شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 7 باب الوالد هل يملك مال ولده أم لا ) · حديث 6015
5695 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما نفعني مال قط ما نفعني مال أبي بكر فقال أبو بكر رضي الله عنه إنما أنا ومالي لك يا رسول الله فلم يرد أبو بكر بذلك أن ماله ملك للنبي صلى الله عليه و سلم دونه ولكنه أراد أن أمره ينفذ فيه وفي نفسه فكذلك قوله أنت ومالك لأبيك فهو على هذا المعنى أيضا والله أعلم وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم حرم أموال المسلمين كما حرم دماؤهم ولم يستثن في ذلك والدا ولا غيره فمما روى عنه في ذلك ما
ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کسی کے مال نے اتنا فائدہ نہیں دیا جتنا کہ ابو بکر کے مال نے فائدہ دیا تو اس پر ابو بکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اور میرا مال آپ ہی کا ہے ۔ اس سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی مراد یہ نہیں کہ ان کا مال انکی ملکیت سے نکل کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں داخل ہو گیا اور ان کی اپنی ملک اس پر نہیں رہی ۔ بلکہ اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ آپ کا حکم اس مال اور جان میں نافذ ہے ۔ اسی طرح جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی کہ تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے ۔ کا بھی یہ مفہوم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے مال کو اسی طرح قابل احترام قرار دیا جیسا کہ ان کے خون کو قابل عزت قرار دیا اور اس سلسلے میں والد وغیرہ کو مستثنیٰ نہیں فرمایا حرمت مال و خون کی روایات یہ ہیں ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6015
