شرح السنة للبغوي · ( كتاب الإيمان ) ‹ باب · حديث 2
2 - أخبرنا أبو طاهر محمد بن علي بن محمد بن علي بوية الزراد البخاري ، أنا أبو القاسم علي بن أحمد الخزاعي ، ثنا أبو سعيد الهيثم بن كليب بن سريج بن معقل الشاشي ، نا أبو أحمد عيسى بن أحمد العسقلاني ، أنا يزيد بن هارون ، أنا كهمس بن الحسن ، عن عبد الله بن بريدة ، عن يحيى بن يعمر قال : كان أول من تكلم في القدر - يعني بالبصرة - معبد الجهني ، صفحة رقم 8 فخرجت أنا وحميد بن عبد الرحمن نريد مكة ، فقلنا : لو لقينا أحدا من أصحاب رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) فسألناه عما يقول ؟ فلقينا عبد الله ابن عمر ، فاكتنفته أنا وصاحبي ، أحدنا عن يمينه ، والآخر عن شماله ، فعلمت أنه سيكل الكلام إلي. فقلت : أبا عبد الرحمن إنه قد ظهر قبلنا ناس يتقفرون هذا العلم ، ويطلبونه يزعمون أن لا قدر ، إنما الأمر أنف ؟ قال : فإذا لقيت أولئك ، فأخبرهم أني منهم بريء ، وأنهم مني برآء ، والذي نفسي بيده لو أن لأحدهم مثل أحد ذهبا ، فأنفقه في سبيل الله ما قبل الله منه شيئا حتى يؤمن بالقدر خيره وشره. ثم قال : حدثنا عمر بن الخطاب رضي الله عنهما قال : بينا نحن عند رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) إذ أقبل رجل شديد بياض الثياب ، شديد سواد الشعر ، ما يرى عليه أثر السفر ، ولا يعرفه منا أحد ، فأقبل حتى جلس بين يدي رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، وركبته تمس ركبته قال : يا محمد أخبرني عن الإسلام ؟ فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " تشهد أن لا إله إلا الله ، وأن محمدا رسول الله ، وتقيم الصلاة ، وتؤتي الزكاة ، وتصوم رمضان ، وتحج البيت إن صفحة رقم 9 استطعت إليه سبيلا " فقال : صدقت ، فتعجبنا من سؤاله وتصديقه. ثم قال : فما الإيمان ؟ قال : " أن تؤمن بالله وحده وملائكته وكتبه ورسله وبالبعث بعد الموت والجنة والنار : وبالقدر خيره وشره " فقال : صدقت. ثم قال : فما الإحسان ؟ قال : " أن تعمل لله كأنك تراه فإنك إن لم تكن تراه ، فإنه يراك " قال : صدقت. قال : فأخبرني عن الساعة ؟ فقال : " ما المسؤول عنها بأعلم بها من السائل " قال : صدقت. قال : فأخبرني عن أمارتها ، قال : " أن تلد الأمة ربها ، أن ترى العراة الحفاة رعاء الشاء يتطاولون في بنيان المدر " قال : صدقت. ثم انطلق فلما كان بعد ثالثة قال لي رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " يا عمر هل تدري من الرجل ؟ " قال : قلت : الله ورسوله أعلم ، قال : " ذاك جبريل أتاكم يعلمكم أمر دينكم ، وما أتاني في صورة إلا عرفته فيها ، إلا في صورته هذه ". هذا حديث صحيح أخرجه مسلم عن عبيد الله بن معاذ العنبري عن صفحة رقم 10 أبيه عن كهمس ، واتفقا على إخراجه من رواية أبي هريرة. وعمر بن الخطاب بن نفيل أبو حفص القرشي العدوي ، قتل سنة ثلاث وعشرين ، وهو ابن ثلاث وستين سنة في ذي الحجة. قال ابن شهاب : ولي عشر سنين حجها كلها. قوله : " يتقفرون العلم " أي : يتبعون أثره ويطلبونه ، والتقفر : تتبع أثر الشيء. وقوله : " إنما الأمر أنف " يريد مستأنف لم بتقدم فيه قدر ، ولا مشيئة ، يقال : روضة أنف : إذا لم ترع ، وأنف الشيء : أوله. وقوله : " فأخبرني عن أمارتها " أي : علامتها ، يقال : أمار ما بيني وبينك كذا ، وأمارة ما بيني وبينك ، بالهاء وغير الهاء ، وقيل : الأمار : جمع الأمارة. قال الشيخ الإمام رحمة الله عليه : جعل النبي ( صلى الله عليه وسلم ) في هذا الحديث الإسلام اسما لما ظهر من الأعمال ، وجعل الإيمان اسما لما بطن من الإعتقاد ، وليس ذلك لأن الأعمال ليست من الإيمان ، أو التصديق بالقلب ليس من الإسلام ، بل ذلك تفصيل لجملة هي كلها شيء واحد ، وجماعها الدين ، ولذلك قال : " ذاك جبريل أتاكم يعلمكم أمر دينكم " والتصديق والعمل يتناولها اسم الإيمان والإسلام جميعا ، يدل عليه قوله سبحانه وتعالى : ( إن الدين عند الله الإسلام ( [ آل عمران : 19 ] ) ورضيت لكم الإسلام دينا ( [ المائدة : 3 ] ) ومن يبتغ غير الإسلام دينا فلن يقبل منه ) ^ [ آل عمران : 85 ] فأخبر أن الدين الذي رضيه ، ويقبله من عباده ، هو الإسلام ، ولن يكون الدين في محل القبول والرضى إلا بانضمام التصديق إلى العمل. قال أبو سليمان الخطابي : المسلم قد يكون مؤمنا في بعض الأحوال ، وقد لا يكون مؤمنا في بعضها ، والمؤمن مسلم في جميع الأحوال ، لأن أصل الإسلام : الاستسلام والانقياد ، وأصل الإيمان : التصديق ، وقد يكون المرء مستسلما في الظاهر غير منقاد في الباطن ، ولا يكون صادق الباطن ، غير منقاد في الظاهر ، فإذا كل مؤمن مسلم ، وليس كل مسلم مؤمنا. وقوله : " ما الإحسان " فإن معنى الإحسان هاهنا : الإخلاص ، وهو شرط في صحة الإيمان والإسلام معا. وقوله : " أن تلد الأمة ربها " معناه : أن يتسع الإسلام ، ويكثر السبي ، ويتخذ الناس السراري ، ويكثر منهن الأولاد ، فيكون ابن الرجل من أمته في معنى السيد لأمه ، إذ كانت مملوكة لأبيه ، وملك الأب راجع إلى الولد. وقوله : " وأن ترى العراة الحفاة رعاء الشاء يتطاولون في البنيان " قال أبو سليمان الخطابي : يريد العرب الذين هم أرباب الإبل ورعاتها ، أي : يتسع الإسلام ، ويفتتح هؤلاء البلاد ، ويسكنونها ، ويتطاولون في البنيان بعد أن كانوا أهل النجع لا تستقر بهم دار. وقيل : هذا كما جاء في حديث آخر في أشراط الساعة " ويتكلم فيهم الرويبضة ، وهو الرجل التافه ينطق في أمور صفحة رقم 12 العامة " وقيل : الرويبضة : تصغير الرابضة ، وهو راعي الربيض ، والربيض : الغنم ، والهاء للمبالغة.
يحيى بن يعمر بیان کرتے ہیں: بصرہ شہر میں سب سے پہلے جس شخص نے تقدیر پر بحث کی وہ معبد جہنی تھا۔ چنانچہ میں اور حمید بن عبد الرحمن مکہ جانے کے ارادے سے نکلے تو ہم نے کہا: کاش ہمیں کوئی صحابی رسول مل جائے تو ہم اس سے اس کے متعلق پوچھیں جو معبد جہنی کہتا ہے۔ پس ہمیں عبد الله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ مل گئے تو میں اور میرے ساتھی نے انہیں گھیر لیا۔ ہم میں سے ایک ان کے دائیں اور دوسرا ان کے بائیں طرف ہو گیا۔ مجھے معلوم تھا کہ محمد بن عبد الرحمٰن مجھے ہی گفتگو کا موقع دیں گے۔ چنانچہ میں نے کہا: اے عبدالرحمٰن! (ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی کنیت) ہمارے علاقے میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوئے ہیں جوعلم کا شوق رکھتے ہیں اور علم حاصل کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تقدیر کوئی چیز نہیں اور سب کام ناگہانی ہو جاتے ہیں۔ سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: جب تو انہیں ملے تو انہیں بتادینا کہ میرا ان سے کوئی تعلق نہیں اور ان کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ان میں سے کسی آدمی کے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو، پھر وہ اسے اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرے تو اللہ تعالی اس وقت تک قبول نہیں کرے گا جب تک وہ اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لے آئے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عمر ما نے فرمایا: ہمیں عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک آدمی آیا جس کے کپڑے انتہائی اجلے اور بال انتہائی کالے تھے، اس پر سفر کے آثار دکھائی نہیں دیتے تھے اور نہ ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا اور اس کا گھٹنا رسول اللہ اصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنے کو چھونے لگا، اس نے کہا: اے محمد! مجھے بتایئے اسلام کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تو گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز ادا کرے، زکوة ادا کرے ، رمضان کے روزے رکھے اور اگر استطاعت ہوتو بیت اللہ کا حج کرے۔ اس شخص نے کہا: آپ نے سچ فرمایا، ہمیں تعجب ہوا کہ خود ہی سوال کر کے خود ہی جواب کی تصدیق کرتا ہے، پھر اس نے پوچھا: ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تو ایک اللہ، فرشتوں، رسولوں، موت کے بعد زندہ ہونے، جنت و جہنم اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھے۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ پھر اس نے پوچھا: احسان کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ کے لیے عمل یوں کر کہ تو اسے دیکھ رہا ہے، اگر تو نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ اس نے کہا: آپ نے سچ کہا۔ پھر اس نے کہا: مجھے قیامت کے متعلق بتایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جس سے پوچھا جارہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ اس نے کہا: مجھے اس کی نشانیاں بتایئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” لونڈی اپنے مالک کو جنے گی، تو دیکھے گا کہ ننگے بدن، ننگے پاؤں اور بکریاں چرانے والے لوگ پختہ عمارتوں میں اترانے لگے ہیں‘‘۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ پھر وہ شخص چلا گیا۔ تین دن بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”اے عمر! جانتے ہو وہ شخص کون تھا؟“ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ده جبرئیل علیہ السلام تھے جو تمہیں دین کے معاملات سکھلانے آئے تھے، اس شکل کے علاوہ جس شکل میں بھی وہ میرے پاس آئے میں نے انہیں پہچان لیا۔
یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← کهمس بن الحسن ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أبو أحمد عيسى بن أحمد العسقلاني ← أبو سعيد الهيثم بن كليب بن سريج بن معقل الشاشي ← أبو القاسم علي بن أحمد الخزاعي ← أبو طاهر محمد بن علي بن محمد بن علي بوية الزراد البخاري
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Faith) › Door · Hadith 2
