شرح السنة للبغوي · ( كتاب الدعوات ) ‹ ( باب ما قيل في الاسم الأعظم · حديث 1258
1258 - أخبرنا أبو القاسم يحيى بن علي الكشميهني ، أخبرنا القاضي أبو جعفر محمد بن أحمد السمناني ، نا أبو طاهر محمد بن عبد الرحمن ابن العباس المخلص ، نا أبو محمد يحيى بن محمد بن صاعد ، نا الحسين بن الحسن المروزي ، نا نوح بن الهيثم ، نا خلف بن خليفة ، نا حفص ابن أخي أنس بن مالك عن أنس بن مالك ، قال : كنت جالسا مع النبي ( صلى الله عليه وسلم ) في المسجد ورجل يصلي ، فقال : اللهم إني أسألك بأن لك الحمد ، لا إله إلا أنت المنان. بديع السماوات والأرض ، يا ذا الجلال والإكرام ، يا حي يا قيوم أسألك ، فقال النبي ( صلى الله عليه وسلم ) : " هل تدرون ما دعا " ؟ قالوا : الله ورسوله أعلم ، قال : " دعا الله باسمه الأعظم الذي إذا دعي به أجاب ، وإذا سئل به أعطى ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس مسجد میں بیٹھا ہوا تھا جبکہ ایک آدمی نما ز پڑھ رہا تھا ۔اس نے دعا کی (الھم انی اسالک بان لک الحمد ،لا الہ الا انت المنان ،بدیع السموات والا رض ،یا ذالجلال و الا اکرام ،یا حیویا قیوم اسالک )اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس لیئے کے تیری ہی تعریف ہے ،تیرے سوا کوئی معبود نہیں،تو بے انتہا احسان کرنے والا ہے ،آسمان وزمین کو بے نمونہ پیدا کرنے والا ہے،اے اللہ جلال و اکرم والے !اے زندہ ،اے نگرانی کرنے والے !میں تجھ سے مانگتا ہوں ،تو نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو اس نے کونسی دعا کی ہے ؟صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا :اللہ اور اسکا رسول بہتر جانتے ہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا "اس نے اللہ سے اس کے اس عظیم نام کے واسطے سے دعا کی ہے جس سے دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے،مانگا جائے تو وہ دیتا ہے۔"
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حفص ابْنِ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← نوح بن الهيثم ← الْحُسَيْنَ بْنَ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيَّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ← أبو طاهر محمد بن عبد الرحمن ابن العباس المخلص ← القاضي أبو جعفر محمد بن أحمد السمناني ← أبو القاسم يحيى بن علي الكشميهني
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (Book of invitations) › (Chapter of what was said in the greatest name · Hadith 1258
