شرح السنة للبغوي · كتاب الصلاة ‹ باب تحويل القبلة من بيت المقدس إلى الكعبة · حديث 444
444 - أخبرنا أبو عثمان سعيد بن إسماعيل الضبي ، أنا أبو محمد عبد الجبار بن محمد الجراحي ، نا أبو العباس المحبوبي ، نا أبو عيسى الترمذي ، نا هناد ، نا وكيع ، عن إسرائيل ، عن أبي إسحاق ، عن البراء. قال : لما قدم رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) المدينة صلى نحو بيت المقدس ستة أو سبعة عشر شهرا ، وكان رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) يحب أن يوجه إلى الكعبة ، فأنزل الله عز وجل ) قد نرى تقلب وجهك في السماء ، فلنولينك قبلة ترضاها ، فول وجهك شطر المسجد الحرام ( فوجه نحو الكعبة ، وكان يحب ذلك ، فصلى رجل معه العصر ، ثم مر على قوم من صفحة رقم 323 الأنصار وهم ركوع في صلاة العصر نحو بيت المقدس ، فقال : هو يشهد أنه صلى مع رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، وأنه قد وجه إلى الكعبة ، فانحرفوا وهم ركوع. هذا حديث صحيح أخرجه محمد ، عن عمرو بن خالد ، عن زهير ، عن أبي إسحاق.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے تھے کہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں، آخر الله تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”ہم آپ کا آسمان کی طرف بار بار چہرہ اٹھانا دیکھتے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب متوجہ کریں گے جس سے آپ خوش ہو جائیں گے، آپ اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں۔ ‘‘(البقرة:144 ) پھر آپ نے کعبہ کی جانب چہرہ کیا اور آپ اس کو پسند فرماتے تھے (جب قبلہ بدلا تو) تو ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی، پھر وہ چلا اور انصار کی ایک جماعت پر اس کا گزر ہوا جو عصر کی نماز بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھ رہے تھے۔ اس شخص نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وہ نماز پڑھی جس میں آپ نے موجودہ قبلہ (کعبہ) کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی، چنانچہ وہ جماعت (نماز کی حالت ہی میں) مڑ گئی۔
الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← وَكِيعٌ، ← هَنَّادٌ ← أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ ← أبو محمد عبد الجبار بن محمد الجراحي ← أبو عثمان سعيد بن إسماعيل الضبي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · prayer book › The door to convert Qibla from Jerusalem to the Kaaba · Hadith 444
