شرح السنة للبغوي · كتاب الصلاة ‹ باب الترجيع في الأذان · حديث 407
407 - أخبرنا عبد الوهاب بن محمد الكسائي ، أنا عبد العزيز بن أحمد الخلال ، نا أبو العباس الأصم ( ح ) وأخبرنا أحمد بن عبد الله الصالحي ، ومحمد بن أحمد العارف ، قالا : أنا أبو بكر أحمد بن الحسن الحيري ، نا أبو العباس الأصم ، أنا الربيع ، أخبرنا الشافعي ، أنا مسلم بن خالد ، عن ابن جريج ، أخبرني عبد العزيز بن عبد الملك ابن أبي محذورة. أن عبد الله بن محيريز أخبره ، وكان يتيما في حجر أبي محذورة حين جهزه إلى الشام ، فقلت لأبي محذورة : أي عم إني خارج إلى الشام ، وإني أخشى أن أسأل عن تأذينك فأخبرني أن أبا محذورة قال له : نعم خرجت في نفر ، فكنا ببعض طريق حنين ، فقفل رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) من حنين ، فلقينا رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) في بعض الطريق ، فأذن مؤذن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) بالصلاة عند رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) فسمعنا صوت المؤذن ونحن متنكبون ، فصرخنا نحكيه صفحة رقم 260 ونستهزئ به ، فسمع النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، فأرسل إلينا إلى أن وقفنا بين يديه ، فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " أيكم الذي سمعت صوته قد ارتفع " ؟ فأشار القوم كلهم إلي ، وصدقوا ، فأرسل كلهم وحبسني ، فقال : " قم فأذن بالصلاة " فقمت ولا شيء أكره إلي من النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، ولا مما يأمرني به ، فقمت بين يدي رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فألقى علي رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) التأذين هو بنفسه. فقال : " قل : الله أكبر ، الله أكبر ، الله أكبر ، الله أكبر ، أشهد أن لا إله إلا الله ، أشهد أن لا إله إلا الله ، أشهد أن محمدا رسول الله ، أشهد أن محمدا رسول الله ، ثم قال : ارجع فامدد من صوتك ، ثم قال لي : قل : أشهد أن لا إله إلا الله ، أشهد أن لا إله إلا الله ، أشهد أن محمدا رسول الله ، أشهد أن محمدا رسول الله ، حي على الصلاة ، حي على الصلاة ، حي على الفلاح ، حي على الفلاح ، الله أكبر الله أكبر ، لا إله إلا الله. ثم دعاني حين قضيت التأذين ، فأعطاني صرة فيها شيء من فضة ، ثم وضع يده على ناصية أبي محذورة ، ثم صفحة رقم 261 أمرها على وجهه ، ثم من بين يديه ، ثم على كبده ، ثم بلغت يده سرة أبي محذورة ، ثم قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " بارك الله فيك ، وبارك عليك " فقلت : يا رسول الله مرني بالتأذين بمكة ، فقال : قد أمرتك به ، وذهب كل شيء كان ل رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) من كراهية ، وعاد ذلك كله محبة للنبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، فقدمت على عتاب بن أسيد عامل رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فأذنت بالصلاة عن أمر رسول الله [ ]. صفحة رقم 262 قال الشافعي : وأدركت إبراهيم بن عبد العزيز بن عبد الملك بن أبي محذورة يؤذن كما حكى ابن محيريز ، وسمعته يحدث عن أبيه ، عن ابن محيريز ، عن أبي محذورة ، عن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) معنى ما حكى ابن جريج. وابن جريج : اسمه عبد الملك بن جريج أبو الوليد مكي ، مولى بني أميه بن خالد القرشي ، مات سنة خمسين ومائة ، ويقال : تسع وأربعين ويقال : هو مولى لآل خالد بن أسيد ، أصله رومي. قلت : حديث أبي محذورة في الترجيع حديث صحيح ، أخرجه مسلم عن إسحاق بن إبراهيم ، عن معاذ بن هشام ، عن أبيه ، عن عامر الأحول ، عن مكحول عن عبد الله بن محيريز عن أبي محذورة. وأبو محذورة : اسمه سمرة بن معير القرشي جمحي ، ويقال : جابر بن معير.
جناب عبد الله بن محیریز بیان کرتے ہیں، جو کہ یتیم تھے اور حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زیر کفالت تھے، جب ابو محذوره رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں ملک شام بھیجنا چاہا تو میں نے ابو محذورہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: اے چچا جان میں شام کی جانب روانہ ہو رہا ہوں مجھے خدشہ ہے کہ لوگ مجھ سے آپ کی اذان کے متعلق سوال کریں گے۔ (اور میں نہ بتا سکوں) راوی کہتا ہے مجھے ابن محیریز نے بیان کیا، ابو محذوره رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں بتایا: جی ہاں! میں کچھ لوگوں میں نکلا، ہم حنین کی راہ میں تھے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حنین سے واپس لوٹے ، ہماری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راستے میں ملاقات ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن نے آپ کے سامنے اذان کہی، ہم نے جو مؤذن کی آواز سنی اور ہم وہاں سے دور تھے، تو چیخ چیخ کر نقل اتارنے لگے، اور مذاق کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سن لیا اور ہمیں بھلا بھیجا، ہمیں آپ کے سامنے حاضر کر دیا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کون ہے تم میں سے جس کی میں نے آواز سنی تھی؟“ لوگوں نے میری طرف اشارہ کر دیا، اور انہوں نے کہا (کیونکہ میں ہی چلایا تھا اور میں نے ہی نقل اتاری تھی) آپ نے سب کو جانے دیا مگر مجھے روک لیا، اور فرمایا:”اٹهو! نماز کے لئے اذان کہو‘‘ سو میں اٹھا تو ضرور لیکن خود نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا ان سے بڑھ کر کوئی چیز مجھے ناپسند نہیں تھی، میں آپ کے حضور کھڑا ہو گیا۔ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنفس نفیس مجھے اذان کے کلمات سکھلائے۔ آپ نے حکم فرمایا: کہو :اَللہ أَکْبَرُ اَللہُ أَکْبَرُ، اللہُ أَکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلا اللہُ ، أَشْھَدُ أَنْ لا إِلَہَ إِلَّا اللہُ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ کلمات دوبارہ کہو اور بلند آواز سے کہو‘‘ پھر آپ نے مجھے کہا: ’’أَشْھَدُ أَنَّ لا إِلَّا اللہُ، أَشْھَدُ أَنْ لا إِلَہَ إلَّا اللہُ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَلاحِ، اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ، لا إِلَہَ إِلا اللہُ‘‘ جب میں نے اذان ختم کی تو آپ نے مجھے بلایا اور ایک تھیلی عنایت فرمائی جس میں کچھ چاندی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیشانی پر رکھ دیا۔ پھر چہرے اور سینے سے گزارتے ہوئے تان تک لے گئے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا دی: ’’اللہ تعالیٰ تجھ میں برکت کرے اور تجھ پر برکت نازل فرمائے۔‘‘ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے مکہ میں اذان کہنے پر مقرر کیجئے۔ آپ نے فرمایا: ”میں نے مقرر کیا۔ ‘‘میرے دل سے آپ کی نفرت ختم ہو گئی بلکہ وہ آپ کی محبت میں بدل گئی، تو میں عتاب بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عامل تھے اور میں نے اذان دی نماز کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلم سے۔
عبد العزيز بن عبد الملك ابن أبي محذورة. ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو بكر أحمد بن الحسن الحيري، ← محمد بن أحمد العارف ← أحمد بن عبد الله الصالحي ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← عبد العزيز بن أحمد الخلال ← عبد الوهاب بن محمد الكسائي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · prayer book › Chapter rewind in the call to prayer · Hadith 407
