شرح السنة للبغوي · ( أبواب النوافل ‹ باب صلاة التسبيح · حديث 1018
1018 - أخبرنا أحمد بن عبد الله الصالحي ، أنا أبو بكر أحمد بن الحسن الحيري ، أنا حاجب بن أحمد الطوسي ، نا محمد بن رافع ، أنا إبراهيم بن الحكم بن أبان ، حدثني أبي. عن عكرمة أن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قال : " يا عباس ، يا عم رسول الله ، ألا أهدي لك ، ألا أمنحك ، ألا أزودك ، ألا أهب لك ، ألا أعطيك ، ألا أحبوك : صل أربع ركعات من ليل شئت أو نهار ، فإذا كبرت فاقرأ ما شئت ، وإذا فرغت من قراءتك ، فقل خمس عشرة مرة : الحمد لله ، وسبحان الله ، ولا إله إلا الله ، والله أكبر ، ثم اركع ، فإذا ركعت ، قلت وأنت راكع عشر مرات : الحمد لله ، وسبحان الله ، ولا إله إلا الله ، والله أكبر ، ثم ارفع رأسك ، فقل عشر مرات قبل أن تخر ساجدا ، ثم اسجد فقلها عشرا وأنت ساجد ، ثم ارفع رأسك ، فقلها عشرا ، ثم اسجد الثانية ، فقلها عشرا وأنت ساجد ، ثم ارفع صفحة رقم 157 رأسك فقلها عشرا قبل أن تقوم ، ثم قم فاقرأ كما قرأت ، ثم قلها خمس عشرة مرة بعد أن تقرأ ، ثم قلها عشرا عشرا كما قلت في الركعة الأولى ، ثم الباقيتين ، فإنه يغفر لك ذنبك صغيرة وكبيره ، وحديثه وقديمه ، وعمده وجهله ، وسره وعلانيته كلها ، إن استطعت كل يوم مرة ، وإلا ففي كل جمعة مرة ، وإلا ففي كل شهر مرة ، وإلا ففي كل سنة مرة ، وإلا ففي كل عمرك من الدنيا مرة واحدة ". ذكر أبو داود السجستاني في " سننه " حديث صلاة التسبيح عن عبد الرحمن بن بشر بن الحكم النيسابوري ، عن موسى بن عبد العزيز ، عن الحكم بن أبان ، عن عكرمة ، عن ابن عباس ، عن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) وقال : " سبحان الله ، والحمد لله ، ولا إله إلا الله ، والله أكبر ". صفحة رقم 158 وقد روى ابن المبارك وغير واحد من أهل العلم صلاة التسبيح ، وذكروا الفضل فيه. وسئل عبد الله بن المبارك عن صلاة التسبيح ، فذكرها ، غير أنه ذكر خمس عشرة مرة قبل القراءة ، وعشرا بعد قراءة الفاتحة والسورة ، ولم يذكر بعد السجدتين قبل القيام ، وقال : فإن صلى ليلا ، فأحب إلي أن يسلم في الركعتين ، وإن صلى نهارا ، فإن شاء سلم ، وإن شاء لم يسلم ، وقال : يبدأ في الركوع بسبحان ربي العظيم ، وفي السجود بسبحان ربي الأعلى ، ثم يسبح التسبيحات ، فقيل له : إن سها فيها يسبح في سجدتي السهو عشرا عشرا ؟ قال : لا إنما هي ثلاثمائة تسبيحة.
جناب عکرمہ (تابعی ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : " اے عباس! اے اللہ کے رسول کے چچا جان! کیا میں آپ کو ایک ہدیہ نہ دوں ؟ کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں؟ کیا میں آپ کو زادراہ نہ دوں؟ کیا میں آپ کو کوئی چیز ہبہ نہ کروں؟ کیا میں آپ کو کوئی چیز نہ دوں؟ کیا میں آپ کو تحفہ نہ دوں؟ ( اے چچا) آپ چار رکعت پڑھیں دن اور رات میں جب چاہیں ، اس طرح جب آپ اللہ اکبر کہیں تو جو چاہے پڑھیں، پھر جب (پہلی رکعت میں قراءت کر لیں پندرہ مرتبہ تسبیح پڑھیں۔(الحمد للہ و سبحان اللہ ، ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر)پھر رکوع کریں اور حالت رکوع میں دس بار یہی تسبیح پڑھیں ، پھر رکوع سے سر اٹھائیں اور دس بار یہی تسبیح پڑھیں سجدہ کرنے سے پہلے ، پھر سجدہ کریں اور سجدے میں دس بار یہ پڑھیں ، پھر سجدے سے سر اٹھائیں تو یہی تسبیح دس بار پڑھیں ، پھر دوسرا سجدہ کریں تو اس میں بھی دس بار پڑھیں ، پھر سر اٹھائیں تو دس بار پڑھیں ، دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے ۔ پھر آپ دوسری رکعت کا قیام کریں اور اس میں یہ تسبیحات پڑھیں جیسے پہلی رکعت میں پڑھی تھیں اور قراءت سے فارغ ہو کر پندرہ بار یہ تسبیح پڑھیں، اس کے بعد (ہر رکن میں) دس دس بار پڑھیں ، جیسے آپ نے پہلی رکعت میں پڑھیں ، مزید رکعت میں بھی ایسے ہی پڑھیں ، یقیناً بخشے جائیں گے آپ کے چھوٹے ، بڑے نئے ، پرانے ، جان کر کیے ہوئے اور ناوقفی سے کیے ہوئے ، چھپ کر کیے ہوئے اور ظاہر کیے ہوئے سارے کے سارے گناہ، اگر ہمت ہو تو ہر روز پڑھا کریں ، اگر ہر روز نہ پڑھ سکیں تو ہر ہفتے میں ایک بار ، اگر ہفتے میں نہ پڑھ سکیں تو مہینے میں ایک بار پڑھیں ، اگر یہ نہ کر سکیں تو سال میں ایک بار پڑھیں ، اگر سال میں بھی نہ پڑھ سکیں تو اپنی اپنی زندگی میں ایک بار پڑھیں ۔"
عِكْرِمَةَ، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ← أبو بكر أحمد بن الحسن الحيري، ← أحمد بن عبد الله الصالحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (Sections of redundancy › Chapter of praise prayers · Hadith 1018
