شرح السنة للبغوي · كتاب الصلاة ‹ باب وعيد من أخر العصر إلى اصفرار الشمس ووعيد من فاتته · حديث 368
368 - أخبرنا أبو الحسن الشيرزي ، أنبأ زاهر بن أحمد ، أنبأ أبو إسحاق الهاشمي ، أخبرنا أبو مصعب ، عن مالك. عن العلاء بن عبد الرحمن أنه قال : دخلنا على أنس بن مالك بعد الظهر ، فقام يصلي العصر ، فلما فرغ من صلاته ذكرنا تعجيل الصلاة ، أو ذكرها ، فقال : سمعت رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) يقول : " تلك صلاة المنافقين ، تلك صلاة المنافقين ، تلك صلاة المنافقين ، يجلس أحدهم حتى إذا اصفرت الشمس ، وكانت بين قرني الشيطان ، أو على قرن شيطان ، قام فنقر أربعا لا يذكر الله فيهن إلا قليلا ". هذا حديث صحيح أخرجه مسلم عن قتيبة وابن حجر ، عن إسماعيل بن جعفر ، عن العلاء.
جناب علاء بن عبد الرحمان سے روایت ہے کہ وہ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر ظہر پڑھ کر گئے، تو وہ نماز عصر کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے، جب نماز پڑھنے سے فارغ ہوئے تو ہم نے نماز کے جلدی پڑھنے کا ذکر کیا یا انہوں نے خود اس بات کا ذکر کیا، پھر کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے: ’’یہ نماز منافقوں کی ہے، یہ نماز منافقوں کی ہے، ان میں سے ایک شخص بیٹھا رہتا ہے یہاں تک کہ سورج زرد پڑ جاتا ہے اور شیطان کے دو سینوں میں ہو جاتا ہے یا شیطان کے سینگ پر آ جاتا ہے، تو اٹھ کر چار ٹھونگیں مارتا ہے اس میں اللہ کو یاد نہیں کرتا مگر بہت تھوڑا۔‘‘
الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← أبو الحسن الشيرزي أنبأ زاهر بن أحمد أنبأ أبو إسحاق الهاشمي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · prayer book › Chapter and feast from the end of the afternoon until the yellowing of the sun and the warning of the missed · Hadith 368
