شرح السنة للبغوي · ( أبواب النوافل ‹ باب إحياء آخر الليل وفضله · حديث 945
945 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أبو محمد عبد الرحمن بن أبي شريح ، أنا أبو القاسم عبد الله بن محمد بن عبد العزيز البغوي ابن بنت ابن منيع ، نا علي بن الجعد ، نا زهير بن معاوية عن أبي إسحاق قال : أتيت الأسود بن يزيد ، وكان لي أخا وصديقا ، فقلت له : يا أبا عمرو حدثني كما حدثتك به أم المؤمنين عن صلاة رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، قال : قالت : كان ينام أول الليل ، ويحيى آخره ، فربما كانت له الحاجة إلى أهله ، ثم ينام قبل أن يمس ماء ، حتى إذا كان عند نداء الأول قالت : وثب وما قالت : قام ، فأفاض عليه الماء ، وما قالت : اغتسل ، وأنا أعلم ما تريد ، وإن لم يكن جنبا توضأ للصلاة. هذا حديث متفق على صحته أخرجه مسلم عن أحمد بن يونس ، صفحة رقم 63 عن زهير ، وأخرجه محمد بن سليمان ، عن شعبة ، عن أبي إسحاق ، وقال : اغتسل. وروي أن مسروقا سأل عائشة : متى كان يقوم ؟ يعني : النبي [ ] ، قالت : إذا سميع الصارخ قام فصلى ، وأرادت بالصارخ : الديك ، تعني : إذا سمع صوت الديك.
جناب ابو اسحاق عمرو بن عبید کہتے ہیں کہ میں اسود بن یزید کے پاس آیا ۔ وہ میرے بھائی اور دوست ہیں ۔ میں نے ان سے کہا: اے ابو عمرو! مجھے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نماز کے متعلق بتاؤ، جیسا آپ کو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے ، انہوں نے بتایا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے ، انہوں بتایا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم شروع رات میں سو رہتے اور آخر رات میں بیدار ہو جاتے اور تہجد پڑھتے ، بسا اوقات آپ اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بیوی کے ہاں چلے جاتے اور پھر نہائے بغیر سو رہتے۔ تو جب مؤذن اذان دیتا تو جلدی سے اٹھ بیٹھتے "(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے لفظ (وثب) " جلدی سے اٹھتے " بولا ہے ۔ لفظ (قام) " آرام سکون سے اٹھتے " نہیں بولا ) اور اپنے جسم پر پانی بہاتے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (اغسل) "غسل کرتے " کے الفاظ نہیں بولے ۔ اسود کہتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مدعا کو بخوبی سمجھتا ہوں ۔ اگر آپ جنبی نہ ہوتے تو وضو کرکے نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔ مروی ہے کہ جناب مسروق نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تہجد کے لیے رات کو کب بیدار ہوتے تھے؟ ام المؤمنین نے جواب دیا: زور زور سے چیخنے والے کی آواز سنتے تو اٹھ کر نماز پڑھنے لگتے۔
صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ← كما حدثتك به أم المؤمنين ← كان لي أخا وصديقا فقلت له يا أبا عمرو ← أَتَيْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أبو القاسم عبد الله بن محمد بن عبد العزيز البغوي ابن بنت ابن منيع ← أبو محمد عبد الرحمن بن أبي شريح ← عبد الواحد بن أحمد المليحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (Sections of redundancy › The door of reviving the end of the night and its preference · Hadith 945
