شرح السنة للبغوي · كتاب الجمعة ‹ باب فضل سورة البقرة وآل عمران · حديث 1190
1190 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أبو منصور محمد ابن محمد بن سمعان ، نا أبو جعفر محمد بن أحمد بن عبد الجبار ، نا حميد بن زنجوية ، نا أبو نعيم ، نا بشير بن المهاجر الغنوي ، نا عبد الله بن بريدة. عن أبيه قال : كنت جالسا عند النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، فسمعته يقول : " تعلموا سورة البقرة ، فإن أخذها بركة ، وتركها حسرة ، ولا يستطيعها البطلة " ثم سكت ساعة ، ثم قال : " تعلموا سورة البقرة وآل عمران ، فإنهما الزهراوان ، وإنهما تظلان صاحبهما يوم القيامة ، كأنهما غمامتان ، أو غيايتان ، أو فرقان من طير صواف ، وإن القرآن يأتي صاحبه يوم القيامة حين ينشق عنه قبره كالرجل الشاحب ، فيقول له : هل تعرفني ؟ فيقول : ما أعرفك ، فيقول : أنا صاحبك القرآن الذي أظمأتك بالهواجر ، وأسهرت ليلك ، وإن كل تاجر من وراء تجارته ، وإنك اليوم من صفحة رقم 454 وراء كل تجارة ، فيعطي الملك بيمينه ، والخلد بشماله ، ويوضع على رأسه تاج الوقار ، ويكسى والداه حلتين لا يقوم لهما أهل الدنيا ، فيقولان : بم كسينا هذا ؟ فيقال لهما : بأخذ ولدكما القرآن ، ثم يقال : اقرأ واصعد في درج الجنة وغرفها ، فهو في صعود ما دام يقرأ هذا كان أو ترتيلا ". هذا حديث حسن غريب. صفحة رقم 455 وقوله : " يعطي الملك بيمينه " لم يرد به أن شيئا يوضع في يديه ، وإنما أراد به : يجعل له الملك والخلد ، ومن جعل له شيء ملكا ، فقد جعل في يده ، ويقال : هو في يدك وكفك ، أي ، استوليت عليه. وأخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الصمد الترابي ، أخبرنا الحاكم أبو الفضل محمد بن الحسين الحدادي ، أنا أبو يزيد محمد بن يحيى بن خالد ، أنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي ، أنا أبو نعيم بإسناد حميد بن زنجوية مثله سواء ، وقال : " وإن القرآن يلقى صاحبه " ولم يقل : " يأتي " ولم يقل قوله : " فيقولان : بم كسينا هذا ، فيقال لهما : بأخذ ولد كما القرآن " وذكر ما بعده. وصح عن أبي هريرة أن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قال : " إن الشيطان ينفر من البيت الذي يقرأ فيه سورة البقرة ".
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا،میں نے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :"سورۃ بکرہ سیکھو!اسے سیکھنا باعث برکت ہے اور چھوڑنا باعث حسرت ہے،جادو گر اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتے ۔"آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے لمحہ بھر خاموشی کےبعد فرمایا :"سورۃ بکرہ اور سورۃ آل عمران سیکھو،یہ دونوں چمکنے اور روشن ہونے والیاں ہیں،قیامت کے روز یہ دونوں سورتیں اپنے پڑھنے والوں پر سایہ کررہی ہوں گی جیسے دونوںبدلیاں یا چھتریاں ہوں یا جیسے قطار باندھے پرندوں کی ٹولیاں ہوں،قیامت کے روز جب قرآن پڑھنے والے کی قبر شق ہو گی تو قرآن مجید اس سے نحیف و نزار آدمی کی شکل میں ملاقات کرے گااور پوچھے گا:کیا تو مجھے پہچانتا ہے ؟قرآن پڑھنے والا کہے گا کہ میں تجھے نہیں پہچانتا ،تو قرآن کہے گا میں تیرا ساتھی قرآن ہوں جس نے سخت گرمی کی دوپہروں میں تجھے پیاسا رکھا اور راتوں کو جگایا ،بلا شبہ ہر تاجر نفع حاصل کرنے کے لیے تجارت کرتا ہے اور آج تو ہر دوسری تجارت سے بے نیاز ہے ،چناچہ اس کے داہنے ہاتھ میں بادشاہت اور بائیں ہاتھ میں ہمیشگی کا پروانہ تھما دیا جائے گااور اس کے سر پر عزت اور وقار کا تاج رکھا جائے گااور اس کے ماں باپ کو دو قیمتی لباس پہنائے جائیں گے جس کے سامنے دنیا کی ساری دولت ہیچ ہوگی ،قاری کے والدین عرض کریں گے :یہ لباس ہمیں کس عمل کی وجہ سے پہنایا گیا ؟انہیں بتایا جائے گا کہ تمھارے بیٹے کے قرآن سیکھنے کی وجہ سے ۔پھر قاری سے کہا جائے گا:قرآن پڑھتا جا اور جنت کے بلند وبالا درجات چڑھتا جا ،چناچہ جب تک قاری تلاوت کرتا رہے گا درجات چڑھتا جائے گا خواہ تیز پڑھے یا آہستہ ۔"
أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الْغَنَوِيُّ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← أبو جعفر محمد بن أحمد بن عبد الجبار ← أبو منصور محمد ابن محمد بن سمعان ← عبد الواحد بن أحمد المليحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · Friday book › Chapter virtue of Surat Al-Baqara and the family of Imran · Hadith 1190
