شرح السنة للبغوي · كتاب الصلاة ‹ ( باب سجود التلاوة في الصلاة · حديث 767
767 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا مسدد ، نا معتمر ، قال سمعت أبي ، حدثني بكر ، عن أبي رافع قال : صليت مع أبي هريرة العتمة فقرأ : ) إذا السماء انشقت ( فسجد ، فقلت : ما هذه ؟ قال : سجدت بها خلف أبي القاسم ( صلى الله عليه وسلم ) ، فلا أزال أسجد فيها حتى ألقاه. هذا حديث متفق على صحته أخرجه مسلم عن عبيد الله بن معاذ وغيره ، عن المعتمر.
جناب ابو رافع کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی، آپ نے سورة (اِذَا السَّمَاءُ انشَقَّت)پڑھی اور سجدہ تلاوت کیا، میں نے کہا: آپ نے یہ کیا کیا؟ انھوں نے کہا: میں نے یہ سجدہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے کیا تھا۔ میں یہ سجدہ کرتا رہوں گا تاآنکہ فوت ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مل جاؤں۔
أَبِي رَافِعٍ ← بَكْرٌ، ← أَبِي ← مُعْتَمِرٌ ← مُسَدَّدٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · prayer book › (Chapter on the prostration of recitation in prayer · Hadith 767
