شرح السنة للبغوي · كتاب الجمعة ‹ باب · حديث 1184
1184 - أخبرنا الأمام أبو علي الحسين بن محمد القاضي ، نا عبد الله ابن يوسف بن محمد بن باموية الأصبهاني ، نا أبو محمد عبد الرحمن بن يحيى القاضي الزهري بمكة ، أخبرنا محمد بن إسماعيل بن سالم الصائغ ، أخبرنا سليمان بن داود الهاشمي ، نا إبراهيم بن سعد ، عن ابن شهاب الزهري. عن عامر بن واثلة أبي الطفيل أن نافع بن عبد الحارث لقي عمر ابن الخطاب بعسفان ، وكان عمر استعمله على مكة ، فقال له عمر بن الخطاب : من استخلفت على أهل الوادي ؟ قال : استخلفت عليهم ابن أبزي ، قال : ومن ابن أبزي ؟ قال : مولى من موالينا ، قال عمر : فاستخلفت عليهم مولى فقال : يا أمير المؤمنين إنه رجل قارئ القرآن ، عالم بالفرائض ، قاض ، فقال عمر : أما إن نبيكم ( صلى الله عليه وسلم ) قد قال : " أن الله يرفع بالقرآن أقواما ويضع به آخرين ". وأخبرنا عبد الواحد المليحي ، أنا أبو منصور السمعاني ، نا أبو جعفر الرياني ، نا حميد بن زنجوية ، نا عبد الصمد بن صفحة رقم 443 عبد الوارث ، نا إبراهيم بن سعد بهذا الإسناد مثله. هذا حديث صحيح ، أخرجه مسلم عن زهير بن حرب ، عن يعقوب بن إبراهيم ، عن أبيه.
سیدنا ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عسفان کے مقام پر سیدنا نافع بن عبدالحارث رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی،انہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مکہ کا گورنر مقرر کیا تھا ،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ وادی مکہ کے باشندوں پر (ان کے معاملات کی دیکھ بھال کے لیئے )اپنا نائب کسے مقرر کرکے آئے ہیں ؟انہوں نے کہا :میں نے ابن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کو اپنا قائم مقام مقرر کیا ہے۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :ابن ابزیٰ کون صاحب ہیں ؟انہوں نےکہا :ہمارے مولیٰ(آزاد کردہ غلام )ہیں۔عمر رضی اللہ عنہ نےکہا :آپ نے ایک غلام کو ان پر حاکم مقرر کردیا ؟انہوں نے کہا :وہ کتاب اللہ کے عالم ہیں ،علم میراث کے ماہر ہیں اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :تمھارے نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے (واقعی سچ )فرمایا تھا:"اللہ تعالیٰ اس کتاب (کے علم اور اس پر عمل )کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو بلند مقام عطا فرمائے گااور اس (سے اعراض )کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو پست (اور ذلیل )کر دے گا۔"
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · Friday book › Door · Hadith 1184
