شرح السنة للبغوي · ( كتاب الطهارة ) ‹ باب التيمم · حديث 307
307 - أخبرنا الشيخ الإمام حفظه الله ، نا الإمام الحسين بن مسعود ، أخبرنا أبو الحسن الشيرزي ، أنا زاهر بن أحمد ، أنا أبو إسحاق الهاشمي ، أنا أبو مصعب عن مالك ، عن عبد الرحمن بن القاسم ، عن أبيه. عن عائشة زوج النبي ( صلى الله عليه وسلم ) أنها قالت : خرجنا مع صفحة رقم 105 رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) في بعض أسفاره ، حتى إذا كنا بالبيداء ، أو بذات الجيش انقطع عقد لي ، فأقام رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) على التماسه ، وأقام الناس معه ، وليسوا على ماء ، وليس معهم ماء ، فأتى الناس أبا بكر ، فقالوا : ألا ترى ما صنعت عائشة ، أقامت ب رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) وبالناس ، وليسوا على ماء ، وليس معهم ماء ، فجاء أبو بكر و رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) واضع رأسه على فخذي ، قد نام ، فقال : حبست رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) والناس وليسوا على ماء ، وليس معهم ماء قالت : فعاتبني أبو بكر ، وقال ما شاء الله أن يقول ، وجعل يطعن بيده في خاصرتي ، فلا يمنعني من التحرك إلا مكان صفحة رقم 106 رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) على فخذي ، فقام رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) حين أصبح على غير ماء ، فأنزل الله سبحانه وتعالى آية التيمم فتيمموا. فقال أسيد بن الحضير - وهو أحد النقباء - : ما هي بأول بركتكم يا آل أبي بكر ، قالت عائشة : فبعثنا البعير الذي كنت عليه ، فوجدنا العقد تحته. هذا حديث متفق على صحته أخرجه محمد عن عبد الله بن يوسف صفحة رقم 107 وغيره ، وأخرجه مسلم عن يحيى بن يحيى ، كل عن مالك. وفي الحديث دليل على تأديب الرجل أهله وولده ، وإن لم يكن سلطانا حيث طعن أبو بكر في خاصرة عائشة ، وفي رواية قالت عائشة : أقبل أبو بكر ولكزني لكزة شديدة ، وقال : حبست الناس في قلادة.
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں نکلے۔ جب بیدا یا ذات الجیش میں پہنچے (یہ دونوں جگہیں خیبر اور مدینہ کے درمیان ہیں ) تو میرے گلے کا ہارٹوٹ کر گر گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے ڈھونڈنے کے لیے ٹھہر گئے تو لوگ بھی ٹھہر گئے، وہاں پانی نہ تھا اور نہ لوگوں کے پاس پانی تھا، لوگ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آ ئے اور کہنے لگے : تم دیکھتے نہیں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور لوگوں کو ٹھہرا دیا ہے جبکہ یہاں پانی نہیں ہے اور نہ لوگوں کے پاس پانی ہے، یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ آ ۓ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا سر میری ران پر رکھ کر سوئے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے: تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور لوگوں کو روک رکھا ہے جبکہ نہ تو یہاں پانی موجود ہے اور نہ لوگوں کے پاس پانی ہے، چنانچہ انہوں نے مجھے ڈانٹا اور جو کچھ اللہ تعالی نے چاہا کہا اور میری کوکھ میں ہاتھ سے کونچے دینے لگے، میں حرکت اس لیے نہیں کر رہی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر میری ران پر تھا ( کہ آپ بیدار نہ ہو جائیں)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح تک سوئے رہے اور پانی بالکل نہ تھا، چنانچہ اللہ تعالی نے تیمم والی آیت اتار دی اور لوگوں نے تیمم کیا۔ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، جو بارہ نقیبوں میں سے ایک ہیں ( آپ نے عقبہ کی رات انصاریوں کے بارہ آدمیوں کو مقرر کیا تھا جو لوگوں کو دین کے احکام سکھائیں) اے ابو بکر کی اولاد! یہ کوئی تمہاری پہلی برکت نہیں ہے، (یعنی تمہاری وجہ سے پہلے بھی مسلمانوں کو فائدہ پہنچا ہے) سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں: جب ہم نے وہ اونٹ اٹھایا جس پر میں سوارتھی تو ہار اس کے نیچے سے نکلا۔
عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← أبو إسحاق الهاشمي ← زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو الحسن الشيرزي ← الإمام الحسين بن مسعود ← الشيخ الإمام حفظه الله
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Purity) › The door of tayammum · Hadith 307
