شرح السنة للبغوي · ( أبواب النوافل ‹ باب الأخذ بالقصر في قيام الليل وغيره من الأمور · حديث 932
932 - أخبرنا أحمد بن عبد الله الصالحي ، أنا أبو بكر أحمد ابن الحسين الحيري ، أنا حاجب بن أحمد الطوسي ، نا عبد الرحيم ابن منيب ، نا يزيد بن هارون ، أنا حميد الطويل. عن أنس بن مالك قال : ما كنا نشاء أن نرى رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) من الليل مصليا إلا رأيناه ، وما نشاء أن نراه نائما إلا رأيناه ، وقال : كان يصوم من الشهر حتى نقول : لا يفطر منه شيئا ، ويفطر حتى نقول : لا يصوم منه شيئا. صفحة رقم 48 هذا حديث متفق على صحته أخرجاه من طرق عن حميد.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم جب چاہتے کہ آپ کو رات کے وقت نماز پڑھتے ہوئے دیکھیں تو ہم آپ کو نماز پڑھتے دیکھ لیتے ۔ اور ہم جب چاہتے کہ آپ کو سوتا دیکھیں تو آپ کو سوتا دیکھ لیتے ۔ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کسی ماہ روزہ رکھنا شروع کرتے تو خیال ہوتا کہ اب آپ اس ماہ کوئی روزہ بھی ترک نہیں کریں گے اور جب کسی ماہ روزہ نہ رکھتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ اب آپ اس مہینہ کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔
ما كُنا نشاءُ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عبد الرحيم ابن منيب ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ← أبو بكر أحمد ابن الحسين الحيري ← أحمد بن عبد الله الصالحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (Sections of redundancy › The introduction of minors in the night and other things · Hadith 932
