شرح السنة للبغوي · كتاب الصلاة ‹ باب فضل صلاة العشاء والفجر في الجماعة · حديث 384
384 - أخبرنا أبو الحسن الشيرزي ، أنا زاهر بن أحمد ، أنا أبو إسحاق الهاشمي ، أخبرنا أبو مصعب ، عن مالك ، عن سمي مولى أبي بكر بن عبد الرحمن ، عن أبي صالح السمان. عن أبي هريرة أن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قال : " بينما رجل يمشي بطريق ، وجد غصن شوك على الطريق ، فأخره ، فشكر الله له وغفر له ، وقال : بينما رجل يمشي بطريق ، اشتد عليه العطش ، فوجد بئرا ، فنزل فيها فشرب ، ثم خرج ، فإذا كلب يلهث يأكل الثرى من العطش فقال الرجل : وقد بلغ هذا الكلب من العطش مثل الذي بلغني ، فنزل البئر ، فملأ خفه ماء ، ثم أمسكه بفيه حتى رقي ، فسقى الكلب ، فشكر الله له ، فغفر له ، فقالوا : يا رسول الله إن لنا من البهائم لأجرا ؟ فقال : " في كل ذات كبد رطبة أجر ". صفحة رقم 230 وقال : " الشهداء خمسة : المبطون ، والمطعون ، والغريق ، وصاحب الهدم ، والشهيد في سبيل الله ". وقال : " لو يعلم الناس ما في النداء والصف الأول ، ثم لم يجدوا إلا أن يستهموا عليه لا ستهموا ، ولو يعلمون ما في التهجير لاستبقوا إليه ، ولو يعلمون ما في العتمة والصبح لأتوهما ولو حبوا ". هذه أحاديث متفق على صحتها أخرجها محمد عن قتيبة وغيره ، وأخرجها مسلم عن يحيى بن يحيى ، كل عن مالك. والاستهام : الاقتراع ، يقال : استهم القوم فسهمهم فلان ، أي : قرعهم ، ومنه قوله تعالى : ( فساهم فكان من المدحضين ( [ الصافات : 141 ] وقيل الاقتراع : استهام ، لأنها سهام تكتب عليها الأسماء ، فمن وقع له صفحة رقم 231 منها سهم فاز بالحظ المقسوم. والتهجير : التبكير لصلاة الظهر ، والهجير والهاجرة : نصف النهار. وقيل : أراد بالتهجير التبكير إلى كل صلاة ، ولم يرد الخروج في الهاجرة ، وقال النضر بن شميل عن الخليل قال في تفسير قوله ( صلى الله عليه وسلم ) : " فالمهجر كالمهدي بدنة " أي : المبكر إلى الجمعة.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کہیں جا رہا تھا، راستے میں اس نے کانٹوں کی بھری ہوئی ایک ٹہنی دیکھی، پس اسے راستے سے دور کر دیا۔ اللہ تعالیٰ (صرف اسی بات پر) راضی ہو گیا اور اس کی بخشش کردی۔‘‘ اور آپ نے فرمایا: ”ایک شخص جا رہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگی۔ اس کو کنواں ملا، اس میں اتر کر پانی پیا۔ پھر باہر آیا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا ہے۔ آدمی نے (اپنے دل میں) کہا: یہ بھی اس وقت ایسی ہی پیاس میں مبتلا ہے جیسے ابھی مجھے پیاس لگی ہوئی تھی۔ (چنانچہ وہ پھر کنویں میں اترا اور) اپنے چڑے کے موزے کو پانی سے بھر کر اسے اپنے منہ سے پڑے ہوئے اوپر آیا، اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اس کی مغفرت فرمائی۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا ہمیں چوپاؤں پر بھی اجر ملے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہر جاندار میں ثواب ہے‘‘۔ اور آپ نے فرمایا: ’’شہداء پانچ تم کے ہوتے ہیں:’’ پیٹ کے عارضے (ہیضے وغیرہ) میں مرنے والے، طائون میں مرنے والے، ڈوب کر مرنے والے، جو دیوار وغیرہ کسی بھی چیز سے دب کر مر جائے اور اللہ کے راستے میں (جہاد کرتے ہوئے) شہید ہونے والے۔‘‘ اور آپ نے فرمایا: ’’اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ اذان کہنے اور پہلی صف میں نماز پڑھنے کا کیا ثواب ہے تو ان کے لئے قرعہ ڈالنے کے سوائے اور کوئی چارہ باقی نہ رہتا تو وہ اس پر قرعہ اندازی ہی کرتے اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ نماز کے لئے جلدی آنے میں کتنا ثواب ملتا ہے تو اس کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ عشاء اور صبح کی نماز کا ثواب کتنا ملتا ہے، تو ضرور گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے ان کے لئے آتے‘‘ ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← سُمَيٍّ مَوْلَی أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← أبو إسحاق الهاشمي ← زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو الحسن الشيرزي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · prayer book › Chapter of the merit of evening and dawn prayers in the congregation · Hadith 384
