شرح السنة للبغوي · كتاب الصلاة ‹ ( باب إذا كانوا ثلاثة تقدم الإمام ، ووقف الآخران خلفه صفا ،والمرأة تقف خلف الرجال وحدها · حديث 827
827 - أخبرنا عمر بن عبد العزيز الفاشاني ، أنا القاسم بن جعفر الهاشمي ، أنا أبو علي اللؤلؤي ، نا أبو داود سليمان بن الأشعث ، نا هشام بن عمار ، وسليمان بن عبد الرحمن ، ويحيى بن الفضل السجستاني قالوا : حدثنا حاتم يعني ابن إسماعيل ، نا يعقوب بن مجاهد أبو حرزة. عن عبادة بن الوليد بن عبادة بن الصامت قال : أتينا جابرا ، يعني : ابن عبد الله ، قال : سرت مع رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) في غزوة ، فقام يصلي ، وكانت علي بردة ذهبت أخالف بين طرفيها ، فلم تبلغ لي ، وكانت لها ذباذب ، فنكستها ثم خالفت بين طرفيها ، ثم تواقصت عليها لا تسقط ، ثم جئت حتى قمت صفحة رقم 386 عن يسار رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فأخذ بيدي ، فأدارني حتى أقامني عن يمينه ، فجاء ابن صخر حتى قام عن يساره ، فأخذنا بيديه جميعا حتى أقامنا خلفه ، وقال : وجعل رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) يرمقي وأنا لا أشعر ، ثم فطنت به ، فأشار إلي أن اتزر بها ، فلما فرغ رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قال : " يا جابر " قلت : لبيك يا رسول الله ، قال : " إذا كان واسعا فخالف بين طرفيه ، وإذا كان ضيقا فاشدده على حقوك ". هذا حديث صحيح ، أخرجه مسلم عن هارون بن معروف ، عن حاتم بن إسماعيل.
جناب عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں آئے تو انھوں نے بتایا کہ میں ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا۔ آپ اٹھ کر نماز پڑھنے لگے اور مجھ پر ایک چادر تھی۔ میں نے اس کے پہلوؤں کو اس کے مخالف اطراف سے لپیٹنے کی کوشش کی (یعنی دایاں پلو بائیں کندھے پر اور بایاں پلو دائیں کندھے پر ڈالنے لگا) مگر اس میں گنجائش نہیں تھی اور اس کے کناروں پر جھالر بھی تھی۔ میں نے انھیں الٹا کیا اور اس کے کناروں میں اختلاف کر کے اپنی گردن پر باندھ لیا اور گردن کو جھکا لیا کہ کہیں گر نہ جائے۔ پھر میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیام کے ساتھ آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا۔ پھر ابن صخر آئے اور وہ آپ کی بائیں جانب کھڑے ہو گئے۔ پس آپ نے ہم دونوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑا حتٰی کہ اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔ آپ مجھے کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے مگر میں نہ سمجھ سکا۔ پھر میں سمجھ گیا اور آپ نے اشارہ کیا کہ اسے تہ بند بنا لوں۔ جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا:”اے جابر!“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول میں حاضر ہوں! آپ نے فرمایا: ”جب کپڑا کھلا ہو تو اس کے کناروں میں اختلاف کر لیا کرو (اور کندھوں پر ڈال لیا کرو) اور اگر تنگ ہو تو اپنی کمر پر باندھ لیا کرو۔“ (یعنی صرف تہ بند باندھ لیا کرو۔)
عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ← يعقوب بن مجاهد أبو حرزة ← حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، ← يَحْيَی بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أبو داود سليمان بن الأشعث، ← أبو علي اللؤلؤي ← القاسم بن جعفر الهاشمي ← عمر بن عبد العزيز الفاشاني
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · prayer book › (Chapter if they were three, the imam would lead, and the other two stood behind him in a row, and the woman stood behind the men alone · Hadith 827
