شرح السنة للبغوي · كتاب الصلاة ‹ ( باب التشديد على ترك الجماعة · حديث 790
790 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أبو محمد عبد الرحمن ابن أبي شريح ، أنا أبو القاسم عبد الله بن محمد بن عبد العزيز البغوي ، نا علي بن الجعد ، أنا زهير هو ابن معاوية ، عن أبي إسحاق ، عن عبد الله بن أبي بصير عن أبيه قال : قدمت المدينة فلقيت أبي بن كعب ، فقلت له : يا أبا المنذر حدثني بأعجب حديث سمعته من رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ). قال : صلى بنا أو صلى لنا رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) صلاة الغداة ، ثم قال : " أشاهد فلان " مرتين ؟ قلنا : نعم ولم يشهد الصلاة ، ثم قال : أشاهد فلان ؟ قلنا : نعم ، ولم يشهد الصلاة ، قال : " إن أثقل الصلاة على المنافقين صلاة العشاء وصلاة الفجر ، ولو تعلمون ما فيهما من الرغائب لأتيتموهما ، ولو حبوا ، وإن الصف الأول على مثل صف الملائكة ، ولو تعلمون فضيلته لابتدرتموه ، وإن صلاتك مع رجل أزكى من صلاتك وحدك ، وإن صلاتك مع صفحة رقم 344 رجلين أزكى من صلاتك مع رجل ، وما أكثرت فهو أحب إلى الله ".
جناب ابو بصیر کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا اور سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا، میں نے ان سے عرض کی: اے ابو منذر! آپ مجھے کوئی انوکھی بات سنایئے جو آپ نے اللہ کے رسول سے سنی ہو تو سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، اس کے بعد فرمایا: ’’کیا فلاں حاضر ہے؟‘‘ ہم نے کہا: نہیں۔ آپ نے پوچھا: ’’کیا فلاں حاضر ہے؟‘‘ (دو مرتبہ پوچھا) ہم نے کہا: جی ہاں، وہ نماز میں حاضر ہیں، پھر آپ نے پوچھا: ’’کیا فلاں حاضر ہے؟“ ہم نے کہا: جی ہاں! وہ نماز میں حاضر نہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’بلاشبہ یہ دو نمازیں منافقوں پر سب نمازوں سے بھاری ہیں (یعنی عشاء اور فجر) اور اگر تمھیں معلوم ہو کہ ان میں کیا کچھ اجر وثواب ہے تو تم ان میں ضرور آؤ، اگرچہ گھٹنوں کے بل ہی آنا پڑے۔ اور پہلی صف (اجر وثواب میں) فرشتوں کی صف کی مانند ہے۔ اگر تمھیں اس کی فضیلت معلوم ہو تو اس کے لئے ضرور سبقت کرو۔ انسان کی نماز ایک آدمی کے ساتھ زیادہ اجر و ثواب والی ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ اکیلا پڑھے۔ اور اس کی نماز دو آدمیوں کے ساتھ زیادہ فضیلت والی ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ ایک آدمی کے ساتھ مل کر پڑھے۔ جس قدر اہل جماعت کی تعداد زیادہ ہوگی وہ زیادہ پاکیزہ اور ان کو بہت زیادہ محبوب ہے۔‘‘
أشاهد فلان قلنا نعم ولم يشهد الصلاة ← أشاهد فلان مرتين قلنا نعم ولم يشهد الصلاة ثم ← صلى بنا أو صلى لنا رسول الله صلاة الغداة ثم ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← بأعجب حديث ← قدمت المدينة فلقيت أبي بن كعب فقلت له يا أبا المنذر ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ هُوَ ابْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ ← أبو محمد عبد الرحمن ابن أبي شريح ← عبد الواحد بن أحمد المليحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · prayer book › (Emphasis on leaving the group · Hadith 790
