شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 8 باب الولد يدعيه الرجلان كيف الحكم فيه ) · حديث 6027
5706 - حدثنا بن داود قال أخبرني عروة بن الزبير أن عائشة رضي الله عنها أخبرته أن النكاح كان في الجاهلية على أربعة أنحاء فمنه أن يجتمع الرجال العدد على المرأة لا تمتنع ممن جاءها وهن البغايا وكن ينصبن على أبوابهن رايات فيطؤها كل من دخل عليها فإذا حملت ووضعت حملها جمع لهم القافة فأيهم ألحقوه به كان أباه ودعي ابنه لا يمتنع من ذلك فلما بعث الله عز و جل محمدا صلى الله عليه و سلم بالحق هدم ذلك النكاح الذي كان يكون فيه ذلك الحكم وأقر الناس على النكاح الذي لا يحتاج فيه إلى قول القافة وجعل الولد لأبيه الذي يدعيه فيثبت نسبه بذلك ونسخ الحكم المتقدم الذي كان يحكم فيه بقول القافة وقد كان أولاد البغايا الذين ولدوا في الجاهلية من أدعى أحدا منهم في الإسلام لحق به
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ زمانہ جاہلیت میں نکاح چار قسم کا ہوتا تھا ۔ 1۔ کئی آدمی ایک عورت کے پاس جاتے وہ کسی کو بھی اپنے سے منع نہ کرتی یہ زانیہ عورتوں کا طریق کا ر تھا ۔ وہ اپنے دروازوں پر بطور نشان جھنڈے لگاتی تھیں ہر جانے والا ان سے وطی کرتا جب کسی سے حمل ٹھہر جاتا پھر وہ بچہ جنتی تو قیافہ شناس جمع ہو کر اس بچے کو کسی کے ساتھ ملا دیتے وہی اس کا باپ شمار ہوتا تھا اور وہ اس کا بچہ کہلا تا اس سے نسبت سے منع نہ کیا جاتا تھا جب جب اللہ تعالیٰ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا تو آپ نے اس قسم نکاح کو ختم کر دیا آپ نے اس نکاح کو برقرار رکھا جس میں کسی قیافہ شناس کی کوئی حاجت نہ تھی ۔ بچہ اس کے والد کے لیے قرار دیا جاتا جو اس کا مدعی ہوتا تھا اور اسی سے اس کا نسب ثابت ہوتا اور وہ پہلا حکم جس میں قیافہ شناس کے دل سے فیصلہ ہوتا آپ نے اس کو منسوخ کر دیا اور ان زانیہ عورتوں کی جو اولاد دور جاہلیت میں پیدا ہوئی اسلام میں جس نے اس کا دعویٰ کیا اس کے سات اس کو ملا دیا گیا ۔
عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← بن داود
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6027
