شرح السنة للبغوي · كتاب الجمعة ‹ باب جمع القرآن · حديث 1230
1230 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أخبرنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أخبرنا محمد بن يوسف ، أخبرنا محمد بن إسماعيل ، أخبرنا محمد بن عبيد الله أبو ثابت ، نا إبراهيم بن سعد ، عن ابن شهاب ، عن عبيد بن السباق. عن زيد بن ثابت قال : بعث إلي أبو بكر لمقتل أهل اليمامة ، وعنده عمر ، قال أبو بكر : إن عمر أتاني ، فقال : إن القتل قد استحر يوم اليمامة بقراء القرآن ، وإني أخشى أن يستحر القتل بقراء القرآن في المواطن كلها ، فيذهب قرآن كثير ، وإني أرى أن تأمر بجمع القرآن ، قلت : كيف أفعل شيئا لم يفعله رسول الله [ ] ؟ فقال عمر : هو والله خير ، فلم يزل عمر يراجعني صفحة رقم 514 في ذلك حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدر عمر ، ورأيت في ذلك الذي رأى عمر ، قال زيد : قال أبو بكر : وإنك رجل شاب عاقل لا نتهمك ، قد كنت تكتب الوحي ل رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فتتبع القرآن واجمعه ، قال زيد : فوالله لو كلفني نقل جبل من الجبال ما كان بأثقل علي مما كلفني من جمع القرآن ، قلت : كيف تفعلان شيئا لم يفعله رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ؟ قال أبو بكر : هو والله خير ، فلم يزل يحث مراجعتي حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدر أبي بكر ، وعمر ، ورأيت في ذلك الذي رأيا ، فتتبعت القرآن أجمعه من العسب ، والرقاع ، واللخاف ، وصدور الرجال ، قال : فوجدت آخر سورة التوبة : ) لقد جاءكم رسول.... ( إلى آخرها مع خزيمة ، أو أبي خزيمة صفحة رقم 515 فألحقتها في سورتها ، وكانت الصحف عند أبي بكر حياته حتى توفاه الله ، ثم عند عمر حياته حتى توفاه الله ، ثم عند حفصة بنت عمر. قال محمد بن إسماعيل : ثنا موسى بن إسماعيل ، عن إبراهيم بن سعد ، ثنا ابن شهاب بهذا الإسناد مثله ، وقال : " مع أبي خزيمة الأنصاري " وقال محمد بن إسماعيل : أخبرنا أبو اليمان ، أنا شعيب ، عن الزهري بهذا الإسناد ، وقال : " مع خزيمة الأنصاري ". هذا حديث صحيح. قوله : " استحر القتل " أي : كثر واشتد ، وينسب المكروه إلى الحر ، والمحبوب إلى البرد ، ومنه المثل : ول حارها من تولى قارها. والعسب : جمع عسيب وهو سعف النخل. واللخاف قال أبو عبيد : واحدتها لخفة ، وهي حجارة بيض رقاق.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نےمجھے بلا بھیجا ۔اس وقت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے ،سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا :عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور انہوں کہا :یمامہ کی جنگ میں بہت بڑی تعداد قرآن کے قاریوں کی شہید ہو گئی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ اگر اسی طرح کفار کے ساتھ جنگوں میں قرآن مجید کے قرا قتل ہوتے رہے تو یوں قرآن کے جاننے والوں کی بہت بڑی تعداد ختم ہو جائے گی ،اس لیے میرا خیال ہے کہ آپ قرآن مجید کو (باقائدہ کتابی شکل میں )جمع کرنے کا حکم دے دیں ۔میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں ایک ایسا کام کس طرح کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اپنی زندگی میں نہیں کیا ؟سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا :اللہ کی قسم !یہ تو ایک کارخیر ہے ۔عمر رضی اللہ عنہ یہ بات مجھ سے بار بار کہتے رہے ،آخر اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ میں میرا سینہ کھول دیا جس میں عمر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھلا تھا اور اب میری بھی وہی رائے ہوگئی ہے جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تھی ۔سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا :آپ (زید رضی اللہ عنہ)جوان اور عقلمند ہیں ،آپ کو معاملہ میں مہتم بھی نہیں کیا جاسکتا اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی وحی لکھتے بھی رہے ہیں ،اس لیے آپ قرآن مجید کو پوری تلاش اور محنت کے ساتھ ایک جگہ جمع کردیں ۔(زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :)اللہ کی قسم ! اگر وہ (ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ)مجھے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ہٹانے کےلیئے کہتےتو میرے لیئے یہ کام اتنا مشکل نہیں تھا جتنا کہ ان کا یہ حکم کہ میں قرآن مجید کو جمع کروں ۔میں نے کہا :آپ لوگ ایک ایسے کام کو کرنے کی ہمت کیسے کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے خود نہیں کیا ؟سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا :اللہ کی قسم ! یہ ایک عمل خیر ہے ۔سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ یہ جملہ برابر دہراتے رہے ،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا بھی ان کی اور عمر رضی اللہ عنہ کی طرح سینہ کھول دیا اور میری بھی وہی رائے ٹھہری جو ان دونوں بزرگوں کی تھی چناچہ میں نے قرآن مجید کی تلاش شروع کردی اور قرآن مجید کو کھجور کی چھلی ہوئی شاخوں ،چمڑے کے ٹکڑوں ،پتلے اور سفید پتھروں سے (جن پر قرآن لکھا گیا تھا )اور لوگوں کے سینوں کی مدد سے جمع کرنے لگا۔سورہ توبہ کی آخری آیت (لقد جا کم رسول من انفسکم)مجھے سیدنا خزیمہ یا ابو خزیمہ رضی اللہ عنہ کے پاس لکھی ہوئی ملی تو میں نے اس کو سورۃ توبہ کے ساتھ لگا دیا ۔جمع کے بعد قرآن کے یہ صحیفے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ تھے ،پھر ان کی وفات کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے ،جب تک کہ وہ زندہ رہے ،پھر وہ ام المومنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ رہے۔
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · Friday book › Chapter of collecting the Qur’an · Hadith 1230
