شرح السنة للبغوي · كتاب الصلاة ‹ ( باب من شك في صلاته فلم يدر كم صلى بنى على اليقين · حديث 754
754 - أخبرنا أبو الحسن الشيرزي ، أنا زاهر بن أحمد ، أنا أبو إسحاق الهاشمي ، أخبرنا أبو مصعب ، عن مالك ، عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار أن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قال : " إذا شك أحدكم في صلاته ، فلا يدري كم صلى ، أثلاثا أم أربعا ؟ فليصل ركعة ، وليسجد سجدتين وهو جالس قبل التسليم ، فإن كانت الركعة التي صلى خامسة شفعها بهاتين ، وإن كانت رابعة ، فالسجدتان ترغيم للشيطان ". هكذا رواه مالك مرسلا ، ورواه سليمان بن بلال ، وابن عجلان ، وغيرهما ، عن زيد بن أسلم ، عن عطاء بن يسار ، عن أبي سعيد الخدري ، عن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، وهو حديث صحيح ، أخرجه مسلم عن محمد بن أحمد بن أبي خلف ، عن موسى بن داود ، عن سليمان بن بلال.
جناب عطاین یسار رحمتہ اللہ (تابعی) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز (کی رکعتوں) میں شک ہو جائے اور معلوم نہ ہو سکے تین پڑھی ہیں یا چار؟ تو اسے چاہیے کہ ایک رکعت اور پڑھ لے اور سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے، اب اگر اس نے جو رکعت پڑھی ہے پانچویں رکعت ہوئی تو یہ دو سجدے مل کر جفت (یعنی چھ رکعتیں) ہو جائیں گی اور اگر یہ چوتھی رکعت ہوئی تو ان دونوں سجدوں سے شیطان کے منہ میں خاک پڑ جائے گی۔‘‘
عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← أبو إسحاق الهاشمي ← زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو الحسن الشيرزي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · prayer book › Chapter: Whoever doubts his prayer and does not know how much he prayed based on certainty · Hadith 754
