شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب قال الله سبحانه وتعالى : ( فلا تخشوا الناس واخشون ) · حديث 4218
4218 - أخبرنا ابن عبد القاهر ، أنا عبد الغافر بن محمد ، أنا محمد ابن عيسى الجلودي ، نا إبراهيم بن محمد بن سفيان ، نا مسلم بن صفحة رقم 7 الحجاج ، نا محمد بن عبد الله بن نمير ، نا أبو خالد يعني سليمان بن حيان ، عن سعد بن طارق ، عن ربعي بن حراش عن حذيفة قال : كنا عند عمر فقال : أيكم سمع رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) يذكر الفتن ؟ فقال قوم : نحن سمعناه ، فقال : لعلكم تعنون فتنة الرجل في أهله وماله وجاره ؟ قالوا : أجل : قال : تلك يكفرها الصلاة والصيام والصدقة ، ولكن أيكم سمع النبي ( صلى الله عليه وسلم ) يذكر التي تموج موج البحر ؟ قال حذيفة : فأسكت القوم ، فقلت : أنا ، فقال : أنت لله أبوك ، قال حذيفة : سمعت رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) يقول : " تعرض الفتن على القلوب كالحصير عود عود ، فأي قلب أشربها ، نكتت فيه نكتة سوداء ، وأي قلب أنكرها ، نكتت فيه نكتة بيضاء حتى يصير على قلبين أبيض مثل الصفا ، فلا تضره فتنة ما دامت السماوات والأرض ، والآخر أسود مربادا كالكوز مجخيا لا يعرف معروفا ، ولا ينكر منكرا إلا ما أشرب من هواه قال حذيفة : وحدثته أن بينك وبينها بابا مغلقا يوشك أن يكسر ، قال عمر : أكسرا لا أبا لك ، فلو أنه فتح لعله كان يعاد ، قال : لا بل يكسر ، وحدثته أن ذلك الباب رجل يقتل صفحة رقم 8 أو يموت حديثا ليس بالأغاليط ، قال أبو خالد : فقلت لسعد : يا أبا مالك ما أسود مربادا ؟ قال : شدة البياض في سواد ، قال : قلت فما الكوز مجخيا ؟ قال : منكوسا. هذا حديث صحيح. وروى بعضهم مربدا ، قال أبو عبيد الربدة : لون بين السواد والغبرة. وروى شقيق عن حذيفة بعض هذا الحديث ، وقال : إن بينك وبينها بابا مغلقا ، قال : يعني عمر أيكسر أم يفتح ؟ قال : يكسر قال : إذا لا يغلق أبدا. قلنا : أكان عمر يعلم الباب ؟ قال : نعم كما أن دون الغد الليلة إني حدثته بحديث ليس بالأغاليط ، فهبنا أن نسأل حذيفة ، فأمرنا مسروقا فسأله ، فقال : الباب عمر. قوله : " تعرض الفتن على القلوب كالحصير " قال بعضهم : أي : تحيط بالقلوب ، يقال : حصر به القوم ، أي : أطافوا به ، وقال الليث : حصير الجنب : عرق يمتد معترضا على جنب الدابة إلى ناحية بطنها شبهها بذلك ، ويقال الحصير : السجن ، والمجخي : المائل.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہا: تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا۔ بعض لوگوں نے کہا: ہاں ہم نے سنا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: شاید تم فتنوں سے وہ فتنے سمجھے ہو جا آدمی کو اس کے گھر بار اور مال اور ہمسائے میں ہوتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ان فتنوں کا کفارہ تو نماز، روزے اور زکوٰۃ سے ہو جاتا ہے لیکن تم میں سے کس نے سنا ہے ان فتنوں کے بارے میں جو سمندر کی موجوں کی طرح امنڈ کر آئیں گے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: یہ سن کر سب لوگ چپ ہو رہے ۔ میں نے کہا: میں نے سنا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: تو نے سنا ہے، تیرا باپ بہت اچھا تھا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے:" فتنے دلوں پر ایسے آئیں گے کہ ایک کے بعد ایک، ایک کے بعد ایک، جیسے چٹائی کی تیلیاں ایک کے بعد ایک ہوتی ہیں۔ پھر دل میں وہ فتنہ رچ جائے گا تو اس میں ایک کالا داغ پیدا ہو گا اور جو اس کو نہ مانے گا اس میں ایک سفید نورانی دھبہ ہو گا ۔ یہاں تک کہ اس طرح کالے اور سفید دھبے ہوتے ہوتے دو قسم کے دل ہو جائیں گے ایک تو خالص سفید دل چکنے پتھر کی طرح جس کو کوئی فتنہ نقصان نہیں پہنچائے گا جب تک کہ آسمان و زمین قائم رہیں۔ دوسرا کالا سفیدی مائل یا اوندھے کوزے کی طرح جو نہ کسی اچھی بات کو اچھی بات سمجھے گا، نہ بری بات کو بری مگر وہی جو اس کے دل میں بیٹھ جائے۔" سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: پھر میں نے سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ تمہارے اور اس فتنے کے درمیان ایک دروازہ ہے جو بند ہے مگر قریب ہے کہ وہ ٹوٹ جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا: تیرا باپ نہ رہے کیا(دروازہ) ٹوٹ جائے گا۔ اگر کھل جاتا تو شاید پھر بند ہو جاتا ۔ میں نےکہا: نہیں ٹوٹ جائے گا اور میں نے ان سے حدیث بیان کی کہ یہ دروازہ ایک شخص ہے جو مارا جائے گا یا مر جائے گا۔ پھر یہ حدیث کوئی غلط (دل سے بنائی ہوئی بات) نہ تھی۔ ابو خالد نے کہا: میں نے سعد بن طارق سے پوچھا : اسود مرباد سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: سفید کی شدت ، سخت سیاہی۔ میں نے کہا: کالکوز مجخیا سے کیا مراد ہے؟ انہوں نےکہا: الٹا کوزا۔
حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، ← أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مسلم بن صفحة رقم الحجاج ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ ← محمد ابن عيسى الجلودي ← عبد الغافر بن محمد ← ابن عبد القاهر
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Chapter: God Almighty said: (Do not be afraid of people and be afraid) · Hadith 4218
