شرح السنة للبغوي · ( أبواب النوافل ‹ باب صلاة الاستخارة · حديث 1016
1016 - أخبرنا أبو عثمان الضبي ، أنا أبو محمد الجراحي ، نا أبو العباس المحبوبي ، نا أبو عيسى ، نا قتيبة ، نا عبد الرحمن بن أبي الموال ، عن محمد بن المنكدر. عن جابر بن عبد الله قال : كان رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) يعلمنا الاستخارة في الأمور كما يعلمنا السورة من القرآن ، يقول : " إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة ، ثم ليقل : اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم ، فإنك تقدر ولا أقدر ، وتعلم ولا أعلم ، وأنت علام الغيوب ، اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ، ومعيشتي ، وعاقبة أمري ، أو قال : في عاجل أمري وآجله ، فيسره لي ، ثم بارك لي فيه ، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعيشتي ، وعاقبة أمري ، أو قال في عاجل أمري وآجله ، صفحة رقم 154 فاصرفه عني ، واصرفني عنه ، واقدر لي الخير حيث كان ، ثم أرضني به قال : ويسمي حاجته. هذا حديث صحيح. أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أخبرنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا قتيبة بهذا الإسناد مثله ، غير أنه قال : " ومعاشي " في الموضعين. صفحة رقم 155 وروي عن حذيفة قال : كان النبي ( صلى الله عليه وسلم ) إذا حزبه أمر صلى.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں مختلف معاملات میں استخارے کی اس اہتمام سے تعلیم فرماتے تھے جیسے کہ قرآن کی کوئی سورت۔ آپ ہمیں فرماتے کہ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارداہ کرے تو اسے چاہیئے کہ فرضوں کے علاوہ دو رکعتیں پڑھے۔ اور یوں دعا کرے۔((اللهم إنى أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم، فإنك تقدر ولا أقدر، وتعلم ولا أعلم، وأنت علام الغيوب ، اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في دینی ، ومعيشتى، وعاقبة أمرى ، أو قال: في عاجل امری وآجلہ ، فیسرہ لی ، ثم بارک لی۔۔۔۔۔)) اے اللہ ! میں تیرے علم کے واسطے سے خیر اور بھلائی چاہتا ہوں ۔ اور تیری قدرت کے واسطے سے قدرت طلب کرتا ہوں ، اور تیرے فضل عظیم کا سوال کرتا ہوں بے شک تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا ، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو تمام عیبوں اور پوشیدہ امور سے پور ی طرح با خبر ہے ۔ اے اللہ ! اگر تیرے علم میں یہ معاملہ میرے دین ، دنیا اور انجام کے لحاظ سےبہتر ہے " یا آپ نے فرمایا: اس جہان میں اور اس جہان میں " تو اسے میرے لیے آسان کردے اور مجھے اس میں برکت دے اور اگر یہ معاملہ تیرے علم کے مطابق میرے لیے برا ہے ، دین ، دنیا یا انجام کے لحاظ سے " یا آپ نے فرمایا" میرے معاملے میں یہ جلد یا بدیر برا ہے " تو مجھے اس سے پھیر دے اور اس کو مجھ سے پھیر دے اور میرے لیے خیر مقدر فرما دے جہاں بھی ہو، پھر مجھے اس پر راضی کردے۔ " فرمایا" اور اپنے کام کا نام لے۔"
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (Sections of redundancy › Chapter of Istikhara prayer · Hadith 1016
