِهِ: ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَنَسٍ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6029

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6030

5708 - حدثنا يونس أخبرني يحيى بن سعيد عن سليمان بن يسار أن رجلين أتيا عمر كلاهما يدعي ولد امرأة فدعا لهما رجلا من بني كعب قائفا فنظر إليهما فقال لعمر لقد اشتركا فيه فضربه عمر بالدرة ثم دعا المرأة فقال أخبريني خبرك قالت كان هذا لأحد الرجلين يأتيها وهي في إبل أهلها فلا يفارقها حتى تظن أن قد استمر بها حمل ثم ينصرف عنها فأهراقت عليه دما ثم خلفها ذا تعني الآخر فلا يفارقها حتى استمر بها حمل لا يدري ممن هو فكبر الكعبي فقال عمر للغلام وال أيهما شئت

سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے دونوں ایک عورت کے بچے س ےمتعلق دعویٰ کر رہے تھے آپ نے بنو کعب کے ایک قیافہ شناس کو بلایا اس نے دونوں کو دیکھا اور حضرت عمر کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ دونوں اس بچے میں شریک ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو درہ سے مارا۔ پھر عورت کو بلا کر فرمایا مجھے اپنی خبر بتاؤ اس نے کہا یہ ان دو میں سے ایک کا ہے وہ اس کے پاس آیا جبکہ وہ اپنے گھریلو اونٹوں کے پاس تھی ۔ وہ اس سے جدا نہ ہوا یہاں تک کہ اس نے گمان کیا کہ اسے حمل ٹھہر گیا ہے پھر وہ اس سے پھر گیا۔ اس نے اس پر خون بہایا (حیض آیا) پھر وہ دوسرا اسکے پاس آیا وہ جدا نہ ہوا حتی کہ اسے حمل ٹھہر گیا ۔ نامعلوم یہ کس کا ہےتو کعبی قیافہ شناس نے اللہ اکبر کہا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بچے سے فرمایا سے ان میں سے جس سے چاہے مل جا۔

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6030

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6031

5709 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب عن مالك حدثه عن يحيى بن سعيد عن سليمان مثله

یحییٰ بن سعدی سے سلیمان سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

سليمان مثله ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6031

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6032

5710 - حدثنا بحر بن نصر قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن أبي الزناد عن هشام بن عروة عن أبيه عن يحيى بن حاطب عن أبيه قال اتى رجلان إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه يختصمان في غلام من ولادة الجاهلية يقول هذا هو ابني ويقول هذا هو ابني فدعا لهما عمر رضي الله عنه قائفا من بني المصطلق فسأله عن الغلام فنظر إليه المصطلق ثم قال لعمر والذي أكرمك إنهما قد اشتركا فيه جميعا فقام إليه عمر فضربه بالدرة حتى ضجع ثم قال والله لقد ذهب بك النظر إلى غير مذهب ثم دعا أم الغلام فسألها فقالت إن هذا لأحد الرجلين قد كان غلب على الناس حتى ولدت له أولادا ثم وقع بي على نحو ما كان يفعل فحملت فيما أرى فأصابني هراقة من دم حتى وقع في نفسي أن لا شيء في بطني ثم إن هذا الآخر وقع بي فوالله ما أدري من أيهما هو فقال عمر للغلام أتبع أيهما شئت فأتبع أحدهما قال عبد الرحمن بن حاطب فكأني أنظر إليه متبعا لأحدهما فذهب به وقال عمر قاتل الله أخا بني المصطلق قالوا ففي هذا الحديث أن عمر حكم بالقافة فقد وافق ما تأولنا في حديث مجزز المدلجي فكان من الحجة عليهم للآخرين أن في هذا الحديث ما يدل على بطلان ما قالوا وذلك أن فيه أن القائف قال هو منهما جميعا فلم يجعله عمر كذلك وقال له وال أيهما شئت على ما يجب في صبي أدعاه رجلان فإن أقر أحدهما كان أباه فلما رد عمر ذلك إلى حكم الصبي المدعي إذا أدعاه رجلان ولم يكن بحضرة الإمام قائف لا إلى قول القائف دل ذلك على أن القافة لا يجب بقولهم ثبوت نسب من أحد وقد روى عن عمر أيضا من وجوه صحاح أنه جعله بين الرجلين جميعا

یحییٰ بن حاطب نے اپنے والد سے نقل کیا کہ دو آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ زمانہ جاہلیت میں پیدا ہونے والے ایک بچے سے متعلق جھگڑ رہے تھے ایک کہتا تھا کہ یہ میرا لڑکا ہے اور دوسرا کہتا تھا کہ یہ میرا لڑکا ہے ۔ حضر ت عمر ( رر) نے قبیلہ بنو مصطلق کے ایک قیافہ شناس کو بلایا اور اس بچے کے متعلق دریافت کیا ۔ مصلطقی نے بچے کی طرف دیکھا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت سے نواز ا ہے یہ دونوں اس بچے میں شریک ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کی طرف اٹھے اور اس کو درہ لگایا یہاں تک کہ و ہ لیٹ گیا پھر فرمایا اللہ کی قسم ! تجھے نظر دوسری طرف لے گئی ہے پھر بچے کی ماں کو بلایا اور اس سے دریافت فرمایا اس نے کہا یہ ان میں سے ایک مرد کا ہے یہ لوگوں پر غالب آیا اور میں نے اس کے لیے کئی بچے جنے ہیں ۔ پھر وہ عادت کے مطابق مجھ سے ہم بستر ہوا میں اپنے خیال میں حاملہ ہو گئی لیکن مجھے خون آیا یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ میرے پیٹ میں کچھ بھی نہیں پھر یہ دوسرا مجھ سے ہم بستر ہو پھر اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں کہ یہ ان میں سے کس کا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لڑکے سے فرمایا ان میں سے جس کے ساتھ چاہو جاؤ۔ وہ لڑکا ایک کے ساتھ چلا گیا حضرت عبدالرحمن بن حاطب کہتے ہیں کہ گویا میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ ان میں سے ایک کے پیچھے پیچھے جا رہا ہے اور وہ اسے لے گیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا " قاتل اللہ اخابنی مصطلق" ( یہ کلمہ مدح و مذمت دونوں کے لیے ہو سکتا ہے )

أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ حَاطِبٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← بن أبي الزناد ← بن وَهْبٍ ← بحر بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6032

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6033

5711 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن توبة العنبري عن الشعبي عن بن عمر أن رجلين اشتركا في ظهر امرأة فولدت فدعا عمر القافة فقالوا أخذ الشبه منهما جميعا فجعله بينهما

شعبی نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ دو آدمی ایک عورت کی پشت میں شریک ہوئے پھر اس عورت کے ہاں بچہ پیدا ہو گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قیافہ شناسوں کو بلایا انہوں نے کہا یہ ان دونوں کے مشابہہ ہے تو آ پ نے ان دونوں کے درمیان کر دیا ( کہ جس کے ساتھ چاہے وہ بچہ چلا جائے )

أخذ الشبه منهما جميعا فجعله بينهما ← بن عمر أن رجلين اشتركا في ظهر امرأة فولدت فدعا عمر القافة ← الشَّعْبِيِّ، ← تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6033

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6034

5712 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب عن عمر نحوه قال فقال لي سعيد لمن ترى ميراثه قال هو لآخرهما موتا

قتادہ نے سعید بن مسیب سے انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے ۔ شعبی کہتے ہیں کہ مجھے سعید بن مسیب نے کہا تم بتلاؤ اس کی میراث کس کو ملے گی ۔ فرمایا جوان میں آخر میں مرے۔

هو لآخرهما موتا ← فقال لي سعيد لمن ترى ميراثه ← عُمَرَ نَحْوَهُ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6034

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6035

5713 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا سعيد بن عامر قال حدثني عوف بن أبي جميلة عن أبي المهلب أن عمر بن الخطاب قضى في رجل أدعاه رجلان كلاهما يزعم أنه ابنه وذلك في الجاهلية فدعا عمر أم الغلام المدعي فقال أذكرك بالذي هداك للإسلام لأيهما هو قالت لا والذي هداني للإسلام ما أدري لأيهما هو أتاني هذا أول الليل وأتاني هذا آخر الليل فما أدري لأيهما هو قال فدعا عمر من القافة أربعة ودعا ببطحاء فنثرها فأمر الرجلين المدعيين فوطئ كل واحد منهما بقدم وأمر المدعي فوطئ بقدم ثم أراه القافة قال أنظروا فإذا أتيتم فلا تتكلموا حتى أسألكم قال فنظر القافة فقالوا قد أثبتنا ثم فرق بينهم ثم سألهم رجلا قال فتقادعوا يعني فتبايعوا كلهم يشهد أن هذا لمن هذين قال فقال عمر يا عجبا لما يقول هؤلاء قد كنت أعلم أن الكلبة تلقح بالكلاب ذوات العدد ولم أكن اشعر أن النساء يفعلن ذلك قبل هذا إني لا أرد ما يرون اذهب فهما أبواك

ابوالمہلب سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے لڑکے کے متعلق فیصلہ فرمایا جس کے متعلق دو آدمی دعویدار تھے ان میں سے ہر ایک اپنا بیٹا خیال کرتا تھا اور یہ زمانہ جاہلیت کا عمل تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس لڑکے کی ماں کو بلایا اور فرمایا میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے تجھے اسلام کی ہدایت بخشی ۔ یہ لڑکا ان میں سے کس کا ہے اس نے کہا مجھے اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے اسلام کی ہدایت دی میں نہیں جانتی کہ وہ ان میں سے کس کا ہے ۔ اس نے کہا مجھے اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے اسلام کی ہدایت دی میں نہیں جانتی کہ وہ ان میں سے کس کا ہے یہ شخص میرے پاس رات کے پہلے حصہ میں آیا اور وہ شخص رات کے پچھلے حصہ میں آیا پس مجھے معلوم نہیں یہ کس کا ہے راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چار قیافہ شناسوں کو بلایا پھر کنکریاں منگوا کر ان کو پھیلا دیا پھر دونوں دعویٰ کرنے والوں کو ھکم دیا کہ و ہ ان پر کنکریوں پر اپنا قدم رکھ کر ان کوروندیں پھر جس بچے پر دعویٰ تھا اس کو حکم دیا کہ وہ کنکریوں کو روندے اس نے بھی روندا۔ پھر قیافہ شناسوں نے اسے دیکھا پھر فرمایا اس کو دیکھو لیکن جب واپس لوٹو تو اس وقت کلام مت کرو۔ جب تک میں کلام نہ کروں اور سوال نہ کروں ۔ راوی کہتے ہیں کہ قیافہ شناسوں نے دیکھا تو کہنے لگے ہم سمجھ گئے ۔ ہم نے محفوظ کر لیا پھر ان کو جدا کر کے ایک ایک سے دریافت کیا ۔ راوی کا بیان ہے وہ سب اس پر متفق ہو گئے ۔ اور ہر ایک نے گواہی دی کہ یہ لڑکا ان دونوں کا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں یہ بڑا عجیب ہے میں جانتا تھا کہ کتیا بہت سے کتوں سے حاملہ ہو تی ہے لیکن اس سے پہلے مجھے معلوم نہیں تھا کہ عورتیں بھی ایسا کرتی ہیں ان کی رائے کو رد نہ کرو ں گا۔ جاؤ یہ دونوں تمہارے باپ ہیں۔

أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6035

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6036

5714 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا همام بن يحيى عن قتادة عن سعيد بن المسيب أن رجلين اشتركا في ظهر امرأة فولدت لهما ولدا فارتفعا إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فدعا لهما ثلاثة من القافة فدعا بتراب فوطئ فيه الرجلان والغلام ثم قال لأحدهم أنظر فنظر فاستقبل واستعرض واستدبر ثم قال أسر أو وأعلن فقال عمر بل أسر فقال لقد أخذ الشبه منهما جميعا فما أدري لأيهما هو فأجلسه ثم قال للآخر أيضا أنظر فنظر واستقبل واستعرض واستدبر ثم قال أسر أو أعلن قال بل أسر قال لقد أخذ الشبه منهما جميعا فلا أدري لأيهما هو وأجلسه ثم أمر الثالث فنظر فاستقبل واستعرض واستدبر ثم قال أسر أم أعلن قال لقد أخذ الشبه منهما جميعا فما أدري لأيهما هو فقال عمر إنا نعرف الآثار بقولها ثلاثا وكان عمر قائفا فجعله لهما يرثانه ويرثهما فقال لي سعيد أتدري عن عصبته قلت لا قال الباقي منهما قال أبو جعفر فليس يخلو حكمه في هذه الآثار التي ذكرنا من أحد وجهين إما أن يكون بالدعوى لأن الرجلين ادعيا الصبي وهو في أيديهما فألحقه بهما بدعواهما أو يكون فعل ذلك فكان الذين يحكمون بقول القافة لا يحكمون بقولهم إذا قالوا هو بن هذين فلما كان قولهم كذلك ثبت على قولهما أن يكون قضاء عمر بالولد للرجلين كان بغير قول القافة وفي حديث سعيد بن المسيب ما يدل على ذلك وذلك أنه قال فقال القافة لا ندري لأيهما هو فجعله عمر بينهما والقافة لم يقولوا هو ابنهما فدل ذلك أن عمر أثبت نسبه من الرجلين بدعواهما ولمالهما عليه من اليد لا بقول القافة فإن قال قائل فإذا كان ذلك كما ذكرته فما كان احتياج عمر إلى القافة حتى دعاهم قيل له يحتمل ذلك عندنا والله أعلم أن يكون عمر رضي الله عنه وقع بقلبه أن حملا لا يكون من رجلين فيستحيل إلحاق الولد بمن يعلم أنه لم يلده فدعا القافة ليعلم منهم هل يكون ولد يحمل به من نطفتي رجلين أم لا وقد بين ذلك ما ذكرنا في حديث أبي المهلب فلما أخبره القافة بأن ذلك قد يكون وأنه غير مستحيل رجع إلى الدعوى التي كانت من الرجلين فحكم بها فجعل الولد ابنهما جميعا يرثهما ويرثانه فذلك حكم الدعوى لا بقول القافة وقد روى عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه في ذلك أيضا ما

قتادہ نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ علیہ سے روایت کی ہے کہ دونوں ایک عورت کی پشت میں شریک ہوئے اس نے ان دونوں کے لیے ایک بچہ جنا ۔ وہ دونوں اپنا مقدمہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لائے ۔ آپ نے تین قیافہ شناسوں کو بلایا اور مٹی منگوائی ان دونوں آدمیوں اور اس لڑکے نے اس مٹی کو روندا پھر ان میں سے ایک قیافہ شناس سے فرمایا دیکھو ! میں نے دیکھا وہ آگے بڑھا ۔ دائیں باہیں پھر ا اور پیچھے ہٹا پھر کہا کہ پوشیدہ کہوں یا اعلانیہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پوشیدہ کہو ۔ اس نے کہا اس کی ان دونوں کے ساتھ مشابہت ہے ۔ مگر یہ معلوم نہیں کہ یہ ان میں سے کس کا ہے آپ نے اس کو بھی بٹھا دیا پھر تیسرے کو حکم فرمایا اس نے دیکھا آگے بڑھا اور ادھر ادھر ہوا اور پیچھے ہٹا پھر کہنے لگا کہ پوشیدہ کہو یا اعلانیہ ۔ آپ نے فرمایا ظاہر کہو ۔ ا س نے کہا یہ ان دونوں سے سے مشابہت رکھتا ہے ۔ مجھے معلوم نہیں یہ ان دونوں میں سے کس کا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نشانات کی پہچان رکھتے ہیں اور آپ بھی قیافہ شناس تھے آپ نے یہ بچہ دونو ں کا قرار دیا وہ دونوں اس کے وارث ہوں گے اور وہ ان دونوں کا وارث ہو گا ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ سعید بن مسیب مجھ سے فرمانے لگے تم بتاؤ اس کا وارث کون ہے میں نے کہا مجھے معلوم نہیں تو آپ نے فرمایا جو ان میں سے زندہ رہے گا۔ امام طحاوی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ ہم نے جو روایات بیان کی ہیں ان میں حکم کی دو صورتیں ہیں ۔ نمبر1۔ دعویٰ کے ساتھ ہو گا کیونکہ دونوں مردوں نے بچے کا دعویٰ کیا جبکہ وہ ان کے قبضہ میں تھا توحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو گا کیونکہ دونوں مردوں نے بچے کا دعویٰ کیا جبکہ وہ ان کے قبضہ میں تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی وجہ سے ان کے ساتھ ملا دیا ۔ نمبر2۔ آ پ نے بذات خو د یہ فیصلہ فرمایا تو گویا وہ لوگ جو قیافہ شناسوں کے قول کے مطابق فیصلہ کرتے تھے وہ ان کے قول پر اس صورت میں فیصلہ نہیں کرتے تھے جبکہ وہ یہ کہیں کہ وہ یہ کہیں کہ وہ ان کا بیٹا ہے تو جب ان کے قول کی یہ صورت ہے تو ان دونوں کے قول کے مطابق ثابت ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ قیافہ شناسوں کے قول کے بغیر تھا اور روایت ابن مسیب میں ایسی بات ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے وہ اس طرح کہ قیافہ شناس کہنے لگے ہم نہیں جانتے کہ یہ کس کا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ان دونوں کاقرار دیا ھالانکہ قیافہ والوں نے یہ نہ کہا تھا کہ دونوں کا بیٹا ہے ۔ پس اس سے ثبوت میسر آگیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس لڑکے کا نسب دونوں کے ساتھ اس لیے ثابت کیا کیونکہ وہ دونوں مدعی تھے اور دونوں کا اس پر قبضہ تھا ۔ قیافہ شناسوں کے قول کی وجہ سے نہیں اگر بات اس طرح ہے جس طرح آپ نے کہی تو پھر قیافہ شناسوں کو بلانے کی چنداں حاجت نہ تھی ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ اس بات کا احتمال ہے واللہ اعلم کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ بات آئی ہو کہ یہ حمل ان دونوں سے نہیں ہے پس بچے کو ایسے شخص سے ملانا جس سے وہ پیدا نہ ہوا ہوناممکن ہے پس آپ نے قیافہ والوں کو بلایا تا کہ ان سے معلوم کر لیں کہ کیا دو آدمیوں کے نطفہ سے ٹھہرنے والا حمل بھی بچہ بن جاتا ہے یا نہیں اور یہ بات ابوالمہلب والی روایت میں بیان ہوئی ہے جومذکور ہوئی جب قیافہ والوں نے یہ خبر دی کہ کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے اور یہ ناممکن نہیں ہے تو آپ نے اس دعویٰ کی طرف رجوع کیا جو ان دونوں کے درمیان تھا اور اس کے مطابق فیصلہ فرما دیا اور بچہ ان دونوں کے لیے قرار دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول بھی اس کی تائید کرتا ہے ۔ ملاحظہ ہو ۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6036

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6037

5715 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص عن سماك عن مولى لبني مخزومة قال وقع رجلان على جارية في طهر واحد فعلقت الجارية فلم يدر من أيهما هو فأتيا عمر يختصمان في الولد فقال عمر ما أدري كيف اقضي في هذا فأتيا عليا فقال هو بينكما يرثكما وترثانه وهو للباقي منكما فهذا حكم بالولد لمدعييه جميعا فجعله ابنهما ولم يحتج في ذلك إلى قول القافة وبهذا نأخذ وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله

سماک نے مولیٰ نبی مخزومہ سے روایت کی ہے کہ دو آدمی ایک لونڈی پر ایک ہی طہر میں جا پڑے لونڈی ھاملہ ہو گئی یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کس کا ہے وہ دونوں بچے کے متعلق جھگڑا لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے معلوم نہیں میں ان کے مابین کیسے فیصلہ کروں تم دونوں علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ و ہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا یہ بچہ تم دونوں کے درمیان مشترک ہے وہ تمہارا وارث ہو گا اور تم دونوں میں سے بعد میں زندہ رہنے والے کے لیے اس کی وارثت ہے ۔ یہ اس بچےکا حکم ہے جس کے متعلق دونوں دعویٰ رکھتے ہوں کہ اس کو دونوں کا بیٹا قرار دیا اور انہوں نے قیافہ شناسوں کی کوئی ضرورت نہ سمجھی ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں ۔ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف، محمد رحمہم اللہ کا قول ہے ۔

مولى لبني مخزومة ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6037

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 9 باب الرجل يبتاع سلعة في قبضها ثم يموت وثمنها عليه دين ) · حديث 6038

5716 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن عمر بن عبد العزيز عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أيما رجل أفلس فأدرك رجل ماله بعينه فهو أحق به من غيره

ابو بکر بن عبدالرحمن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی مفلس ہو جائے پھر فروخت کرنے والا آدمی اپنا مال اسی حالت میں پائے تو وہ اس کا دوسرے قرض خواہوں کی بنسبت زیادہ حقدار ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6038

chevron_left Previous
1…192021…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter