شرح السنة للبغوي · ( كتاب الدعوات ) ‹ ( باب أدب الدعاء ورفع اليدين فيه · حديث 1398
1398 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا محمد ابن العلاء ، نا أبو أسامة ، عن بريد بن عبد الله ، عن أبي بردة عن أبي موسى قال : لما فرغ النبي ( صلى الله عليه وسلم ) من حنين بعث أبا عامر على جيش إلى أوطاس ، وبعثني مع أبي عامر ، فرمي أبو عامر في ركبته ، رماه جشمي بسهم فأثبته في ركبته ، فنزعته فنزا منه الماء ، قال : يا ابن أخي أقريء النبي ( صلى الله عليه وسلم ) السلام ، وقل له : استغفر لي ، فمكث يسيرا صفحة رقم 201 ثم مات ، فرجعت ، فدخلت على النبي ( صلى الله عليه وسلم ) في بيته على سرير مرمل ، وعليه فراش قد أثر رمال السرير بظهره وجنبيه ، فأخبرته بخبرنا وخبر أبي عامر ، وقال : قل له : استغفر لي ، فدعا بماء ، فتوضأ ثم رفع يديه وقال : " اللهم اغفر لعبدك أبي عامر " ورأيت بياض إبطيه ، ثم قال : " اللهم اجعله يوم القيامة فوق كثير من خلقك من الناس " فقلت : ولي فاستغفر ، فقال : " اللهم اغفر لعبد الله بن قيس ذنبه ، وأدخله يوم القيامة مدخلا كريما ". هذا حديث متفق على صحته أخرجه مسلم أيضا عن أبي كريب صفحة رقم 202 محمد بن العلاء.
سیدنا ابو موسی ٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم غزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو ابو عامر رضی اللہ عنہ کو امیر لشکر بنا کر اوطاس کی جانب روانہ فرمایا اور مجھے بھی ابو عامر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بھیج دیا ،ابو عامر رضی اللہ عنہ کو گھٹنے میں تیر لگا ،بنو حشم کے ایک شخص نے تیر مارا جوان کے گھٹنے میں پیوست ہو کر رہ گیا ،میں نے اسے کھینچا تو گھٹنے کا پانی بہہ نکلا ،انہو ں نے کہا :اے بھتیجے !نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو میرا سلام کہنا اور یہ التماس کرنا کہ آپ میرے لیئے مغفرت کی دعا فرمادیں ،تھوڑی دیر زندہ رہنے کے بعد وہ فوت ہوگئے ،میں واپس لوٹ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے گھر آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا ۔آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم چارپائی پر جلوہ افروز تھے ،چارپائی پر (کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی )چٹائی کا بچھونا تھا جس کے نشانات آپ کی کمر اور پہلوؤں پر موجود تھے ۔میں نے آپ کو اپنا اور ابو عامر رضی اللہ عنہ کا واقعہ سنایا اور آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے ان کے حق میں مغفرت کی دعا کرنے کے لیئے عرض کیا ،آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے پانی مانگا ،پھر آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے وضو کیا ،پھر ہاتھ اٹھاکر یہ دعا کی :اے اللہ ! اپنے بندے عبید بن عامر کی مغفرت فرما۔میں نے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی بغل سفید دیکھی ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے دعا کی اے اللہ قیامت کے دن اسے اپنی بہت سی انسانی مخلوق سے بلند مرتبہ عطا فرمانا ۔میں نے عرض کیا میرے لیئے بھی مغفرت کی دعا فرما دیجئے تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا اے اللہ عبداللہ بن قیس کے گناہ معاف فرمادے اور قیامت والے دن اسے عزت کے مقام میں داخل فرما۔"
اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← محمد ابن العلاء ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (Book of invitations) › (Chapter on the etiquette of supplication and raising hands in it · Hadith 1398
